TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے - ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے - زبان کی آفتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 30 · 2 Hadith
۔ (۹۸۹۷)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُیَقُوْلُ : ((یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا، مَا یَحْمِلُکُمْ عَلٰی اَنْ تَتَابَعُوْا فِیْ الْکَذِبِ کَمَا یَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِیْ النَّارِ، کُلُّ الْکَذِبِ یُکْتَبُ عَلَی ابْنِ آدَمَ اِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ، رَجُلٌ کَذَبَ عَلَی امْرَاَتِہِ لِیُرْضِیَھَا، اَوْ رَجُلٌ کَذَبَ فِیْ خَدِیْعَۃِ حَرْبٍ، اَوْ رَجُلٌ کَذَبَ بَیْنَ امْرَاَیْـنِ مُسْلِمَیْنِ لِیُصْلِحَ بَیْنَھُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۲۲)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ایمان والو! تم لوگوں کو کون سی چیز اس طرح لگاتار جھوٹ بولنے پر آمادہ کرتی ہے، جیسے پتنگے لگاتار آگ میں گرنا شروع ہو جاتے ہیں، ابن آدم پر اس کے ہر جھوٹ کو لکھ لیا جاتا ہے، ما سوائے تین امور کے، (۱) وہ خاوند جو اپنی بیوی سے جھوٹ بولتا ہے، تاکہ اس کو راضی رکھے، (۲) وہ آدمی جو جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے جھوٹ بولتا ہے اور (۳) وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۹۷) تخریج: صحیح دون الشطر الاول ای قولہ یا ایھا الذین آمنوا … فی النار ودون قولہ لیرضیھا ، أخرجہ الترمذی: ۱۹۳۹(انظر: ۲۷۵۷۰)
Explanation
فوائد:… امام نووی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: جھوٹ یقینا ایک جرم ہے، تاہم بعض صورتوں میں جائز ہے، لیکن اس کی چند شرطیں ہیں، خلاصۂ تفصیلیہ ہے: مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ کلام ہے، ہر وہ مقصد جو پسندیدہ ہو اور اسے جھوٹ کے بغیر حاصل کرنا ممکن ہو، اس میں جھوٹ بولنا حرام ہے اور اگر جھوٹ بولے بغیراس کا حصول ناممکن ہو تو جھوٹ بولنا جائز ہے۔ اگر مقصود کا حاصل کرنا مباح اور جائز ہو تو جھوٹ بولنا بھی مباح ہو گا اور اگر مقصود واجب ہو گا، تو جھوٹ بولنا بھی واجب ہو گا ، جیسے ایک ظالم کسی مسلمان کو قتل کرنا یا اس کا مال چھیننا چاہتا ہے اور وہ اپنا جان ومال بچانے کے لیے چھپ جاتا ہے۔ اگراسے تلاش کرنے کے لیے اس کے بارے میں علم رکھنے والے فرد سے پوچھا جائے تو اس کا جھوٹ بولنا واجب ہے، تاکہ مظلوم مسلمان کے جان و مال کو بچایا جا سکے، یہی معاملہ امانت کا ہے۔ بہرحال اس قسم کے تمام معاملات میںزیادہ محتاط طریقہ توریہ کرنا ہے، توریے کا مطلب یہ ہے کہ جواب دیتے وقت ایسی ذومعنی گفتگو کی جائے ، جس کا ایک ظاہری مفہوم ہو اور ایک باطنی اور کلام کرنے والا اپنی گفتگو سے صحیح مقصود کی نیت کرے۔ (ریاض الصالحین: باب بیان ما یجوز من الکذب) مثلا: مذکورہ بالا صورت میں جب مظلوم مسلمان کی بابت دریافت کیا جائے تو وہ جواب دے: اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کہاں ہے۔ یہ توریہ ہے جس کے ظاہری مفہوم سے پوچھنے والے کو دھوکہ ہو رہا ہے اور اس کا باطنی مفہوم درست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ حدیث ِ مبارکہ میں تین مقامات پر جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے، بسا اوقات اگر ان تین مقامات پر خلافِ واقعہ بات نہ کی جائے تو بہت زیادہ نقصان ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ معاشرے کو باہمی بغض و عناد اور جنگ و جدل سے بچانے کے لیے صلح کروانا ضروری ہے، لیکن صلح کروانے والے افراد جانتے ہیں کہ دوریوں کو قربتوں میں بدلنے کے لیے اور بغض و عناد کا زنگ اتارنے کے لیے جھوٹ بولنا پڑتا ہے، ہر فریق کے سامنے اس کی طرفداری کرنا پڑتی ہے، ہر فریق کے سامنے دوسرے فریق کے حوالے سے خلافِ حقیقت باتیں کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن شریعت نے عظیم مقصد کو پانے کے لیے چھوٹے گناہ کو جائز قرار دیا ہے۔ یہی معاملہ جنگ کا ہے کہ کہاں جانا ہے؟ کیوں جانا ہے؟ کب جانا ہے؟ کتنا ساز و سامان لے کر جانا ہے؟ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اگر سب حقائق واضح کر دیے جائیں تو دشمنانِ اسلام جاسوسی کے ذریعے اسلام اور اہل اسلام دونوں کو زبردست مالی اور جانی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور دوسری بات یہ بھی کہ اگر ساری حقیقت کھول دی جائے تو بعض مجاہدین بزدلی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ رہا مسئلہ میاں بیوی کا، تو ان کے گھر کے معاملات کی اہمیت کسی مملکت کے امور سے کم نہیں ہے، معاشرتی زندگی میں ایسے موڑ بھی آ جاتے ہیں،جہاں ازدواجی تعلق برقرار رکھنے یا خوشگوار رکھنے یا اولاد کی خاطر خلاف ِ واقعہ بات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تاہم ان رخصتوں کا مطلبیہ نہیں کہ علی الاطلاق جھوٹ بولنے کی رخصت نکال لی جائے۔ جھوٹ بہرحال جھوٹ ہے اور کبیرہ گناہ ہے، جواز کی صورتیں پیدا کرنے والوں کو محتاط رہنا چاہئے۔ واللہ اعلم گھر وں کے سربراہوں کو متوجہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے، اس رخصت سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ میاں بیوی کے آپس کے تعلقات کا اچھا ہونا انتہائی ضروری ہے، وگرنہ گھر کے ماحول میں فساد رہے گا اور بچے صحیح تربیت سے محروم رہیں گے۔
9897
Sahih
۔ (۹۸۹۸)۔ عَنْ حُمَیِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ، اَنَّ اُمَّہُ اُمَّ کُلْثُوْمٍ بِنْتَ عُقْبَۃَ اَخْبَرَتْہُ اَنَّھَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَیْسَ الْکَذَّابُ الَّذِیْیُصْلِحُ بَیْنَ النَّاسِ فَیَنْمِیْ خَیْرًا، اَوْ یَقُوْلُ خَیْرًا۔)) وَقَالَتْ: لَمْ اَسْمَعْہُ یُرَخِّصُ فِیْ شَیْئٍ مِمَّا یَقُوْلُ النَّاسُ اِلَّا فِیْ ثَلَاثٍ، فِیْ الْحَرْبِ، وَالْاِصْلَاحِ بَیْنَ النَّاسِ، وَحَدِیْثِ الرَّجُلِ اِمْرَاتَہُ، وَحَدِیْثِ الْمَرْاَۃِ زَوْجَھَا، وَکَانَتْ اُمُّ کُلْثُوْمِ بِنْتُ عُقْبَۃَ مِنَ الْمُھَاجِرَاتِ اللَّاتِیْ بَایَعْنَ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱۵)
۔ سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا نہیں ہے ، جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے اور خیر کو آگے پہنچاتا ہے یا اچھی بات کرتا ہے۔ سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں سنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو گفتگو میں جھوٹ بولنے کی رخصت دی ہو، ما سوائے تین امور کے، جنگ میں، لوگوں کے ما بین اصلاح کرتے وقت اور خاوند کااپنی بیوی اور بیوی کا اپنے خاوند سے گفتگو کرتے وقت۔ سیدہ ام کلثوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ان مہاجر خواتین میں سے تھیں، جنہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی۔
Takhreej
(۹۸۹۸) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: قالت: ولم اسمعہ یرخص فی شیء …۔ فالصواب انھا زیادۃ مدرجۃ من کلام الزھری، بُیِّن ذالک فی روایۃ مسلم، أخرج المرفوع منہ البخاری: ۲۶۹۲، ورواہ مسلم: ۲۶۰۵ و بین أَن العبارۃ المدرجۃ ھی من کلام الزھری (انظر: ۲۷۲۷۲)
9898
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.