TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نمازوں کے اوقات کے ابواب - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Book 21 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 21 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 144 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

144 Hadith · 23 Chapters
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
۔ (۱۱۷۸)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ نِسَائً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ کُنَّ یُصَلِّیْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِہِنَّ، ثُمَّ یَرْجِعْنَ اِلٰی أَہْلِہِنَّ وَمَا یَعْرِفُہُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۹۷)
سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مؤمن خواتین، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ فجر ادا کرتی تھیں، جبکہ وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے گھروں کو لوٹتی تھیں اور کوئی آدمی اندھیرے کی وجہ سے ان کو پہچان نہ سکتا تھا۔
Takhreej
(۱۱۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۲، ۵۷۸، ومسلم: ۶۴۵(انظر: ۲۴۰۹۶)
1178
Sahih
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
۔ (۱۱۷۹)۔ عَنْ أَبِی الرَّبِیْعِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِیْ جَنَازَۃٍ فَسَمِعَ صَوْتَ اِنْسَانٍ یَصِیْحُ فَبَعَثَ اِلَیْہِ فَأَسْکَتَہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! لِمَ أَسْکَتَّہُ؟ قَالَ: اِنَّہُ یَتَأَذَّی بِہِ الْمَیِّتُ حَتَّی یُدْخَلَ قَبْرَہُ، فَقُلْتُ لَہُ: اِنِّیْ أُصَلِّیْ مَعَکَ الصُّبْحَ، ثُمَّ اَلْتَفِتُ فَلَا أَرٰی وَجْہَ جَلِیْسِیْ، ثُمَّ أَحْیَانًا تُسْفِرُ؟ قَالَ: کَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَحْبَبْتُ أَنْ أُصَلِّیَہَا کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْہَا۔ (مسند أحمد: ۶۱۹۵)
ابو ربیع کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے، جب انھوں نے ایک آدمی کے چیخنے کی آواز سنی تو انھوں نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو خاموش کروا دیا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! آپ نے اس کو کیوں خاموش کرا دیا ہے؟ انھوں نے کہا: اس طرح رونے سے میت کو قبر میں داخل ہونے تک تکلیف ہوتی ہے، پھر میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ نمازِ فجر پڑھتا ہو اور جب میں اس نماز سے فارغ ہوتا ہوں اور (اندھیرے کی وجہ سے) اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، لیکن کبھی ایسے ہوتا ہے کہ تم روشنی کر دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اِ س نماز کو اسی طرح پڑھوں، جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۱۱۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابوشعبۃ الطحان متروک، وابو الربیع مجھول (انظر: ۶۱۹۵)
1179
Zaeef
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
۔ (۱۱۸۰)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا حِیْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ أَسْفَرَ مِنَ الْغَدِ حَتّٰی أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ: ((أَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ؟ مَا بَیْنَ ہَاتَیْنِ (أَوْ قَالَ: ہٰذَیْنِ) وَقْتٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۴۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے نمازِ فجر کے بارے میں سوال کیا گیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلالؓ کو اس وقت اقامت کہنے کا حکم دیا، جب فجر طلوع ہوئی، پھر دوسرے دن روشنی کی(اور پھر نماز ادا کی) اور فرمایا: نمازِ فجر کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان اس کا وقت ہے۔
Takhreej
(۱۱۸۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۲۷۱(انظر: ۱۲۱۱۹)
1180
Sahih
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
۔ (۱۱۸۱)۔ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَصْبِحُوْا بِالصُّبْحِِ فَاِنَّہُ أَعْظَمُ لِأُجُوْرِکُمْ أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۸۹)
سیدنا رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجر زیادہ کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۱۱۸۱) تخریج: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۴، وابن ماجہ: ۶۷۲ (انظر: ۱۷۲۵۷)
1181
Sahih
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
۔ (۱۱۸۲)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ، فَاِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۱۱)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ تمہارے اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۱۱۸۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1182
Sahih
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
۔ (۱۱۸۳)۔عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ فَاِنَّہُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ أَوْ لِأَجْرِہَا)) (مسند أحمد: ۱۷۴۱۱)
سیدنا رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: فجر کو روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ اجرکو زیادہ کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۱۱۸۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
1183
Sahih
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
۔ (۱۱۸۴)۔عَنْ أَبِیْ زِیَادٍ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ زِیَادٍ الْکِنْدِیِّ عَنْ بِلَالٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُؤْذِنُہُ بِصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَۃُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ عَنْہُ حَتّٰی أَفْضَحَہُ الصُّبْحُ وَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَہُ بِالصَّلَاۃِ وَتَابَعَ بَیْنَ آذَانِہِ فَلَمْ یَخْرُجْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلّٰی بالنَّاسِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ شَغَلَتْہُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْہُ حَتّٰی أَصْبَحَ جِدًّا ثُمَّ اِنَّہُ أَبْطَأَ عَلَیْہِ بِالْخُرُوْجِ، فَقَالَ: ((اِنِّیْ رَکَعْتُ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: ((لَوْ أَصْبَحْتُ أَکْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَکَعْتُہُمَا وَأَحْسَنْتُہُمَا وَأَجْمَلْتُہُمَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۰۷)
سیدنا بلال ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نمازِ فجر کی اطلاع دینے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئے، لیکن سیدہ عائشہ ؓ نے اُن کو اس طرح مصروف کر دیا کہ ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، یہاں تک کہ صبح کی سفیدی ظاہر ہونے لگی اور واضح طور پر صبح ہو گئی، پس سیدنا بلال ؓکھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کی خبر دی اور بار بار اطلاع کرتے رہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باہر نہ نکلے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی تو سیدنا بلال ؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو بتایا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے اُن سے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس طرح انُ کو مصروف کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مزید تاخیر کر دی، آپ نے فرمایا: میں فجر کی دو رکعتیں پڑھنے لگ گیا تھا۔ انھوں نے کہا: آپ نے تو واضح طور پر صبح کر دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر اس سے زیادہ صبح ہو جاتی تو میں نے ان دو رکعتوں کو تو پڑھنا تھا اور اِن کو حسین و جمیل بنا کر ادا کرنا تھا۔
Takhreej
(۱۱۸۴) رجالہ ثقات الا انہ منقطع بین عبید اللہ بن زیادۃ وبلال بن رباح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۵۷ (انظر: ۲۳۹۱۰)
1184
Sahih
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۱۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ فَلَہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ فَلَا تُخْفِرُوْا اللّٰہَ ذِمَّتَہُ، فَاِنَّہُ مَنْ أَخْفَرَ ذِمَّتَہُ طَلَبَہُ اللّٰہُ حَتّٰی یُکِبَّہُ عَلٰی وَجْہِہِ۔)) (مسند أحمد: ۵۸۹۸)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، پس اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ضمانت ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کی ضمانت کو نہ توڑنا اور جس نے اس کی ضمانت کو توڑ دیا تو وہ اس کو طلب کرے گا اوراس کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دے گا۔
Takhreej
(۱۱۸۵) صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۳۳۴۲، وأخرجہ بنحوہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۳۲۱۰(انظر: ۵۸۹۸)
1185
Sahih
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۱۸۶)۔عَنْ جُنْدُبِ (بْنِ سُفْیَانَ الْبَجَلِیِّ)ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلّٰی صَلَاۃَ الْفَجْرِ فَہُوَ فِیْ ذِمَّۃِ اللّٰہِ فَلَا تُخْفِرُوْا ذِمَّۃَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَلَا یَطْلُبَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِنْ ذِمَّتِہِ)) (مسند أحمد: ۱۹۰۱۰)
سیدنا جندب بن سفیان بَجَلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ’جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، پس وہ اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں آ جاتا ہے، لہٰذا تم اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑ نہ دینا اور ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے عہد میں سے کسی چیز کا مطالبہ کرے۔
Takhreej
(۱۱۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۵۷(انظر: ۱۸۸۰۳)
1186
Sahih
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۱۸۷)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلّٰی صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ فَہُوَ فِیْ ذِمَّۃِ اللّٰہِ فَلَا تُخْفِرُوْا اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فِیْ ذِمَّتِہِ)) (مسند أحمد: ۲۰۳۷۴)
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر لی، وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں آ جاتا ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے ذمہ کو توڑ نہ دینا۔
Takhreej
(۱۱۸۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۴۶ (انظر: ۲۰۱۱۳)
1187
Sahih
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۱۸۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِیْ بِشْرٍ عَنْ أَبِیْ عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُوْمَۃٍ لَہُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَایَشْہَدُہُمَا مُنَافِقٌ۔)) یَعْنِیْ صَلَاۃَ الصُّبْحِ وَالْعِشَائِ۔ قَالَ أَبُوْبِشْرٍ: یَعْنِیْ لَا یُوَاظِبُ عَلَیْہِمَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۵۶)
ابو عمیر بن انس اپنے چچوں، جو کہ صحابہ تھے، سے بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: منافق ان دو نمازوں میں حاضرنہیں ہوتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مراد فجر اور عشا کی نمازیں تھیں، ابو بشر راوی نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ منافق اِن دو نمازوں کی ادائیگی پر دوام اختیار نہیں کرنا۔
Takhreej
(۱۱۸۸) تخریج: اسنادہ جیّد (انظر: ۲۰۵۸۰)
1188
Sahih
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۱۸۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْـرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَوْ جُعِلَ لِأَحَدِہِمْ أَوْ لِأَحَدِکُمْ مِرْمَاتَانِ حَسَنَتَانِ أَوْ عَرْقٌ مِنْ شَاۃٍ سَمِیْنَۃٍ لَأَتَوْہَا أَجْمَعُوْنَ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا یَعْنِی الْعِشَائَ وَالصُّبْحَِ لَأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ آتِیَ أَقْوَامًا یَتَخَلَّفُوْنَ عَنْہَا أَوْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَأُحَرِّقَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۲۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر کسی کے لیے موٹی تازی بکری کے دو کھر یا کوئی ہڈی بنائی جائے تو یہ سارے لوگ اس کے لیے آ جائیں گے، اگر ان کو پتہ چل جائے کہ عشا اور فجر میں کتنا ثواب ہے تو یہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ ان کو گھسٹ کر آنا پڑے، اور تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں، وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ گئے ہوں اور ان کو جلا دوں۔
Takhreej
(۱۱۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۷، ومسلم: ۶۵۱ (انظر: ۱۰۲۱۷)
1189
Sahih
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
۔ (۱۱۹۰)۔عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیْہِ (ؓ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ قَعَدَ فِیْ مُصَلَّاہُ حِیْنَ یُصَلِّی الصُّبْحَ حَتّٰی یُسَبِّحَ الضُّحٰی لَا یَقُوْلُ اِلَّا خَیْرًا غُفِرَتْ لَہُ خَطَایَاہُ وَاِنْ کَانَتْ أَکْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۰۸)
سیدنا معاذ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد اپنی جائے نماز میں بیٹھ گیا، یہاں تک کہ اس نے چاشت کی نماز پڑھی، جبکہ اس دورانیے میں اس نے صرف خیر والی بات کی ہو، تو اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں۔
Takhreej
(۱۱۹۰) اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۸۷(انظر: ۱۵۶۲۳)
1190
Zaeef
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
۔ (۱۱۹۱)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَلَّی الْغَدَاۃَ جَلَسَ فِیْ مُصَّلَاہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنَائَ أَوْ تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ حَسَنَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۱۲۷۷)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب فجر کی نماز ادا کر لیتے تو اپنی جائے نماز میں بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ اچھی طرح سورج طلوع ہو جاتا یا بلند ہو جاتا۔
Takhreej
(۱۱۹۱) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوعوانۃ: ۲/ ۲۳، وأخرجہ بنحوہ مسلم: ۶۷۰ (انظر: ۲۰۹۶۸)
1191
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
۔ (۱۱۹۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الصَّلَاۃِ رَکْعَۃً فَقَدْ أَدْرَکَہَا کُلَّہَا)) (مسند أحمد:۸۸۷۰)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نماز میں سے ایک رکعت پا لی، پس تحقیق اس نے وہ ساری نماز پا لی۔
Takhreej
(۱۱۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۰، مسلم: ۶۰۷ (انظر: ۸۸۸۳)
1192
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
۔ (۱۱۹۳)۔وَعَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلّٰی رَکْعَۃً مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلَمْ تَفُتْہُ وَمَنْ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلَمْ تَفُتْہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَدْ أَدْرَکَہَا)۔)) (مسند أحمد: ۷۴۵۱)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر میںسے ایک رکعت ادا کر لی تو یہ نماز اس سے فوت نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے نمازِ عصر کی دو رکعتیں ادا کر لیں، تو یہ نماز اس سے فوت نہیں ہو گی، ایک روایت میں ہے: تو وہ اس کو پا لے گا۔
Takhreej
(۱۱۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۶ (انظر: ۷۴۵۸)
1193
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
۔ (۱۱۹۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَلَّی مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِِ رَکْعَۃً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ طَلَعَتْ فَلْیُصَلِّ اِلَیْہَا أُخْرٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۰۳۴۴)
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر کی ایک رکعت ادا کی اور پھر سورج طلوع ہو گیا تو وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ادا کر لے۔
Takhreej
(۱۱۹۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۱۰۳۳۹)
1194
Sahih
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
۔ (۱۱۹۴)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ أَدْرَکَ سَجْدَۃً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَمِنَ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَہَا)) (مسند أحمد: ۲۴۹۹۴)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے نماز عصر کی ایک رکعت اور طلوع آفتاب سے پہلے نمازِ فجر کی ایک رکعت پالی، اس نے اِن دونوں نمازوں کو پا لیا۔
Takhreej
(۱۱۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۰۹(انظر: ۲۴۴۸۹)
1195
Sahih
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
۔ (۱۱۹۶)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَؓ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((اِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَاَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَاِذَا طَلَعَتْ فَلَا تُصَلِّ حَتّٰی تَرْتَفِعَ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ حِیْنَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ وَحِیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ فَاِذَا ارْتَفَعَتْ قِیْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْہُوْدَۃٌ مَحْضُوْرَۃٌ حَتّٰی یَعْنِیْ یَسْتَقِلَّ الرُّمْحُ بِالظِّلِّ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا حِیْنَئِذٍ تُسْجَرُ جَہَنَّمُ، فَاِذَا فَائَ الْفَیْئُ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْہُوْدَۃٌ مَحْضُوْرَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ فَاِذَا صَلَّیْتَ الْعَصْرَ فَاَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَاِنَّہَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ فَحِیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۳۹)
سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علم عطا کیا ہے، اس میں سے مجھے بھی سکھلا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو نماز فجر ادا کر لے تو مزید نماز سے رک جا، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پس جس وقت وہ طلوع ہو رہا ہو تو اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوںکے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں، پس جب وہ ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند ہو جائے تو نماز پڑھ، پس بیشک اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، جب نیزہ اپنے سائے پر کھڑا ہو جائے تو نماز سے رک جا، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، پس جب سایہ (مغرب کی جانب سے مشرق کی جانب) لوٹ آئے تو پھر نماز پڑھ، اِس وقت کی نماز بھی حاضر کی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تو نمازِ عصر ادا کر لے، پس جب تو عصر کی نماز ادا کر لے تو مزید نماز پڑھنے سے رک جا، حتی کہ سورج غروب ہو جائے، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں۔
Takhreej
(۱۱۹۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۳۲(انظر: ۱۷۰۱۴)
1196
Sahih
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
۔ (۱۱۹۷)۔عَنْ کَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ الْبَہْزِیِّؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ اللَّیْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: ((جَوْفُ اللَّیْلِ الْآخِرُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((ثُمَّ الصَّلَاۃُ مَقْبُوْلَۃٌ حَتّٰی یُصَلَّی الْفَجْرُ، ثُمَّ لَا صَلَاۃَ حَتّٰی تَکُوْنَ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ، ثُمَّ الصَّلَاۃُ مَقْبُوْلَۃٌ حَتّٰی یَقُوْمَ الظِّلُّ قِیَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَا صَلَاۃَ حَتّٰی تَزُوْلَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاۃُ مَقْبُوْلَۃٌ حَتّٰی تَکُوْنَ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ، ثُمَّ لَا صَلَاۃَ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ؛ قَالَ: وَاِذَا غَسَلْتَ وَجْہَکَ خَرَجَتْ خَطَایَاکَ مِنْ وَجْہِکَ، وَاِذَا غَسَلْتَ یَدَیْکَ خَرَجَتْ خَطَایَاکَ مِنْ یَدَیْکَ، وَاِذَا غَسَلْتَ رِجْلَیْکَ خَرَجَتْ خَطَایَاکَ مِنْ رِجْلَیْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۰۴)
سیدنا کعب بن مرہ بہزی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کے کون سے حصے میں دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر قبول ہونے والی نماز ہے، یہاں تک کہ نمازِ فجر پڑھ لی جائے، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک ایک یا دو نیزوں کے بقدر سورج بلند ہو جائے، اس کے بعد قبول ہونے والی نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے ساتھ کھڑا ہو جائے، پھر کوئی نماز نہیں، یہاں تک سورج ڈھل جائے، پھر مقبول نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ سورج ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند رہ جائے، پھر اس کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں۔ مزید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو (وضو میں) اپنے چہرہ دھوئے گا تو تیری چہرے سے غلطیاں نکل جائیں گی، جب تو اپنے بازو دھوئے گا تو تیرے بازوؤں سے گناہ نکل جائیں گے اور جب تو اپنے پاؤں کو دھوئے گا تو تیرے پاؤں سے تیرے گناہ نکل جائیں گے۔
Takhreej
(۱۱۹۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ مختصرا عبد الرزاق: ۳۹۴۹ (انظر: ۱۸۸۹۷)
1197
Sahih

Chapters

23
01
جامع اوقات کا بیان
13 Hadith
02
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
03
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
04
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
10 Hadith
05
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
9 Hadith
06
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
5 Hadith
07
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
15 Hadith
08
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
15 Hadith
09
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
8 Hadith
10
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
11
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
2 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
4 Hadith
13
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
5 Hadith
14
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
5 Hadith
15
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
7 Hadith
16
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
2 Hadith
17
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
6 Hadith
18
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
1 Hadith
19
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
3 Hadith
20
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
9 Hadith
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
3 Hadith
22
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
4 Hadith
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
1 Hadith
No chapter matched that.