۔ (۱۱۴۹۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِذْنُکَ عَلَیَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِی حَتّٰی أَنْہَاکَ۔)) قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِیْ: بِسَوَادِیْ، سِرِّیْ، قَالَ: اَذِنَ لَہُ أَنْ یَسْمَعَ سِرَّہٗ۔ (مسنداحمد: ۳۶۸۴)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پردہ کو اٹھا دیا جانا تمہارے لیے آگے آجانے کی اجازت کے مترادف ہے اور تم میری راز کی باتوں کو سننے کے بھی مجازہو، یہاں تک کہ میں تمہیں اس سے روک دوں۔ ابو عبدالرحمن نے کہا: سِوَاد کے معانی راز کے ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں راز کی باتیں سننے کی اجازت دے رکھی تھی۔
Takhreej
(۱۱۴۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۶۹(انظر: ۳۶۸۴)
Explanation
فوائد:… کسی کو اجازت دینے کے لیے کوئی علامت مقرر کی جا سکتی ہے۔
آزاد لوگوں میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کل گیارہ خادم تھے، ان کے نام درج ذیل ہیں:
سیدنا انس، سیدنا ہند بن حارثہ، سیدنا اسماء بن حارثہ، سیدنا ربیعہ بن کعب، سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور ان کی ماں، سیدنا عقبہ بن عامر، سیدنا بلال بن رباح، سیدنا سعد، سیدنا بکیر بن شداخ، سیدنا ابو ذر غفاری ۔
11491
Sahih