TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان

Chapter 31 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 31 of 43 · 2 Hadith
۔ (۱۲۹۷۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ: ثَنَا مُجَالِدٌ قَالَ: ثَنَا عَامِرٌقَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ، فَاَتَیْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ فَحَدَّثَتْنِیْ اَنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ حَدِیْثَہَا فِی النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی وَزَوَاجَہَا بِاُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ (تَقَدَّمَ ذٰلِکَ فِیْ بَابِ النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی لِلْمُعْتَدَّۃِ الرَّجْعِیَّۃِ وَالْبَتُوْتَۃِ الْحَامِلِ) قَالَ: فَلَمَّا اَرَدْتُّ اَنْ اَخْرُجَ قَالَتْ: اِجْلِسْ حَتّٰی اُحَدِّثَکَ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا مِنَ الْاَیَّامِ فَصَلّٰی صَلاَۃَ الْھَاجِرَۃِ ثُمَّ قَعَدَ فَفَزِعَ النَّاسُ فَقَالَ: ((اِجْلِسُوْا اَیُّہَاالنَّاسُ فَاِنِّیْ لَمْ اَقُمْ مَقَامِیْ ہٰذَا لِفَزَعٍ وَلٰکِنَّ تَمِیْمًا الدَّارِیَّ اَتَانِیْ فَاَخْبَرَنِیْ خَبََرًا مَنَعَنِیْ الْقَیْلُوْلَۃُ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّۃِ الْعَیْنِ فَاَحْبَبْتُ اَنْ اَنْشُرَ عَلَیْکُمْ فَرَحَ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَخْبَرَنِیْ اَنَّ رَھْطًا مِنْ بَنِیْ عَمِّہٖرَکِبُوْاالْبَحْرَفَاَصَابَتْہُمْرِیْحٌ عَاصِفٌ فَاَلْجَاَتْہُمُ الرِّیْحُ اِلٰی جَزِیْرَۃٍ لَایَعْرِفُوْنَہَا فَقَعَدُوْا فِیْ قُوَیْرِبِ السَّفِیْنَۃِ حَتّٰی خَرَجُوْا اِلَی الْجَزِیْرَۃِ فَاِذَا ھُمْ بِشَیْئٍ اَھْلَبَ کَثِیْر الشَّعْرِ، لَا یَدْرُوْنَ اَرَجُلٌ ھُوَ اَوْ اِمْرَاَۃٌ فَسَلَّمُوْا عَلَیْہِ فَرَدَّ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ قَالُوْا: اَلَا تُخْبِرُنَا قَالَ: مَا اَنَا بِمُخْبِرِکُمْ وَلَابِمُسْتَخْبِرٍکُمْ وَلٰکِنَّ ہٰذَا الدَّیْرَ قَدْ رَھِقْتُمُوْہُ فَفِیْہِ مَنْ ھُوَ اِلٰی خَبَرِکُمْ بِالْاَشْوَاقِ اَنْ یُخْبِرَکُمْ وَیَسْتَخْبِرَکُمْ ، قَالَ: قُلْنَا: فَمَا اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَاالْجَسَّاسَۃُ،فَانْطَلَقُوْا حَتّٰی اَتَوُا الدَّیْرَ فَاِذَا ھُمْ بِرَجُلٍ مُوَثَّقٍ شَدِیْدِ الْوَثَاقِ مُظْہِرِ الْحُزْنِ کَثِیْرِ التَّشَکِّیْ، فَسَلَّمُوْا عَلَیْہِ، فَرَدَّ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: مِمَّنْ اَنْتُمْ؟ قَالُوْا: مِنَ الْعَرَبِ۔ قَالَ: مَا فَعَلَتِ الْعَرَبُ؟ اَخَرَجَ نَبِیُّہُمْ بَعْدُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ قَالَ: فَمَا فَعَلُوْا؟ قَالُوْا: خَیْرًا آمَنُوْا بِہٖوَصَدَّقُوْہُ؟قَالَ: ذٰلِکَخَیْرٌ لَّھُمْ وَکَانَ لَہُ عَدُوٌّ فَاَظْہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ قَالَ: فَالْعَرَبُ الْیَوْمَ اٰلِہُہُمْ وَاحِدٌ وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ وَکَلِمُتُہُمْ وَاحِدَۃٌ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَیْنُ زُغَرَ؟ قَالُوْا: صَالِحَۃٌیَشْرَبُ مِنْہَا اَھْلُھَا لِشَفَتِہِمْ وَیَسْقُوْنَ مِنْہَا زَرْعَہُمْ۔ قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَیْنَ عُمَّانَ وَبَیْسَانَ؟ قَالُوْا: صَالِحٌ یُطْعِمُ جَنَاہُ کُلَّ عَامٍ۔ قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ بُحَیْرَۃُ الطَّبْرِیَّۃُ؟ قَالُوْا: مَلْاٰی۔ قَالَ: فَزَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ حَلَفَ لَوْ خَرْجْتُ مِنْ مَّکَانِیْ ہٰذَا مَا تَرَکْتُ اَرْضًا مِنْ اَرْضِ اللّٰہِ اِلَّا وَطَئْتُہَا غَیْرَ طَیْبَۃَ، لَیْسَ لِیْ عَلَیْہَا سُلْطَانٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ غَیْرَمَکَّۃَ وَطَیْبَۃَ )۔)) قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلٰی ہٰذَا انْتَہٰی فَرْحِیْ ثَلَاثَ مِرَارٍ، اِنَّ طَیْبَۃَ الْمَدِیْنَۃُ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلٰی الدَّجَّالِ اَنْ یَّدْخُلَھَا۔)) ثُمَّ حَلَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ! مَالَھَا طَرِیْقٌ ضَیِّقٌ وَلَا وَاسِعٌ فِیْ سَہْلٍ وَلاَ فِیْ جَبَلٍ اِلَّا عَلَیْہِ مَلَکٌ شَاھِرٌ بِالسَّیْفِ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا یَسْتَطِیْعُ الدَّجَّالُ اَنْ یَّدْخُلَہَا عَلٰی اَھْلِہَا۔)) قَالَ عَامِرٌ: فَلَقِیْتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، فَحَدَّثْتُہُ حَدِیْثَ فَاطِمَۃَ بْنِ قَیْسٍ فَقَالَ: اَشْہَدُ عَلٰی اَبِیْ اَنَّہُ حَدَّثَنِیْ کَمَا حَدَّثَتْکَ فَاطِمَۃُ غَیْرَ اَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَقِیْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، فَذَکَرْتُ لَہُ حَدِیْثَ فَاطِمَۃَ فَقَالَ: اَشْہَدُ عَلٰی عَائِشَۃَ اَنَّہَا حَدَّثَتْنِیْ کَمَا حَدَّثَتْکَ فَاطِمَۃُ غَیْرَ اَنَّہَا قَالَتْ: ((اَلْحَرَمَانِ عَلَیْہِ حَرَامٌ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۹۲)
عامر شعبی کہتے ہیں: میںمدینہ منورہ میں آیا اور سیدنافاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، انہوں نے مجھے بیان کیا عہد رسالت میں ان کے شوہرنے انکو طلاق دے دی تھی، پھر اس کے بعد نفقہ و رہائش اور سیدہ اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کی شادی کا واقعہ بیان کیا، ( بَابُ النَّفَقَۃِ وَالسُّکْنٰی لِلْمُعْتَدَّۃِ الرَّجْعِیَّۃِ وَالْبَتُوْتَۃِ الْحَامِلِ میں اس حدیث کا ذکر ہو چکا ہے۔) عامر کہتے ہیں: میں نے جب وہاں سے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھ سے کہاـ: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کرتی ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن مسجد میں تشریف لئے گئے اور نمازِظہر پڑھا کر وہیں بیٹھ گئے اور لوگ آپ کی حالت و کیفیت دیکھ کر گھبرا گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: لوگو بیٹھ جاؤ،میں اس وقت کسی پریشا نی کیو جہ سے یہاں سے کھڑا نہیں ہوا، بات یہ ہے کہ تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر مجھے ایک بات بتائی ہے ، مجھے اس کی وجہ سے اس قدر خوشی اور راحت ہوئی کہ میں قیلولہ بھی نہیں کر سکا ، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اپنے نبی کی خوشی والی بات سنو، اس نے مجھے بتلایا ہے کہ اس کے چچا کے بیٹوں کی ایک جماعت سمندری سفر کر رہی تھی، تیز ہوا چلنے لگی، وہ ہوا انہیں ایک جزیرے کی طرف لے گئی، ان کی اس جزیرہ سے کوئی واقفیت نہیں تھی، وہ لوگ طوفان کے دوران کسی ایک چھوٹی کشتی پر بیٹھ کر جزیرہ کی طرف جا پہنچے، وہاں انہیں ایک عجیب چیز نظر آئی، اس پر بال ہی بال تھے، وہ تو یہ بھی نہیں پہچان سکے کہ وہ مرد تھا یا عورت؟ انہوںنے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا، ان لوگوں نے اس سے کہا: کیا تم ہمیں کچھ بتاؤ گی؟ وہ بولی: نہیں، میں نہ تمہیں کچھ بتاتی ہوں، اور نہ تم سے کچھ پوچھتی ہوں،یہ راہبوں کی خانقاہ ہے،اب تم اس کے قریب تو پہنچ چکے ہو اور اس میں ایک ایسا شخص ہے کہ وہ تمہاری باتیں سننے کا بہت زیادہ خواہش مند ہے، وہ تمہیں کچھ باتیں بتائے گا اور کچھ تم سے پوچھے گا، ہم نے اس سے پوچھا کہ تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جَسَّاسَہ ہوں، پھر وہ لوگ چلے گئے اور اس خانقاہ میں پہنچ گئے، وہاں ایک شخص بڑی مضبوط بندشوں میں جکڑا ہوا تھا، اس پر غم و حزن نمایاں تھا اور وہ تکلیف کی شکایت کا اظہار کرتا تھا، انہوںنے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا، اس نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: ہم عرب ہیں، اس نے پوچھا: عرب کیا کرتے ہیں؟ کیا ان کا نبی ظاہر ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: انھوںنے اس کے ساتھ کیا کیا؟ انھوں نے کہا: اچھا رویہ ہے، وہ اس پر ایمان لائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کی۔ اس نے کہا: ان کے لیے یہی بات بہتر ہے، اس کا ایک دشمن تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو اس پر غالب کر دیا۔ پھر اس نے پوچھا: کیا اب ان سب عربوں کا معبود ایک ہے، نیز کیا ان کا دین اور کلمہ بھی ایک ہی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: زغر والے چشمے کے بارے میں بتلاؤ، وہ کس حالت میں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ٹھیک ہے، لوگ اس سے پانی پیتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ اس نے پوچھا: عمان اور بیسان کے درمیان والی کھجوروں کی کیا حالت ہے؟انہوںنے کہا: وہ ٹھیک ہیں، ہر سال ان کے پھل کھائے جاتے ہیں۔ اس نے پوچھا:بحیرہ ٔ طبریہ کی صورتحال کیسی ہے؟ انہوںنے کہا: وہ بھی بھرا ہوا ہے۔ یہ باتیں سن کر وہ خوب اچھلا، پھر اس نے قسم اٹھا کر کہا: اگر میں اپنی اس جگہ سے نکل آؤںتو طیبہ(یعنی مدینہ منورہ) اور مکہ مکرمہ کے علاوہ ساری زمین پر چلوں گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو میری خوشی کی انتہا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ تین دفعہ فرمایا، بے شک طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے، اللہ تعالیٰ نے دجال پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ اس میں داخل ہو سکے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حلف اٹھا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! مدینہ منورہ کی طرف آنے والے میدانی اور پہاڑی کشادہ اور تنگ ہر راستے پر اللہ کا فرشتہ قیامت تک تلوار لیے کھڑا ہے، دجال کسی راستے سے مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ عامر شعبی کہتے ہیں: پھر میری ملاقات محرر بن ابو ہریرہ سے ہوئی، میںنے انہیں سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سنی ہوئی یہ حدیث بیان کی، تو انہوںنے کہا: میں گواہی دیتا کہ میرے والد نے بھی یہ حدیث مجھے اسی طرح بیان کی تھی، جیسے آپ کو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا ہے، البتہ انہوںنے یہ بھی کہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مشرق کی جہت میں ہے۔ عامر کہتے ہیں: پھر میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی،میںنے ان کو بھی سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سنی ہوئی یہ حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ حدیث اس طرح بیان کی تھی، جیسے آپ کو سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا ہے، البتہ سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بھی بیان کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ یہ دونوں حرم، دجال پر حرام ہیں۔
Takhreej
(۱۲۹۷۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۲ (انظر: ۲۷۳۴۹)
12976
Sahih
۔ (۱۲۹۷۷)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ دَاوٗدَیَعْنِی ابْنَ اَبِیْ ھِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ذَاتَ یَوْمٍ مُسْرِعًا فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَنُوْدِیَ فِی النَّاسِ: اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَالَ: ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ لَمْ اَدْعُکُمْ لِرَغْبَۃٍ نَزَلَتْ وَلاَ لِرَھْبِۃٍ وَلٰکِنَّ تَمِیْمًا الدَّارِیَّ اَخْبَرَنِیْ اَنَّ نَفَرًا مِنْ اَھْلِ فَلِسْطِیْنَ رَکِبُوْا الْبَحْرَ فَقَذَفَتْہُمُ الرِّیْحُ اِلٰی جَزِیْرَۃٍ مِّنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَاِذَا ھُمْ بِدَابَّۃٍ اَشْعَرَ، مَا یُدْرٰی اَذَکَرٌ ھُوَ اَمْ اُنْثٰی لِکَثْرَۃِ شَعْرِہٖ،قَالُوْا: مَنْاَنْتَفَقَالَتْ: اَنَاالْجَسَّاسَۃُ فَقَالُوْا: فَاَخْبِرِیْنَا فَقَالَتْ: مَا اَنَا بِمُخْبِرَتِکُمْ وَلَامُسْتَخْبِرَتِکُمْ وَلٰکِنْ فِیْ ہٰذَا الدَّیْرِ رَجُلٌ فَقِیْرٌ اِلٰی اَنْ یُخْبِرَکُمْ وَاِلٰی اَنْ یَسْتَخْبِرَکُمْ، فَدَخَلُوْا الدَّیْرَ فَاِذَا رَجُلٌ اَعْوَرُ مُصَفَّدٌ فِی الْحَدِیْدِ، فَقَالَ: مَنْ اَنْتُمْ؟ قُلْنَا: نَحْنُ الْعَرَبُ، فَقَالَ: ھَلْ بُعِثَ فِیْکُمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَہَلْ اِتَّبَعَتْہُ الْعَرَبُ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّھُمْ، قَالَ: مَا فَعَلَتْ فَارِسُ؟ ھَلْ ظَہَرَ عَلَیْہَا؟ قَالُوْا: لَمْ یَظْہَرْ عَلَیْہَا بَعْدُ، فَقَالَ: اَمَا اِنَّہُ سَیَظْہَرُ عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَ: مَا فَعَلَتْ عَیْنُ زُغَرَ؟ قَالُوْا: ھِیَ تَدْفُقُ مَلْاٰی، قَالَ: فَمَا فَعَل نَخْلُ بَیْسَانَ؟ ھَلْ اَطْعَمَ؟ قَالُوْا: قَدْ اَطْعَمَ اَوَائِلُہُ، قَالَ: فَوَثَبَ وَثْبَۃً حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہُ سَیَفْلِتُ، فَقُلْنَا: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَا الدَّجَّالُ، اَمَا اِنِّیْ سَاَطَأُ الْاَرْضَ کُلَّہَا غَیْرَ مَکَّۃَ وَطَیْبَۃَ۔)) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَبْشِرُوْا یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ! ہٰذَا طَیْبَۃُ لَا یَدْخُلُہَا۔)) یَعْنِی الدَّجَّالَ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۴۳)
۔ (دوسری سند) عامر شعبی کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی سے آکر منبر پر بیٹھ گئے اور لوگوں میں یہ اعلان کرا دیا گیا کہ اَلصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ ، لوگ اکٹھے ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں کوئی خوش کرنے والے یا ڈرانے دھمکانے والی خبر بتلانے کے لیے نہیں بلایا، جو آج نازل ہوئی ہو، بات یہ ہے کہ تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے ایک خبر دی ہے، میں وہ تمہیں بتلانا چاہتا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، وہ طوفان کی وجہ سے ایک سمندری جزیرے پر پہنچ گئے، وہاں انہوںنے ایک ایسا جانور دیکھا جس کے اوپر بال ہی بال تھے اور بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کی یہ شناخت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ مذکر ہے یا مونث؟ بہرحال انھوں نے اس سے پوچھا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں جَسَّاسہ ہوں۔ انھوں نے کہا: ہمیں کچھ بتلاؤ، اس نے کہا: نہیں، میں نے تمہیں نہ کچھ بتلانا ہے اور نہ پوچھنا ہے، البتہ اس خانقاہ میںایک آدمی ہے، وہ تمہیں بعض باتیں بتانے اور بعض پوچھنے کا شوقین ہے، یہ لوگ اس مقام میں چلے گئے، وہاں ایک کانا آدمی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ہم عرب ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا تمہارے اندر نبی مبعوث ہو چکا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے پوچھا: کیا عربوں نے اس کی اطاعت کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: یہی چیز ان کے لیے بہتر ہے۔ اس نے پوچھا: فارس کا کیا بنا؟ کیا یہ نبی ان پر غالب آچکا ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، ابھی تک وہ ان پر غالب نہیں آیا، اس نے کہا: لیکن عنقریب وہ اس پر غالب آجائے گا۔ پھر اس نے پوچھا: زغر کے چشمہ کی صورتحال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے۔ اس نے پوچھا: بیسان کے نخلستان کے بارے میں بتاؤ، کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی اس کے درخت پھل دے رہے ہیں،یہ باتیں سن کر وہ خوب اچھلا، ہم نے سمجھا کہ شاید وہ اپنی قید سے نکل جائے گا۔ پھر ہم نے اس سے پوچھا: تو کون ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں اور خبردار ہو جاؤ، میں عنقریب ساری زمین کو روند دوں گا، ماسوائے مکہ اور طیبہ (یعنی مدینہ) کے۔ پھررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ،یہ طیبہ ہے، دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۷۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… چونکہ یہ صحیح حدیث ہے، اس لیے اس میں بیان کیے گئے امور پر یقین رکھنا ہو گا۔ جَسَّاسَہ: یہ ایک حیوان ہے، جو ایک اِس سمندری جزیرے میں دیکھا گیا، اسے جَسَّاسہ اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ دجال کی خبریں پوچھتا ہے، عبد الرحمن بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ اس سے مراد دابّۃ الارض ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے: دَابَّۃ (زمین کا چوپایہ) کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا عَلَیْہِمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ} (سورۂ نمل: ۸۲) … جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ سب سے پہلی نشانی جو ظاہر ہو گی، وہ ہے سورج کا مشرق کی بجائے، مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت جانور کا نکلنا۔ جانور نکلنے کی علت یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں یا آیتوں پر یقین نہیں رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس جانور کے ذریعے اپنی نشانی دکھائے گا۔
12977
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.