TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6916 - نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان - نکاح کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
۔ (۶۹۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَشْتَرِطُ امْرَأَۃٌ طَلَاقَ أُخْتِہَا۔))
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔
6916
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۹۱۶) أخرجہ مطولا و مقطعا البخاری: ۲۱۴۰، ۲۷۲۷، ومسلم: ۱۴۱۳، ۱۵۱۵(انظر: ۸۱۰۰)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یعنی اگر کوئی خاوند ایک سے زائد شادیاں کرنا چاہے تو بننے والی نئی بیوییہ شرط نہ لگائے کہ وہ پہلے سے موجود بیوی کو طلاق دے دے۔

Related Chapters

184
1
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: Fulfilling the conditions stipulated in the Marriage
نکاح کی شرائط کو پورا کرنا
Sahih Muslim
3
باب: نکاح کی شرطوں کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
Chapter: What Has Been Related About: One Who Is Married For Three Things
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Publicizing The Marriage
باب: نکاح کے اعلان کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح صحیح نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح نہ ہونے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With Proof (Bayyinah)
باب: گواہ کے بغیر نکاح درست نہیں
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Marriage Khutbah
باب: خطبہ نکاح کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Emancipates A Slave Woman, Then Marries Her
باب: لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About (The Prohibition of) Mut'ah
باب: نکاحِ متعہ کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of The Shigar Marriage
باب: نکاح شغار کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About: A Woman Should Not Be Married Along With Her Paternal Aunt Nor Her Maternal Aunt
باب: پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کرنے اور خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Conditions When Contracting A Marriage
باب: عقد نکاح کے وقت شرط لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What has been related about: There is no divorce before marriage
باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Recording The Conditions
باب: خرید و فروخت کے شرائط لکھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: 'Fulfill The Trust For The One Who Entrusted You'
باب: خرید و فروخت (بیع و شرائط) سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
Mishkat
21
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
Mishkat
22
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
Mishkat
23
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
24
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ
اعلان نکاح ، خطبہ / منگنی اور شرط کا بیان
Mishkat
25
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
Musnad Ahmad
26
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
28
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
30
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
Musnad Ahmad
31
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
Musnad Ahmad
32
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
33
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
نکاح میںیتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
Musnad Ahmad
38
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
40
رضاعت کی وجہ سے نکاح کے حرام ہو جانے کے ابواب جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں، وہی رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
41
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
حلالہ کرنے والے اور احرام والے آدمی کے نکاح کا حکم
Musnad Ahmad
43
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
Musnad Ahmad
44
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
Musnad Ahmad
45
بانجھ خاتون سے نکاح کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
46
نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
47
زبردستی لی گئی طلاق کا حکم اور جس نے نکاح سے پہلے طلاق معلق دی
Musnad Ahmad
48
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
49
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
Musnad Ahmad
50
خطبۃ الحاجہ یعنی نکاح اور دیگر مواقع پر دئیے جانے والے خطبہ کے الفاظ وعبارات کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

93
Musnad Ahmad
5896
۔ (۵۸۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَسُمِ الرَّجُلُ عَلٰی سَوْمِ أَخِیْہِ وَلَا یَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ یَرْزُقُ اللّٰہُ بَعْضَہُمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا تَشْتَرِطُ امْرَأَۃٌ طَلَاقَ أُخْتِہَا)) (مسند احمد: ۱۰۶۵۷)
۔ سیدنا ابوہریر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ شہر ی، دیہاتی کا مال فروخت کرے، لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دو،اللہ تعالی بعض کو بعض کے ذریعے روزی دیتا ہے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلا ق کا مطالبہ نہ کرے۔
Musnad Ahmad
7091
۔ (۷۰۹۱)۔ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الطُّفَاوَۃِ قَالَ: نَزَلْتُ عَلٰی اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: وَلَمْ اُدْرِکْ مِنْ صَحَابَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا أَشَدَّ تَشْمِیْرًا وَلَا أَقْوَمَ عَلٰی ضَیْفٍ مِنْہُ، بَیْنَمَا اَنَا عِنْدَہُ وَھُوَ عَلٰی سَرِیْرٍ لَہُ وَأَسْفَلَ مِنْہُ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ وَمَعَہُ کِیْسٌ فِیْہِ حَصًی اَوْ نَوًییَقُوْلُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ حَتّٰی اِذَا أَنْفَذَ مَا فِی الْکِیْسِ اَلْقَاہُ اِلَیْہَا فَجَمَعَتْہُ فَجَعَلَتْہُ فِی الْکِیْسِ ثُمَّ دَفَعَتْہُ اِلَیْہِ، فَقَالَ لِیْ: اَلَا أُحَدِّثُکَ عَنِّیْ وَعَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: فَاِنّیْ بَیْنَمَا اَنَا أُوْعَکُ فِیْ مَسْجِدِ الْمَدِیْنَۃِ اِذْ دَخَلَ عَلیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَقَالَ: ((مَنْ أَحَسَّ الْفَتَی الْدَوْسِیَّ مَنْ اَحَسَّ الْفَتَی الْدَوْسِیَّ؟)) فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ: ھُوَ ذَاکَ یُوْعَکُ فِیْ جَانِبِ الْمَسْجِدِ حَیْثُ تَرٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، فَجَائَ فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیَّ وَقَالَ لِیْ مَعْرُوْفًا فَقُمْتُ فَانْطَلَقَ حَتّٰی قَامَ فِیْ مَقَامِہِ الَّذِیْیُصَلِّیْ فِیْہِ وَمَعَہُ، یَوْمَئِذٍ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ وَصَفٌّ مِنْ نِسَائٍ أَوْصَفَّانِ مِنْ نِسَائٍ وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ، فَاَقْبَلَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((اِنْ أَنْسَانِی الشَّیْطَانُ شَیْئًا مِنْ صَلَاتِیْ فَلْیُسَبِّحِ الْقَوْمُ وَلَیُصَفِّقِ النِّسَائُ، فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَنْسَ مِنْ صَلَاتِہِ شَیْئًا، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَیْہِمْ بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((مَجَالِسَکُمْ، ھَلْ مِنْکُمْ مَنْ اِذَا أَتٰی اَھْلَہُ أَغْلَقَ بَابَہُ، وَاَرْخٰی سِتْرَہُ، ثُمَّ یَخْرُجُ فَیَتَحَدَّثُ فَیَقُوْلُ: فَعَلَتُ بِاَھْلِیْ کَذَا وَفَعَلْتُ بِاَھْلِیْ کَذَا؟)) فَسَکَتُوْا فَأَقْبَلَ عَلَی النِّسَائِ فَقَالَ: ((ھَلْ مِنْکُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ؟)) فَجَثَتْ فَتَاۃٌ کَعَابٌ عَلٰی إِحْدٰی رُکْبَتَیْہَا وَتَطَاوَلَتْ لِیَرَاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَسْمَعَ کَلَامَہَا، فَقَالَتْ: إِیْ وَاللّٰہِ! إِنَّہُمْ لَیُحَدِّثُوْنَ وَإِنَّہُنَّ لَیُحَدِّثْنَ، فَقَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ؟ اِنَّ مَثَلَ مَنْ فَعَلَ ذَالِکَ مَثَلُ شَیْطَانٍ وَ شَیْطَانَۃٍ لَقِیَ اَحَدُھُمَا صَاحِبَہُ بِالسِّکَّۃِ قَضٰی حَاجَتَہُ مِنْہَا وَالنَّاسُ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْہِ۔))، ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا! لَا یُفْضِیَنَّ رَجُلٌ اِلٰی رَجُلٍ وَلَا امْرَأَۃٌ اِلَی امْرَأَۃٍ اِلَّا اِلٰی وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ۔))، قَالَ: وَذَکَرَ ثَالِثَۃً فَنَسِیْتُہَا، ((أَلَا إِنَّ طِیْبَ الرَّجُلِ مَا وُجِدَ رِیْحُہُ، وَلَمْ یَظْہَرْ لَوْنُہُ، أَلَا اِنَّ طِیْبَ النِّسَائِ مَا ظَہَرَ لَوْنُہُ وَلَمْ یُوْجَدْ رِیْحُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۹۹۰)
۔ بنو طفاوہ کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بطور مہمان ٹھہرا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں کسی کو ان سے زیادہ خدمت گزار نہیں پایا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی مہمان کا خیال رکھنے والا تھا، میں ایک دفعہ ان کے پاس ایک چار پائی پر بیٹھا ہوا تھا اور ایک سیاہ فام لونڈی نیچے بیٹھی ہوئی تھی، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک تھیلی تھی، جس میں کنکریاںیا گٹھلیاں تھیں، وہ سبحان اللہ، سبحان اللہ کہہ رہے تھے، یہاں تک جو کچھ تھیلے میں تھا، وہ ختم ہو گیا، پھر انھوں نے وہ تھیلی لونڈی کی جانب پھینکدی، اس نے وہ کنکریاں اس تھیلی میں جمع کیں اور تھیلی پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تھمادی۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تجھے اپنا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا واقعہ نہ بتائوں؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، ضرور بتائیں، انھوں نے کہا: مدینہ کی مسجد میں میں سخت بخار میں مبتلا پڑا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس مسجد میں تشریف لائے اور پوچھا: کسی نے دوسی نوجوان کو دیکھاہے؟دوسی نوجوان کو کسی نے دیکھا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ مسجد کے ایک کونے میں جہاں آپ دیکھ رہے ہیں، بخار میں مبتلا پڑاہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لے آئے اور اپنا دست مبارک میرے اوپر رکھا اور مجھ سے اچھے انداز پر بات کی، میں کھڑا ہوا اور آپ چل دئیے،یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے اس مقام پر کھڑے ہو گئے، جس میں نماز پڑھاتے تھے، اس دن آپ کے ساتھ مردوں کی دو صفیں اور عورتوں کی ایک صف تھی،یا عورتوں کی دو صفیں اور مردوں کی ایک صف تھی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی جانب رخ کیا اور فرمایا: اگر شیطان مجھے میری نماز میں سے کچھ بھلا دے تو مردوں کو چاہیے کہ وہ سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور آپ بھولے نہیں،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھیں رہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا ایسے ہوا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے، دروازہ بند کر لے اور پردہ لٹکا دے، پھر وہ باہر نکلے اور لوگوں میںیہ بات کرنا شروع کر دے کہ اس نے اپنی کے ساتھ یہ کچھ کیا ہے اور اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ یہ کاروائی کی ہے؟ لوگ خاموش ہو گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں ایسی باتیں کرنے والی کوئی ہے؟ ایک ابھری ہوئی چھاتی والی نوجوان لڑکی ایک گھٹنے کے بل کھڑی ہوئی اور اپنے آپ کو لمبا کیا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو دیکھ لیں اور اس کی بات سن لیں، اور اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! مرد بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور عورتیں بھی ایسی باتیں کرتی ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے کہ ایسا کرنے والے کی مثال کیا ہے؟ اس کی مثال اس شیطان اور شیطاننی کی سی ہے، جو ایک گلی میں ایک دوسرے کو ملے اور وہیں اپنی حاجت پوری کرنا شروع کر دے، جبکہ لوگ ان کو دیکھ رہے ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی کسی آدمی کے ساتھ اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اس طرح نہ لیٹے کہ بیچ میں کوئی پردہ نہ ہو،ما سوائے والدین اور اولاد کے۔ راوی کی ذکر کردہ تیسری چیز میں بھول گیا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار ! آدمی کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ہو، رنگ ظاہر نہ ہو۔ خبر دار! عورتوں کی خوشبو وہ ہے، جس کی رنگت نمایاں ہو اور اس کی مہک نہ ہو۔
Musnad Ahmad
419
۔ (۴۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَائٍ فَأَتَیْتُ خِبَائً فَاِذَا فِیْہِ امْرَأَۃٌ أَعْرَابِیَّۃٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: اِنَّ ہَذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُرِیْدُ مَائً یَتَوَضَّأُ، فَھَلْ عِنْدَکِ مِنْ مَائٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِیْ وَأُمِّیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَوَاللّٰہِ! مَا تُظِلُّ السَّمَائُ وَلَا تُقِلُّ الْاََرْضُ رُوْحًا أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ رُوْحِہِ وَلَا أَعَزَّ، وَلَکِنَّ ہٰذِہِ الْقِرْبَۃَ مَسْکُ مَیْتَۃٍ وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِہِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَرَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((ارْجِعْ اِلَیْہَا، فَاِنْ کَانَتْ دَبَغَتْہَا فَہِیَ طَہُوْرُہَا۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلَیْہَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہَا فقَالَتْ: اَیْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ دَبَغْتُہَا، فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ مِنْہَا وَعَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ وَعَلَیْہِ خُفَّانِ وَ خِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ، قَالَ: مِنْ ضِیْقِ کُمِّہَا، قَالَ: فتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَی الْخِمَارِ وَالْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۱۲)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدّو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ اس نے کہا:میرے ماں باپ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزَّز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر تو اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا، پس میں پانی لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، اس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جُبّہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جُبّہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
Musnad Ahmad
889
۔ (۸۸۹)۔عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِیْ؟ قَالَ: ((یُجْزِیْکِ أَنْ تَصُبِّیْ عَلَیْہِ الْمَائَ ثَلَاثًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۰۱۰)
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ سر کی مینڈھیوں کو سختی سے گوندھتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تجھے یہ کافی ہے کہ تو سر پر تین دفعہ پانی بہا دے۔
Musnad Ahmad
1364
۔ (۱۳۶۴) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ حَدَّثَنِیْ مَنْصُوْرٌ عَنْ خَالِہِ مُسَافِعٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِیْ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِیْ سُلَیُمٍ وَلَدَتْ عَامَّۃَ أَھْلِ دَارِناَ، أَرَسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَۃَ، وَقَالَ مَرَّۃً: إِنَّہَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ لِمَ دَعَاکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَال: قَالَ لِیْ: ((إِنِّیْ کُنْتُ رَأَیْتُ قَرْنَیِْ الْکَبْشِ حِیْنَ دَخَلْتُ الْبَیْتَ فَنَسِیِْتُ أَنْ آمُرَکَ أَنْ ُتخَمِّرَھُمَا فَخَمِّرْھُمَا، فَإِنَّہُ لَا یَنْبَغِیْ أَنْ یَکُوْنَ فی الْبَیْتِ شَیْئٌیُشْغِلُ الْمُصَلِّیَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْکَبْشِ فِی الْبَیْتِ حَتَّی احْتَرَقَ الْبَیْتُ فَاحْتَرَقَا۔ (مسند احمد: ۲۳۶۰۹)
ایک دوسری سند سے مروی ہے: صفیہ بنت شیبہ کہتی ہے:بنو سلیم کی ایک عورت، جو ہمارے گھر والوں میں سے اکثر کی والدہ ہے، نے مجھے بتایاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عثمان بن طلحہ کو پیغام بھیجا۔ ایک مرتبہ راوی نے یہ کہا کہ اس عورت نے عثمان بن طلحہ سے پوچھا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تجھے کیوں بلایا تھا؟ عثمان بن طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب میں بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے تھے، پھر میں بھول گیا کہ تجھے ان کو ڈھانپ دینے کا حکم دوں، اس لیے ا ب انہیں ڈھانپ دے، کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نمازی کو مشغول کرے۔ سفیان فرماتے ہیں: مینڈھے کے دونوں سینگ بیت اللہ میں ہی رہے، جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے تھے۔
Musnad Ahmad
1486
۔ (۱۴۸۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ وَأَبِیْ بَشِیْرٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ ذَاتَ یَوْمٍ فَمَرَّتْ امْرَأَۃٌ بِالْبَطْحَائِ فَأَشَارَ إِلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَأَخَّرِیْ، فَرَجَعَتْ حَتّٰی صَلّٰی ثُمَّ مَرَّتْ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۳۳)
سیّدنا عبد اللہ بن زید اور ابو بشر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن ان کو بطحاء مقام پر نماز پڑھا رہے تھے، ایک عورت نے گزرنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اشارہ کیا کہ وہ پیچھے ہوجائے، پس وہ وا پس لوٹ گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھر وہ گزری۔
Musnad Ahmad
2031
۔ (۲۰۳۱) عَنْ أَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ شَہِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ بَشِیْرٌیُبَشِّرُہُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَّہُ عَلٰی عَدُوِّھِمْ وَرَأَسُہُ فِیْ حِجْرِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ یُسَائِلُ الْبَشِیْرَ فَأَخْبَرَہُ فِیْمَا أَخْبَرَہُ اَنَّہُ وَلِیَ أَمْرَھُمُ امْرَأَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ ھَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ، ھَلَکَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَائَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۹)
ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک بشارت دینے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خوشخبری دینے آیا تھا کہ آپ کا لشکر دشمن پر غالب آ گیا ہے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی گود میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھ کر سجدہ کی حالت میںگر گئے، پھر بشارت دینے والے سے سوال و جواب کرنے لگے، اس نے مختلف باتیں بتائیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کے حکومتی معاملات کی والی ایک عورت بن گئی ہے، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب وہ مرد ہلاک ہوگئے، جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگ گئے، وہ مرد ہلاک ہوگئے جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ یہ ارشاد دہرایا۔
Musnad Ahmad
2861
۔ (۲۸۶۱) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: شَہِدْتُ الصَّلَاۃَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی یَوْمِ عِیْدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلٰی بِلَالٍ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَھُمْ وَحَثَّہُمْ عَلٰی طَاعَتِہِ، ثُمَّ مَضٰی اِلَی النِّسَائِ وَمَعَہُ بِلَالٌ فَأَمَرَ ھُنَّ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَوَعَظَہُنَّ وَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ وَحَثَّہُنَّ عَلٰی طَاعَتِہِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَصَدَّقْنَ فَاِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَہَنَّمَ۔)) فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ سَفِلَۃِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ: لِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاۃَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ۔)) فَجَعَلْنَ یَنْزِعْنَ حُلِیَّہُنَّ وَقَلَائِدَھُنَّ وَقِرَطَتَہُنَّ وَخَوَاتِیْمَہُنَّ یَقْذِفْنَ بِہِ فِی ثَوْبِ بِلَالٍ یَتَصَدَّقْنَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۷۳)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں عید کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نمازسے آغاز کیا، تکمیلِ نماز کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو اپنی اطاعت کرنے پر رغبت دلائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا اور مزید وعظ و نصیحت کی، وہاں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی اطاعت پر آمادہ کیا اور پھر فرمایا: صدقہ کیا کرو،پس بے شک تم میں سے اکثر خواتین جہنم کا ایندھن ہیں۔ نچلے درجے کی عورتوں میں سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم شکوہ بہت کرتی ہو، اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔ اس کے بعد عورتیں شروع ہوئیں اور صدقہ کرنے کے لیے اپنے زیورات، ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں پھینکنے لگیں۔
Musnad Ahmad
2863
۔ (۲۸۶۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُ الصَّلَاۃَ یَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّھُمْ کَانَ یُصَلِّیْھَا قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ یَخْطُبُ بَعْدُ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنِّی أَنْظُرُ اِلَیْہِ حِیْنَ یُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِیَدِہِ ثُمَّ أَقْبَلَ یَشُقُّہُمْ حَتّٰی جَائَ النِّسَائَ وَمَعَہُ بِلَالٌ فَقَالَ: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰیٓ أَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا…} فَتَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ حَتّٰی فَرَغَ مِنْہَا، ثُمَّ قَالَ حِیْنَ فَرَغَ مِنْہَا: ((أَنْتُنَّ عَلٰی ذٰلِکَ؟)) فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ وَاحِدَۃٌ لَمْ یُجِبْہُ غَیْرُھَا مِنْہُنَّ: نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَایَدْرِی حَسَنٌ مَنْ ھِیَ، قَالَ: ((فَتَصَدَّقْنَ۔)) قَالَ: فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَہُ ثُمَّ قَالَ: ھَلُمَّ لَکُنَّ فِدَاکُنَّ أَبِی وَأُمِّی، فَجَعَلْنَ یُلْقِیْنَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِی ثَوْبِ بِلَالٍ، قَالَ ابْنُ بَکْرٍ: اَلْخَوَاتِیْمَ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَجَمَعَہُ فِی ثَوْبٍ حَتّٰی أَمْضَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۰۶۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اور سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عید الفطر کے دن نماز میں حاضر ہوا ہوں، یہ سب لوگ خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (خطبۂ عید سے فارغ ہو کر) نیچے اترے اور گویا کہ میں اب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ اپنے ہاتھ سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس پہنچ گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰیٓ أَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا…} (اے نبی! جب تیرے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی …) پوری آیت کی تلاوت کی، جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم اسی (بیعت) پر پابند ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا: جی ہاں، اے اللہ کے نبی، کوئی اور عورت نہیں بولی، حسن راوی نہیں جانتا کہ وہ کون تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ پس سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کپڑا بچھایا اور کہا: لاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، سو وہ بڑی انگوٹھیاں اور چھوٹی انگوٹھیاں سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا، انھوں نے سب کچھ کپڑے میں اکٹھا کر لیا، پھر وہ چلے گئے۔