TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2996 - Chapter: Ifrad and Qiran - The book of pilgrimage - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
Chapter: Ifrad and Qiran
حج افراد اور حج قران
وَحَدَّثَنِي وأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ» قَالَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: «أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ» فَرَجَعْتُ إِلَى أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: «كَأَنَّمَا كُنَّا صِبْيَانًا»
Bakr b. 'Abdullah reported: Anas (Allah be pleased with him) had narrated to us that he saw Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) combining Hajj and 'Umra. He (Bakr) said: I asked (about it) from Ibn 'Umar, whereupon he said: We entered into the state of Ihram for Hajj (only). I came to Anas and told him what Ibn Umar had said, whereupon he remarked: (You are treating us) as if we were children.
حبیب بن شہید نے بکر بن عبداللہ سے روایت کی ، ( کہا : ) ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ان دونوں کو ملایاتھا ، حج اور عمرے کو ۔ ( بکر نے ) کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : ہم نے ( صرف ) حج کا تلبیہ کہا تھا ۔ ( بکر نے کہا : ) پھر میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رجوع کیا اور انھیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات بتائی ۔ انھوں نے جواب دیا : جیسے ہم تو اس وقت بچے تھے؟
2996
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

41
1
(34) CHAPTER.What is said regarding Hajj-at-Tamattu, Hajj-al-Qiran and Hajj-al-Ifrad. And whoever has not brought the Hady with him, he should finish the Ihram of Hajj, and make it as Umra, ( and then assume another Ihram for Hajj form Makkah, etc.).
حج میں تمتع ، قران اور افراد کا بیان اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو ، اسے حج فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کی اجازت ہے
Sahih Bukhari
2
Chapter: Clarifying the types of Ihram; and that it is permissible to perfom Hajj that is Ifrad, Tamattu and Qiran. It is permissible to join Hajj to Umrah. And when the pilgrim who is performing Qiran should exit Ihram
احرام کی مختلف صورتیں ‘حج افراد تمتع اور قران ‘نیز عمرے (کے احرام )میں ‘احرام حج کو شامل کر لینے کا جواز ‘اور (یہ کہ)حج قران کرنے والا کب احرام کھولے
Sahih Muslim
3
Chapter: The pilgrim performing Qiran should not exit Ihram except when the pilgrims performing Ifrad exit Ihram
حج قران کرنے والابھی اسی وقت احرام کھولے ہو گا جب حج افراد کرنے والاکھولے گا
Sahih Muslim
4
Chapter: What Has Been Related About The Ifrad Hajj
باب: حج افراد کا بیان
Jam e Tirmazi
5
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
6
Chapter: It is permissible to exit Ihram if one is prevented from completing Hajj; It is permissible to perform Qiran and the pilgrim performing Qiran should perform just one Tawaf and one Sa'i
کسی رکاوٹ کے باعث (راستے میں)احرام کھول دینے ‘نیز حج قران اور اس میں ایک طواف اور ایک سعی پر اکتفاکرنے کا جواز
Sahih Muslim
7
Chapter: Clarifying that the pilgrim who has entered Ihram for Umrah should not exit Ihram after performing Tawaf before Sa'i; And the pilgrim who has entered Ihram for Hajj should not exit Ihram after performing Tawaf Al-Qudum, and the same applies to the pilgrim performing Qiran
عمرے کا احرام باندھنے والے کا احرام ‘صفا مروہ کی سعی سے پہلےصرف طواف کرنے سے ختم نہیں ہوتا ‘حج کا احرام باندھنے والا(صرف)طواف قدوم سے حلّت میں نہیں آتا ‘اسی طرح حج قران کرنے والے کا حکم ہے (طواف سے اس کا احرام ختم نہیں ہو گا
Sahih Muslim
8
CHAPTER: Performing The Ifrad Hajj
باب: حج افراد کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
9
CHAPTER: Regarding The Qiran Hajj.
باب: حج قران کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
CHAPTER: The Tawaf For The One Performing Qiran
باب: قران کرنے والے کے طواف کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
11
Chapter: What Has Been Reported About: One Sheep Will Suffice For The People In The Household
باب: ایک بکری کی قربانی گھر کے سارے افراد کی طرف سے کافی ہے
Jam e Tirmazi
12
’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
Musnad Ahmad
13
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
14
… حج افراد کا بیان
Musnad Ahmad
15
حج قران کا بیان
Musnad Ahmad
16
حج افراد کرنے والے کا طواف
Musnad Ahmad
17
حج قران کرنے والے کا طواف
Musnad Ahmad
18
ہدی میں اشتراک اور ہدی میں اونٹ اور گائے کا سات سات افراد سے کفایت کرنا
Musnad Ahmad
19
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
20
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
21
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
Musnad Ahmad
22
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
Musnad Ahmad
23
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
25
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
Musnad Ahmad
26
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
Musnad Ahmad
27
ان تین افراد کا قصہ، جنھوں نے غار میںپناہ لی اور وہ غار ان پر بند ہو گئی
Musnad Ahmad
28
سریہ بئر معونہ کابیان اور یہ وہی سریہ ہے، جس میں ستر افراد شہید ہو گئے تھے
Musnad Ahmad
29
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
Musnad Ahmad
30
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
Musnad Ahmad
31
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
32
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
Musnad Ahmad
33
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
Musnad Ahmad
34
(77) CHAPTER. Tawaf of AI-Qarin.
قران کرنے والا ایک طواف کرے یا دو کرے
Sahih Bukhari
35
(33) CHAPTER. “...And whosoever performs the Umra in the months of Hajj before (performing) the Hajj (i.e., Hajj At-Tamattu and Al-Qiran).” (V.2:196)
آیت ( ( فمن تمتع با لعمرۃ الی الحج ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
36
(2) CHAPTER. “And when We have recited it to you [O Muhammad through Jibril (Gabriel)], then follow its (the Quran's) recital. (V.75:18)
آیت ( ( فاذا قرا ہ فاتبع قرانہ ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
37
Chapter: It is permissible to share in the sacrifice, and a camel or a cow is sufficient for seven people
قربانی میں شراکت جائز ہے ‘اونٹ اور گائے میں سے ہر ایک سات افراد کی طرف سے کافی ہے
Sahih Muslim
38
حج افراد کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
جب تین افراد ہوں: ایک مرد، ایک بچہ اور ایک عورت تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
باب: حج افراد کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
باب: حج افراد کرنے والے کے طواف کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

30
Sahih Muslim
1348
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ، ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: يَقُولُ سُهَيْلٌ: إِحْدَى عَشْرَةَ، إِحْدَى عَشْرَةَ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ
Abu Huraira narrated it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that they (the poor among the emigrants) said: Messenger of Allah, the possessors of great wealth have obtained the highest ranks and lasting bliss, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Qutaiba on the authority of Laith except that he inserted the words of Abu Salih in the narration of Abu Huraira that the poor of the emigrants came back, to the end of the hadith,, but this addition was made that Suhail said (that every part of the supplication, i. e. Glorification of Allah, His Praise and declaration of His Greatness) should be uttered eleven times making the total as thirty-three.
امیہ بسطام عیشی نے مجھے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں یزید بن زریع نےحدیث سنائی ، کہا ہمیں روح نے سہیل سے حدیث سنائی انھون نے اپنے والد ( ابو صالح سے ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انھون نے رسو اللہ ﷺ سے روایت کی کہ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بلند مراتب اور دائمی نعمتیں تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے ۔ ۔ ۔ جس طرح لیث سےقتیبہ کی بیان کی ہوئی حدیث ہے ، مگر انھوں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث میں ابو صالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فقراء مہاجرین لوٹ کر آئے ، حدیث کے آخر تک ۔ اور حدیث میں اس بات کا اضافہ کیا : سہیل کہتے تھے : ( ہر کلمہ ) گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر تینتیس بار ۔ ( یہ سہیل کا اپنا فہم تھا ۔ )
Jam e Tirmazi
182
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَحَفْصَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ فِي صَلَاةِ الْوُسْطَى حَسَنٌ وصَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةُ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ:‏‏‏‏ سَلِ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ قُرَيْشِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
Smurah bin Jundub narrated that : the Prophet said: Salatul-wusta is the Asr prayer.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- «صلاة وسطیٰ» کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کا کہنا ہے: حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ رضی الله عنہا کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ ( یعنی فجر ) ہے ۲؎، ۵- وہ حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا کہ تم حسن بصری سے پوچھو کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سمرہ بن جندب سے سنا ہے، ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی ابن المدینی نے کہا ہے کہ سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کا سماع صحیح ہے اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔
Jam e Tirmazi
776
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet was cupped while he was fasting.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، آپ روزے سے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
1036
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا يُصَلَّى عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يُصَلَّى عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِسْحَاق.
Abdur-Rahman bin Ka'b bin Malik narrated that: Jabir bin Abdullah informed him that the Prophet had put two men together in one cloth from those who were killed at (the battle of) Uhud, then he said: Which of them memorized the more of the Qur'an? When one of them was indicated to him, he put him in the Lahd (first) and said: I am a witness for those people on the Day of Judgment. And he ordered that they be buried in their blood, and that they not be prayed over, nor washed.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں ایک ساتھ کفناتے، پھر پوچھتے: ”ان میں قرآن کسے زیادہ یاد تھا؟“ تو جب آپ کو ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو آپ اسے لحد میں مقدم رکھتے اور فرماتے: ”قیامت کے روز میں ان لوگوں پر گواہ رہوں گا“۔ اور آپ نے انہیں ان کے خون ہی میں دفنانے کا حکم دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ ہی انہیں غسل ہی دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث زہری سے مروی ہے انہوں نے اسے انس سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے نیز یہ زہری سے عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر کے واسطے سے بھی مروی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور ان میں سے بعض نے اسے جابر کی روایت سے ذکر کیا، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا شہید کی نماز جنازہ کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ یہی اہل مدینہ کا قول ہے۔ شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں، ۴- اور بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز پڑھی جائے گی۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ آپ نے حمزہ رضی الله عنہ کی نماز پڑھی تھی۔ ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں اور یہی اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1661
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا غَيْرُ الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَتَّى أُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مِمَّا يَرَى مِمَّا أَعْطَاهُ مِنَ الْكَرَامَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas bin Malik: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: None of the people of Paradise would wish to return to the world except for the martyr who indeed would love to return to the world saying that he would love to be killed ten times in Allah's cause because of what he has seen of the honor that He has given him. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کے علاوہ کوئی جنتی ایسا نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہو وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہے، کہتا ہے: ( دل چاہتا ہے کہ ) اللہ کی راہ میں دس مرتبہ قتل کیا جاؤں، یہ اس وجہ سے کہ وہ اس مقام کو دیکھ چکا ہے جس سے اللہ نے اس کو نوازا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1797
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذُكِّيَ فَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Tha'labah Al-Khushani: That he said: O Messenger of Allah! We live in a land of the People of Book and we cook in their containers, and drink in their vessels. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you do not find other than them, then rinse them with water. The he said: O Messenger of Allah! We live in a land of game, so what should we do ? He said: When you send your trained dog, and you mentioned the Name of Allah, and he kills it, then eat it. And when you shoot it with your bow, and it is killed, then eat it.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو“، پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کر دیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہو جائے تو اسے کھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1817
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشْقَرُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ كُلْ بِسْمِ اللَّهِ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ شَيْخٌ آخَرُ بَصْرِيٌّ أَوْثَقُ مِنْ هَذَا وَأَشْهَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ وَحَدِيثُ شُعْبَةَ أَثْبَتُ عِنْدِي وَأَصَحُّ.
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : The Messenger of Allah (ﷺ) took the hand of a leper and put it in the Qas'ah. Then he said: 'Eat in Allah's Name, trusting in Allah and relying upon Him.' [Abu 'Eisa said:] This is a Gharib Hadith, we do not know of it except through the report of Yunus bin Muhammad, from Al-Mufaddal bin Fadalah, a Shaikh from Al-Basrah. There is another Shaikh from Al-Basrah named Al-Mufaddal bin Fadalah, who is more reliable han this one and more popular. Shu'bah reported this Hadith from Habib bin Ash-Shahid, from Ibn Buraidah: That Ibn 'Umar took the hand of a leper and the narration of Shu'bah is more appropriate to me and more correct.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، پھر فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ مفضل بن فضالہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- یہ مفضل بن فضالہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، مفضل بن فضالہ ایک دوسرے شیخ بصریٰ ہیں وہ ان سے زیادہ ثقہ اور شہرت کے مالک راوی ہیں، ۳- شعبہ نے اس حدیث کو بطریق: «حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة أن ابن عمر» روایت کیا ہے کہ انہوں ( ابن عمر ) نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا، میرے نزدیک شعبہ کی حدیث زیادہ صحیح اور ثابت ہے۔
Jam e Tirmazi
2703
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ وَزَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ وَيُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ:‏‏‏‏ إِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
Narrated Al-Hasan: from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: The rider gives the Salam to the walking person, and the walking person to the sitting person and the few to the many. Ibn Al-Muthanna added in his narration: And the young one gives the Salam to the elder.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ( یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے“۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: ”چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ۲- ایوب سختیانی، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، فضالہ بن عبید اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2755
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ صَفْوَانَ حِينَ رَأَوْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اجْلِسَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَهُ.
Narrated Abu Miljaz: that Mu'awiyah came out and 'Abdullah bin Az-Zubair and Ibn Safwan stood for him when they saw him, so he said: Sit, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Whoever wishes that he be received by men standing then, let him take his seat in the Fire.'
ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ باہر نکلے، عبداللہ بن زبیر اور ابن صفوان انہیں دیکھ کر ( احتراماً ) کھڑے ہو گئے۔ تو معاویہ رضی الله عنہ نے کہا تم دونوں بیٹھ جاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص یہ پسند کرے کہ لوگ اس کے سامنے با ادب کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔ ہم سے بیان کیا ہناد نے وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابواسامہ نے اور ابواسامہ نے حبیب بن شہید سے حبیب بن شہید نے ابومجلز سے ابومجلز نے معاویہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔