TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4837 - Chapter: The age of responsibility - The book of government - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
Chapter: The age of responsibility
سن بلوغ کابیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عَرَضَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، وَعَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي، قَالَ نَافِعٌ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ كَانَ ابْنَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَاجْعَلُوهُ فِي الْعِيَالِ»،
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar who said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) inspected me on the battlefield on the Day of Uhud, and I was fourteen years old. He did not allow me (to take part in the fight). He inspected me on the Day of Khandaq-and I was fifteen yearsold, and he permitted me (to fight), Nafi' said: I came to 'Umar b. 'Abd al-'Aziz who was then Caliph, and narrated this tradition to him. He said: Surely, this is the demarcation between a minor and a major. So he wrote to his governors that they should pay subsistence allowance to one who was fifteen years old, but should treat those of lesser age among children.
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ ( کے معاملے ) میں میرا معاینہ فرمایا ، اس وقت میری عمر چودہ سال تھی ، آپ نے مجھے ( جنگ میں شمولیت کی ) اجازت نہیں دی اور غزوہ خندق کے دن میرا معاینہ فرمایا جبکہ میں پندرہ برس کا تھا تو آپ نے مجھے اجازت دے دی ۔ نافع نے کہا : جس زمانے میں عمر بن عبدالعزیز خلیفہ تھے میں نے ان کے پاس جا کر یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا : یہ صغیر ( نابالغ ) اور کبیر ( بالغ ) کے درمیان حد ( فاصل ) ہے ، پھر انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھ بھیجا کہ جو شخص پندرہ سال کا ہو اس کا ( پورا ) حصہ مقرر کریں اور جو اس سے کم کا ہو اس کو بچوں میں شمار کریں ۔ ( اس کے مطابق وظیفہ دیں ۔ )
4837
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

69
1
Chapter: What Has Been Related About The Limits Of Responsibility For A Man And Woman
باب: مرد اور عورت کی بلوغت کی حد کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About the (Age) Of Adulthood For A Man And When He Is To Recieve A Salary
باب: حد بلوغت کا ذکر اور غنیمت سے اس کو کب حصہ دیا جائے گا اس کا بیان
Jam e Tirmazi
3
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
Mishkat
4
قبیلۂ قیس سے سیدنا ابن منتفقؓ کی آمد کابیان
Musnad Ahmad
5
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
6
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
Musnad Ahmad
7
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
8
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
Musnad Ahmad
9
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
Musnad Ahmad
10
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
Musnad Ahmad
11
بیوقوفوں پر پابندی لگانے کا اور ان لوگوں کابیان، جن پر پابندی لگائی جائے گی
Musnad Ahmad
12
سن رشد کے اثبات اور بلوغت کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
13
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
Musnad Ahmad
14
مچھلی اور ٹڈی کابیان
Musnad Ahmad
15
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
Musnad Ahmad
16
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
17
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
18
ذبح پر بسم اللہ پڑھنے اور غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کابیان
Musnad Ahmad
19
سورۂ منافقون سورۂ منافقون کے شانِ نزول اور سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کابیان
Musnad Ahmad
20
سورۂ ملک سورۂ ملک کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
21
سورۂ کافرون سورۂ کافروں کی تفسیر اور اس کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
22
ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
23
قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان
Musnad Ahmad
24
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
Musnad Ahmad
25
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
26
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
Musnad Ahmad
27
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
Musnad Ahmad
28
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کابیان
Musnad Ahmad
29
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
Musnad Ahmad
30
جنگ، اس کے مقاتلین اور شہداء احد سے متعلقہ مختلف امور کابیان
Musnad Ahmad
31
سریہ بئر معونہ کابیان اور یہ وہی سریہ ہے، جس میں ستر افراد شہید ہو گئے تھے
Musnad Ahmad
32
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شجاعت اور ایفائے عہد کابیان
Musnad Ahmad
33
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کابیان
Musnad Ahmad
34
فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
Musnad Ahmad
35
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
Musnad Ahmad
36
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
Musnad Ahmad
37
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
Musnad Ahmad
38
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
Musnad Ahmad
39
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
40
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
Musnad Ahmad
41
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
Musnad Ahmad
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
Musnad Ahmad
43
ابلیس اور اس کی اولاد کے عذاب کی کیفیت اور ان کا ہلاکتوں کو پکارنے کابیان
Musnad Ahmad
44
(40) CHAPTER. Preaching of the Imam to the people regarding the proper offering of As-Salat (the prayer) and the mention of the Qiblah (Kabah at Makkah).
امام لوگوں کو یہ نصیحت کرے کہ نماز پوری طرح پڑھیں اور قبلہ کابیان
Sahih Bukhari
45
(160) CHAPTER. What has been said about uncooked garlic, onion and leek.
لہسن ، پیاز اور گندنے کے متعلق جو روایات آئی ہیں ان کابیان
Sahih Bukhari
46
(1) CHAPTER. What is said about funerals, and those whose last words were: La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah).
جنازوں کے باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان کا بیان اور جس شخص کا آخری کلام لا الہٰ الا اللہ ہو ، اس کابیان
Sahih Bukhari
47
(34) CHAPTER. The purchase of animals and donkeys.
چوپایہ جانوروں اور گھوڑوں ، گدھوں کی خریداری کابیان
Sahih Bukhari
48
(24) CHAPTER. Bravery and cowardice in the battle.
جنگ کے موقع پر بہادری اور بزدلی کابیان
Sahih Bukhari
49
(27) CHAPTER. The merits of Abdullah bin Masud.
حضرت عبداللہبنمسعود رضیاللہعنہما کے فضائل کابیان
Sahih Bukhari
50
(12) CHAPTER. The merits of Sad bin Muadh.
حضرت سعدبنمعاذ رضیاللہعنہ کے فضائل کابیان
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Jam e Tirmazi
1361
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ،‏‏‏‏ فَلَمْ يَقْبَلْنِي،‏‏‏‏ فَعُرِضْتُ عَلَيْهِ مِنْ قَابِلٍ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ،‏‏‏‏ فَقَبِلَنِي . قَالَ نَافِعٌ:‏‏‏‏ وَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ،‏‏‏‏ ثُمَّ كَتَبَ أَنْ يُفْرَضَ لِمَنْ يَبْلُغُ الْخَمْسَ عَشْرَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا،‏‏‏‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ أَنَّ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ،‏‏‏‏ وَذَكَرَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِ،‏‏‏‏ قَالَ نَافِعٌ:‏‏‏‏ فَحَدَّثَنَا بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الذُّرِّيَّةِ،‏‏‏‏ وَالْمُقَاتِلَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق،‏‏‏‏ يَرَوْنَ أَنَّ:‏‏‏‏ الْغُلَامَ إِذَا اسْتَكْمَلَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً،‏‏‏‏ فَحُكْمُهُ حُكْمُ الرِّجَالِ،‏‏‏‏ وَإِنِ احْتَلَمَ قَبْلَ خَمْسَ عَشْرَةَ،‏‏‏‏ فَحُكْمُهُ حُكْمُ الرِّجَالِ ،‏‏‏‏ وقَالَ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ الْبُلُوغُ ثَلَاثَةُ مَنَازِلَ،‏‏‏‏ بُلُوغُ خَمْسَ عَشْرَةَ،‏‏‏‏ أَوِ الِاحْتِلَامُ،‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يُعْرَفْ سِنُّهُ وَلَا احْتِلَامُهُ فَالْإِنْبَاتُ يَعْنِي الْعَانَةَ.
Narrated Nafi': that Ibn 'Umar said: I was reviewed before the Messenger of Allah (ﷺ) in the army, and I was fourteen years old, but he did not accept me. Then I was reviewed before him in the army later while I was fifteen years old, and he accepted me. Nafi' said: I narrated this Hadith to 'Uman bin 'Abdul Azeez and he said: 'This is the limit that distinguishes between childhood and adulthood.' Then he wrote to give salaries to whoever reached fifteen years old. (Another chain) from Nafi', from Ibn 'Umar from the Prophet (ﷺ) and it is similar, but he did not mention in it that 'Umar bin 'Abdul-'Aziz wrote that this is the limit that distinguishes between youth and childhood and adulthood. In his narration, Ibn 'Uyainah said (that Nafi' said): I narrated it to 'Umar bin 'Abdul-'Aziz and he said: 'This is the limit that distinguishes between children and soldiers.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک لشکر میں پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول نہیں کیا، پھر آئندہ سال مجھے آپ کے سامنے ایک اور لشکر میں پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول کر لیا۔ نافع کہتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز سے اس حدیث کو بیان کیا تو انہوں نے کہا: بالغ اور نابالغ کے درمیان یہی حد ہے۔ انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو پندرہ سال کے ہو جائیں ( مال غنیمت سے ) ان کو حصہ دیا جائے۔ دوسری سند سے عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ( عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ نابالغ اور بالغ کی یہی حد ہے ) البتہ سفیان بن عیینہ نے اپنی حدیث میں یہ بیان کیا ہے کہ نافع کہتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: بچہ اور مقاتل ( جو جنگ میں شرکت کا اہل ہو ) کے درمیان یہی حد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب بچہ پندرہ سال مکمل کر لے تو اس کا حکم وہی ہو گا جو مردوں کا ہوتا ہے اور اگر پندرہ سال سے پہلے ہی اس کو احتلام آنے لگے تو بھی اس کا حکم مردوں جیسا ہو گا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: بلوغت کی تین علامتیں ہیں: بچہ پندرہ سال کا ہو جائے، یا اس کو احتلام آنے لگے، اور اگر عمر اور احتلام نہ معلوم ہو سکے تو جب اس کے ناف کے نیچے کے بال اگ آئیں تو وہ بالغ ہے۔
Jam e Tirmazi
1711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يَقْبَلْنِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ مِنْ قَابِلٍ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَقَبِلَنِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ نَافِعٌ:‏‏‏‏ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَتَبَ أَنْ يُفْرَضَ لِمَنْ بَلَغَ الْخَمْسَ عَشْرَةَ .
Narrated Nafi: That Ibn 'Umar said: I was reviewed before army, and I was fourteen years old, but he did not accept me. Then I was reviewed before him later in army while I was fifteen years old, and he accepted me. Nafi said: I narrated this Hadith to 'Umar bin 'Abdul-'Aziz and he said: 'This is the limit that distinguishes between youth and manhood.' The he wrote to give salaries to whoever reached fifteen years of age.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک لشکر میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، میں چودہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے ( جہاد میں لڑنے کے لیے ) قبول نہیں کیا، پھر مجھے آپ کے سامنے آئندہ سال ایک لشکر میں پیش کیا گیا اور میں پندرہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول کر لیا، نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: چھوٹے اور بڑے کے درمیان یہی حد ہے، پھر انہوں نے فرمان جاری کیا کہ جو پندرہ سال کا ہو جائے اسے مال غنیمت سے حصہ دیا جائے ۱؎۔
Sunnan Abu Dawood
1612
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ بِمَعْنَى مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ:‏‏‏‏ وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏بِإِسْنَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ . وَرَوَاهُ سَعِيدٌ الْجُمَحِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِيهِ:‏‏‏‏ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ.
Abdullah bin Umar said: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلمprescribed the sadaqah at the end of Ramadan one sa’. The narrator then transmitted the tradition like the one narrated by Malik. This version adds: “Young and old. He gave command that this should be paid before the people went out to prayers. ” Abu Dawud said: Abdullah al-Umari narrated it from Nafi through his chain: “on every Muslim. ” The version of Saeed al-Jumahi has: “Among the Muslims. ” The well-known version transmitted by Ubaid Allah does not mention the words “among the Muslims”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا، پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، اس میں «والصغير والكبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة» ہر چھوٹے اور بڑے پر ( صدقہ فطر واجب ہے ) اور آپ نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کر دینے کا حکم دیا ) کا اضافہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں «على كل مسلم» کے الفاظ ہیں ( یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے ) ۱؎اور اسے سعید جمحی نے عبیداللہ ( عمری ) سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ ہے حالانکہ عبیداللہ سے جو مشہور ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ نہیں ہے۔
Sunnan Nisai
1581
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ،‏‏‏‏ فَقَالَ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ،‏‏‏‏ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ،‏‏‏‏ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ،‏‏‏‏ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ،‏‏‏‏ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ،‏‏‏‏ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ .
It was narrated from Al-Hasan that : Ibn 'Abbas gave a Khutbah in Al-Basrah and said: Pay the zakah of your fasting. The people started looking at one another. He said: Whoever there is here from the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that the Messenger of Allah (ﷺ) enjoined sadaqat al-fitr on the young and the old, the free and the slave, the male and the female; half a sa' of wheat or a sa' of dried dates or barley.'
حسن بصری سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بصرہ میں خطبہ دیا تو کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو، تو  ( یہ سن کر )  لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، تو انہوں نے کہا: یہاں مدینہ والے کون کون ہیں، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، اور انہیں سکھاؤ کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو، چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام، مرد، عورت سب پر فرض کیا ہے۔
Sunnan Nisai
2507
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْكَبِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالذَّكَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأُنْثَى، ‏‏‏‏‏‏وَالْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَبْدِ، ‏‏‏‏‏‏صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah enjoined Sadaqatul Fitr upon young and old, male and female, free and slave; a Sa' of dates or a Sa' of barley,
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، ہر چھوٹے، بڑے، مرد، عورت، آزاد اور غلام پر فرض کیا ہے۔
Sunnan Nisai
2517
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْكَبِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَبْدِ، ‏‏‏‏‏‏وَالذَّكَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ شَعِيرٍ ،‏‏‏‏ قَالَ الْحَسَنُ:‏‏‏‏ فَقَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ أَمَّا إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا أَعْطُوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ غَيْرِهِ.
It was narrated from Al-Hasan that Ibn 'Abbas delivered a Khutbah in Al-Basrah and said: Give Zakah of your fast. The people started looking at one another. So he said: Whoever is here of the people of Al-Madinah, get up and teach your brothers, for they do not know that the Messenger of Allah has enjoined Salaqatul Fitr upon young and old, free and slave, male and female; half a Sa' of wheat or a Sa' of dates or barely. Al_Hasan said: 'If Allah has given you more, then give more generously of wheat or something else. '
حسن (حسن بصریٰ) سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ دو ( یعنی صدقہ فطر نکالو ) تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ تو انہوں نے کہا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون کون ہیں؟ تم لوگ اٹھو، اور اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، انہیں بتاؤ، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام، مذکر اور مونث پر آدھا صاع گی ہوں، یا ایک صاع کھجور، یا جو فرض کیا ہے۔ حسن کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی بات جب اللہ نے تمہیں وسعت و فراخی دے رکھی ہو تو تم بھی وسعت و فراخی کا مظاہرہ کرو۔ گیہوں وغیرہ ( نصف صاع کے بجائے ) ایک صاع دو۔