سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا، جب سورج کا کنارہ طلوع ہو رہا ہو یا اس کا کنارہ غروب ہو رہا ہو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
سیدنا بلال بن رباح ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کسی وقت نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا جاتا تھا، ماسوائے طلوع آفتاب کے وقت کے، کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۱۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۱۱۷، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۳۵۴ (انظر: ۲۳۸۸۷)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع کیا، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور اسی طرح (اس وقت بھی نماز پڑھنے سے منع فرمایا) جب وہ غروب کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔
سیدنا ابو ذر ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے کعبہ کے دروازے کے کڑے کو پکڑا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، مگر مکہ میں ، مگر مکہ میں۔
Takhreej
(۱۲۲۱) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: الا بمکۃ، الا بمکۃ وھذا اسناد ضعیف لضعف عبد اللہ بن المؤمل، وبینہ وبین قیس فیہ حمید مولی عفراء، وھو ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۵۱، والبیھقی: ۲/ ۴۶۱، وابن خزیمۃ: ۲۷۴۸ (انظر: ۲۱۴۶۲)
Explanation
فوائد:… اس موضوع کی درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا جبیر بن مطعم ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَابَنِیْ عَبْدِ مُنَافٍ، لَا تَمْنَعُنَّ اَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ اَوْ صَلّٰی اَیَّ سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ اَوْ نَھَارٍ۔)) … اے بنو عبد ِ مناف! تم نے کسی کو نہیں روکنا، جو کوئی دن اور رات کی گھڑی میں جب چاہے، اس گھر کا طواف کرے یا اس میں نماز پڑھے۔ (ابوداود: ۱۸۹۴، ابن ماجہ: ۱۲۵۴، ترمذی: ۸۶۸، نسائی: ۱/ ۲۸۴)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز کو بھول گیا یا اس سے سو گیا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اس کو یاد آئے وہ اس کو ادا کرے۔
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز سے سو جائے یا اس سے غافل ہو جائے تو جب اس کو یاد آئے، وہ اس کو ادا کرے، کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ (سورۂ طٰہٰ:۱۴)
سیدنا سمرہ بن جندبؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نماز بھول جائے تو وہ اِس کو اُس وقت ادا کرے، جب اسے یاد آئے اور اگلے دن وقت پر پڑھے۔
فوائد:… اِس حدیث کے آخری جملے کا راجح معنی یہ ہے: ایسے بندے کو چاہیے کہ ایسی نماز کو اگلے دن سے اس کے وقت پر ادا کرے اور نماز کو اس کے وقت کے بعد ادا کرنا، اس کو اپنی عادت نہ بنا لے، جیسا کہ صحیح مسلم کی سیدنا ابو قتادہ ؓکی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((… فَلْیُصَلِّھَا حِیْنَ یَنْتَبِہُ لَھٗا، فَاِذَا کَانَ الْغَدُ فَلْیُصَلِّھَا عِنْدَ وَقْتِھَا۔)) … پس جب وہ جاگے تو وہ نماز ادا کر لے، لیکن اگلے دن اس کو وقت پر ہی ادا کرے۔ اس جملے کا یہ معنی نہیں ہے کہ ایسا آدمی ایسی نماز کو دوسرے دن وقت پر دوبارہ ادا کرے۔
سیدنا عمران بن حصینؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلتے رہے، رات کے آخر میں ہم نے پڑاؤ ڈالا، پس ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے ہم کو جگایا، ہم میں سے ہر آدمی دہشت زدہ ہو کر وضو کے لیے کھڑا ہونے لگا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ سکون میں آجائیں، پھر ہم وہاں سے کوچ کر گئے اور چلتے رہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا اور سیدنا بلال کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ادا کیں، پھر نماز کو کھڑا کیا، پس ہم نے نماز پڑھی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم نے کل اس نماز کو اس کے وقت پر بھی لوٹا نا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تمہارا ربّ تم کو سود سے منع کرے اور خود تم سے قبول کر لے۔
Takhreej
(۱۲۲۵) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: اینھاکم ربکم …۔ وھذا اسناد منقطع، الحسن البصری لم یسمع من عمران۔ ھذا حدیث طویل، وأخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۳۴۴،۳۴۸، ۳۵۷۱، ومسلم: ۶۸۲ (انظر: ۱۹۹۶۴)
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، رات کو چلنے کی وجہ سے تھکاوٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پا لیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم پڑاؤ ڈال لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک درخت کی طرف مڑے اور وہاں اتر گئے اور فرمایا: دیکھو، کوئی نظر آ رہا ہے؟ میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو سوار ہیں، یہاں تک کہ یہ تعداد سات افراد تک پہنچ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم پر ہماری نماز کی حفاظت کرنا۔ پس ہم سو گئے اور ہمیں سورج کی گرمی نے جگایا اور ہم ڈر گئے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور تھوڑی دیر کے لیے چلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور فرمایا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے پاس ایک برتن ہے، اس میں کچھ پانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤں۔ پھر فرمایا: اس سے چھوؤ، اس سے چھوؤ۔ لوگوں نے اس سے وضو کیا اور ایک گھونٹ باقی بچا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ! اس پانی کی حفاظت کرو، عنقریب اس کے لیے بڑی خبر ہو گی۔ پھر سیدنا بلال ؓ نے اذان ، فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نمازِ فجر ادا کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوار ہو گئے اور ہم بھی سوار ہو گئے، ہم میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: ہم نے نماز میں کمی کی ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ اگر کوئی دنیوی معاملہ ہے تو خود کر لو اور اگر دین کا معاملہ ہے تو میری طرف لے آؤ۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز میںکمی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیند کی وجہ سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، کمی تو جاگنے کی صورت میں ہوتی ہے، پس اگر ایسے ہو جائے تو اِس نماز کو پڑھ لیا کرو اور اگلے دن وقت پر ادا کیا کرو۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو حدیبیہ سے واپس آرہے تھے، ہم نے نرم زمین پر پڑاؤ ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہماری حفاظت کرے گا؟ سیدنا بلال ؓ نے کہا: جی میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے۔ لیکن انھوں نے کہا: جی نہیں، لیکن وہ سو گئے اور سیدنا عمر ؓسمیت فلاں فلاں آدمی پہلے بیدار ہوئے، سیدنا عمر ؓ نے کہا: باتیں کرو باتیں (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو جائیں)۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور فرمایا: اسی طرح کرو، جیسے تم کرتے ہو۔ پس انھوں نے اسی طرح کیا، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح کیا کرو، یہ حکم اس کیلئے ہے جو تم میں سے نماز سے سو جائے یا بھول جائے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے ) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوںکے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔
Takhreej
(۱۲۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، یزید ابن ہارون سمع من المسعودی بعد الاختلاط۔ أخرجہ الطیالسی: ۳۷۷، والبیھقی: ۲/ ۲۱۸، وابویعلی: ۵۲۸۵، والنسائی فی الکبری : ۸۸۵۴(انظر: ۳۷۱۰)
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر سے سو گئے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار نہ ہو سکے، جب جاگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے دو رکعتیں پڑھیں اور پھر نمازِ فجر کھڑی کی اور اس کو ادا کیا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو پڑاؤ ڈالا اور سو گئے اور سورج کی گرمی کے ساتھ ہی بیدار ہوئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا، انھوں نے اذا ن دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: اس رخصت کے مقابلے میں مجھے دنیا وما فیہا بھی خوش نہیں کر سکتی۔
Takhreej
(۱۲۳۰) حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۸۲، وابویعلی: ۲۳۷۵، والطبرانی: ۱۲۲۲۵(انظر: ۲۳۴۹)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار نہ ہو سکے، پس جب جاگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اپنی سواری کا سر پکڑے (اور یہاں سے چل دے)، کیونکہ اس منزل میں ہمارے پاس شیطان حاضر ہوا ہے، پس ہم نے ایسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، پھر نماز کھڑی کر دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر پڑھائی۔
سیدنا جبیر بن مطعمؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہمارا پہرہ دے گا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم نمازِ فجر سے سو جائیں۔ سیدنا بلالؓ نے کہا: جی میں، پس وہ سورج طلوع ہونے کی جگہ کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے، تو ان پر نیند ڈال دی گئی اور ان کو سورج کی گرمی نے بیدار کیا، پس لوگ کھڑے ہوئے اور اس نماز کو ادا کرنا چاہا، پس وضوکیا، پھر سیدنا بلالؓ نے اذان دی، پھر لوگوں نے دو دو سنتیں ادا کیں اور پھر نماز فجر ادا کی۔
سیدنا ذو مخمرؓ، جو حبشی آدمی تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی چلے اور آپ زادِ راہ کے کم ہونے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ آپ سے پیچھے رہ گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رک گئے، یہاں تک سارے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مکمل ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم کو یہ ضرورت ہے کہ ہم تھوڑا سا سو لیں؟ یا کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرنے کی رائے دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتر پڑے اور لوگ بھی اتر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات کون ہماری حفاظت کرے گا۔ میں (ذو مخمر) نے کہا: میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی اونٹنی کی لگام تھما دی اور فرمایا: یہ پکڑ اور چھوٹو نہ بن جانا۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور تھوڑا سا دور ہو کر بیٹھ گیا اور ان کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آ گئی اور مجھے کوئی شعور نہ رہا، یہاں تک کہ میں نے اپنے چہرے پر سورج کی گرمی محسوس کی، پس میں بیدار ہوا اور دائیں بائیں دیکھا، سواریاں تو میرے قریب ہی تھیں، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی اور اپنی اونٹنی کی لگامیں پکڑیں اور قریبی آدمی کے پاس گیا اور اس کو جگا کر پوچھا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیدار ہو گئے اور فرمایا: بلال! کیا میرے لیے برتن میںپانی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، پس وہ وضو کا پانی لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا وضو کیا کہ نیچے والی مٹی بھی مکمل طور پر گیلی نہ ہو سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فجر سے پہلے دو سنتیں ادا کیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی نہیں کر رہے تھے، پھر ان کو حکم دیا اور انھوں نے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدبازی سے کام نہیں لے رہے تھے، کسی نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم نے زیادتی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو روکے رکھا اور جب اس نے لوٹایا تو ہم نے نماز پڑھ لی۔
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں غزوۂ خندق والے دن نماز سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ مغرب سے بھی کچھ بعد کا وقت ہو گیا، لیکن یہ چیز لڑائی کے بارے میں مخصوص حکم کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے، ایک روایت میں ہے: یہ نمازِ خوف کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، یہ حکم {فَرِجَالًا أَوْ رُکْبَانًا} میں بیان کیا گیا ہے، پس جب ہمیں قتال سے کفایت کیا گیا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مومنوں کو کافی ہو گیا، اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا اور غالب ہے۔ بہرحال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ خندق والے اُس دن سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، انھوں ظہر کے لیے اقامت کہی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نماز ایسے ہی پڑھائی، جیسے اپنے وقت پر پڑھاتے تھے، پھر عصر کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت میں پڑھاتے تھے، پھر مغرب کی اقامت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح پڑھائی، جیسے اس کے وقت پر پڑھاتے تھے۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ مشرکوں نے غزوہ ٔ خندق والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چار نمازوں سے مشغول کر دیا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ بھی، جتنا اللہ کو منظور تھا، گزر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی اور پھر اقامت کہی، پس آپ نے نمازِ ظہر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مغرب پڑھائی اور پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشا پڑھائی۔
سیدنا ابو جمعہ حبیب بن سباعؓ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب والے سال نماز مغرب پڑھائی، پس جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ میں نے عصر ادا کی تھی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، پس اس نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی اور پھر نمازِ مغرب کو دوبارہ ادا کیا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنکھ لگ جانے یا کوئی تکلیف ہونے کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کو بارہ رکعت نماز ادا کرتے تھے۔