TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4574 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 8 in this chapter
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
۔ (۴۵۷۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَیْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَیْئٍ، إِنَّمَا ھُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ وادیٔ محصّب میں قیام کرنے کی شرعی حیثیت کوئی نہیں ہے،یہ تو محض ایک مقام ہے، جہاں اللہ کے رسول نے قیام کیا تھا۔
4574
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۵۷۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۶۶، ومسلم: ۱۳۱۲(انظر: ۱۹۲۵)

Related Chapters

157
1
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Related About: Mina Is A Resting Place For Whoever Arrives
باب: منیٰ اسی کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچے
Jam e Tirmazi
3
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
Musnad Ahmad
4
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
(147) CHAPTER. Al-Muhassab.
وادی محصب کا بیان
Sahih Bukhari
6
(151) CHAPTER. To depart from Al-Muhassab in the last part of night.
۔ ( آرام کر لینے کے بعد ) وادی محصب سے آخری رات میں چل دینا
Sahih Bukhari
7
CHAPTER: Camping In The Valley Of Al-Muhassab.
باب: وادی محصب میں اترنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
8
وادی محصب میں اترنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
9
(81)Chapter: What Has Been Related That 'Water Is For Water'
باب: منی نکلنے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(83)Chapter: What Has Been Related About Al-Mani And Al-Madhi
باب: منی اور مذی کا بیان
Jam e Tirmazi
11
(85)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mani That Touches The Garment
باب: کپڑے میں منی لگ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
(86)Chapter: Washing AI-Mani From The Garment
باب: منی کے کپڑے سے دھونے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Leaving For Mina And Staying There
باب: منیٰ جانے اور وہاں قیام کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Shortening The Salat At Mina
باب: منیٰ میں نماز قصر پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Standing At Arafat Supplicating There
باب: عرفات میں ٹھہرنے اور دعا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About: All of Arafat Is A Place For Standing
باب: پورا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Camping At Al-Abtah
باب: وادی ابطح میں قیام کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Muhajir Staying In Makkah For Three Days After Returning (From Mina)
باب: منیٰ سے لوٹنے کے بعد مکہ اور قریش کے مہاجرین
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About If the Son of Adam had two valleys of wealth, He Would Desire A Third
باب: آدمی کے پاس دو وادی بھر مال ہو تو وہ تیسری وادی کا خواہشمند ہو گا
Jam e Tirmazi
20
باب: ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
بَابٌ الدَّفْعُ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ
عرفات اور مزدلفہ سے واپسی کا بیان
Mishkat
24
منی کا بیان
Musnad Ahmad
25
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
26
نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
27
ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی حدیث جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز بیان کی گئی ہے
Musnad Ahmad
28
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
Musnad Ahmad
30
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
Musnad Ahmad
32
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
Musnad Ahmad
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
34
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
Musnad Ahmad
35
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
36
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
Musnad Ahmad
37
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
Musnad Ahmad
40
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
Musnad Ahmad
41
تاریخ کی ابتداء اور اس بارے میں امیر المؤمنین سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صحابہ کرام سے مشاورت کا بیان
Musnad Ahmad
42
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ جویرہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
44
غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
Musnad Ahmad
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اُمّ المؤمنین سیّدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ شادی کرنے اور پردے والی آیت کے نازل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
46
عمرۂ قضاء اور اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
Musnad Ahmad
47
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
Musnad Ahmad
48
جعرانہ کے مقام پر حنین کی غنیمتوں کی تقسیم، بنو ہوازن کے وفد کی مسلمان ہو کر آمد اور ان کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے قیدیوں اور اموال کی واپسی کی درخواست کا بیان
Musnad Ahmad
49
عمرۂ جعرانہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا بیان
Musnad Ahmad
50
قیامِ تبوک کے دوران نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابہ کرام کو فارس اورروم کی فتح کی بشارت دینے کا بیان اور ان خصوصیات کا بیان، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبوک میں نوازا اور تبوک سے واپسی پر منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

454
Musnad Ahmad
1375
۔ (۱۳۷۵)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُمَا قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَفِقَ یُلْقِیْ خَمِیْصَتَہُ عَلٰی وَجْہِہِ فَإِذَ اِغْتَمَّ رَفَعْنَاھَا عَنْہُ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((لَعَنَ اللّٰہُ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی، اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ أَنْبِیَائِھِمْ مَسَاجِدَ۔)) تَـقُوْلُ عَائِشَۃُ: یُحَذِّرُھُمْ مِثْلَ الَّذِیْ صَنَعُوْا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴)
سیّدناعبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات کے قریب ہوئے تو آپ اپنے چہرے پر چادر ڈالتے، جس وقت آپ کو گُھٹن محسوس ہوتی تو ہم چادر اٹھادیتے تھے،اس حالت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا تھا۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: (دراصل) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو ان جیسا کام کرنے سے ڈرا رہے تھے۔
Musnad Ahmad
1386
۔ (۱۳۸۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی رَجُلِ وَفَخِذُہُ خَارِجَۃٌ، فَقَالَ: ((غَطِّ فَخِذَکَ فَإِنَّ فَخِذَ الرَّجُلِ مِنْ عَوْرَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۳)
سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، اس کی ران (کپڑے سے) باہر نکلی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ران ڈھانپ لے، کیونکہ آدمی کی ران اس کے چھپائے جانے والے حصوں میں شامل ہے۔
Musnad Ahmad
1411
۔ (۱۴۱۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ فِیْ بُرْدٍ لَہُ حَضْرَمِیٍّ مُتَوَشِّحَہٗمَاعَلَیْہِ غَیْرُہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: یقینا میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رات کے وقت حضر می چادرلپیٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس کے علاوہ آپ پر اور (کوئی کپڑا) نہیں تھا۔
Musnad Ahmad
1440
۔ (۱۴۴۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی بِسَاطٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی۔
Musnad Ahmad
1478
۔ (۱۴۷۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: رُکِزَتِ الْعَنَزَۃُ بَیْنَیَدَیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَفَاتٍ فَصَلّٰی إِلَیْہَا وَالْحِمَارُ یَمُرُّ مِنْ وَرَائِ الْعَنَزَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ عرفات میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے برچھی گاڑ دی گئی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور گدھا برچھی کے پیچھے سے گزرتا رہا۔
Musnad Ahmad
1489
۔ (۱۴۸۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فَجَائَ تْ جَارِیَتَانِ حَتّٰی قَامَتَا بَیْنَیَدَیْہِ عِنْدَ رَأْسِہِ فَنَحَّاھُمَا وَأَوْمَأَ بِیَدَیْہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۲۸۹۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ دو بچیاں آئیں اور آپ کے سامنے کھڑی ہو گئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ہٹایااور اپنے دائیں بائیں اشارہ کیا۔
Musnad Ahmad
1493
۔ (۱۴۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ وَحَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ فَجَعَلَ جَدْیٌیُرِیْدُ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَیَدَیِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ یَتَـقَدَّمُ وَیَتَأَخَّرُ، قَالَ حَجَّاجٌ: یَتَّقِیْہِ وَیَتَأَخَّرُ حَتّٰییُرٰی وَرَائَ الْجَدْیِ۔ (مسند احمد: ۳۱۷۴)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، بکری کا ایک بچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بچنے کے لیے آگے پیچھے ہونا شروع کر دیا۔ حجاج نے کہا: اس سے بچ رہے تھے اور بچتے بچتے پیچھے ہو گئے، حتی کہ بکری کے بچے کے پیچھے نظر آ نے لگے۔
Musnad Ahmad
1499
۔ (۱۴۹۹) عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: زَارَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبَّاسًا فِی بَادِیَۃٍ لَنَا وَلَنَا کُلَیْبَۃٌ وَحِمَارَۃٌ تَرْعٰی فَصَلیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ وَھُمَا بَیْنَیَدَیْہِ فَلَمْ تُؤَخَّرَا وَلَمْ تُزْجَرَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۷)
سیّدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا قات کرنے کے لیے ہماری بستی میں آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں نماز عصر ادا کی، جبکہ ہماری کتوری اور گدھی، جو چر رہی تھی، آپ کے سامنے تھیں، لیکن نہ ان کو پیچھے ہٹایا گیا اور نہ ڈانٹا گیا۔
Musnad Ahmad
1500
۔ (۱۵۰۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلٰی أَتَانٍ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ بِعَرَفَۃَ فَمَرَرْنَا عَلٰی بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْہَا وَتَرَکْنَاھَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِی الصَّفِّ فَلَمْ یَقُلْ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۱۸۹۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں:میں اور فضل گدھی پر سوار ہو کر آئے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزر کر اس سے اترے، اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور ہم صف میں داخل ہوگئے۔ اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں کچھ نہ کہا۔