TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان - اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 19 of جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 19 of 33 · 2 Hadith
۔ (۱۳۲۵۹)۔ وَعَنِ الْاَسْوَدِ بْنِ سَرِیْعٍ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعَۃٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ اَصَمُّ لَا یَسْمَعُ شَیْئًا وَرَجُلٌ اَحْمَقُ وَرَجُلٌ ھَرِمٌ وَرَجُلٌ مَاتَ فِیْ فَتْرَۃٍ، فَاَمَّا الْاَصَمُّ فَیَقُوْلَُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَمَا اَسْمَعُ شَیْئًا، وَاَمَّا الْاَحْمَقُ فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَالصِّبْیَانُیَخْذِفُوْنِّیْ بِالْبَعْرِ، وَاَمَّاالْھَرِمُ فَیَقُوْلُ: رَبِّ لَقَدْ جَائَ الْاِسْلَامُ وَمَا اَعْقِلُ شَیْئًا، وَاَمَّا الَّذِیْ مَاتَ فِی الْفَتْرِۃِ، فَیَقُوْلُ: رَبِّ مَا اَتَانِیْ لَکَ رَسُوْلٌ، فَیَاْخُذُ مَوَاثِیْقَہُمْ لَیُطِیْعَنَّہُ فَیُرْسِلُ اِلَیْہِمْ اَنِ ادْخُلُوْا النَّارَ قَالََ: فَوَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! لَوْ دَخَلُوْھَا لَکَانَتْ عَلَیْہِمْ بَرْدًا وَسَلاَمًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۱۰)
سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چار قسم کے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، ایک بہرہ ہو گا، جو بالکل نہیں سنتا تھا، دوسرا احمق یعنی بے شعور ہو گا، تیسرا انتہائی بوڑھا اور چوتھا فترہ میں مر جانے والا۔ بہرہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! میرے پاس دین اسلام اس وقت آیا تھا، جب میں کچھ بھی نہیں سنتا تھا،احمق کہے گا: اے میرے رب! اسلام تو آیا تھا، لیکن میں اس قدر بے شعور تھا کہ بچے مجھے مینگنیاں مارا کرتے تھے، بوڑھا کہے گا: اے میرے ربّ! جب اسلام آیا تھا تو میری حالت یہ تھی کہ مجھے کوئی چیز سمجھ نہیں آتی تھی اور فترہ میں مرنے والا کہے گا: اے میرے رب! میرے پاس تو تیرا کوئی رسول ہی نہیں آیا تھا۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان سے پختہ عہد لے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ضرور بالضرور اطاعت کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف پیغام بھیجے گا کہ تم اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر وہ اس آگ میں داخل ہو جائیں گے تو وہ ان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی۔
Takhreej
(۱۳۲۵۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ البزار: ۲۱۷۴، والبیھقی فی الاعتقاد : ص ۱۱۱، واسحاق بن راہویہ فی مسندہ : ۴۱ (انظر: ۱۶۳۰۱)
Explanation
فوائد:… دو نبیوں کے درمیان کے وقفہ کو فترہ کہتے ہیں، اس حدیث میں اہلِ فترہ سے مراد وہ لوگ ہیں، جو عیسی علیہ السلام کے بعد آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت سے پہلے فوت ہو گئے۔
13259
Sahih
۔ (۱۳۲۶۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِثْلُ ہٰذَا غَیْرَ اَنَّہُ قَالَ فِیْ آخِرِہٖ: ((فَمَنْدَخَلَہَاکَانَتْعَلَیْہِ بَرْدًا وَسَلَامًا وَمَنْ لَّمْ یَدْخُلْہَایُسْحَبُ اِلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۱۱)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی گزشتہ حدیث کی مانند ایک حدیث مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: جو شخص اس آگ میں داخل ہو جائے گا، وہ اس کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی اور جو اس میں داخل نہیں ہو گا، اسے گھسیٹ کر اس کی طرف لے جایا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۶۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ بنحوہ البزار: ۲۱۷۵، والبیھقی فی الاعتقاد : ص ۱۱۱ (انظر: ۱۶۳۰۲)
Explanation
فوائد:… اس فصل سے معلوم ہوا کہ بہرا، بے شعور ، بے عقل ، انتہائی بوڑھا اور قبل از اسلام دور جاہلیت میں فوت ہونے والا، جب یہ چار قسم کے لوگ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا عذر پیش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کا دوبارہ امتحان لے گا، اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت زیادہ واضح ہے: سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا اسود بن سریع اور سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یُؤْتٰی بِاَرْبَعَۃٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: بِالْمَوْلُوْدِ، وَبِالْمَعْتُوْہِ، وَبِمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَۃِ، وَالشَّیْخِ الْفَانِيْ،کُلُّھُمْ یَتَکَلَّمُ بِحُجَّتِہِ، فَیَقُوْلُ الرَّبُّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لِعُنُقٍ مِنَ النَّارِ: اَبْرِزْ، فَیَقُوْلُ لَھُمْ: اِنِّيْ کُنْتُ اَبْعَثُ اِلٰی عِبَادِيْ رُسُلاً مِنْ اَنْفُسِھِمْ ، وَاِنِّي رَسُوْلُ نَفْسِيْ اِلَیْکُمْ، اُدْخُلُوْا ھٰذِہٖ فَیَقُوْلُ مَنْ کُتِبَ عَلَیْہِِ الشَّقَائُ: یَارَبِّ! اَیْنَ نَدْخُلُھَا وَمِنْھَا کُنَّا نَفِرُّ؟ قَالَ: وَمَنْ کُتِبَ عَلَیْہِ السَّعَادَۃُ یَمْضِيْ فَیَقْتَحِمُ فِیْھَا مُسْرِعًا، قَالَ: فَیَقُوْلُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: اَنْتُمْ لِرُسُلِيْ اَشَدُّ تَکْذِیْبًا وَمَعْصِیَۃً، فَیَدْخُلُ ھٰؤُلَائِ الْجَنَّۃَ، وَھٰؤُلَائِ النَّارَ۔)) … روزِ قیامت اِن چار افراد کو لایا جائے گا: بچہ، مجنون، دو رسولوں کے درمیانی وقفے میںمرنے والا اور بہت بوڑھا۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی دلیلیں پیش کرے گا، اللہ تعالیٰ آگ کی گردن سے فرمائے گا: نمایاں ہو، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنے بندوں کی طرف ان میں سے رسول بھیجتا رہا اور اب میں تم لوگوں کے لیے اپنا قاصد خود ہوں اور کہتا ہوں کہ (سب کے سب) اس آگ میں داخل ہو جاؤ۔ بدبخت لوگ کہیں گے:اے ہمارے ربّ! ہم اس میں کیسے داخل ہوں، ہم تو اس سے دور بھاگتے تھے؟ سعادت مند لوگ (اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے) چل پڑیں گے اور اس میں جلدی جلدی اور زبردستی گھسیں گے۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم (آگ میں داخل نہ ہونے والے بدبخت) لوگ میرے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کی نافرمانی کرنے میں بڑے دلیر ہوتے۔ اب یہ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ آگ میں۔ (مسند ابی یعلی: ۳/ ۱۰۴۴، مسند البزار: صـ ۲۳۲، المعجم الاوسط، المعجم الکبیر، الصحیحۃ: ۲۴۶۸) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: اس حدیث میںمذکورہ بچے سے مراد وہ ہے، جس کے والدین کافر ہوں۔ (صحیحہ: ۵/ ۶۰۵) کیونکہ بالاتفاق مسلمانوں کی بچے جنت میں داخل ہوںگے۔
13260
Sahih

Chapters

33
01
جنت اور جہنم کا تذکرہ جنت اور جہنم والوں کا بیان
6 Hadith
02
جنت اور جہنم کا تکرار
2 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے…
3 Hadith
04
اہل ِ جہنم کی بدبختی اور اہل جنت کی نعمتوں کا بیان
4 Hadith
05
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
2 Hadith
06
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
4 Hadith
07
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
6 Hadith
08
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
2 Hadith
09
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
3 Hadith
10
جہنم سے ڈرانے کا بیان
4 Hadith
11
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
8 Hadith
12
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
8 Hadith
13
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
1 Hadith
14
اہل ِ توحید میں سے جہنم سے سب سے آخر میں رہائی پانے والا اور سب سے آخر میں جنت میں جانے والے کا تذکرہ
5 Hadith
15
وہ امور جن میں مسلمانوں کی اولاد اور کافروں کی اولاد کاایک ہی حکم ہے
5 Hadith
16
مشرکوں کی اولاد کا بیان
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
5 Hadith
18
اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں
3 Hadith
19
اہلِ فترہ، بے شعور، بہرے اور انتہائی بوڑھے افراد کے انجام کا بیان
2 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے والدین کا تذکرہ
4 Hadith
21
جنت کی نعمتوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس قول کا بیان کہ اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا
4 Hadith
22
جنت کی عمارت، مٹی، کمروں اور خیموں کا تذکرہ
7 Hadith
23
جنت کے درختوں، پرندوں اور نہروں کی کیفیت کا تذکرہ
7 Hadith
24
جنت کے بازار ، جنتی عورتوں کی صفات اور جنت میں موتی آنکھوں والی حوروں کے گاہنے کا بیان
5 Hadith
25
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
9 Hadith
26
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
8 Hadith
27
حساب کتاب کے بغیر جنت میں جانے والوں کی تعداد اور ان کی صفات کا بیان
6 Hadith
28
سب سے کم درجہ والے اور سب سے بلند درجہ والے جنتی کے انعامات کا بیان
5 Hadith
29
اہل جنت ،ان کی صفات ،دیگر امتوں کے مقابلے میں امت ِ محمدیہ کی تعداد اوران کے کھانے پینے ، نکاح اور لباس کا تذکرہ
11 Hadith
30
جو جنتی جنت میں جس چیز کی خواہش کرے گا، وہ اسے مل جائے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہوگی جسے دل چاہیں گے اور آنکھیں پسند کریں گی۔
3 Hadith
31
اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی، اور یہی چیز اہل جنت پر سب سے بڑی نعمت ہوگی
1 Hadith
32
موت کو ذبح کر دینے اور جہنمیوں کا ہمیشہ جہنم میں رہنے اور جنتیوں کا ہمیشہ جنت میں رہنے کا بیان
5 Hadith
33
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
6 Hadith
No chapter matched that.