سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مؤمن خواتین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ فجر ادا کرتی تھیں، جبکہ وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتی تھیں اور کوئی آدمی اندھیرے کی وجہ سے ان کو پہچان نہ سکتا تھا۔
ابو ربیع کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، جب انھوں نے ایک آدمی کے چیخنے کی آواز سنی تو انھوں نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو خاموش کروا دیا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! آپ نے اس کو کیوں خاموش کرا دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اس طرح رونے سے میت کو قبر میں داخل ہونے تک تکلیف ہوتی ہے، پھر میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ نمازِ فجر پڑھتا ہو اور جب میں اس نماز سے فارغ ہوتا ہوں اور (اندھیرے کی وجہ سے) اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، لیکن کبھی ایسے ہوتا ہے کہ تم روشنی کر دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اِ س نماز کو اسی طرح پڑھوں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے نمازِ فجر کے بارے میں سوال کیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو اس وقت اقامت کہنے کا حکم دیا، جب فجر طلوع ہوئی، پھر دوسرے دن روشنی کی(اور پھر نماز ادا کی) اور فرمایا: نمازِ فجر کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان اس کا وقت ہے۔
سیدنا بلال ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ فجر کی اطلاع دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، لیکن سیدہ عائشہ ؓ نے اُن کو اس طرح مصروف کر دیا کہ ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، یہاں تک کہ صبح کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور واضح طور پر صبح ہو گئی، پس سیدنا بلال ؓکھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی خبر دی اور بار بار اطلاع کرتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نہ نکلے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا بلال ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے اُن سے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس طرح انُ کو مصروف کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید تاخیر کر دی، آپ نے فرمایا: میں فجر کی دو رکعتیں پڑھنے لگ گیا تھا۔ انھوں نے کہا: آپ نے تو واضح طور پر صبح کر دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس سے زیادہ صبح ہو جاتی تو میں نے ان دو رکعتوں کو تو پڑھنا تھا اور اِن کو حسین و جمیل بنا کر ادا کرنا تھا۔
Takhreej
(۱۱۸۴) رجالہ ثقات الا انہ منقطع بین عبید اللہ بن زیادۃ وبلال بن رباح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۵۷ (انظر: ۲۳۹۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، پس اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ضمانت ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کی ضمانت کو نہ توڑنا اور جس نے اس کی ضمانت کو توڑ دیا تو وہ اس کو طلب کرے گا اوراس کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دے گا۔
سیدنا جندب بن سفیان بَجَلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، پس وہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں آ جاتا ہے، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ نہ دینا اور ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے عہد میں سے کسی چیز کا مطالبہ کرے۔
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں آ جاتا ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو توڑ نہ دینا۔
Takhreej
(۱۱۸۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۴۶ (انظر: ۲۰۱۱۳)
ابو عمیر بن انس اپنے چچوں، جو کہ صحابہ تھے، سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق ان دو نمازوں میں حاضرنہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد فجر اور عشا کی نمازیں تھیں، ابو بشر راوی نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ منافق اِن دو نمازوں کی ادائیگی پر دوام اختیار نہیں کرنا۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے لیے موٹی تازی بکری کے دو کھر یا کوئی ہڈی بنائی جائے تو یہ سارے لوگ اس کے لیے آ جائیں گے، اگر ان کو پتہ چل جائے کہ عشا اور فجر میں کتنا ثواب ہے تو یہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ ان کو گھسٹ کر آنا پڑے، اور تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں، وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ گئے ہوں اور ان کو جلا دوں۔
سیدنا معاذ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد اپنی جائے نماز میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ اس نے چاشت کی نماز پڑھی، جبکہ اس دورانیے میں اس نے صرف خیر والی بات کی ہو، تو اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں۔
Takhreej
(۱۱۹۰) اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۸۷(انظر: ۱۵۶۲۳)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی نماز ادا کر لیتے تو اپنی جائے نماز میں بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ اچھی طرح سورج طلوع ہو جاتا یا بلند ہو جاتا۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز میں سے ایک رکعت پا لی، پس تحقیق اس نے وہ ساری نماز پا لی۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر میںسے ایک رکعت ادا کر لی تو یہ نماز اس سے فوت نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے نمازِ عصر کی دو رکعتیں ادا کر لیں، تو یہ نماز اس سے فوت نہیں ہو گی، ایک روایت میں ہے: تو وہ اس کو پا لے گا۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر کی ایک رکعت ادا کی اور پھر سورج طلوع ہو گیا تو وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ادا کر لے۔
Takhreej
(۱۱۹۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۰۳۳۹)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت اور طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر کی ایک رکعت پالی، اس نے اِن دونوں نمازوں کو پا لیا۔
سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علم عطا کیا ہے، اس میں سے مجھے بھی سکھلا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز فجر ادا کر لے تو مزید نماز سے رک جا، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پس جس وقت وہ طلوع ہو رہا ہو تو اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوںکے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں، پس جب وہ ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند ہو جائے تو نماز پڑھ، پس بیشک اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، جب نیزہ اپنے سائے پر کھڑا ہو جائے تو نماز سے رک جا، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، پس جب سایہ (مغرب کی جانب سے مشرق کی جانب) لوٹ آئے تو پھر نماز پڑھ، اِس وقت کی نماز بھی حاضر کی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تو نمازِ عصر ادا کر لے، پس جب تو عصر کی نماز ادا کر لے تو مزید نماز پڑھنے سے رک جا، حتی کہ سورج غروب ہو جائے، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں۔
سیدنا کعب بن مرہ بہزی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کے کون سے حصے میں دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر قبول ہونے والی نماز ہے، یہاں تک کہ نمازِ فجر پڑھ لی جائے، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک ایک یا دو نیزوں کے بقدر سورج بلند ہو جائے، اس کے بعد قبول ہونے والی نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے ساتھ کھڑا ہو جائے، پھر کوئی نماز نہیں، یہاں تک سورج ڈھل جائے، پھر مقبول نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ سورج ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند رہ جائے، پھر اس کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں۔ مزید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو (وضو میں) اپنے چہرہ دھوئے گا تو تیری چہرے سے غلطیاں نکل جائیں گی، جب تو اپنے بازو دھوئے گا تو تیرے بازوؤں سے گناہ نکل جائیں گے اور جب تو اپنے پاؤں کو دھوئے گا تو تیرے پاؤں سے تیرے گناہ نکل جائیں گے۔