۔ (۱۰۰۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَکْرَہُ عَشْرَ خِلَالٍ، تَخَتُّمَ الذَّھَبِ وَجَرَّ الْاِزَارِ وَالصُّفْرَۃَیَعْنِیْ الْخَلُوْقَ، وَتَغْیِیْرَ الشَّیْبِ، قَالَ جَرِیْرٌ: اِنّمَا یَعْنِیْ بذٰلِکَ نَتْفَہُ، وَعَزْلَ الْمَائِ عَنْ مَحَلِّہِ وَالرُّقٰی اِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَفَسَادَ الصَّبِیِّ غَیْرَ مُحَرِّمِہِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالْزِیْنَۃِ لِغَیْرِ مَحَلِّھَا، وَالضَّرْبَ بِالْـکِعَابِ۔ (مسند احمد: ۴۱۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے: (۱) سونے کی انگوٹھی، (۲) تہبند کو گھسیٹنا، (۳) صفرہ یعنی خلوق خوشبو، (۴) سفید بالوں کو تبدیل کر دینا،یعنی ان کو اکھاڑ دینا، (۵) مادۂ منویہ کو اس کے محل سے دور گرانا یعنی عزل کرنا، (۶) معوذات کے علاوہ دم کرنا، (۷) بچے میں فساد پیدا کرنا، لیکن اس کام کو حرام نہیں قرار دیا، (۸) تمیمے لٹکانا، (۹) بے محل موقع پر عورت کا زینت اختیار کرنا اور (۱۰) نرد کھیل کے مہرے مارنا۔
Takhreej
(۱۰۰۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن حرملۃ الکوفی، قال البخاری: لم یصح حدیثہ،یعنی ان عبد الرحمن لم یسمع ابن مسعود، وقاسم بن حسان، قال ابن حجر: مقبول، یعنی عند المتابعۃ والا فھو لین الحدیث، أخرجہ ابوداود: ۴۲۲۲، والنسائی: ۷/ ۱۴۱ (انظر: ۴۱۷۹)
Explanation
فوائد:… بچے میں فساد پیدا کرنے سے مراد غیلہ ہے، یعنی خاوند کا اپنی بیوی سے اس وقت جماع کرنا، جب وہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔
یہ روایت ضعیف ہے اور ان امور کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
10024
Zaeef