TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2800 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
باب: حاجی کا ہدی کو اپنے ساتھ لے جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاقَ هَدْيًا فِي حَجِّهِ .
It was narrated that Jabir said: That the Prophet drove a Hadi during his Hajj.
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔
2800
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 2798 In-book reference : Book 24, Hadith 0 English translation : Vol. 3, Book 24, Hadith 2800
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2798
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۲۶۲۰)

Related Chapters

1,235
1
Chapter: What Has Been Related About: When You Pay The Zakat You Have Fulfilled What Is Required Of You
باب: زکاۃ ادا کرنے سے اپنے اوپر عائد فریضہ کے ادا ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Is Killed Over His Wealth, Then He Is A Martyr
باب: اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا آدمی شہید ہے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About A Man Shall Be With Whom He Loves
باب: انجام کار آدمی اپنے دوست کے ساتھ ہو گا
Jam e Tirmazi
4
جنازے کے ساتھ جانے اور نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
Mishkat
5
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
Musnad Ahmad
6
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے ، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
7
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
9
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
10
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
11
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
Musnad Ahmad
12
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
13
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
Musnad Ahmad
15
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
Musnad Ahmad
16
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
17
ہدی بھیجنے والے پر وہ چیزیں حرام نہیںہوں گی ، جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں
Musnad Ahmad
18
ہدی کا اپنے محل تک پہنچنے سے پہلے تھک جانا
Musnad Ahmad
19
لات اور عزی کی قسم اٹھانے والے کا اور اس شخص کا بیان جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ، جوا کھیلیں
Musnad Ahmad
20
اس شخص کا بیان، جس کو کھانے کی دعوت دی گئی اور اس نے کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ساتھیوں کے لیے دعا کی
Musnad Ahmad
21
جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
Musnad Ahmad
22
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
Musnad Ahmad
23
کسی ساتھی کی زیارت اور اس کے مریض ہو جانے کی صورت میں اس کی تیمارداری کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
24
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
25
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
Musnad Ahmad
26
غزوۂ خندق( احزاب) کے موقع پر اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کی دعا کو قبول کرنے، کفار کی جماعتوں کو شکست دینے، ان کے تتر بتر ہو جانے اور ان کے ناکام ونامراد واپس لوٹ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
27
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
Musnad Ahmad
29
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
30
بعض صحابہ کا نبی کر یم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
Musnad Ahmad
31
(25) CHAPTER. The Prophet urged the people (mission) of Abdul Qais to memorize the faith and the (religious) knowledge (as he explained to them) and to inform (convey) to their people whom they have left behind (at home).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں
Sahih Bukhari
32
(35) CHAPTER. (What is said regarding) a man who helps his companion to perform ablution (by pouring water for him).
اس شخص کے بارے میں جو اپنے ساتھی کو وضو کرائے
Sahih Bukhari
33
(61) CHAPTER. To urinate beside one's companion while screened by a wall.
اپنے ( کسی ) ساتھی کے قریب پیشاب کرنا اور دیوار کی آڑ لینا
Sahih Bukhari
34
(36) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) after its time was over.
اس کے بارے میں جس نے وقت نکل جانے کے بعد قضاء نماز لوگوں کے ساتھ جماعت سے پڑھی
Sahih Bukhari
35
(166) CHAPTER. A woman shall ask her husband's permission (on wishing) to go to the mosque.
عورت مسجد جانے کے لیے اپنے خاوند سے اجازت لے
Sahih Bukhari
36
(57) CHAPTER. Superiority of accompanying funeral processions.
جنازہ کے ساتھ جانے کی فضیلت
Sahih Bukhari
37
(34) CHAPTER.What is said regarding Hajj-at-Tamattu, Hajj-al-Qiran and Hajj-al-Ifrad. And whoever has not brought the Hady with him, he should finish the Ihram of Hajj, and make it as Umra, ( and then assume another Ihram for Hajj form Makkah, etc.).
حج میں تمتع ، قران اور افراد کا بیان اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو ، اسے حج فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
38
(63) CHAPTER. Whoever performed Tawaf of the Kabah on reaching Makkah before going to his house then offered two Raka and then went towards As-Safa.
جو شخص ( حج یا عمرہ کی نیت سے ) مکہ میں آئے تو اپنے گھر لوٹ جانے سے پہلے طواف کرے پھر دوگانہ طواف ادا کرے پھر صفا پہاڑ پر جائے
Sahih Bukhari
39
(104) CHAPTER. Whoever drove the Budn (sacrificial camels or cows) alongwith him.
اس شخص کے بارے میں جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے جائے
Sahih Bukhari
40
(71) CHAPTER. The service, during holy battles.
اس شخص کی فضیلت جس نے سفر میں اپنے ساتھی کا سامان اٹھا دیا
Sahih Bukhari
41
(80) CHAPTER. The shield, and shielding oneself with the shield of his companion.
ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان
Sahih Bukhari
42
(13) CHAPTER. Blessed is the wealth of a living or a dead Ghazi (i.e., Muslim fighter) who fought aling with the Prophet (p.b.u.h) or along with the ruler.
اللہ پاک نے مجاہدین کرام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بادشاہان اسلام کے ساتھ ہو کر لڑے کیسی برکت دی تھی ‘ اس کا بیان
Sahih Bukhari
43
(117) CHAPTER. The permission taken by a woman from her husband to go to the mosque.
مسجد وغیرہ میں جانے کے لئے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا ۔
Sahih Bukhari
44
(4) CHAPTER. Eating from around the dish while taking one's meal with someone else if he knows that his companion does not dislike that.
جس نے اپنے ساتھی کے ساتھ کھاتے وقت پیالے میں چاروں طرف ہاتھ بڑھا ئے بشرطیکہ ساتھی کی طرف سے معلوم ہو کہ اسے کراہیت نہیں ہوگی
Sahih Bukhari
45
(38) CHAPTER. Whoever handed over or presented something to the companion across the dining table.
جس نے ایک ہی دسترخوان پرکوئی چیزاٹھا کر اپنے دوسرے ساتھی کو دی یا اس کے سامنے رکھی ۔
Sahih Bukhari
46
(5) CHAPTER. The invocation of the person who is dutiful to his parents is fulfilled (i.e., accepted by Allah).
جس شخص نے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا اس کی دعا قبول ہوتی ہے
Sahih Bukhari
47
(8) CHAPTER. The kindness shown by a lady who has a husband, to her mother.
اگر خاوند والی مسلمان عورت اپنے کافر ماں کے ساتھ نیک سلوک کرے
Sahih Bukhari
48
(20) CHAPTER. The killing of one's own children for the fear that they will share his meals.
اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ ان کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا
Sahih Bukhari
49
(53) CHAPTER. Whoever informs his friend what has been said about him.
جو اپنے ساتھی کو وہ بات بتائے جو اس کے بارے میں کی جاتی ہو
Sahih Bukhari
50
(64) CHAPTER. May a person visit his friend daily, or visit him in the morning and in the evening?
کیا اپنے ساتھی کی ملاقات کے لئے ہر دن جا سکتا ہے یا صبح اور شام ہی کے اوقات میں جائے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

4,253
Sunnan Nisai
2861
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ،‏‏‏‏ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَوُقِصَ وَقْصًا، ‏‏‏‏‏‏فَمَاتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي .
It was narrated that Ibn Abbas said: A man in Ihram came with the Messenger of Allah and fell from atop his camel, breaking his neck, and he died. The Messenger of Allah said: 'Wash him with water and lotus leaves, and wrap him in his two garments. But do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گر پڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں ( احرام کے ) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا“۔
Sunnan Nisai
2976
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، ‏‏‏‏‏‏يُهَلِّلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو بَيْنَ ذَلِكَ .
Jafar bin Muhammad narrated, that he heard his father narrate, that he heard Jabir, speak of the Pilgrimage of the Prophet: The Prophet stood atop as-Safa proclaiming the Tahlil of Allah (saying Lal ilaha illallah) and supplicating in between that.
ابو جعفر بن محمد الباقر کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی اللہ عنہ سے سنا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر رکتے، آپ اس کے درمیان اللہ عزوجل کی تہلیل کرتے، اور دعا کرتے تھے۔
Jam e Tirmazi
128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامَرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصِّيَامَ وَالصَّلَاةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَلَجَّمِي ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاتَّخِذِي ثَوْبًا ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا صَنَعْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اغْتَسِلِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي وَصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ ذَلِكِ يُجْزِئُكِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ حِينَ تَطْهُرِينَ وَتُصَلِّينَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَافْعَلِي وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الصُّبْحِ وَتُصَلِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَوِيتِ عَلَى ذَلِكَ ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَهُوَ أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ وَشَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنَّ ابْنَ جُرَيجٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ وَالصَّحِيحُ:‏‏‏‏ عِمْرَانُ بْنُ طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق فِي الْمُسْتَحَاضَةِ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَتْ تَعْرِفُ حَيْضَهَا بِإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِقْبَالُهُ أَنْ يَكُونَ أَسْوَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِدْبَارُهُ أَنْ يَتَغَيَّرَ إِلَى الصُّفْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْحُكْمُ لَهَا عَلَى حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتِ الْمُسْتَحَاضَةُ لَهَا أَيَّامٌ مَعْرُوفَةٌ قَبْلَ أَنْ تُسْتَحَاضَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ وَلَمْ يَكُنْ لَهَا أَيَّامٌ مَعْرُوفَةٌ وَلَمْ تَعْرِفْ الْحَيْضَ بِإِقْبَالِ الدَّمِ وَإِدْبَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْحُكْمُ لَهَا عَلَى حَدِيثِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ،‏‏‏‏ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا اسْتَمَرَّ بِهَا الدَّمُ فِي أَوَّلِ مَا رَأَتْ فَدَامَتْ عَلَى ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا طَهُرَتْ فِي خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَوْ قَبْلَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا أَيَّامُ حَيْضٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهَا تَقْضِي صَلَاةَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَدَعُ الصَّلَاةَ بَعْدَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏أَقَلَّ مَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَهُوَ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَقَلِّ الْحَيْضِ وَأَكْثَرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ أَقَلُّ الْحَيْضِ ثَلَاثَةٌ وَأَكْثَرُهُ عَشَرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَأْخُذُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا،‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ:‏‏‏‏ أَقَلُّ الْحَيْضِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْثَرُهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي عُبَيْدٍ.
Hamnah bint Jahsh narrated: I had a case of blood flow that was severe and excessive. So I went to the Prophet to inform him and ask him about it. I found him in the house of my sister Zainab bint Jahsh. I said, 'O Messenger of Allah! I suffer from a case of severe and excessive blood flow. So what do you order me to do for it, and does this prevent me from fasting and performing Salat?' He said: 'Tie a cotton rag around yourself and the bIood will go away.' I said, 'It is more than that.' He said: 'Make it tight.' I said, 'It is more than that.' He said: 'Then use a cloth (to bind it).' I said, it is more than that. It flows too much.' So the Prophet said: 'I will order you to do one of two things, which ever of them you do, it will be acceptable for you. You should know which of them you are able to do.' Then he said: 'This is only a blow from Shaitan. Menstruate for six or seven days, which Allah knows, then perform Ghusl. When you see that you have become pure and clean, then perform Salat for twenty-three or twenty-four nights and their days. Perform Salat and fast, and that will be acceptable for you. So do this (if you can) just as (other) women who menstruate and become pure during their periods of menstruation and purity. If (not, and) you are able to delay Zuhr and hasten Asr then perform Ghusl when you have become pure, and pray Zuhr and Asr together. Then delay Maghrib and hasten Isha, then perform Ghusl and combine the two prayers. So do this (if you are able). Then perform Ghusl with the dawn and pray. Do this, and fast if you are able to do so.' Then Allah's Messenger said: 'That is what is preferable to me of the two.'
حمنہ بنت جحش رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی، میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اور آپ کو اس کی خبر دینے کے لیے حاضر ہوئی، میں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنی بہن زینب بنت حجش کے گھر پایا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سخت قسم کے استحاضہ میں مبتلا رہتی ہوں، اس سلسلہ میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں، اس نے تو مجھے صوم و صلاۃ دونوں سے روک دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں تجھے روئی رکھنے کا حکم دے رہا ہوں اس سے خون بند ہو جائے گا“، انہوں نے عرض کیا: وہ اس سے زیادہ ہے ( روئی رکھنے سے نہیں رکے گا ) آپ نے فرمایا: ”تو لنگوٹ باندھ لیا کرو“، کہا: خون اس سے بھی زیادہ آ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”تم لنگوٹ کے نیچے ایک کپڑا رکھ لیا کرو“، کہا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے کافی ہو گا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ تو صرف شیطان کی چوٹ ( مار ) ہے تو چھ یا سات دن جو اللہ کے علم میں ہیں انہیں تو حیض کے شمار کر پھر غسل کر لے اور جب تو سمجھ لے کہ تو پاک و صاف ہو گئی ہو تو چوبیس یا تئیس دن نماز پڑھ اور روزے رکھ، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اسی طرح کرتی رہو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں، اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے پاک صاف ہو جا اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لے تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اگر تم قادر ہو تو اس طرح کرو اور روزے رکھو“، پھر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں باتوں ۱؎ میں سے یہ دوسری صورت ۲؎ مجھے زیادہ پسند ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے اور اسی طرح احمد بن حنبل نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ عورت جب اپنے حیض کے آنے اور جانے کو جانتی ہو، اور آنا یہ ہے کہ خون کالا ہو اور جانا یہ ہے کہ وہ زردی میں بدل جائے تو اس کا حکم فاطمہ بن ابی حبیش رضی الله عنہا کی حدیث کے مطابق ہو گا ۳؎ اور اگر مستحاضہ کے لیے استحاضہ سے پہلے ( حیض کے ) ایام معروف ہیں تو وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔ اور جب خون جاری رہے اور ( حیض کے ) ایام معلوم نہ ہوں اور نہ ہی وہ حیض کے آنے جانے کو جانتی ہو تو اس کا حکم حمنہ بنت جحش رضی الله عنہا کی حدیث کے مطابق ہو گا ۴؎ اسی طرح ابو عبید نے کہا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: جب مستحاضہ کو پہلی بار جب اس نے خون دیکھا تبھی سے برابر خون جاری رہے تو وہ خون شروع ہونے سے لے کر پندرہ دن تک نماز چھوڑے رہے گی، پھر اگر وہ پندرہ دن میں یا اس سے پہلے پاک ہو جاتی ہے تو گویا یہی اس کے حیض کے دن ہیں اور اگر وہ پندرہ دن سے زیادہ خون دیکھے، تو وہ چودہ دن کی نماز قضاء کرے گی اور اس کے بعد عورتوں کے حیض کی اقل مدت جو ایک دن اور ایک رات ہے، کی نماز چھوڑ دے گی، ۴- حیض کی کم سے کم مدت اور سب سے زیادہ مدت میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں: حیض کی سب سے کم مدت تین دن اور سب سے زیادہ مدت دس دن ہے، یہی سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا قول ہے اور اسی کو ابن مبارک بھی اختیار کرتے ہیں۔ ان سے اس کے خلاف بھی مروی ہے، بعض اہل علم جن میں عطا بن ابی رباح بھی ہیں، کہتے ہیں کہ حیض کی کم سے کم مدت ایک دن اور ایک رات ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پندرہ دن ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ اور ابو عبید کا قول ہے۔
Sunnan Nisai
2722
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِهِ،‏‏‏‏ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يُقَالُ لَهُ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ وَكَانَ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ فِي أَوَّلِ مَا حَجَّ فَلَبَّى بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ كَذَلِكَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّ عَلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَحَدُهُمَا:‏‏‏‏ لَأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِكَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الصُّبَيُّ فَلَمْ يَزَلْ فِي نَفْسِي حَتَّى لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ شَقِيقٌ:‏‏‏‏ وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ إِلَى الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، ‏‏‏‏‏‏نَسْتَذْكِرُهُ فَلَقَدِ اخْتَلَفْنَا إِلَيْهِ مِرَارًا أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ.
It was narrated from Mujahid and others, from a man from the people of Al-Iraq who was called Shaqiq bin Salmah Abu Wail, that: there was a man from Banu Taghlib, who was called As-Subai bin Mabad, who had been a Christian, then became of Muslim.The first time he went for Hajj, he recited the Talbiyah Hajj and Umrah together, and he continued to recite the Talbiyah for them together, He passed by Salman bin Rabiah and Zaid bin suhan, and one to then said; You are more lost than this camel of yours. As-Subai said: This upset me until I met 'Umar bin Al-Khattab, and I mentioned that to him. He said: 'Yuou have been guided to the sunnah of your Prophet shaqiq said: Masruq bin Al-Ajda and I often used to visit As-Subai bin Ma'bad and talk with him
شقیق بن سلمہ ابووائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہو گیا، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے کہا: تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہدایت و توفیق ملی ہے۔ شقیق ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں اور مسروق بن اجدع دونوں صبی بن معبد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے تو میں اور مسروق بن اجدع دونوں متعدد بار ان کے پاس گئے۔
Sunnan Nisai
2757
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏ فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى وَهُوَ صَامِتٌ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَتَى الْبَيْدَاءَ .
It was narrated from Jabir: Concerning the Hajj of the Prophet, that when he came to Dhul-Hulaifah, he prayed and then he remained silent until he came to Al-Baida'.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ( ظہر کی ) نماز پڑھی، اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے۔
Sunnan Nisai
2760
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ. ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ .
It was narrated from Ibn 'Umar: That he used to narrate that the Prophet began the Talbiyah when his mount stood up with him.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ بتا رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا جس وقت آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔
Sunnan Nisai
2768
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا،‏‏‏‏ وَعِكْرِمَةَ يُخْبِرَانِ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: 'Duba'ah bint Az-Zubair bin 'Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah and said: 'I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How do I begin the Ihram?' He said: 'Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented (from continuing, if some problem should arise).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں؟ آپ نے فرمایا: ”تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ ( اے اللہ ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہو جاؤں گی“۔
Sunnan Nisai
2866
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مُزَاحِمُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَرِّشٍ الْكَعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلًا مِنْ الْجِعِرَّانَةِ، ‏‏‏‏‏‏حِينَ مَشَى مُعْتَمِرًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَصْبَحَ بِالْجِعِرَّانَةِ كَبَائِتٍ حَتَّى إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجَ عَنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي بَطْنِ سَرِفَ حَتَّى، ‏‏‏‏‏‏جَامَعَ الطَّرِيقَ طَرِيقَ الْمَدِينَةِ مِنْ سَرِفَ .
It was narrated from Muhaarish Al-Kabi, that: the Prophet went out a night from Al-Jirranah when he set out for Umrah, and came back to Al-Jirranah when he set out for Umrah, and came back to Al-Jirranah in the morning, as if he had stayed there. Then, when the sun had passed its zenith he went out from Al-Jirranah in the valley of Sarif until the road joined the road to Al-Madinah from Sarif.
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جعرانہ ۲؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آ گئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔
Sunnan Nisai
2978
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏وَلِيُشْرِفَ، ‏‏‏‏‏‏وَلِيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ .
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin Abdullah say: During the Farewell Pilgrimage the Prophet circumambulated the House and went between As-Safa and Al-Marwah on his mount so that the people could see him and he could see them, and they could ask him questions, and the people crowded around him.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، ( اور ایسا اس لیے کیا ) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ لوگوں سے اونچائی پر رہیں اور تاکہ لوگ مسئلے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تھا۔