TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2967 - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 235 of 271 in this chapter
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ قَالَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَحَطَّ اللهُ عَنْهُ بِهَا عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَهُ اللهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ. وَكُنَّ لَهُ كَعَشْرِ رِقَابٍ وَكُنَّ لَهُ مَسْلَحَةً مِّنْ أَوَّلِ النَّهَارِ إِلَى آخِرِهِ وَلَمْ يَعْمَلْ يَوْمَئِذٍ عَمَلًا يَقْهَرُهُنَّ فَإِنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي فَكَذَلِكَ
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے صبح کے وقت یہ کلمات کہے: ”اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے وہ زندہ کرتا ہے اور وہ مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“۔ دس مرتبہ۔ اللہ تعالیٰ ہر مرتبہ کہنے سے دس نیکیاں لکھے گا، دس برائیاں مٹائے گا اور اللہ تعالیٰ دس درجات بلند کرے گا، اور یہ کلمات اس کے لئے دس گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہونےے، اور دن کی ابتدا سے لے کر انتہا تک اس کا ہتھیار ہوں گے ۔اور اس دن کوئی شخص ایساعمل نہیں کرے گا جو ان کلمات سے بڑھ کر ہو۔ اگر وہ شام کے وقت یہ کلمات کہے تو بھی اسی طرح ہے
2967
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (2563) مسند أحمد رقم (22465) المعجم الكبير للطبراني رقم (3787)

Related Chapters

239
1
Chapter: The Permissibility Of Accepting A Reward For Reciting Ruqyah With Qur'an And Supplications
قرآن مجید اور اذکار(مسنونہ )سے دم کرنے اور اس پر اجرت لینے کا جواز
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Mentioned About The Virtue Of The Salat
باب: فضائل نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: Something Else About That
باب: فضائل نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
5
Chapter: From It: Whoever Does Not Ask Allah, He Gets Angry With Him
باب: فضائل دعا سے متعلق ایک اور باب​
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Concerning The Mention Of: “Glory Is To Allah And The Praise” A Hundred Times
باب: صبح و شام کے اذکار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Comprehensive Supplications From The Messenger Of Allah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول جامع دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
8
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
10
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
11
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
15
بَاب فَضَائِل الصَّلَاة
فضائل نماز کا بیان
Mishkat
16
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
Mishkat
17
باب مایقول عندالصباح والمساء والمنام
صبح و شام اور سوتے وقت کے اذکار کا بیان
Mishkat
18
بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ
سید المرسلین ﷺ کے فضائل و مناقب کا بیان
Mishkat
19
بَاب مَنَاقِب أبي بكر
حضرت ابوبکر ؓ کے مناقب و فضائل کا بیان
Mishkat
20
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
Musnad Ahmad
21
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
Musnad Ahmad
22
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
23
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
24
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
25
اذکار، استغفار اور دعوات کے صیغوں میں اصل قانون تین بار کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
Musnad Ahmad
27
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
Musnad Ahmad
28
پریشانی، رنج اور غم کے وقت کے اذکار کا اور اس آدمی کی دعا کا بیان، جس کو کوئی معاملہ مغلوب کر دے
Musnad Ahmad
29
قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب
Musnad Ahmad
30
سورۂ بقرہ کی تفسیر اور اس کے فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
31
سورۂ بقرہ کی آخری آیات کے فضائل
Musnad Ahmad
32
مجلس کو برخاست کرتے وقت کے اذکار کا بیان
Musnad Ahmad
33
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
34
سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا
Musnad Ahmad
35
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
36
اس امر کا بیان کہ آپ پر قرآن مجید نازل کرکے آپ کو خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ اور یہ معجزہ علی الاطلاق تمام معجزات سے افضل ہے۔
Musnad Ahmad
37
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
Musnad Ahmad
38
سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فضائل اور اس کا بیان کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں، نیز اس چیز کی وضاحت کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے تین ماہ تک مقاطعہ کر لیا تھا
Musnad Ahmad
39
انصار کے فضائل و مناقب
Musnad Ahmad
40
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
41
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
42
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
Musnad Ahmad
43
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
Musnad Ahmad
44
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
Musnad Ahmad
46
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
47
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
48
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
49
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
Musnad Ahmad
50
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

556
Jam e Tirmazi
3553
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ قَالَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏كَانَتْ لَهُ عِدْلَ أَرْبَعِ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل . قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْقُوفًا.
Abu Ayyub Al-Ansari narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever says ten times: ‘None has the right to be worshipped by Allah, Alone, without partner, to Him belongs all that exists, and to Him belongs the praise, [He gives life and causes death,] and He has power over all things, (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, [yuḥyī wa yumītu,] wa huwa `alā kulli shai’in qadīr)’ it is for him equal to freeing four slaves among the offspring of Isma`il.”
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دس بار: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير» ”اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں اسی کے لیے ہے ملک ( بادشاہت ) اسی کے لیے ہے ساری تعریفیں، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“، کہا تو یہ ( اس کا اجر ) اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا“ ۱؎۔ یہ حدیث ابوایوب رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی روایت ہوئی ہے۔
Mishkat
2414
وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَالْكِبْرِيَاءُ وَالْعَظَمَةُ لِلَّهِ وَالْخَلْقُ وَالْأَمْرُ وَاللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَمَا سَكَنَ فِيهِمَا لِلَّهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ هَذَا النَّهَارِ صَلَاحًا وَأَوْسَطَهُ نَجَاحًا وَآخِرَهُ فَلَاحًا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» . ذَكَرَهُ النَّوَوِيُّ فِي كِتَابِ الْأَذْكَارِ بِرِوَايَةِ ابْنِ السّني
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ صبح کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ ہم نے اور اللہ کے ملک نے صبح کی ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے ، کبریائی و عظمت اللہ کے لئے ہے ، خلق و امر ، لیل و نہار اور جو چیزیں ان میں ہیں اللہ کے لئے ہیں ، اے اللہ ! اس دن کے اول حصے کو صلاح بنا دے ، اس کے اوسط کو نجاح اور آخر کو فلاح بنا دے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔‘‘ امام نووی نے ابن السنی کی روایت سے اسے کتاب الاذکار میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
Jam e Tirmazi
8
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا . فقَالَ أَبُو أَيُّوبَ:‏‏‏‏ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ مُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ،‏‏‏‏ وَمَعْقِلِ بْنِ أَبِي الْهَيْثَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ مَعْقِلُ بْنُ أَبِي مَعْقِلٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو أَيُّوبَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّهْرِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْيَتُهُ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بِبَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا إِنَّمَا هَذَا فِي الْفَيَافِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا فِي الْكُنُفِ الْمَبْنِيَّةِ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الرُّخْصَةُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فَلَا يَسْتَقْبِلُهَا كَأَنَّهُ لَمْ يَرَ فِي الصَّحْرَاءِ وَلَا فِي الْكُنُفِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ.
Abu Ayyub Al-Ansari narrated that : Allah's Messenger said: When one of you arrives to defecate, then let none of you face the Qiblah while defecating, nor while urinating. And do not have your back towards it, but have it east of you or west of you.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ منہ کو پورب یا پچھم کی طرف کرو“ ۱؎۔ ابوایوب انصاری کہتے ہیں: ہم شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ پاخانے قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو قبلہ کی سمت سے ترچھے مڑ جاتے اور ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی، معقل بن ابی ہیشم ( معقل بن ابی معقل ) ابوامامہ، ابوہریرہ اور سہل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوایوب کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہے، ۳- ابوالولید مکی کہتے ہیں: ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، اس سے مراد صرف صحراء ( میدان ) میں نہ کرنا ہے، رہے بنے بنائے پاخانہ گھر تو ان میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے، اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف صرف پیٹھ کرنے کی رخصت ہے، رہا قبلہ کی طرف منہ کرنا تو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں، گویا کہ ( امام احمد ) قبلہ کی طرف منہ کرنے کو نہ صحراء میں جائز قرار دیتے ہیں اور نہ ہی بنے بنائے پاخانہ گھر میں ( البتہ پیٹھ کرنے کو بیت الخلاء میں جائز سمجھتے ہیں ) ۔
Jam e Tirmazi
24
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، يُقَالُ هُوَ:‏‏‏‏ مِنْ وَلَدِ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،‏‏‏‏ وَأبِى سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ وَأُحِبُّ لِكُلِّ مَنِ اسْتَيْقَظَ مِنَ النَّوْمِ قَائِلَةً كَانَتْ أَوْ غَيْرَهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنْ لَا يُدْخِلَ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَدْخَلَ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا كَرِهْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُفْسِدْ ذَلِكَ الْمَاءَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ نَجَاسَةٌ،‏‏‏‏ وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ النَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْجَبُ إِلَيَّ أَنْ يُهْرِيقَ الْمَاءَ،‏‏‏‏ وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا.
Abu Hurairah reported that the : Prophet said: When on of you awakens in the night, then let him not put his hand into the vessel until he has poured water on two times, or three times, for indeed he does not know where his hand has spent the night.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو نیند سے اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن ۱؎ میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر دو یا تین بار پانی نہ ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر، جابر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- شافعی کہتے ہیں: میں ہر سو کر اٹھنے والے کے لیے - چاہے وہ دوپہر میں قیلولہ کر کے اٹھا ہو یا کسی اور وقت میں - پسند کرتا ہوں کہ وہ جب تک اپنا ہاتھ نہ دھوئے اسے وضو کے پانی میں نہ ڈالے اور اگر اس نے دھونے سے پہلے ہاتھ ڈال دیا تو میں اس کے اس فعل کو مکروہ سمجھتا ہوں لیکن اس سے پانی فاسد نہیں ہو گا بشرطیکہ اس کے ہاتھ میں کوئی نجاست نہ لگی ہو ۲؎، احمد بن حنبل کہتے ہیں: جب کوئی رات کو جاگے اور دھونے سے پہلے پانی میں ہاتھ ڈال دے تو اس پانی کو میرے نزدیک بہا دینا بہتر ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جب وہ رات یا دن کسی بھی وقت نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ وضو کے پانی میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے۔
Jam e Tirmazi
265
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ فِيهَا الرَّجُلُ يَعْنِي صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَرِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ مَنْ لَمْ يُقِمْ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَصَلَاتُهُ فَاسِدَةٌ:‏‏‏‏ لِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ الْبَدْرِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍوَ.
Abu Mas'ud Al-Ansari [Al-Badri] narrated that : Allah's Messenger said: The Salat is not acceptable if a man is not at rest - meaning his back - while bowing and prostrating.
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان، انس، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے، ۴- شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی نماز فاسد ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔
Jam e Tirmazi
339
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ مُشْتَمِلًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ أَبِي أَسِيدٍ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَكَيْسَانَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،‏‏‏‏ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِهِمْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبَيْنِ.
Umar bin Abi Salamah narrated that he saw : Allah's Messenger performing Salat in the house of Umm Salamah wrapped in one garment.
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔
Jam e Tirmazi
389
قَالَ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ:‏‏‏‏ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ ثَوْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً قَالَ مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي فَاطِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ثَوْبَانَ،‏‏‏‏ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فِي كَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ طُولُ الْقِيَامِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ كَثْرَةِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ كَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ أَفْضَلُ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:‏‏‏‏ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا حَدِيثَانِ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ أَمَّا فِي النَّهَارِ فَكَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَأَمَّا بِاللَّيْلِ فَطُولُ الْقِيَامِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَهُ جُزْءٌ بِاللَّيْلِ يَأْتِي عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَثْرَةُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فِي هَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ لِأَنَّهُ يَأْتِي عَلَى جُزْئِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَبِحَ كَثْرَةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَإِنَّمَا قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ هَذَا لِأَنَّهُ كَذَا وُصِفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَوُصِفَ طُولُ الْقِيَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا بِالنَّهَارِ فَلَمْ يُوصَفْ مِنْ صَلَاتِهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ مَا وُصِفَ بِاللَّيْلِ.
Madan [bin Talhah] said: I met Abu Ad-Darda, and I asked him what I had asked Thawban, so he said: 'Perform prostrations, for I heard Allah's Messenger saying: 'No worshipper performs a prostration to Allah except that by it Allah will raise him a level, and erase a sin from him for it.'
معدان کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے بھی اسی چیز کا سوال کیا جو میں نے ثوبان رضی الله عنہ سے کیا تھا تو انہوں نے بھی کہا کہ تم سجدے کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”جو بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا تو اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک گناہ مٹا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رکوع اور سجدے کثرت سے کرنے کے سلسلے کی ثوبان اور ابوالدرداء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوامامہ اور ابوفاطمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نماز میں دیر تک قیام کرنا کثرت سے رکوع اور سجدہ کرنے سے افضل ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا دیر تک قیام کرنے سے افضل ہے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں دونوں طرح کی حدیثیں مروی ہیں، لیکن اس میں ( کون راجح ہے اس سلسلہ میں ) انہوں نے کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی ہے۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ دن میں کثرت سے رکوع اور سجدے کرنا افضل ہے اور رات میں دیر تک قیام کرنا، الا یہ کہ کوئی شخص ایسا ہو جس کا رات کے حصہ میں قرآن پڑھنے کا کوئی حصہ متعین ہو تو اس کے حق میں رات میں بھی رکوع اور سجدے کثرت سے کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کا اتنا حصہ تو پڑھے گا ہی جسے اس نے خاص کر رکھا ہے اور کثرت سے رکوع اور سجدے کا نفع اسے الگ سے حاصل ہو گا، ۴- اسحاق بن راہویہ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل ( تہجد ) کا حال بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس میں دیر تک قیام کیا کرتے تھے، رہی دن کی نماز تو اس کے سلسلہ میں یہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ آپ ان میں رات کی نمازوں کی طرح دیر تک قیام کرتے تھے۔
Jam e Tirmazi
424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ حَبِيبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَى حَدِيثِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَرَوْنَ الْفَصْلَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشافعي،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ.
Ali narrated: The Prophet (S) would pray four Rak'ah before Az-Zuhr and two Rak'ah after it.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہما اور ام حبیبہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث ( اعور ) کی حدیث سے افضل ہے، ۴- صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات ( دونوں ) کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
445
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَعْدُ بْنُ هِشَامٍ هُوَ:‏‏‏‏ ابْنُ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَهِشَامُ بْنُ عَامِرٍ هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى قَاضِيَ الْبَصْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَؤُمُّ فِي بَنِي قُشَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَأَ يَوْمًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ خَرَّ مَيِّتًا، ‏‏‏‏‏‏فَكُنْتُ فِيمَنِ احْتَمَلَهُ إِلَى دَارِهِ .
Aishah narrated: When the Prophet (S) did not pray at night because he was prevented from it by sleep or being sleepy then he would pray twelve Rak'ah during the daytime.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد نہیں پڑھ پاتے تھے اور نیند اس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیند کا غلبہ ہو جاتا تو دن میں ( اس کے بدلہ میں ) بارہ رکعتیں پڑھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعد بن ہشام ہی ابن عامر انصاری ہیں اور ہشام بن عامر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ بہز بن حکیم سے روایت ہے کہ زرارہ بن اوفی بصرہ کے قاضی تھے۔ وہ بنی قشیر کی امامت کرتے تھے، انہوں نے ایک دن فجر میں آیت کریمہ «‏فإذا نقر في الناقور * فذلك يومئذ يوم عسير» ”جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن سخت دن ہو گا“ پڑھی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے اور مر گئے۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو انہیں اٹھا کر ان کے گھر لے گئے۔