TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان

Chapter 29 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 29 of 43 · 2 Hadith
۔ (۱۲۹۶۹)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ قَبْلَ خُرُوْجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِیْنَ، حَبَسَتِ السَّمَائُ ثُلُثَ قَطْرِھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ ثُلُثَ نَبََاتِہَا، فَاِذَا کَانَتِ السَّنَۃُ الثَّانِیَۃُ حَبَسَتِ السَّمَائُ ثُلُثَیْ قَطْرِھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ ثُلُثَیْ نَبَاتِہَا، وَاِذَا کَانَتِ السَّنَۃُالثَّالِِثَۃُ حَبَسَتِ السَّمَائُ قَطْرَھَا کُلَّھَا وَحَبَسَتِ الْاَرْضُ نَبَاتَہَا کُلَّہُ فَلَایَبْقٰی ذُوْخُفٍّ وَلَاظِلْفٍ اِلَّا ھَلَکَ، فَیَقُوْلُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ: اَرَاَیْتَ اِنْ بَعَثْتُ اِبِلَکَ ضِخَامًا ضُرُوْعُہَا عِظَامًا اَسْنِمَتُہَا اَتَعْلَمُ اَنِّیْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَتَمَثَّلَ لَہُ الشَّیَاطِیْنُ عَلٰی صُوْرَۃِ اِبِلِہٖفَیَتْبَعُہُ، وَیَقُوْلُ لِلرَّجُلِ: اَرَاَیْتَ اِنْ بَعَثْتُ اَبَاکَ وَاِبْنَکَ وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ اَھْلِکَ اَتَعْلَمُ اَنِّیْ رَبُّکَ؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَیُمَثِّلُ لَہُ الشَّیَاطِیْنَ عَلٰی صُوَرِھِمْ فَیَتْبَعُہُ۔)) ثُمَّ خَرََجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَکٰی اَھْلُ الْبَیْتِ، ثُمَّ رَجََعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نَبْکِیْ، فَقَالَ: ((مَا یُبْکِیْکُمْ؟)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا ذَکَرْتَ مِنَ الدَّجَّالِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَقَدْ خَلَعْتَ اَفْئِدَتَنَا بِذِکْرِالدَّجَّالِ) فَوَاللّٰہِ! اِنَّ اَمَۃَ اَھْلِیْ لَتَعْجِنُ عَجِیْنَہَا فَمَا تَبْلُغُ حَتّٰی تَکَادُ تَفَنَّتْ مِنَ الْجُوْعِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِیْنَتَنَا فَمَا نَخْتَبِزُھَا حَتّٰی نَجُوْعَ) فَکَیْفَ نَصْنَعُ یَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکْفِی الْمُوْمِنِیْنَ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ یَوْمَئِذٍ التَّکْبِیْرُ وَالتَّسْبِیْحُ وَالتَّحْمِیْدُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَا تَبْکُوْا فَاِنْ یَّخْرُ جِ الدَّجَّالُ وَاَنَا فِیْکُمْ، فَاَنَا حَجِیْجُہُ وَاِنْ یَّخْرُ جْ بَعْدِیْ فَاللّٰہُ خَلِیْفَتِیْ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۲۰)
سیدہ اسماء بنت یزید سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں موجود تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظہور دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی پانی اور زمین ایک تہائی فصل رو ک لے گی، جب دوسرا سال آئے گا تو آسمان دو تہائی پانی اور زمین دو تہائی فصلیں روک لے گی، پھر جب تیسرا سال شروع ہو گا تو آسمان مکمل طور پر اپنا پانی اور زمین مکمل طور پر اپنی فصلیں روک لے گی، ٹاپوں (والے اونٹ) اور کھروں (والے گائے، بیل، بھیڑ بکری اور گھوڑے گدھے) سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اتنے میں اُدھر دجال پہنچ کر ایک دیہاتی آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہاری اونٹنیوں کو موٹی تازہ اور دودھ سے بھری تھنوں کی صورت میںپیدا کرکے دکھاؤں تو کیا تم مان جاؤ گے کہ میں تمہار اربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل۔ اس کے بعد شیطان اس آدمی کے اونٹوں کی شکل اختیار کریں گے تو وہ آدمی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔ اسی طرح وہ دجال ایک اور آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہارے باپ، بیٹے اور اور تم اپنے خاندان کے جن لوگوں کو پہچانتے ہو، سب کو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل، پھر وہ شیطانوں کو ان لوگوں کی شکل میں پیش کر دے گا تو وہ بھی اس نے پیچھے چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر چلے گئے اور گھر میں موجود سارے لوگ رونے لگ گئے، جب سیدہ اسماء بنت یزید سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں موجود تھے، کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ظہور دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی پانی اور زمین ایک تہائی فصل رو ک لے گی، جب دوسرا سال آئے گا تو آسمان دو تہائی پانی اور زمین دو تہائی فصلیں روک لے گی، پھر جب تیسرا سال شروع ہو گا تو آسمان مکمل طور پر اپنا پانی اور زمین مکمل طور پر اپنی فصلیں روک لے گی، ٹاپوں (والے اونٹ) اور کھروں (والے گائے، بیل، بھیڑ بکری اور گھوڑے گدھے) سب ہلاک ہو جائیں گے۔ اتنے میں اُدھر دجال پہنچ کر ایک دیہاتی آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہاری اونٹنیوں کو موٹی تازہ اور دودھ سے بھری تھنوں کی صورت میںپیدا کرکے دکھاؤں تو کیا تم مان جاؤ گے کہ میں تمہار اربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل۔ اس کے بعد شیطان اس آدمی کے اونٹوں کی شکل اختیار کریں گے تو وہ آدمی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔ اسی طرح وہ دجال ایک اور آدمی سے کہے گا: اگر میں تمہارے باپ، بیٹے اور اور تم اپنے خاندان کے جن لوگوں کو پہچانتے ہو، سب کو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں تمہارا ربّ ہوں؟ وہ کہے گا: ہاں بالکل، پھر وہ شیطانوں کو ان لوگوں کی شکل میں پیش کر دے گا تو وہ بھی اس نے پیچھے چلا جائے گا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر چلے گئے اور گھر میں موجود سارے لوگ رونے لگ گئے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس تشریف لائے تو ہم سب رو رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ میں (اسمائ) نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے دجال کے متعلق جو کچھ بیان کیا، اس کی وجہ سے ۔ ایک روایت میں ہے: آپ نے تو دجال کر ذکر کر کے ہمارے دلوں کو ہلا دیاہے، اللہ کی قسم! میرے اہل کی ایک لونڈی ہے، جب وہ آٹا گوندھتی ہے تو ابھی تک اپنا کام پورا نہیں کرتی کہ بھوک کی وجہ سے ٹوٹنے لگ جاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب ہم آٹا گوندھتی ہیں تو ابھی تک روٹی نہیں پکاتی کہ بھوک لگی ہوتی ہے، تو اُس وقت ہم کیا کریں گے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت اہل ایمان کو کھانے پینے کی بجائے تکبیر، تسبیح اور تحمید کفایت کریں گے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہ روؤو، کیونکہ اگر میری موجودگی میں دجال کا ظہور ہو گیا تو میں اس کا مقابلہ کر لوں گا اور اگر میرے بعد ہوا تو ہر مسلمان پر خلیفہ اللہ تعالیٰ خود ہو گا۔
Takhreej
(۱۲۹۶۹) تخریج: قولہ ان یخرج الدجال وانا فیکم، فانا حجیجہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف شہر بن حوشب، أخرجہ الطیالسی: ۱۶۳۳، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۴۰۷ (انظر: ۲۷۵۶۸)
12969
Zaeef
۔ (۱۲۹۷۰)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ جَہْدًا یَکُوْنُ بَیْنَیَدَیِ الدَّجَّالِ۔ فَقَالُوْا: اَیُّ الْمَالِ خَیْرٌیَوْمَئِذٍ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غُلَامٌ شَدِیْدٌیَسْقِی اَھْلَہُ الْمَائَ، وَاَمَّا الطَّعَامُ فَلَیْسَ۔)) قَالُوْا: فَمَا طَعَامُ الْمُوْمِنِیْنَیَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَلتَّسْبِیْحُ وَالتَّقْدِیْسُ وَالتَّحْمِیْدُ وَالتَّہْلِیْلُ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأَیْنَ الْعَرَبُ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ((اَلْعَرَبُ یَوْ مَئِذٍ قَلِیْلٌ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۷۴)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال کے ظہور سے قبل شدت کے دور کی بات کی،صحابہ کرام نے پوچھا: ان دنوں کو نسا مال بہتر ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاقت ور غلام، جو اپنے مالکوں کو پانی پلا سکے گا، رہا مسئلہ کھانے کا، تو وہ تو سرے سے ہو گا ہی نہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا: تو پھر ان دنوں مومنوں کا کھانا کیا ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تسبیح ، تقدیس ، تحمید اور تہلیل بیان کرنا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پوچھا: ان دنوں عرب کہاںہوں گے؟ فرمایا: ان دنوں عرب تھوڑے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۹۷۰) تخریج: اسنادہ فیہ ضعف وانقطاع، علی بن زید بن جدعان ضعیف، والحسن البصری لم یصح سماعہ من عائشۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، أخرجہ ابویعلی: ۴۶۰۷(انظر: ۲۴۴۷۰)
12970
Zaeef

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.