TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان

Chapter 24 of زبان کی آفتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 24 of 30 · 6 Hadith
۔ (۱۰۰۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا یَبِیْعُ اَحَدُکُمْ عَلٰی بَیِعِْ اَخِیْہِ وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔
Takhreej
(۱۰۰۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۶۴(انظر: ۷۷۲۷)
10009
Sahih
۔ (۱۰۰۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا یَبِیْعُ اَحَدُکُمْ عَلٰی بَیِعِْ اَخِیْہِ وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوںکو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔
Takhreej
(۱۰۰۱۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۰۸، ومسلم: ۵۹۳(انظر: ۱۸۱۴۷)
10010
Sahih
۔ (۱۰۰۱۱)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی النِّسَائِ حِیْنَ بَایَعَھُنَّ اَنْ لَا یَنُحْنَ، فَقُلْنَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ نِسَائً اَسْعَدْنَنَا فِیْ الْجَاھِلیَّۃِ اَفَنُسْعِدُھُنَّ فِی الْاِسْلَامِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اِسْعَادَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا شِغَارَ، وَلَا عَقْرَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا جَلَبَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا جَنَبَ، وَمَنِ انْتَھَبَ فَلََیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۶۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ان سے یہ معاہدہ لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، کچھ خواتین نے کہا: اے اللہ کے رسول! بعض خواتین نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں ہماری مدد کی تھی، کیا ہم اسلام میں ان کی مدد کر سکتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں نہ ایسی مدد ہے، نہ شغار ہے، نہ عَقْر ہے، نہ جلب ہے اور نہ جنب ہے اور جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابوداود: ۳۲۲۲، والترمذی: ۱۶۰۱،و النسائی: ۴/ ۱۶ (انظر: ۱۳۰۳۲)
Explanation
فوائد:… نوحہ میں ایک دوسرے کی مدد کو اِسْعَاد کہتے ہیں، دورِ جاہلیت میں خواتین نوحہ کرنے میں باقاعدہ ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اسلام میں تو سرے سے نوحہ سے ہی منع کر دیا۔ عَقْر کی صورت یہ تھی کہ جو آدمی اپنی زندگی میں سخاوت کرتا تھا، لوگ اس کی قبر پر اونٹ نحر کرتے اور کہتے کہ ہم اس میت کو اس کے عمل کا بدلہ دے رہے ہیں، اسلام نے اس رسم سے بھی منع کر دیا۔
10011
Sahih
۔ (۱۰۰۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَنْھٰی عَنْ صِیَامِیَوْمَیْنِ، وَعَنْ صَلَاتَیْنِ، وَعَنْ نِکَاحَیْنِ، سَمِعْتُہُ یَنْھٰی عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرِبَ الشَّمْسُ، وَعَنْ صِیَامِیَوْمِ الْفِطْرِ وَالْاَضْحٰی، وَاَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْمَرْاَۃِ وَخَالَتِھَا، وَبَیْنَ الْمَرْاَۃِ وَعَمَّتِھَا۔ (مسند احمد: ۱۱۶۶۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو دنوں کے روزے سے، دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرمایا، اس کی تفصیلیہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عید الفطر اور عید الاضحی کے روزوں سے اور بھانجی اور اس کی خالہ کو اور بھتیجی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۰۱۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۱۲۶۸ (انظر: ۱۱۶۳۷)
10012
Sahih
۔ (۱۰۰۱۳)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ زَاذَانَ اَبِیْ عُمَرَ، عَنْ عُلَیْمٍ، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عَلَی سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَزِیْدُ: لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا عَبْسًا الْغَفَّارِیُّ، وَالنَّاسُ یَخْرُجُوْنَ فِیْ الطَّاعُوْنِ، فَقَالَ عَبْسٌ: یَاطَاعُوْنُ! خُذْنِیْ، ثَلَاثًایَقُوْلُھا، فَقَالَ لَہُ عُلَیْمٌ: لِمَ تَقُوْلُ ھٰذَا؟ اَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَتَمَنّٰی اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ فَاِنَّہُ عِنْدَ اِنْقِطَاعِ عَمِلِہِ، وَلَا یُرَدُّ فَیَسْتَعْتِبُ۔)) فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَادِرُوْا بِالْمَوْتِ سِتًّا، اِمْرَۃَ السُّفَھَائِ، وَکَـثْرَۃَ الشُّرَطِ، وَبَیْعَ الْحُـکْمِ، وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ، وَقَطِیْعَۃَ الرَّحِمِ، وَنَشْوًا یَتَّـخِذُوْنَ الْقُرْآنَ مَزَامِیْرَیُقَدِّمُوْنَہُیُغَنِّیْھِمْ وَاِنْ کَانَ اَقَلَّ مِنْھُمْ فِقْھًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۶)
۔ علیم کہتے ہیں: ہم ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک صحابی بھی ہمارے پاس موجود تھے، یزید راوی کہتے ہیں: میرا خیالیہی ہے کہ وہ سیدنا عبس غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، اس وقت لوگ طاعون میںنکل رہے تھے، اتنے میں عبس نے تین بار کہا: اے طاعون! مجھے پکڑ لے، عُلَیم نے کہا: تم یہ دعا کیوں کرتے ہو؟ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اس وقت اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں اور نہ اس کو واپس لوٹایا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکے۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چھ چیزوں سے پہلے پہلے مر جاؤ، بیوقوں کی حکومت ، پولیس کی کثرت، انصاف کے بکنے، خون کے کم قیمت ہو جانے اور قطع رحمی سے پہلے اور قبل اس کے کہ لوگ قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر کیف و سرور میں آئیں اور کسی آدمی کو صرف اس لیے (امامت کے لیے) آگے کریں کہ وہ گاہ گاہ کر تلاوت کرتا ہے، اگرچہ وہ ان میں سب سے کم فہم و فقہ والا ہو۔
Takhreej
(۱۰۰۱۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۱۶۱۰، والطبران فی الکبیر : ۱۸/ ۶۱(انظر: ۱۶۰۴۰)
10013
Sahih
۔ (۱۰۰۱۴)۔ عَنْ شَدَّادٍ اَبِیْ عَمَّارٍ الشَّامِیِّ، قَالَ: قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ: یَاطَاعُوْنُ! خُذْنِیْ اِلَیْکَ، قَالَ: فَقَالُوْا: اَلَیْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا عُمِّرَ الْمُسْلِمُ کَانَ خَیْرًا لَہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یَزِیْدُہُ طُوْلُ الْعُمَرِ اِلَّا خَیْرًا) قَالَ: بَلٰی وَلٰکِنِّی اَخَافُ سِتًّا، اِمَارَۃَ السُّفَھَائِ، وَبَیْعَ الْحُـکْمِ، وَکَثْرَۃَ الشُّرَطِ، وقَطِیْعَۃَ الرَّحِمِ، وَنَشَاً یَنْشَؤُوْنَیَتَّخِذُوْنَ الْقُرْآنَ مَزَامِیْرَ، وَسَفْکَ الدَّمِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۷۰)
۔ شداد بن ابی عمار شامی سے مروی ہے کہ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف کھینچ لے، لوگوں نے کہا: تم یہ کیوں کہتے ہو جبکہ تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مؤمن کو زیادہ عمر ملتی ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، میں نے یہ حدیث سنی ہے، لیکن میں چھ چیزوں سے ڈرتا ہوں: بیوقوں کی حکومت، انصاف کے فروخت ہونے، پولیس کی کثرت، قطع رحمی اور لوگوں کا قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر مزے لینا اور قتل۔
Takhreej
(۱۰۰۱۴) تخریج: صحیح لغیرہ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/۲۴۴، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۱۰۴(انظر: ۲۳۹۷۰)
10014
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.