TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان

Chapter 21 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 30 · 6 Hadith
۔ (۹۹۹۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا، اَوْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ الْاَرْبَعِ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتّٰییَدَعَھَا، اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ، واِذَا عَاھَدَ غَدَرَ، واِذَا خَاصَمَ فَجَرَ۔)) (مسند احمد: ۶۸۶۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ منافق ہو گا اور جس میں ان چار میں ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وہ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ کر جائے اور جب جھگڑا کرے تو گالی نکالے۔
Takhreej
(۹۹۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۵۹،ومسلم: ۵۸ (انظر: ۶۸۶۴)
Explanation
فوائد:… ان چار خصلتوں کا تعلق منافق کے اعمال سے ہے۔
9995
Sahih
۔ (۹۹۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنْ اَمْرِ الْجَاھِلیَّۃِ لَنْیَّدَعَھُنَّ النَّاسُ، التَّعْیِیْرُ فِیْ الْاَحْسَابِ، وَالنِّیَاحَۃُ عَلَی الْمَیِّتِ، وَالْاَنْوَائُ، وَاَجْرَبَ بَعِیْرٌ فَاَجْرَبَ مِائَۃً، مَنْ اَجْرَبَ الْبَعِیْرَ الْاَوَّلَ؟)) (مسند احمد: ۷۸۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار چیزیں ، امورِ جاہلیت میں سے ہیں، لوگ ان کو بالکل نہیں چھوڑیں گے: (۱) حسب پر طعن کرنا، (۲) میت پر نوحہ کرنا، (۳) ستاروں کا معاملہ اور (۴) یہ کہنا کہ ایک اونٹ کو خارش لگی، پس اس نے سب کو خارش لگا دی،یہ تو بتاؤ کہ پہلے کو کس نے خارش لگائی؟
Takhreej
(۹۹۹۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۰۰۱ (انظر: ۷۹۰۸)
9996
Sahih
۔ (۹۹۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْقُلُوْبُ اَرْبَعَۃٌ، قَلْبٌ اَجْرَدُ فِیْہِ مِثْلُ السِّرَاجِ یُزْھِرُ، وَقَلْبٌ اَغْلَفُ مَرْبُوْطٌ عَلٰی غِلَافِہِ، وَقَلْبٌ مَنْکُوْسٌ، وَقَلْبٌ مُصْفَحٌ، فَاَمَّا الْقَلْبُ الْاَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُہُ فِیْہِ نُوْرُہُ، وَاَمَّا الْقَلْبُ الْاَغْلَفُ فَقَلْبُ الْــکَافِرِ، وَاَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْـکُوْسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ اَنْـکَرَ، وَامَّا الْقَلْبُ الْمُصْفَحُ فَقَلْبٌ فِیْہِ اِیْمَانٌ وَنِفَاقٌ، فَمَثَلُ الْاِیْمَانِ فِیْہِ کَمَثَلِ الْبَقْلَۃِیَمُدُّھَا الْمَائُ الطَّیِّبُ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِیْہِ کَمَثَلِ الْقُرْحَۃِیَمُدُّھَا الْقَیْــحُ وَالدَّمُ، فَاَیُّ الْمَدَّتَیـْنِ غَلَبَتِ الْاُخْرٰی غَلَبَتْ عَلَیْہِ ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دل چار قسم کے ہوتے ہیں: (۱) خالص اور صاف دل، جو چراغ کی طرح روشن ہوتا ہے، (۲) پردے میں بند دل، جس سے پردہ ہٹ ہی نہیں سکتا، (۳) الٹا کیا ہوا دل اور (۴)دو رُخا دل۔ ان کی تفصیلیہ ہے: صاف دل سے مراد مومن کا دل ہے، اس کا چراغ اس کا نور ہے، پردے میں بند دل کافر کا ہوتا ہے، الٹا ہوا دل اس منافق کا ہوتا ہے، جو حق کی معرفت حاصل کرنے کے بعد اس کا انکار کر دیتا ہے اور دو رُخا دل وہ ہوتا ہے، جس کے اندر ایمان بھی ہو اور نفاق بھی، اس میں ایمان کی مثال سبزی کیسی ہے کہ پاکیزہ پانی جس کو بڑھاتا ہے اور نفاق کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے کہ جو پیپ اور خون کی وجہ سے بڑھتاہے، ان دو میں سے جس کی بڑھوتری غالب آ جاتی ہے، سو وہ غالب رہتی ہے۔
Takhreej
(۹۹۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم ، ولانقطاعہ، ابو البختری لم یدرک ابا سعید الخدری، أخرجہ الطبرانی فی الصغیر : ۱۰۷۵(انظر: ۱۱۱۲۹)
Explanation
فوائد:… الٹے ہوئے دل سے مراد یہ ہے کہ ایسا سمجھیں کہ دل کو برتن کی طرح الٹا کر دیا گیا اور اس میںموجود خیر نکل گئی، اس سے مراد منافق کا ارتداد ہے، یا اس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر بات کی گئی ہے۔
9997
Zaeef
۔ (۹۹۹۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْبَعًا فَاَعْجَبْتَنِیْ وَاَیْنَقْنَنِیْ، قَالَ عَفَّانُ: وَاَنْقَنَنِیْ، ((نَھٰی اَنْ تُسَافِرَ الْمَرْاَۃُ مَسِیْرَۃَیَوْمَیْنِ)) قَالَ عَفَّانُ: اَوْ لَیْلَتَیْنِ اِلَّا وَمَعَھَا زَوْجٌ اَوْ ذُوْ مَحْرَمٍ، وَنَھٰی عَنِ الصَّلَاۃِ فِیْ سَاعَتَیْنِ بَعْدَ الْغَدَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغِیْبَ، وَنَھٰی عَنْ صِیَامِیَوْمَیْنِیَوْمِ النَّحْرِ، وَیَوْمِ الْفِطْرِ، وَقَالَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْاَقْصٰی، وَمَسْجِدِیْ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۰۴)
۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چار چیزیں سنی، انھوں نے مجھے تعجب میں ڈال دیا اور مجھے حیران کر دیا ، (۱) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ عورت دو دنوں کی مسافت کا سفر کرے، مگر اس کے ساتھ اس کا خاوند یا کوئی محرم ہونا چاہیے، (۲)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو گھڑیوں میں نماز سے منع فرمایا، نمازِ فجر کے بعد، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور نماز عصر کے بعد، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، (۳)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر کے دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا، نیز (۴) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ پالان نہ کسے جائیں، ما سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور یہ مسجد نبوی۔
Takhreej
(۹۹۹۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۹۷، ۱۸۶۴، ۱۹۹۵، ومسلم: ۸۲۷ (انظر: ۱۱۶۸۱)
9998
Sahih
۔ (۹۹۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنَ الْجَاھِلیَّۃِ لَا یُتْرَکْنَ، اَلْفَخْرُ فِیْ الْاَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِیْ الْاَنْسَابِ، وَالْاِسْتِسْقَائُ بِالنُّجُوْمِ، وَالنِّیَاحَۃُ، وَالنَّائِحَۃُ اِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلَیھَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ اَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۱)
۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاہلیت کے چار امور کو نہیں چھوڑا جائے گا، حسب میں فخر کرنا، نسب میں طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا، اگر نوحہ کرنے والی خاتون نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو اس کو قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کر دیا جائے گا کہ اس پر گندھک کا لباس ہو گا یا خارش کی قمیص ہو گی۔
Takhreej
(۹۹۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۳۴(انظر: ۲۲۹۰۳)
9999
Sahih
۔ (۱۰۰۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ: یَتَعَوَّذُ مِنْ اَرْبَعٍ، مِنْ عَذَابِ جَھَنَّّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (مسند احمد: ۷۸۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار چیزوں سے پناہ طلب کرتے تھے، جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، حیات و ممات کے فتنے سے اور دجال کے فتنے سے۔
Takhreej
(۱۰۰۰۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۷۸۷۰)
10000
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.