TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ - سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ - فضائل و مناقب کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 74 of فضائل و مناقب کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 74 of 144 · 5 Hadith
۔ (۱۱۷۸۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقْدَمَہُ الْمَدِینَۃَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی سَائِلُکَ عَنْ ثَلَاثِ خِصَالٍ لَا یَعْلَمُہُنَّ إِلَّا نَبِیٌّ، قَالَ: ((سَلْ۔)) قَالَ: مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا یَأْکُلُ مِنْہُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ؟ وَمِنْ أَیْنَ یُشْبِہُ الْوَلَدُ أَبَاہُ وَأُمَّہُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَخْبَرَنِی بِہِنَّ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلَام آنِفًا، قَالَ ذَلِکَ عَدُوُّ الْیَہُودِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، قَالَ: أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ فَنَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَی الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ مَا یَأْکُلُ مِنْہُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ زِیَادَۃُ کَبِدِ حُوتٍ، وَأَمَّا شَبَہُ الْوَلَدِ أَبَاہُ وَأُمَّہُ فَإِذَا سَبَقَ مَائُ الرَّجُلِ مَائَ الْمَرْأَۃِ نَزَعَ إِلَیْہِ الْوَلَدُ، وَإِذَا سَبَقَ مَائُ الْمَرْأَۃِ مَائَ الرَّجُلِ نَزَعَ إِلَیْہَا۔)) قَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ، وَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ الْیَہُودَ قَوْمٌ بُہْتٌ وَإِنَّہُمْ إِنْ یَعْلَمُوْا بِإِسْلَامِی یَبْہَتُونِیْ عِنْدَکَ، فَأَرْسِلْ إِلَیْہِمْ فَاسْأَلْہُمْ عَنِّی أَیُّ رَجُلٍ ابْنُ سَلَامٍ فِیکُمْ؟ قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ: ((أَیُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ فِیکُمْ؟)) قَالُوْا: خَیْرُنَا وَابْنُ خَیْرِنَا وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا وَأَفْقَہُنَا وَابْنُ أَفْقَہِنَا، قَالَ: ((أَرَأَیْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ تُسْلِمُونَ؟)) قَالُوْا: أَعَاذَہُ اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ،: قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ، قَالُوْا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَجَاہِلُنَا وَابْنُ جَاہِلِنَا، فَقَالَ: ابْنُ سَلَامٍ ہٰذَا الَّذِی کُنْتُ أَتَخَوَّفُ مِنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جن دنوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: میں آپ سے تین باتوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، ان باتوں کو صرف نبی جانتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پوچھو۔ انہوںنے کہا: علامات قیامت میں سب سے پہلی علامت کیا ہے، اہل جنت سب سے پہلے کون سی چیز کھائیں گے اور بچے کی اپنے ماں باپ سے مشابہت کیوں کر ہوتی ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : ان باتوں کے متعلق جبریل علیہ السلام ابھی ابھی مجھے بتلا کر گئے ہیں، عبداللہ بن سلام نے کہا: یہ فرشتہ تو یہود کا دشمن ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کی اولین نشانی وہ آگ ہے، جو مشرق کی طرف سے نمودار ہوگی اور لوگوں کو جمع کرتی ہوئی مغرب کی طرف لائے گی،اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا اور بچے کی اس کے باپ یا ماں کے ساتھ مشابہت اس طرح ہوتی ہے کہ جب مرد کا مادۂ منویہ عورت کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہو جاتا ہے اور جب عورت کا مادۂ منویہ مرد کے مادہ پر غالب آجائے تو بچہ ماں کے مشابہ ہو جاتا ہے۔ یہ جوابات سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پکار اٹھے: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُولُ اللّٰہِ(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔)پھر سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ بہتان طراز قسم کے لوگ ہیں، اگر انہیں میرے قبول اسلام کا پتہ چل گیا تو آپ کے پاس آکر وہ مجھ پر بہتان باندھیں گے، آپ ان کے ہاں پیغام بھیج کر ان سے میرے متعلق دریافت کرلیں کہ ان کے ہاں ابن سلام کی کیا حیثیت ہے؟ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودیوں کی طرف پیغام بھیج کر ان سے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں ابن سلام کا کیا مقام ہے؟ انہوںنے جواب دیا: وہ ہم سے بہت اچھا ہے اور بہت اچھے آدمی کا بیٹا ہے، وہ ہمارا عالم ہے اور ہمارے ایک بڑے عالم کا بیٹا ہے، وہ ہم میں سے دین کی سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والا اور سب سے زیادہ دین کو سمجھنے والے کا بیٹا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بتلائو اگر وہ اسلام قبول کرلے تو کیا تم مسلمان ہو جائو گے؟ وہ کہنے لگے: اللہ اسے اس کام سے محفوظ رکھے۔ یہ سن کر سیدنا ابن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سامنے آگئے اور پکار کر کہا: اَشْہَدَ اَنْ لَّا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّداً رسولُ اللّٰہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے رسول ہیں۔)یہ سن کر یہودی اسی وقت کہنے لگے: یہ تو ہم میں سب سے برا ہے اور سب سے برے شخص کا بیٹا ہے، یہ تو ہم میں سے جاہل اور جاہل آدمی کا بیٹا ہے، یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اسی بات سے ڈرتا تھا۔
Takhreej
(۱۱۷۸۴) تخریج: اخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۳۳۲۹، ۳۹۳۸، ۴۴۸۰(انظر: ۱۲۰۵۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تعلق بنو قینقاع سے تھا، یہ بنو خزرج کے حلیف تھے، ایک قول کے مطابق دورِ جاہلیت میں ان کا نام حصین تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام عبد اللہ رکھا، مذہباً یہودی تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت یہ مسلمان ہو گئے،یہ (۴۳) سن ہجری میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔
11784
Sahih
۔ (۱۱۷۸۵)۔ وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لِحَیٍّ مِنَ النَّاسِ یَمْشِیْ أَنَّہٗ فِیْ الْجَنَّۃِ اِلَّا لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۱۴۵۳)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوا کسی بھی زندہ شخص کے متعلق نہیں سنا1 کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق فرمایا ہو کہ وہ جنتی ہے۔
Takhreej
(۱۱۷۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۱۲،ومسلم: ۲۴۸۳(انظر: ۱۴۵۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مختلف صحابہ کو ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دی ہے، ممکن ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان واقعات کا علم نہ ہو۔
11785
Sahih
۔ (۱۱۷۸۶)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِقَصْعَۃٍ فَأَکَلَ مِنْہَا فَفَضَلَتْ فَضْلَۃٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَجِیئُ رَجُلٌ مِنْ ہٰذَا الْفَجِّ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَأْکُلُ ہٰذِہِ الْفَضْلَۃَ۔)) قَالَ سَعْدٌ: وَکُنْتُ تَرَکْتُ أَخِی عُمَیْرًا یَتَوَضَّأُ، قَالَ: فَقُلْتُ: ہُوَ عُمَیْرٌ، قَالَ: فَجَائَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ فَأَکَلَہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۵۸)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سے کھانا تناول فرمایا اور اس میں کھانا بچ بھی گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس پہاڑی راستے سے ایک جنتی آدمی آئے گا اور یہ بچا ہوا کھانا تناول کرے گا۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتے چھوڑ کر آیا تھا، میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ عمیر ہی آجائے، لیکن اتنے میں سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے وہ بچا ہوا کھانا کھایا۔
Takhreej
(۱۱۷۸۶) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ البزار: ۱۱۵۶، وابن حبان: ۷۱۶۴،والحاکم: ۳/ ۴۱۶ (انظر: ۱۴۵۸)
11786
Sahih
۔ (۱۱۷۸۷)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: کُنْتُ فِی الْمَسْجِدِ فَجَائَ رَجُلٌ فِی وَجْہِہِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَدَخَلَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَأَوْجَزَ فِیہَا، فَقَالَ الْقَوْمُ: ہَذَا رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، فَلَمَّا خَرَجَ اتَّبَعْتُہُ حَتّٰی دَخَلَ مَنْزِلَہُ، فَدَخَلْتُ مَعَہُ فَحَدَّثْتُہُ، فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ، قُلْتُ لَہُ: إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ الْمَسْجِدَ، قَالُوْا: کَذَا وَکَذَا، قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ مَا یَنْبَغِی لِأَحَدٍ أَنْ یَقُولَ مَا لَا یَعْلَمُ، وَسَأُحَدِّثُکَ لِمَ إِنِّی رَأَیْتُ رُؤْیَا عَلٰی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَصَصْتُہَا عَلَیْہِ، رَأَیْتُ کَأَنِّی فِی رَوْضَۃٍ خَضْرَائَ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَکَرَ مِنْ خُضْرَتِہَا وَسَعَتِہَا وَسْطُہَا عَمُودُ حَدِیدٍ أَسْفَلُہُ فِی الْأَرْضِ وَأَعْلَاہُ فِی السَّمَائِ فِی أَعْلَاہُ عُرْوَۃٌ، فَقِیلَ لِیَ: اصْعَدْ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِیعُ، فَجَائَنِی مِنْصَفٌ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: ہُوَ الْوَصِیفُ، فَرَفَعَ ثِیَابِی مِنْ خَلْفِی، فَقَالَ: اصْعَدْ عَلَیْہِ، فَصَعِدْتُ حَتّٰی أَخَذْتُ بِالْعُرْوَۃِ، فَقَالَ: اسْتَمْسِکْ بِالْعُرْوَۃِ فَاسْتَیْقَظْتُ وَإِنَّہَا لَفِی یَدِی، قَالَ: فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَصَصْتُہَا عَلَیْہِ فَقَالَ: ((أَمَّا الرَّوْضَۃُ فَرَوْضَۃُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَعَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَۃُ فَہِیَ الْعُرْوَۃُ الْوُثْقٰی، أَنْتَ عَلَی الْإِسْلَامِ حَتّٰی تَمُوتَ۔)) قَالَ: وَہُوَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۶)
سیدنا قیس بن عباد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں موجود تھا کہ ایک شخص آیا، اس کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار نمایاں تھے، اس نے اندر آکر دو مختصر رکعتیں ادا کیں، لوگ کہنے لگے کہ یہ جنتی آدمی ہے، جب وہ باہر گیا تو میں بھی ! اس بات کو سعد بن ابی وقاص کے عدم علم محمول کرنا مشکل اور عجیب لگتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص کی بات اس وقت کی ہے جب عشرہ مبشرہ میں سے اکثر افراد فوت ہو چکے ہیں۔ تفصیل دیکھیں فتح الباری: ج۷، ص ۱۳۰۔ (عبداللہ رفیق) ان کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو میں بھی ان کے پیچھے اندر چلا گیا اور اس سے باتیں کیں۔ جب میں اس سے اور وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا: تم جب مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں نے تمہارے متعلق اس قسم کی باتیں کی تھیں۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! کسی بھی آدمی کو کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جسے وہ اچھی طرح جانتا نہ ہو، میں تمہیں ان کی اس بات کی وجہ بتلاتا ہوں، میں نے ایک خواب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیان کیا تھا، میں نے دیکھا گویا کہ میں ایک پررونق سرسبز باغ میں ہوں۔ حدیث کے ایک راوی ابن عون نے کہا کہ عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس باغ کی سرسبزی، رونق اور اس کی وسعت کا بھی ذکر کیا کہ وہ باغ انتہائی خوبصورت با رونق اور بہت زیادہ وسیع و عریض تھا۔ اس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون تھا۔ جس کا نیچے والا حصہ زمین میں اور اوپر والا حصہ آسمان تک تھا، اس کے سرے پر ایک کڑا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جائو۔ میں نے کہا کہ میں تو اس پر نہیں چڑھ سکتا، اتنے میں ایک خادم نے آکر میرے پیچھے سے میرے کپڑے کو اٹھا کر کہا: اوپر چڑھ جائو، چنانچہ میں اس پر چڑھ گیا،یہاں تک کہ میں نے اس کڑے کو پکڑ لیا، اس نے مجھ سے کہا اس کڑے کو مضبوطی سے پکڑ لو، اتنے میں میں بیدار ہوگیا، جب میں بیدار ہوا تو اس وقت وہ میرے ہاتھ میں تھا، میں نے جا کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس خواب کا تذکرہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باغ سے اسلام کا باغ مراد ہے، ستون سے اسلام کا ستون مراد ہے اور کڑا سے مراد مضبوط کڑا (یعنی ایمان) ہے، اس خواب کا مفہوم یہ ہے کہ تم مرتے دم تک اسلام پر قائم رہو گے۔ سیدنا قیس بن عباد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہتے ہیں کہ وہ شخص سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔
Takhreej
(۱۱۷۸۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۱۳، ۷۰۱۴،ومسلم: ۲۴۸۴(انظر: ۲۳۷۸۷)
Explanation
فوائد:… یہ بہت خوبصورت خواب ہے اور اس کی تعبیر تو سونے پہ سہاگہ ہے۔
11787
Sahih
۔ (۱۱۷۸۸)۔ عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ، فَجَلَسْتُ إِلٰی شِیَخَۃٍ فِی مَسْجِدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ شَیْخٌ یَتَوَکَّأُ عَلٰی عَصًا لَہُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَنْظُرَ إِلٰی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَلْیَنْظُرْ إِلٰی ہٰذَا، فَقَامَ خَلْفَ سَارِیَۃٍ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ، فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ لَہُ: قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ: الْجَنَّۃُ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُہَا مَنْ یَشَائُ، وَإِنِّی رَأَیْتُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رُؤْیَا، رَأَیْتُ کَأَنَّ رَجُلًا أَتَانِی فَقَالَ: انْطَلِقْ، فَذَہَبْتُ مَعَہُ فَسَلَکَ بِی مَنْہَجًا عَظِیمًا، فَعَرَضَتْ لِی طَرِیقٌ عَنْ یَسَارِی، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْلُکَہَا، فَقَالَ: إِنَّکَ لَسْتَ مِنْ أَہْلِہَا، ثُمَّ عَرَضَتْ لِی طَرِیقٌ عَنْ یَمِینِی فَسَلَکْتُہَا حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی جَبَلٍ زَلِقٍ، فَأَخَذَ بِیَدِی فَزَجَلَ بِی، فَإِذَا أَنَا عَلَی ذُرْوَتِہِ، فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَا أَتَمَاسَکْ فَإِذَا عَمُودٌ مِنْ حَدِیدٍ فِی ذُرْوَتِہِ حَلْقَۃٌ مِنْ ذَہَبٍ، فَأَخَذَ بِیَدِی فَزَجَلَ بِی حَتَّی أَخَذْتُ بِالْعُرْوَۃِ، فَقَالَ: اسْتَمْسِکْ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَضَرَبَ الْعَمُودَ بِرِجْلِہِ فَاسْتَمْسَکْتُ بِالْعُرْوَۃِ، فَقَصَصْتُہَا عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((رَأَیْتَ خَیْرًا، أَمَّا الْمَنْہَجُ الْعَظِیمُ فَالْمَحْشَرُ، وَأَمَّا الطَّرِیْقُ الَّتِیْ عَرَضَتْ عَنْ یَسَارِکَ فَطَرِیقُ أَہْلِ النَّارِ وَلَسْتَ مِنْ أَہْلِہَا، وَأَمَّا الطَّرِیقُ الَّتِی عَرَضَتْ عَنْ یَمِینِکَ فَطَرِیقُ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلِقُ فَمَنْزِلُ الشُّہَدَائِ، وَأَمَّا الْعُرْوَۃُ الَّتِی اسْتَمْسَکْتَ بِہَا فَعُرْوَۃُ الْإِسْلَامِ، فَاسْتَمْسِکْ بِہَا حَتَّی تَمُوتَ۔)) قَالَ: فَأَنَا أَرْجُوْ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، قَالَ: وَإِذَا ہُوَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۴۲۰۰)
حرشہ بن حرسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ گیا، مسجد نبوی میں متعدد بزرگ موجود تھے، میں بھی ان کی خدمت میں بیٹھا، اتنے میں ایک بزرگ لاٹھی کی ٹیک لگاتے ہوئے آئے،لوگ کہنے لگے کہ جو کوئی کسی جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہو، وہ اسے دیکھ لے۔ وہ آکر ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہوئے اور انہوںنے دو رکعت نماز ادا کی، میں اٹھ کر ان کی طرف گیا اور ان سے عرض کیا کہ کچھ لوگوں نے آپ کے بارے میں اس قسم کی باتیں کی ہیں، انہوںنے کہا: جنت اللہ کی ہے،وہ جسے چاہے گا جنت میں داخل کرے گا۔ اس بات کی تفصیلیہ ہے کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا، میں نے دیکھا کہ گویا ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ چلو،میں اس کے ساتھ چل دیا، وہ مجھے ساتھ لیے ایک بڑے اور واضح راستے پر چلتا گیا، میری جانب ایک راستہ آیا، میں نے اس پر جانے کا ارادہ کیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ یہ تمہارا راستہ نہیں ہے، آگے جا کر میری داہنی جانب ایک راستہ آیا، میں اس پر چل دیا،یہاں تک کہ میں ایک چٹیل پہاڑ تک جا پہنچا جس پر کوئی درخت وغیرہ نہ تھا، اس نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے اوپر کو اچھال دیا اور میں اس کی چوٹی پر جا پہنچا، وہاں میں نے لوہے کا ایک ستون دیکھا ، اس کی چوٹی پر ایک سنہری کرڑا تھا۔ اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کو اچھال دیا اور میں نے جا کر اس کڑے کو پکڑ لیا۔ پھر اس نے کہا: اسے مضبوطی سے پکڑ لو۔ میں نے کہا:میں نے اسے پکڑ لیا ہے، اس نے لوہے کے اس ستون کو پائوں سے ٹھوکر لگائی اور میں کڑے سے چمٹا رہا۔ جب میں نے یہ خواب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے، بڑے اور واضح راستے سے مراد میدان حشرہے اور راستے میں تمہارے بائیں طرف آنے والا راستہ اہل جہنم کا تھا، تم اس راستے والے نہیں ہو اور تمہاری داہنی جانب والا راستہ اہل جنت کا راستہ تھا۔ چٹیل پہاڑ شہداء کی منز ل ہے اور تم نے جو کڑا مضبوطی سے پکڑا وہ اسلام کا کڑا ہے۔ تم مرتے دم تک اسے مضبوطی سے پکڑے رہنا۔ اس نے اس کے بعد کہا:مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا۔ یہ بزرگ سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔
Takhreej
(۱۱۷۸۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
11788
Sahih

Chapters

144
01
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
8 Hadith
02
انصار کے فضائل و مناقب
24 Hadith
03
انصار کے بہترین گھرانوں کا تذکرہ
2 Hadith
04
انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
05
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
14 Hadith
06
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
7 Hadith
07
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
1 Hadith
08
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
1 Hadith
09
صحابۂ کرام کی ایک جماعت کے بعض خصائص
3 Hadith
10
خواتین صحابہF کی ایک جماعت کے مشترکہ خصائص
3 Hadith
11
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
3 Hadith
12
نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ
3 Hadith
13
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
9 Hadith
14
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
10 Hadith
15
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
16
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
17
سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
18
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
1 Hadith
19
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
9 Hadith
20
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
21
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
22
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
23
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
24
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
25
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
26
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
5 Hadith
27
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
28
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
1 Hadith
29
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
30
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی فضیلت اور ان کا واقعہ
3 Hadith
31
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
32
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
33
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
34
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
35
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
36
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
37
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
2 Hadith
38
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
39
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
40
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
2 Hadith
42
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
43
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
44
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
45
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
46
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
2 Hadith
47
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
48
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
49
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
50
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
8 Hadith
51
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
52
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
10 Hadith
53
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ابو عبدالرحمن سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
54
سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
5 Hadith
55
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
56
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
3 Hadith
57
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
58
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
59
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
60
سیدنا ضماد ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان
1 Hadith
61
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
62
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
63
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
64
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
65
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
66
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
67
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
68
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
69
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
70
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
71
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
72
سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
73
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
74
سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
75
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
13 Hadith
76
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
2 Hadith
77
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
78
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
3 Hadith
79
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
80
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
81
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
82
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
83
سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
84
سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
85
سیدنا عروہ بن ابی جعد بارقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
86
سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
87
سیدنا علاء بن الحضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
88
سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
89
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
90
نابینا صحابی سیدنا عمر وبن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
91
سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
92
سیدنا عمرو بن جموح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
1 Hadith
93
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
94
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
10 Hadith
95
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
96
سیدنا فرات بن حیان عجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
97
سیدنا قتادہ بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
98
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
99
سیدنا کعب بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
100
سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
101
سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
102
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
103
سیدنا معن بن یزید سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
104
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
105
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
106
سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا صدی بن عجلان تھا
1 Hadith
107
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
108
سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
109
سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
110
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
12 Hadith
111
سیدناابوزیدانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
6 Hadith
112
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
8 Hadith
113
سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
114
سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
115
سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
116
سیدنا ابو عامر عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
117
امین الامہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
118
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کابیان
1 Hadith
119
سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
4 Hadith
120
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
7 Hadith
121
سیدنا ابو مالک عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
122
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
123
سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
124
سیدہ اسما بنت ابی بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
125
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
126
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
127
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
128
سیدہ درہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
129
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
10 Hadith
130
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
131
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
132
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
133
سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
134
سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
135
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
3 Hadith
136
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
1 Hadith
137
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
7 Hadith
138
اویس قرنیlکا تذکرہ
2 Hadith
139
سفیان بن عینیہlکا تذکرہ
1 Hadith
140
زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
1 Hadith
141
امام مالک بن انسlکا تذکرہ
1 Hadith
142
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
2 Hadith
143
ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
1 Hadith
144
ابن جریجlکا تذکرہ
1 Hadith
No chapter matched that.