TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

Chapter 81 of فضائل و مناقب کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 81 of 144 · 11 Hadith
۔ (۱۱۸۲۴)۔ ثَنَا جَرِیرٌ یَعْنِی ابْنَ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَرَأَیْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُحِبُّہُ أَلَیْسَ رَجُلًا صَالِحًا؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُحِبُّکَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَکَ، فَقَالَ: قَدِ اسْتَعْمَلَنِی فَوَاللّٰہِ مَا أَدْرِی أَحُبًّا کَانَ لِی مِنْہُ أَوْ اسْتِعَانَۃً بِی، وَلٰکِنْ سَأُحَدِّثُکَ بِرَجُلَیْنِ مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُحِبُّہُمَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۰)
حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوںنے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۔
Takhreej
(۱۱۸۲۴) تخریج: منقطع، الحسن البصری لم یسمع من عمرو بن عاص، اخرجہ بنحوہ النسائی فی الکبری : ۹۲۷۴، والحاکم: ۳/ ۳۹۲ (انظر: ۱۷۸۰۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قبیلہ بنوہذیل کے فرد تھے، آغاز اسلام میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی پہلے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے، اولأحبشہ کی طرف اور بعد میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے، غزوۂ بدر، احد، خندق، بیعت رضوان اور دیگر مواقع میں شریک رہے، اکثر و بیشتر وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گزارا کرتے، بڑے اور فقیہ صحابۂ کرام میں ان کا شمار ہوتا ہے، ایک قول کے مطابق (۳۲) سن ہجری میں ان کی وفات کو فہ میں اور دوسرے قول کے مطابق مدینہ منور ہ میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر چونسٹھ پینسٹھ برس تھی۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قرآن کریم کے بہت بڑے عالم اور ماہر تھے، وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں قرآن کریم کی ہر ہر سورت کے متعلق جانتا ہوں کہ یہ کب اور کہاں نازل ہوئی، اگر مجھے پتہ چلے کہ کوئی آدمی مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا علم رکھتا ہے اور وہاں اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں اس آدمی کی طرف سفر کرکے اس سے علم حاصل کروں۔
11824
Sahih
۔ (۱۱۸۲۵)۔ عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ بَیْنَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ یُصَلِّی فَافْتَتَحَ النِّسَائَ فَسَحَلَہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا أُنْزِلَ فَلْیَقْرَأْہُ عَلٰی قِرَائَ ۃِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ۔)) ثُمَّ تَقَدَّمَ یَسْأَلُ فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سَلْ تُعْطَہْ، سَلْ تُعْطَہْ، سَلْ تُعْطَہْ۔)) فَقَالَ فِیمَا سَأَلَ: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ إِیمَانًا لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَعْلٰی جَنَّۃِ الْخُلْدِ، قَالَ: فَأَتٰی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَبْدَ اللّٰہِ لِیُبَشِّرَہُ، فَوَجَدَ أَبَا بَکْرٍ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِ قَدْ سَبَقَہُ فَقَالَ: إِنْ فَعَلْتَ لَقَدْ کُنْتَ سَبَّاقًا بِالْخَیْرِ۔ (مسند احمد: ۴۲۵۵)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ رات کو نماز ادا کر رہے تھے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لائے، انھوں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی اور اس کی مکمل تلاوت کی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہتا ہو، جیسا کہ وہ نازل ہواتھا تو وہ ابن ام عبد یعنی ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قرأت کے مطابق تلاوت کیا کرے۔ پھر وہ آگے بڑھے اور سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سوال کرنے لگے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے : تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ تو انہوں نے اپنی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی کی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ إِیمَانًا لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَعْلٰی جَنَّۃِ الْخُلْدِ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کی دعا کرتا ہوں جو مجھ سے واپس نہ جائے، ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں اور میں تجھ سے ہمیشہ والی جنت کے اعلیٰ مقامات میں تیرے نبی کاساتھ چاہتا ہوں۔) اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کو بشارت دینے کے لیے آئے تو انھوں نے دیکھا کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس بارے میں ان سے سبقت لے جا چکے تھے۔ تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگرچہ آپ نے یہ کام کیا ہے، مگر صورتحال یہ ہے کہ آپ ہر اچھے کام میں سبقت لے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۱۸۲۵) تخریج: حدیث صحیح بشواہدہ، اخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۸(انظر: ۴۲۵۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی ترجیح کے لیے دیکھیں احادیث نمبر (۸۴۴۹،۸۳۷۸) صحابۂ کرام ایک دوسرے کو خوشخبری دینے اور خوش کرنے کے بڑے حریص تھے، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما جیسے عظیم صحابہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خوش کرنے کے درپے ہیں، اسلامی تعلق اور دینی محبت کا یہی تقاضا ہوتا ہے۔
11825
Sahih
۔ (۱۱۸۲۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: مَرَّ بِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أُصَلِّی، فَقَالَ: ((سَلْ تُعْطَہْ یَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ۔)) فَابْتَدَرَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَ قَالَ عُمَرُ: مَا بَادَرَنِی أَبُو بَکْرٍ إِلٰی شَیْئٍ إِلَّا سَبَقَنِی إِلَیْہِ أَبُو بَکْرٍ، فَسَأَلَاہُ عَنْ قَوْلِہِ، فَقَالَ: مِنْ دُعَائِی الَّذِی لَا أَکَادُ أَدَعُ اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحَمَّدٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔ (مسند احمد: ۴۱۶۵)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! تو جو چاہے دعا کر تجھے عطا کیا جائے گا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس خوشی سے آگاہ کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جس کام میں بھی میرے ساتھ مقابلہ کیا تو وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔دونوں نے عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ انہوں نے اس رات کو کیا دعا کی تھی، انھوں نے بتلایا کہ میں نے وہ دعا کی تھی، جس کو میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں، میں نے کہا تھا: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحَمَّدٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں،آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں، جو کبھی ختم نہ ہوں او ر جنت کے اعلیٰ مقامات میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ چاہتا ہوں۔)
Takhreej
(۱۱۸۲۶) تخریج: حدیث حسن، اخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۸(انظر: ۴۱۶۵)
11826
Sahih
۔ (۱۱۸۲۷)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا دُوْنَ مَشْوَرِۃِ الْمُؤْمِنِیْنَ لَأَمَّرْتُ اِبْنَ أُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۵۶۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کی مشاورت کے بغیر کسی کو امیر بنانا ہوتا تو میں ام عبد کے بیٹےیعنی عبداللہ بن مسعود کو امیر بناتا۔
Takhreej
(۱۱۸۲۷) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف الحارث الاعور، اخرجہ الترمذی: ۳۸۰۹،وابن ماجہ: ۱۳۷(انظر: ۵۶۶)
11827
Zaeef
۔ (۱۱۸۲۸)۔ وَعَنْ أُمِّ مُوسٰی، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ: أَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ عَلٰی شَجَرَۃٍ، أَمَرَہُ أَنْ یَأْتِیَہُ مِنْہَا بِشَیْئٍ، فَنَظَرَ أَصْحَابُہُ إِلٰی سَاقِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ حِینَ صَعِدَ الشَّجَرَۃَ فَضَحِکُوْا مِنْ حُمُوشَۃِ سَاقَیْہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَضْحَکُونَ لَرِجْلُ عَبْدِ اللّٰہِ أَثْقَلُ فِی الْمِیزَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ أُحُدٍََََ۔)) (مسند احمد: ۹۲۰)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ درخت پر چڑھ کر وہاں کوئی چیز اتار لائیں، وہ درخت پر چڑھے، جب صحابۂ کرام نے ان کے درخت پر چڑھتے ہوئے ان کی پتلی پتلی کم زور پنڈلیوں کو دیکھا تو وہ ہنسنے لگے، لیکن رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیوں ہنستے ہو؟ قیامت کے دن عبداللہ کی ٹانگ ترازو میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوگی۔
Takhreej
(۱۱۸۲۸) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۱۱۴، وابویعلی: ۵۳۹ (انظر: ۹۲۰)
11828
Sahih
۔ (۱۱۸۲۹)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ کَانَ یَجْتَنِی سِوَاکًا مِنَ الْأَرَاکِ، وَکَانَ دَقِیق السَّاقَیْنِ، فَجَعَلَتِ الرِّیحُ تَکْفَؤُہُ، فَضَحِکَ الْقَوْمُ مِنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مِمَّ تَضْحَکُونَ؟)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ مِنْ دِقَّۃِ سَاقَیْہِ، فَقَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَہُمَا أَثْقَلُ فِی الْمِیزَانِ مِنْ أُحُدٍٍٍٍٍ۔)) (مسند احمد: ۳۹۹۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ پیلو کے درخت سے مسواک توڑ رہے تھے، ان کی پنڈ لیاں کم زور تھیں،ہوا چلنے کی وجہ سے کپڑا اڑنے لگا تو لوگ ان کی باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسنے لگ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم کس بات پہ ہنس رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان کی کم زور پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسی آرہی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ پنڈلیاں ترازو میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔
Takhreej
(۱۱۸۲۹) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ الطیالسی: ۳۵۵، والبزار: ۲۶۷۸، والطبرانی فی الکبیر : ۸۴۵۲(انظر: ۳۹۹۱)
11829
Sahih
۔ (۱۱۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: أَتَیْنَا حُذَیْفَۃَ، فَقُلْنَا: دُلَّنَا عَلٰی أَقْرَبِ النَّاسِ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہَدْیًا وَسَمْتًا وَوَلَائً، نَأْخُذْ عَنْہُ وَنَسْمَعْ مِنْہُ، فَقَالَ: کَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہَدْیًا وَسَمْتًا وَدَلًّا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ حَتّٰی یَتَوَارَی عَنِّی فِی بَیْتِہِ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِہِمْ إِلَی اللّٰہِ زُلْفَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَسِیْلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)۔ (مسند احمد: ۲۳۷۳۲)
عبدالرحمن بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گئے اور ہم نے کہا آپ ہمیں کسی ایسے آدمی کی طرف راہ نمائی کریں جو اپنی سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہو، تاکہ ہم اس سے کچھ حاصل کر سکیں اور اس سے احادیث کا سماع کر سکیں،انہوں نے کہا:سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبداللہ بن مسعود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہیں،یہاں تک کہ وہ گھر داخل ہو جائیں (یعنی ان کے گھر سے باہر کے تمام معمولات سنت نبوی کے مطابق ہوتے ہیں اور میں ان کے گھر کے اندرونی معمولات نہیں جانتا۔)ایک روایت میںیوں ہے:تم جس قسم کے آدمی کے متعلق پوچھتے ہو تو ایسا شخص عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی ہے، گھر سے باہر آکر گھر جانے تک اس کے تمام معمولات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معمولات کے مطابق ہوتے ہیں، اب میں یہ نہیں جانتا کہ گھر کے اندر ان کے معمولات کیا ہوتے ہیں؟ اصحاب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں سے اہل علم جانتے ہیں کہ ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان میں سے اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قیامت کے دن ان سب سے بڑھ کر اللہ کے مقرب ہوں گے۔
Takhreej
(۱۱۸۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۶۲(انظر: ۲۳۳۴۲)
11830
Sahih
۔ (۱۱۸۳۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِذْنُکَ عَلَیَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِی حَتَّی أَنْہَاکَ۔)) قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِیْ: بِسَوَادِیْ، سِرِّیْ، قَالَ: اَذِنَ لَہُ أَنْ یَسْمَعَ سِرَّہٗ۔ (مسند احمد: ۳۶۸۴)
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پردہ کو اٹھا دیا جانا تمہارے لیے آگے آجانے کی اجازت کے مترادف ہے اور تم میری راز کی باتوں کو سننے کے بھی مجازہو، یہاں تک کہ میں تمہیں اس سے روک دوں۔ ابوعبدالرحمن نے کہا: سِوَاد کا معنی راز ہے، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں راز کی باتیں سننے کی اجازت دے رکھی تھی۔
Takhreej
(۱۱۸۳۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۶۹ (انظر: ۳۶۸۴)
Explanation
فوائد:… کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت مقرر کی جا سکتی ہے۔
11831
Sahih
۔ (۱۱۸۳۲)۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَرَأْتُ مِنْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعِینَ سُورَۃً، وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَہُ ذُؤَابَۃٌ فِی الْکُتَّابِ، (وَفِیْ لَفْظٍ: وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامٌ لَہٗ ذُؤَابَتَانِ یَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ)۔ (مسند احمد: ۳۸۴۶)
عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سیکھی ہیں۔ زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس وقت چھوٹے تھے اور زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے لٹیں رکھی ہوئی تھیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بچے تھے ان کی دولٹیں تھیں اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۱۸۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۰۰، ومسلم: ۲۴۶۲ (انظر: ۳۸۴۶)
Explanation
فوائد:… اس روایت کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۰۹)۔
11832
Sahih
۔ (۱۱۸۳۳)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَل کُنْتُ أَرْعٰی غَنَمًا لِعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ، فَمَرَّ بِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ، فَقَالَ: ((یَا غُلَامُ ہَلْ مِنْ لَبَنٍ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَلٰکِنِّی مُؤْتَمَنٌ، قَالَ: ((فَہَلْ مِنْ شَاۃٍ لَمْ یَنْزُ عَلَیْہَا الْفَحْلُ؟)) فَأَتَیْتُہُ بِشَاۃٍ فَمَسَحَ ضَرْعَہَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَہُ فِی إِنَائٍ فَشَرِبَ وَسَقَی أَبَا بَکْرٍ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ: ((اقْلِصْ۔)) فَقَلَصَ قَالَ: ثُمَّ أَتَیْتُہُ بَعْدَ ہٰذَا فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ عَلِّمْنِی مِنْ ہٰذَا الْقَوْلِ، قَالَ: ((فَمَسَحَ رَأْسِی وَقَالَ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ فَإِنَّکَ غُلَیِّمٌ مُعَلَّمٌ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ: فَأَتَاہُ أَبُو بَکْرٍ بِصَخْرَۃٍ مَنْقُورَۃٍ فَاحْتَلَبَ فِیہَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَکْرٍ وَشَرِبْتُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَیْتُہُ بَعْدَ ذٰلِکَ قُلْتُ: عَلِّمْنِی مِنْ ہٰذَا الْقُرْآنِ، قَالَ: ((إِنَّکَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ۔)) قَالَ: فَأَخَذْتُ مِنْ فِیہِ سَبْعِینَ سُورَۃً۔ (مسند احمد: ۴۴۱۲)
سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریا ںچرایا کرتا تھا، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لڑکے! دودھ مل سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، لیکنیہ میرے پاس امانت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس ریوڑ میں کوئی ایسی بکری ہے، جس کی ابھی تک نر سے جفتی ہی نہ ہوئی ہو؟ تو میں ایک بکری پکڑ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو دودھ اتر آیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک برتن میں دودھ دوہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا (یعنی پہلے کی طرح ہو جا)۔ پس وہ سکڑ کر اپنی پہلی حالت میں ہو گیا۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں اس کے بعد ایک موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دعا مجھے بھی سکھا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، تو سیکھا سکھایا، پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ دوسری روایت میں ہے: ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کی خدمت میں پیالےیا برتن کی طرح کا ایک پتھر لے کر آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں دودھ دوہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیااور میں نے بھی پیا۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے اس کے بعد ایک موقعہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ مجھے بھی اس قرآن میں سے کچھ سکھا دیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پڑھیں۔
Takhreej
(۱۱۸۳۳) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ الطیالسی: ۳۵۳، والطبرانی فی الکبیر : ۸۴۵۵ (انظر: ۴۴۱۲)
11833
Sahih
۔ (۱۱۸۳۴)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: کُنَّا نَأْتِی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ عِنْدَہُ، فَذَکَرْنَا یَوْمًا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَقَدْ ذَکَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّہُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَۃٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ۔)) فَبَدَأَ بِہِ، ((وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، وَسَالِمٍ مَوْلٰی أَبِی حُذَیْفَۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۷۹۵)
مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں جایا کرتے اور ان کے ہاں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے، ہم نے ایک دن سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا: تم نے ایک ایسے آدمی کا نام لے دیا ہے کہ میں نے جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، تب سے میں اس سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاہے: تم لوگ چار آدمیوں سے قرآن کا علم حاصل کرو، ابن ام عبد، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا۔
Takhreej
(۱۱۸۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۷۶۰،ومسلم: ۲۴۶۴(انظر: ۶۷۹۵)
11834
Sahih

Chapters

144
01
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
8 Hadith
02
انصار کے فضائل و مناقب
24 Hadith
03
انصار کے بہترین گھرانوں کا تذکرہ
2 Hadith
04
انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
05
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
14 Hadith
06
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
7 Hadith
07
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
1 Hadith
08
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
1 Hadith
09
صحابۂ کرام کی ایک جماعت کے بعض خصائص
3 Hadith
10
خواتین صحابہF کی ایک جماعت کے مشترکہ خصائص
3 Hadith
11
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
3 Hadith
12
نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ
3 Hadith
13
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
9 Hadith
14
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
10 Hadith
15
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
16
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
17
سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
18
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
1 Hadith
19
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
9 Hadith
20
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
21
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
22
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
23
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
24
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
25
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
26
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
5 Hadith
27
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
28
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
1 Hadith
29
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
30
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی فضیلت اور ان کا واقعہ
3 Hadith
31
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
32
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
33
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
34
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
35
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
36
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
37
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
2 Hadith
38
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
39
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
40
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
2 Hadith
42
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
43
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
44
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
45
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
46
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
2 Hadith
47
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
48
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
49
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
50
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
8 Hadith
51
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
52
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
10 Hadith
53
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ابو عبدالرحمن سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
54
سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
5 Hadith
55
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
56
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
3 Hadith
57
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
58
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
59
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
60
سیدنا ضماد ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان
1 Hadith
61
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
62
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
63
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
64
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
65
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
66
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
67
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
68
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
69
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
70
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
71
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
72
سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
73
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
74
سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
75
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
13 Hadith
76
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
2 Hadith
77
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
78
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
3 Hadith
79
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
80
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
81
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
82
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
83
سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
84
سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
85
سیدنا عروہ بن ابی جعد بارقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
86
سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
87
سیدنا علاء بن الحضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
88
سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
89
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
90
نابینا صحابی سیدنا عمر وبن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
91
سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
92
سیدنا عمرو بن جموح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
1 Hadith
93
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
94
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
10 Hadith
95
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
96
سیدنا فرات بن حیان عجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
97
سیدنا قتادہ بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
98
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
99
سیدنا کعب بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
100
سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
101
سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
102
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
103
سیدنا معن بن یزید سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
104
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
105
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
106
سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا صدی بن عجلان تھا
1 Hadith
107
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
108
سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
109
سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
110
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
12 Hadith
111
سیدناابوزیدانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
6 Hadith
112
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
8 Hadith
113
سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
114
سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
115
سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
116
سیدنا ابو عامر عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
117
امین الامہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
118
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کابیان
1 Hadith
119
سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
4 Hadith
120
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
7 Hadith
121
سیدنا ابو مالک عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
122
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
123
سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
124
سیدہ اسما بنت ابی بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
125
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
126
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
127
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
128
سیدہ درہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
129
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
10 Hadith
130
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
131
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
132
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
133
سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
134
سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
135
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
3 Hadith
136
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
1 Hadith
137
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
7 Hadith
138
اویس قرنیlکا تذکرہ
2 Hadith
139
سفیان بن عینیہlکا تذکرہ
1 Hadith
140
زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
1 Hadith
141
امام مالک بن انسlکا تذکرہ
1 Hadith
142
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
2 Hadith
143
ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
1 Hadith
144
ابن جریجlکا تذکرہ
1 Hadith
No chapter matched that.