۔ (۱۳۰۲۸)۔ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَۃَ عَنْ خَالَتِہِ رضی اللہ عنہ قَالَتْ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَھُوَ عَاصِبٌ اِصْبَعَہُ مِنْ لَدْغَۃِ عَقْرَبَ، فَقَالَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنَّکُمْ تَقُوْلُوْنَ لَا عَدُوَّ وَاِنَّکُمْ لَاتَزَالُوْنَ تُقَاتِلُوْنَ عَدُوًّا حَتّٰییَاْتِیْیَاْجُوْجُوَمَاْجُوْجُ عِرَاضُ الْوُجُوْہِ صِغَارُ الْعُیُوْنِ، صُھْب الشِّعَافِ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ، کَاَنَّ وُجُوْھَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۸۷)
ابن حرملہ اپنی خالہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا، جبکہ بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی پر پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں فرمایا: تم کہتے ہو کہ اب تمہارا کوئی دشمن باقی نہیں رہا، یاد رکھو تم اپنے دشمنوں سے لڑتے رہو گے حتی کہ یا جوج ما جوج آ جائیں گے، ان کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی ہوں گے اور سر کے بالوں میں بھورا پن ہو گا، وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن حرملۃ، قال الحافظ فی التقریب : مقبول، یعنی عند المتابعۃ والا فلین الحدیث، وھو ھنا لم یتابع (انظر: ۲۲۳۳۱)
13028
Zaeef