TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان

Chapter 27 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 27 of 30 · 2 Hadith
۔ (۱۰۰۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، ولَا تَنَافَسُوْا، وَلَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا یَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلٰی سَوْمِ اَخِیْہِ، وَلَا یَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوْا النَّاسَیَرْزُقُ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ مِنْ بَعْضٍ، وَلَا تَشْتَرِطِ امْرَاَۃٌ طَلَاقَ اُخْتِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیع نجش نہ کرو، باہمی قطع تعلقی سے بچو، کسی چیز میں باہم مقابلہ نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد کرنے سے بچو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، شہری دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔
Takhreej
(۱۰۰۱۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مختصرا مسلم: ۲۵۶۳ (انظر: ۱۰۶۴۹)
10019
Sahih
۔ (۱۰۰۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلْوَاشِمَۃَ وَالْمُسْتَوْشِمَۃَ، وَالْوَاصِلَۃَ وَالْمَوْصُوْلَۃَ، وَالْمُحِلِّ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ، وَآکِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَہُ۔ (مسند احمد: ۴۲۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گودنے والیوں پر، گدوانے والیوں پر، بال جوڑنے والیوں پر، بال جروانے والیوں پر، حلالہ کرنے والے پر، اس پر جس کے لیے حلالہ کیا جائے، سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۴۹ (انظر: ۴۲۸۴)
Explanation
فوائد:… جلد میں سوئی وغیرہ چبھو کر خون نکالنا اور پھر اس جگہ پر سرمہ یا نیل وغیرہ بھر دینا تاکہ وہ جگہ سیاہیا سبز ہو جائے، اسے گودنا کہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اپنے حسن و جمال میں بزعم خود اضافہ کرنے کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں کمی بیشی کر کے رد وبدل کرنا ممنوع اور حرام ہے۔ تاہم بالوں پر مہندییا کوئی اور رنگ لگانا جائز ہے، ماسوائے سیاہ رنگ کے۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۰/۳۷۲۔ ۳۷۳) میں کہا: خوبصورتی کے لیے دانتوں میں فاصلہ ڈالنے والیاں :حدیث ِ مبارکہ کے اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعل اس وقت قابل مذمت ہو گا، جب اسے حسن کی خاطر کیا جائے، اگر علاج وغیرہ کروانے کے لیے ایسا کرنا پڑجائے تو جائز ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرنے والیاں : یہ ہر اس فرد کی صفت ِ لازمہ ہے جو گودنے یا گدوانے، ابروؤں کے بال اکھاڑنے یا اکھڑوانے، بال لگانے یا لگوانے یا دانتوں میں شگاف ڈالنے کا کام کرتاہے۔ علامہ عینی نے (عمدۃ القاری: ۲۲/ ۶۳) میں کہا: اللہ تعالیٰ کی لعنت پڑنے کا سبب یہی ہے کہ یہ عورتیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرتی ہیں۔ اس بحث سے پتہ چلتا ہے کہ شیخ غماری کا قول ساقط اور فاسد ہے، اس نے اپنے رسالے (تنویر البصیرۃ ببیان علامات الکبیرۃ: صـ ۳۰) میں کہا: اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت کو تبدیل کرنے کا مصداق وہ چیز ہے، جس کا اثر باقی رہتا ہے، مثلا گودنا یا گدوانا یا دانتوں میں شگاف ڈالنا، یا وہ چیز جو دوبارہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہو، مثلا ابروؤں کے بال اکھاڑنا، کیونکہیہ دوبارہ کافی دنوں کے بعد اگنا شروع ہوتے ہیں۔رہا مسئلہ داڑھی کو مونڈنے کا، تو اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے کے ساتھ نہیں ہے، کیونکہ دوسرے دن بال اگ آتے ہیں … میں (البانی) کہتا ہوں: شیخ غماری کا یہ فرق کئی پہلوؤں سے باطل ہے: اوّلًا:… یہ محض دعوی ہے، کتاب وسنت کی کوئی دلیل اور کوئی قول اس پر دلالت نہیں کرتا، لوگ کہتے تھے: والدعاوی ما لم تقیموا علیھا بینات ابناؤھا ادعیاء جن دعووں پر تم دلائل پیش نہیں کر سکتے، (ان کی حیثیت) منہ بولے بیٹوں جتنی ہوتی ہے۔ ثانیاً :… یہ دعوی حدیث کے الفاظ بال جوڑنے والیاں کے مخالف ہے، کیونکہ بال جوڑنا اُس گودنے یا گدوانے کی طرح تو نہیں ہے جو سرے سے زائل نہ ہوتا ہو یا آہستہ آہستہ زائل ہو جاتا ہو، بالخصوص وگ کی صورت میں، کیونکہ اسے تو یوں جلدی سے زائل کیا جا سکتا ہے، جیسے ٹوپی اتار لی جاتی ہے۔ ثالثاً:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی للہ عنہ نے پیشانی کے بال مونڈنے پر انکار کیا اور اسی حدیث سے دلیل پکڑی، جیسا کہ ہیثم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مونڈنے اور اکھاڑنے میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ دونوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ بالوں کو اکھاڑنا ابروؤں کے بالوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، جیسا کے بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے، آپ خود سوچیں۔ رابعاً:… شیخ غماری کی رائے متقدمین کہ فھم کے مخالف ہے، حافظ ابن حجر کا قول گزر چکا ہے، اس سے زیادہ واضح اور مفید قول امام طبری کا ہے، انھوں نے (۱۰/۳۷۷) کہا: اللہ تعالیٰ نے جس صورت پر عورت کو پیدا کیا، وہ حسن و جمال کی خاطر اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کر سکتی ہے، یہ تبدیلی خاوند کے لیے کی جائے یا کسی اور مقصد کے لیے۔ مثلا ابروؤں کے ملے ہوئے بالوں کے درمیان سے کچھ بال زائل کر کے ان کو علیحدہ علیحدہ کرنا، زائد دانت کو اکھاڑنا، لمبے دانت کو کٹوانا، ٹھوڑییا اوپر والے ہونٹ یا نیچے والے ہونٹ کے نیچے اگے ہوئے بالوں کو نوچنا، سر کے بالوں کے ساتھ اور بال لگا کر ان کو لمبا کرنایا گھنا کرنا۔ یہ ساری صورتیں نہی میں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت اور تخلیق کو بدلنے کے مترادف ہیں۔ ہاں اگر کسی کو جسم کے کسی حصے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اسے زائل کرنا جائز ہے، مثلا ایسا زائد یا طویل دانت جو کھانا کھانے سے مانع ہو … میں (البانی) کہتا ہوں: اگر آپ امام طبری کے اس کلام پر غور کریں ، تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ غماری کا قول باطل ہے۔ (صحیحہ: ۲۷۹۲) جو مرد اپنے رخساروں اور گردن کے بال کو صاف کرتے یا اکھاڑتے ہیں، کیا ان کا یہ فعل بھی لعنتی ہے؟ اگر علت اور سبب کو دیکھا جائے تو اس کے فعل کو لعنتی کہا جائے گا، کیونکہ وہ بھی حسن تلاش کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کر رہا ہے۔
10020
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.