TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان

Chapter 32 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 32 of 43 · 24 Hadith
۔ (۱۲۹۷۸)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَکُوْنَنَّ قَبْلَ یَوْمِ الِقِیَامَۃِ الْمَسِیْحُ الدَّجَّالُ وَکَذَّابُوْنَ ثَلاَثُوْنَ اَوْ اَکْثَرُ۔)) (مسند احمد: ۵۶۹۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے قبل مسیح دجال کا ظہور ہو گا اور اس کے علاوہ تیس یا اس سے زیادہ کذاب بھی آئیں گے۔
Takhreej
(۱۲۹۷۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ أبو یعلی: ۵۷۰۶ (انظر: ۵۶۹۴)
Explanation
فوائد:… دجال سے پہلے آنے والے جھوٹوں سے مراد جھوٹے مدعیانِ نبوت ہیں، ملاحظہ ہو حدیث نمبر(۱۲۸۳۲)
12978
Sahih
۔ (۱۲۹۷۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّ الدَّجَّالَ یَخْرُجُ مِنْ اَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ یُقَالُ لَھَا خُرَاسَانَ، یَتْبَعُہُ اَقْوَامٌ کَأَنَّ وُجُوْھَہُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۲)
سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرق کی جہت میں واقع خراسان نامی جگہ سے دجال نمودار ہوگا اور ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۹۷۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۲۳۷، وابن ماجہ: ۴۰۷۲(انظر:۱۲)
Explanation
فوائد: … امام عبدا لرحمن مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ کہتے ہیں: ماوراء النہر اور عراق کے علاقوں کے درمیان خراسان کے معروف علاقے ہیں۔ اب ہرات کو خراسان کہتے ہیں، جس کا بیشتر حصہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی میں مذکورہ خراسان کاہے، بالکل ایسے ہی سمجھیں جیسے دمشق کو شام کہتے ہیں۔ (حالانکہ احادیث میں مذکورہ شام جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ ہے، جوموجودہ شام، انطاکیہ سمیت ، اردن اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل ہے۔ ) رہا مسئلہ اس کی پیروی کرنے والے اس حدیث میںمذکورہ لوگوں کا، تو یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔
12979
Sahih
۔ (۱۲۹۸۰)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَاْتِی الْمَسِیْحُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَھِمَّتُہُ الْمَدِیْنَۃُ حَتّٰی نَزَلَ دُبُرَ اُحُدٍ ثُمَّ تُصَرِّفُ الْمَلَائِکَۃُ وَجْہَہُ قِبَلَ الشَّامِ وَھُنَاکَ یَہْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۹۸۹۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کا ہدف مدینہ منورہ ہوگا، لیکن جب وہ احد پہاڑ کے پیچھے پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی سر زمین کی طرف موڑ دیں گے اور وہ وہیںہلاک ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۸۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۸۰(انظر: ۹۸۹۵)
12980
Sahih
۔ (۱۲۹۸۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خُوْزَ وَکِرْمَانَ فِی سَبْعِیْنَ اَلْفًا، وُجُوْھُہُمْ کَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۳۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال ستر ہزار افراد کے ساتھ خوز اور کرمان کے علاقوں میں جاکر ٹھہرے گا، اس کا ساتھ دینے والوں کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۲۹۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف من اجل عنعنۃ محمد بن اسحاق، أخرجہ البزار: ۳۳۹۰(انظر: ۸۴۵۳)
12981
Zaeef
۔ (۱۲۹۸۲)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِیْ ہٰذَہِ الْسَّبَخَۃِ بِمَرِّ قَنَاۃٍ، فَیَکُوْنُ اَکْثَرُ مَنْ یَّخْرُجُ اِلَیْہِ النِّسَائَ، حَتّٰی اَنَّ الرَّجُلَ لَیَرْجِعُ اِلٰی حَمِیْمِہِ وَاِلٰی اُمِّہِ وَاِبْنَتِہِ وَاُخْتِہِ وَعَمَّتِہِ فَیُوْثِقُہَا رِبَاطًا مَخَافَۃَ اَنْ تَخْرُجَ اِلَیْہِ، ثُمَّ یُسَلِّطُ اللّٰہُ الْمُسْلِمِیْنَ عَلَیْہِ، فَیَقْتُلُوْنَہُ وَیَقْتُلُوْنَ شِیْعَتَہُ، حَتّٰی اَنَّ الْیَہُوْدِیَّیَخْتَبِیئُ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ اَوِ الْحَجَرِ فَیَقُوْلُ الْحَجَرُ اَوِ الشَّجَرَۃُ لِلْمُسْلِمِ: ہٰذَا یَہُوْدِیٌّ تَحْتِیْ فَاقْتُلْہُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کے قریب وادیٔ قناۃ کے بہاؤ والی جگہ میں شور زدہ جگہ میں آکر ٹھہرے گا، اس کی طرف جانے والوں میں اتنی زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی کہ ایک آدمی اپنے رشتہ داروں، ماں، بیٹی ، بہن، پھوپھی وغیرہ کی طرف جا کر ان کو مضبوطی سے باندھ دے گا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کوئی دجال کی طرف چلی جائے، پھراللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر غلبہ عطا کرے گا اور وہ اس کو اور اس کی حمایت کرنے والوں کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ جب کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے جا کر چھپے گا تو وہ پتھر یادرخت بول کر مسلمان سے کہے گا: یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، تم اسے قتل کردو۔
Takhreej
(۱۲۹۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، فیہ محمد بن اسحاق وھو مدلس وقد عنعن، ولبعض الحدیث شواھد، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۳۱۹۷ (انظر: ۵۳۵۳)
12982
Zaeef
۔ (۱۲۹۸۳)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ یَہُوْدِیَّۃِ اَصْبَہَانَ مَعَہُ سَبْعُوْنَ اَلْفًا مِنَ الْیَہُوْدِ، عَلَیْہِمُ السِّیْجَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال اصبہان کی یہودیوں کی بستی سے ظاہر ہوگا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، انھوں نے سبز رنگ کی شالیںکندھوں پر ڈال رکھی ہوں گی۔
Takhreej
(۱۲۹۸۳) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابویعلی: ۳۶۳۹، والطبرانی فی الاوسط : ۴۹۲۷، وأخرجہ مختصرا مسلم: ۲۹۴۴ (انظر: ۱۳۳۴۴)
Explanation
فوائد:… یہودیوں کا ماضی بھی حق کی مخالفت سے بھر پڑا ہے اور مستقبل کا یہ حال ہے۔
12983
Sahih
۔ (۱۲۹۸۴)۔ وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْیَنَأْ مِنْہُ، فَاِنَّ الرَّجُلَ یَاْتِیْہِ وَھُوَ یَحْسِبُ اَنَّہُ مُوْمِنٌ، فَلَا یَزَالُ بِہِ لِمَا مَعَہُ مِنَ الشُّبَہِ حَتّٰییَتَّبِعَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۱۶)
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی دجال کی آمد کے بارے میں سنے تو وہ اس سے دور دور رہے، کیونکہ اپنے آپ کو مومن سمجھنے والا جب اس کے پاس آئے گا تو اس کے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگ جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۸۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۳۱۹ (انظر: ۱۹۸۷۵)
12984
Sahih
۔ (۱۲۹۸۵)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَشْرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی فَلَقٍ مِنْ اَفْلَاقِ الْحَرَّۃِ وَنَحْنُ مَعَہُ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَتِ الْاَرْضُ الْمَدِیْنَۃُ اِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ، عَلٰی کُلِّ نْقَبٍ مِنْ اَنْقَابِہَا مَلَکٌ لَایَدْخُلَہَا، فَاِذَا کَانَ کَذٰلِکَ رَجَفَتِ الْمَدِیْنَۃُ بِاَھْلِہَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَایَبْقٰی مُنَافِقٌ وَلَامُنَافِقَۃٌ اِلَّاخَرَجَ اِلَیْہِ وَاََکْثَرُ یَعْنِیْ مَنْ یَخْرُجُ اِلَیْہِ النِّسَائُ وَذٰلِکَ یَوْمُ التَّخْلِیْصِ، وَذٰلِکَ یَوْمٌ تَنْفِی الْمَدِیْنَۃُ الْخَبَثَ کَمَا تَنْفِی الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ،یَکُوْنُ مَعَہُ سَبْعُوْنَ اَلْفًا مِنَ الْیَھُوْدِ عَلٰی کُلِّ رَجُلٍ مِنْھُمْ سَاجٌ وَسَیْفٌ مُحَلًّی فَتُضْرَبُ رَقَبَتُہُ بِہٰذَا الضَّرْبِ الَّذِیْ عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّیُوْلِ۔)) ثُمّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا کَانَتْ فِتْنَۃٌ وَلَا تَکُوْنُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاَعَۃُ اَکْبَرَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ، وَلاَ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ اُمَّتَہُ، وَلَاُخْبِرَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مَا اَخْبَرَہُ نَبِیٌّ اُمَّتَہُ قَبْلِیْ۔)) ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلٰی عَیْنِہِ ثُمَّ قَالَ: ((اَشْہَدُ اَنَّ اللَّہَ عَزَّوَجَلَّ لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۵۸)
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حرّہ کی ایک ہموار جگہ کی طرف جھانکا، ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کی سر زمین بہت اچھی ہے، جب دجال کا ظہور ہوگا تو اس کے ہر راستے پر ایک فرشتہ ہوگا، اس وجہ سے وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب وہ وقت آئے گا تو مدینہ منورہ اپنے اوپر موجودہ لوگوں کو تین مرتبہ جھٹکے دے گے، اس وجہ سے ہر منافق مرد او رعورت نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا، اس کی طرف جانے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی، وہ یَوْمُ التَّخْلِیْصِ ہوگا، اس دن مدینہ اپنے اندر موجود خبیث لوگوں کو اس طرح الگ کردے گا، جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر ایک پر ایک مخصوص تاج اور ہر ایک کے پاس خوبصورت تلوار ہوگی، اس کو سیلابوں کے جمع ہونے والی وادی میں قتل کر دیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ آج تک ایسا فتنہ برپا ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو دجال کے فتنے سے سنگین ہو، ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس دجال سے ڈرایا ہے، لیکن میں تمہیں اس کی ایسی علامت بتلاتا ہوں کہ جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ آنکھ پر رکھ کر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۹۸۵) تخریج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ (انظر: ۱۴۱۱۳)
12985
Sahih
۔ (۱۲۹۸۶)۔ وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْاَدْرَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: ((یَوْمُ الخَلَاصِ، وَمَا یَوْمُ الخَلَاصِ؟ یَوْمُ الخَلاَصِ، وَمَا یَوْمُ الْخَلَاصِ؟ یَوْمُ الخَلاَصِ، وَمَا یَوْمُ الْخَلَاصِ؟)) ثَلَاثًا فَقِیْلَ لَہُ: وَمَا یَوْمُ الْخَلَاصِ؟ قَالَ: ((یَجِیْیئُ الدَّجَّالُ فَیَصْعَدُ اُحُدًا فَیَنْظُرُ الْمَدِیْنَۃَ فَیَقُوْلُ لِاَصْحَابِہِ مَا تَرَوْنَ ہٰذَا الْقَصْرَ الْاَبْیَضَ، ہٰذَا مَسْجِدُ اَحْمَدَ، ثُمَّ یَاْتِیْ الْمَدِیْنَۃَ، فَیَجِدُ بِکُلِّ نَقْبٍ مِنْہَا مَلَکًا مُصَلِّتًا فَیَاْتِیْ سَبْخَۃَ الْجُرْفِ فَیَضرِبُ رُوَاقَہُ، ثُمَّ تَرْجُفَ الْمَدِیْنَۃُ ثلَاَثَ رَجَفَاتٍ فَلَا یَبْقٰی مُنَافِقٌ وَلاَ مُنَافِقَۃٌ وَلَا فَاسِقٌ وَلَافَاسِقَۃٌ اِلَّا خَرَجَ اِلَیْہِ فَذٰلِکَ یَوْمُ الْخَلَاصِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۸۴)
سیدنا محجن بن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کون سا ہے؟ خلاصی کا دن، وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ پھر کسی نے پوچھا: خلاصی کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال آ کر احد پر چڑھ جائے گا اور مدینہ منورہ کی طرف دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم اس سفید محل کو کیا سمجھتے ہو؟ یہ تو احمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجدہے، پھر وہ مدینہ کی طرف پیش قدمی کرے گا، لیکن وہ مدینہ کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھ کر شور والی زمین کی طرف آ جائے گا اور اس کے سامنے والے حصے پر ضرب لگائے گا، پھر مدینہ منورہ (زلزلہ کی طرح) تین جھٹکے لے گا، اس طرح ہر منافق اور فاسق مردو زن، سب نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، یہ خلاصی کا دن ہو گا۔
Takhreej
(۱۲۹۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد اللہ بن شقیق لم یسمع محجن بن الادرع، بینھما رجاء بن أبی رجاء ، وھو مجھول، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۴۳ (انظر: ۱۸۹۷۵)
12986
Zaeef
۔ (۱۲۹۸۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ الْوَدْکِ قَالَ: قَالَ لِیْ اَبُوْ سَعِیَدٍ (یَعْنِی الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌): ھَلْ یُقِّرُ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ خَاتَمُ اَلْفِ نَبِیٍّ وَاَ کْثَرَ، مَا بُعِثَ نَبِیٌّیُتَّبَعُ اِلَّا قَدْ حَذَّرَ اُمَّتَہُ الدَّجَالَ وَاِنِّی قَدْ بُیِّنَ لِیْ مِنْ اَمْرِہِ مَا لَمْ یُبَیَّنْ لِاَحَدٍ وَاِنَّہُ اَعْوَرُ وَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ وَعَیْنُہُ الْیُمْنٰی عَوْرَائُ جَاحِظَۃٌ وَلَاتَخْفٰی کَاَنَّہَا نُخَامَۃٌ فِیْ حَائِطٍ مُجَصَّصٍ وَعَیْنُہُ الْیُسْرٰی، کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ مَعَہُ مِنْ کُلِّ لِسَانٍ وَمَعَہُ صُوْرَۃُ الْجَنَّۃِ خَضْرَائُ یَجْرِی فِیْہَا الْمَائُ، وَصُوْرَۃُ النَّارِ سَوْدَائُ تَدْخَنُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۷۴)
ابو و دک سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: کیا خوارج دجال کے ظہور کا اقرار کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایک ہزار بلکہ اس سے زائد نبیوں کے بعد آیا ہوں، ہر نبی، جس کی پیروی کی گئی، نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، لیکن مجھے اس کی ایسی ایسی علامتیں بیان کی گئی ہیں جو کسی دوسرے نبی کو نہیں بتلائیں گئی تھیں، (یاد رکھو کہ) دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے،دجال کی داہنی آنکھ بھینگی اور اس طرح نمایاں ہوگی جیسے کسی چونہ گچ دیوار پر بلغم یا کھنکار کا نشان ہو تو ہے اور اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے تارے کی مانند ہوگی، ہر زبان بولنے والے اس کے ساتھ ہوں گے، اس کے پاس جنت کے مشابہ سرسبز باغ ہوگا، جس میں پانی بہہ رہا ہوگا اور جہنم کے مشابہ بھی ایک سیاہ چیز ہو گی، جو دھواں چھوڑ رہی ہو گی۔
Takhreej
(۱۲۹۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد بن سعید وعبد المتعال بن عبد الوھاب، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۵۹۷(انظر: ۱۱۷۵۲)
12987
Zaeef
۔ (۱۲۹۸۸)۔ وَعَنْ سَفِیْنَۃَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ قَبْلِیْ اِلَّاوَقَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ اُمَّتَہُ، ھُوَ اَعْوَرُ عَیْنِہِ الْیُسْرٰی بِعَیْنِہِ الْیُمْنٰی ظَفَرَۃٌ غَلِیْظَۃٌ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ یَخْرُ جُ مَعَہُ وَادِیَانِ، اَحَدُھُمَا جَنَّۃٌ وَلْاٰخَرُ نَارٌ، فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وَجَنَّتُہُ نَارٌ، مَعَہُ مَلَکَانِ مِنَ الْمَلَائِکَۃِیَشْبَہَانِ نَبِیَِّیْنِ مِنَ الْاَنْبِیَائِ، لَوْ شِئْتُ سَمَّیْتُہُمَا بِاَسْمَائِہِمَا وَاَسْمَائِ آبَائِہِمَا، وَاحِدٌ مِنْہُمَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَالآْخَرُ عَنْ شِمَالِہِ وَذٰلِکَ فِتْنَۃٌ، فَیَقُوْلُ الدَّجَّالُ: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ اَلَسْتُ اُحْیِیْ وَاُمِیْتُ؟ فَیَقُوْلُ لَہُ اَحَدُ الْمَلَکَیْنِ: کَذَبْتَ مَا یَسْمَعُہُ اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ اِلَّا صَاحِبُہُ، فَیَقُوْلُ لَہُ: صَدَقْتَ، فَیَسْمَعُہُ النَّاسُ فَیَظُنُّوْنَ اِنَّمَا یُصَدِّقُ الدَّجَّالَ، وَذٰلِکَ فِتْنَۃٌ ثُمَّیَسِیْرُ، حَتّٰییَاْتِیَ الْمَدِیْنَۃَ، فَلَا یُوْذَنُ لَہُ فِیْہَا، فَیَقُوْلُ: ہٰذَا قَرْیَۃُ ذٰلِکَ الرَّجُلِ، ثُمَّ یَسِیْرُ حَتّٰییَاْتِیَ الشَّامَ، فَیُہْلِکُہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَۃِ اَفِیْقَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۷۵)
مولائے رسول سیدنا سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مجھ سے قبل جو نبی بھی آیا، اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، وہ بائیں کانی آنکھ والا ہوگا اور اس کی دائیں آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِر کا لفظ لکھا ہوگا، اس کے پاس دو وادیاں ہوں گی، ایک اس کی جنت اور دوسری اس کی جہنم ہوگی، مگر اس کی جہنم درحقیقت جنت اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہوگی، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے، جو دو نبیوں کے ہم شکل ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بیان کرسکتا ہوں، ایک دائیں طرف ہوگا اور دوسرا بائیں طرف، یہ بھی ایک آزمائش ہوگی، دجال لوگوں سے کہے گا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندہ کرنے اور مارنے پر قادر نہیں ہوں؟ ایک فرشتہ کہے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، اس بات کو صرف دوسرا فرشتہ ہی سن سکے گا، لوگوں میں سے کوئی نہیں سنے گا، اس کی بات سن کر دوسرا فرشتہ کہے گا: تو نے سچ کہا، اس بات کولوگ سنیںگے تو سہی، لیکن وہ سمجھیں گے کہ وہ فرشتہ دجال کی بات کی تصدیق کر رہا ہے، یہ بھی لوگوں کے لیے ایک آزمائش ہوگی، پھر دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، لیکن اسے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، وہ کہے گا کہ یہ تو اس آدمی کا شہر ہے، پھر وہ وہاں سے چلے گا اور شام کی سرزمین میں پہنچ جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہاں اَفِیْق کی گھاٹی میں ہلاک کرے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۸۸) تخریج: ضعیف بھذہ السیاقۃ، تفرد بہ حشرج بن نباتۃ عن سعید بن جمھان، وقد اشار بعض اھل العلم الی انہ یقع لھما فی احادیثھما غرائب ومناکیر، وقد وقع لھما شیء من ھذا فی ھذا الحدیث، أخرجہ الطیالسی: ۱۱۰۶، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۱۳۷، والطبرانی فی الکبیر : ۶۴۴۵(انظر: ۲۱۹۲۹)
12988
Zaeef
۔ (۱۲۹۸۹)۔ وَعَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ الْاَزْدِیِّ قَالَ: ذَھَبْتُ اَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ فِی الدَّجَّالِ وَلَاتُحَدِّثْنَا عَنْ غَیْرِہِ وَاِنْ کَانَ مُصَدَّقًا قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَنْذَرْتُکُمُ الدَّجَّالَ ثَلاَثًا فَاِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ قَبْلِیْ اِلَّا قَد اَنْذَرَہُ اُمَّتَہٗوَاِنَّہُفِیْکُمْ اَیُّتُہَا الْاُمَّۃُ، وَاِنَّہُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوْحُ الْعَیْنِ، مَعَہُ جَنَّۃٌ وَنَارٌ، فَنَارُہُ جَنَّۃٌ وَجَنَّتُہٗنَارٌوَمَعَہُ جَبَلٌ مِّنْ خُبْزٍ وَنَہْرٌ مِّنْ مَائٍ وَاِنَّہُ یُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَایَنْبُتُ الشَّجَرُ وَاِنَّہُ یُسَلَّطُ عَلٰی نَفْسٍ فَیَقْتُلُہَا وَلَایُسَلَّطُ عَلٰی غَیْرِھَا وَاِنَّہُ یَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا، یَبْلُغُ فِیْہَا کَلَّ مَنْہَلٍ وَلَایَقْرُبُ اَرْبَعَۃَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِیْنَۃِ وَمَسْجِدَ الطُّوْرِ وَمَسْجِدَ الْاَقْصٰی وَمَا یَشْبَہُ عَلَیْکُمْ فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۴)
جنادہ بن ابی امیہ ازدی کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری شخص، ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے کہا:آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دجال کے متعلق سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں، آپ نے کسی اور سے بیان نہیں کرنا، اگرچہ وہ تصدیق شدہ ہو، انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: میں تمہیں دجال سے با خبر کر چکاہو، یہ جملہ تین دفعہ فرمایا، مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے، لیکن اے میری امت! وہ تم میں نکلے گا، اس کے بال گھنگریالے اور اس کا رنگ گندمی ہو گا اور اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، اس کے پاس ایک جنت ہو گی اور ایک جہنم۔ لیکن حقیقت میں اس کی جہنم ،جنت ہو گی اور اس کی جنت ،جہنم ہوگی۔ اس کے پاس روٹیوں کا ایک پہاڑ ہوگا اور پانی کی ایک نہرہوگی، وہ بارش برسا کر دکھائے گا، لیکن اس سے درخت نہیںاگیں گے، اسے ایک آدمی کو قتل کرنے کی طاقت دی جائے گی، اس کے سوا اس کو اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی، وہ زمین میں چالیس دن گزارے گا اور ہر ہر جگہ پہنچے گا، البتہ اِن چار مساجد کے قریب نہیں جا سکے گا: مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد طور اور مسجد اقصیٰ۔ وہ تمہیں جتنے شبہات میں بھی ڈال دے، تم یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۹۸۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۱۴۷ (انظر: ۲۳۶۸۵)
12989
Sahih
۔ (۱۲۹۹۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖ) ((وَیُسَلَّطُ عَلٰی رَجُلٍ فَیَقْتُلُہُ ثُمَّ یُحْیِیْہِ وَلَایُسلَّطُ عَلٰی غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۳)
۔ (دوسری سند) اسی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ اس طرح ہیں: دجال کو ایک آدمی پر اس طرح مسلط کیا جائے گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکے گا، اس کے بعد اسے اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی۔
Takhreej
(۱۲۹۹۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12990
Sahih
۔ (۱۲۹۹۱)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الدَّجَّالَ اَعْوَرُ الْعَیْنِ الشِّمَالِ، عَلَیْہَا ظَفَرَۃٌ غَلِیْظَۃٌ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ اَوْ قَالَ: کُفْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۶۹)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا،اس کی اس آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی اور اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یا کُفْرٌ۔ لکھا ہو گا۔
Takhreej
(۱۲۹۹۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابویعلی: ۳۷۶۸، والبغوی: ۴۲۵۷(انظر: ۱۲۱۴۵)
12991
Sahih
۔ (۱۲۹۹۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلدَّجَّالُ اَعْوَرُ وَاِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ، مَکْتُوْبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ یَقْرَؤُہٗ کُلُّ مُوْمِنٍ کَاتِبٌ وَغَیْرُکَاتِبٍ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۱۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال کانا ہو گا اور تمہارا ربّ کانا نہیں ہے، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ لکھا ہوا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا۔
Takhreej
(۱۲۹۹۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے اپنی آنکھوں کے بارے میں فرمایا: {وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔} … اللہ کے حکم کے مطابق صبر کر، بلا شبہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ (سورۂ طور: ۴۸) ہم اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عین (آنکھ) کو تسلیم کرتے ہیں، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، جیسا کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا ایمان ہے۔
12992
Sahih
۔ (۱۲۹۹۳)۔ وَعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ اِلّاَ وَصَفَ الدَّجَّالَ لِاُمَّتِہٖوَلَاَصِفَنَّہُصِفَۃً لَمْ یَصِفْہَا اَحَدٌ کَانَ قَبْلِیْ اِنَّہُ اَعْوَرُ وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۸)
سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو متنبہ کرنے کے لیے دجال کی صفات بیان کیں، لیکن میں اس کی ایسی صفت بیان کروں گا، جو کسی نبی نے بیان کی اور وہ یہ ہے کہ وہ کانا ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۹۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابو یعلی: ۷۲۵، والبزار: ۱۱۰۸، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۱۲۸ (انظر: ۱۵۷۸)
12993
Sahih
۔ (۱۲۹۹۴)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ تَمَامًا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِہِ ((لَیْسَ بِاَعْوَرَ، عَیْنُہُ الْیُمْنٰی کَاَنَّہَا عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۴۸۰۴)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ انھوں نے وہ کانا ہے کے الفاظ کے بعد یہ اضافی الفاظ بیان کیے ہیں: اس کی دائیں آنکھ یوں ہوگی، جیسے خوشۂ انگور میں ابھرا ہوا دانہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۹۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۳۹، ۷۴۰۷، ومسلم: ص ۲۲۴۸(انظر: ۴۸۰۴)
12994
Sahih
۔ (۱۲۹۹۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی النَّاسِ وَاَثْنٰی عَلٰی اللّٰہِ بِمَا ھُوَ اَھْلُہُ، فَذَکَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: ((اِنِّیْ لَاُنْذِرُکُمُوْہُ، وَمَا مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا اَنْذَرَہُ قَوْمَہُ، لَقَدْ اَنْذَرَہُ نُوْحٌ علیہ السلام قَوْمَہُ وَلٰکِنْ سَاَقُوْلُ لَکُمْ فِیْہِ قَوْلًا لَمْ یَقُلْہُ نَبِیٌّ لِقَوْمِہِ, تَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ اَعْوَرُ وَاِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) (مسند احمد: ۶۳۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں میں کھڑ ے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے شایان شان حمد و ثنا بیان کی اور پھرفرمایا: میں تمہیں اُس دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا، حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تم سے اس کے متعلق ایسی بات بتلاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت سے نہیں کہی، تمہیں علم ہونا چاہیے کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۲۹۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۵۷، ومسلم: ۲۹۳۱ (انظر: ۶۳۶۵)
12995
Sahih
۔ (۱۲۹۹۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَقُوْلُ: ((اِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ بَعْدَ نُوْحٍ اِلَّا وَقَدْ اَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَہُ وَاِنِّیْ اُنْذِرْکُمُوْہُ۔)) قَالَ: فَوَصَفَہُ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ قَالَ: ((وَلَعَلَّہُ یُدْرُکُہُ بَعْضُ مَنْ رَآنِیْ اَوْ سَمِعَ کَلَامِیْ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ قُلُوْبُنَا یَوْمَئِذٍ، اَمِثْلُہَا الْیَوْمَ؟ قَالَ: ((اَوْخَیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۳)
سیدنا ابو عبیدہ بن جرح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے خبردا رکیا اور میں بھی تمہیں اس سے باخبر کرتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتاتے ہوئے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری بات سننے والا کوئی آدمی بھی اسے پا لے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا ایسی جیسے آج کل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اس سے بہتر؟
Takhreej
(۱۲۹۹۶) تخریج: حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۷۵۶، والترمذی: ۲۲۳۴(انظر: ۱۶۹۳)
Explanation
فوائد:… جو آدمی جسمانی آزمائشوں کی پروا کیے بغیر اور دجال کے شعبدوں کو جھٹلاتے ہوئے فتنۂ دجال کا مقابلہ کر کے اپنے دین پر برقرار رہے گا، وہ راسخ الایمان ہو گا۔
12996
Sahih
۔ (۱۲۹۹۷)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ فِی الدَّجَّالِ: ((اَعْوَرُ ھِجَانٌ اَزْھَرُ، کَاَنَّ رَاْسَہُ اَصَلَۃٌ، اَشْبَہُ النَّاسِ بَعِبْدِ الْعُزّٰی بْنِ قَطَنٍ، فَاِمَّا ھَلَکَ الْہُلَّکُ، فَاِنَّ رَبَّکُمْ تَعَالٰی لَیْسَ بِاَعْوَرَ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَحَدَّثْتُ بِہِ قَتَادَۃَ فَحَدَّثَنِیْ بِنَحْوٍ مِنْ ہٰذَا ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا: وہ کانا ہو گا ،اس کا رنگ چمکیلا سفید ہوگا، اس کا سر پھونک سے مار ڈالنے والے زہریلے سانپ کی طرح ہو گا، وہ لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے زیادہ مشابہ ہوگا،اگر (اس کے شبہات کی وجہ سے) ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو یاد رکھا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہی حدیث امام قتادہ کو بیان کی تو انہوں نے بھی مجھے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۱۲۹۹۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۷۱۱، والطیالسی: ۲۶۷۸، وابن حبان: ۶۷۹۶ (انظر: ۲۱۴۸)
12997
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.