TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4567 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
۔ (۴۵۶۷) عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیْہِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَہُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ فِیْ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَنَادَیَا: أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَأَیَّامُ التَّشْرِیْقِ أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۸۶)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اور سیدنا اوس بن حدثان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایام تشریق کے دوران یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ صرف مومن جنت میں جائے گا اور ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔
4567
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۵۶۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۴۲(انظر: ۱۵۷۹۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …حدیث نمبر (۳۸۶۰)کے باب میں یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ ایام تشریق میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا ہے، البتہ حج تمتع کرنے والا شخص، جو قربانی نہ کر سکتا ہو، ان دنوں میں روزہ رکھ سکتا ہے۔ یہ حقیقت تو بلا شک و شبہ ہے کہ عہد ِ نبوی اور خلفائے راشدین کے دور میں مِنی میں قصر نماز کی وجہ سفر تھی اور یہ قصر حج کی مناسبت کی وجہ سے نہ تھی۔ سوال یہ ہے کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مِنٰی میں مکمل نماز کیوں پڑھائی اور قصر نماز کے لیے جس حد بندی کا تعین کیا جاتا ہے، کیا مِنٰی اس کا مصداق بنتا ہے یا نہیں؟ ان دونوں مسئلوں پر حدیث نمبر (۲۳۵۷) کے باب اور اس میں مذکورہ احادیث کے فوائد میں سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے، قارئین خود مطالعہ کر لیں۔

Related Chapters

128
1
Chapter: What Has Been Related About How Long The Prayer Is Shortened
باب: کتنے دنوں تک قصر کرنا درست ہے؟
Jam e Tirmazi
2
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
3
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
4
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
5
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
Musnad Ahmad
6
(12) CHAPTER. To say Takbir on the days of Mina and while proceeding to Arafat.
تکبیر منیٰ کے دنوں میں اور جب نویں تاریخ کو عرفات میں جائے
Sahih Bukhari
7
(132) CHAPTER. Al-Khutba during the Days of Mina.
منیٰ کے دنوں میں خطبہ سنانا
Sahih Bukhari
8
(32) CHAPTER. If somebody has vowed that he will observe Saum (fast) for a few successive days and then those days appear to coincide with Eid-ul-Adha or Eid-ul-Fitr (should he observe fast then or make expiation, or observe fast on other days)?
جس نے کچھ خاص دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو پھر اتفاق سے ان دنوں میں بقرعید یا عید ہو گئی تو اس دن روزہ نہ رکھے ۔ ( جمہور کا یہی قول ہے ) 2
Sahih Bukhari
9
Chapter: The prohibition of fasting on the two days of 'Id
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
10
جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
11
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Food Until It has Been Acquired
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What has been Related About It is Not Lawful To Intimidate A Muslim
باب: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
17
باب: پانچوں نمازوں کی مثال
Jam e Tirmazi
18
بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ
سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز
Mishkat
19
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
20
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
21
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
22
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
Musnad Ahmad
23
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
24
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
Musnad Ahmad
25
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
Musnad Ahmad
26
ظہر اور دوسری نمازوں میں قنوت کا بیان
Musnad Ahmad
27
امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
Musnad Ahmad
28
نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید، تکبیر اوراستغفار کا بیان
Musnad Ahmad
29
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
30
سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
31
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتاہے کہ اس نماز کی دو رکعتیں (دوسری نمازوں کی) عام رکعات کی طرح ہوں گی
Musnad Ahmad
34
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
Musnad Ahmad
35
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
36
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
Musnad Ahmad
40
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
Musnad Ahmad
41
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
44
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
46
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
47
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
48
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
Musnad Ahmad
49
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
50
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

44
Musnad Ahmad
10606
۔ (۱۰۶۰۶)۔ حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ قَالَ: ثَنَا أبِیْ عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ مَعْبَدُ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکِ بْنِ أَبِیْ کَعْبِ بْنِ الْقَیْنِ أَخُوْ بَنِیْ سَلِمَۃَ اَنَّ أَخَاہُ عُبَیْدَاللّٰہِ بْنَ کَعْبٍ وَکَانَ مِنْ أَعْلَمِ الْأَنْصَارِ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ وَکَانَ کَعْبٌ مِمَّنْ شَھِدَ الْعَقَبَۃَ وَبَایَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِھَا ، قَالَ: خَرَجْنَا فِیْ حُجَّاجِ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَقَدْ صَلَّیْنَا وَفَقِھْنَا وَمَعَنَا الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ کَبِیْرُنَا وَسَیِّدُنَا، فَلَمَّا تَوَاجَھْنَا لِسَفَرِنَا وَخَرَجْنَا مِنَ الْمَدَیِنْۃِ قَالَ الْبَرَائُ لَنَا: یَاھٰؤُلَائِ اِنِّیْ قَدْ رَأَیْتُ وَاللّٰہِ! رَأْیًا وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ! مَا أَدْرِیْ تُوَافِقُوْنِیْ عَلَیْہِ اَمْ لَا؟ قَالَ: قُلْنَالَہُ: وَمَاذَاکَ؟ قَالَ: قَدْ رَأَیْتُ اَنْ لَا أَدَعَ ھٰذِہِ الْبَنِیَّۃَ مِنِّیْ بِظَھْرٍ، یَعْنِی الْکَعْبَۃَ وَاَنْ أُصَلِّیَ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقُلْنَا: وَاللّٰہِ! مَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِیَّنَایُصَلِّیْ اِلَّا اِلَی الشَّامِ وَمَا نُرِیْدُ أَنْ نُخَالِفَہَ، فَقَالَ: اِنِّیْ أُصَلِّیْ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: لٰکِنَّا لَانَفْعَلُ، فَکُنَّا اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ صَلَّیْنَا اِلَی الشَّامِ وَصَلّٰی اِلَی الْکَعْبَۃِ حَتّٰی قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ أَخِیْ: وَقَدْ کُنَّا عِبْنَا عَلَیْہِ مَا صَنَعَ وَأبِیْ اِلَّا الْاِقَامَۃَ عَلَیْہِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ! اِنْطَلِقْ اِلٰی رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْأَلْہُ عَمَّا صَنَعْتُ فِیْ سَفَرِیْ ھٰذَا فَاِنَّہُ وَاللّٰہِ! قَدْ وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ مِنْہُ شَیْئٌ لَمَّا رَأَیْتُ مِنْ خِلَافِکُمْ اِیَّایَ فِیْہِ، قَالَ: فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُنَّا لَا نَعْرِفُہُ لَمْ نَرَہُ قَبْلَ ذٰلِکَ، فَلَقِیَنَا رَجُلٌ مِنْ أھَلِ مَکَّۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ھَلْ تَعْرِفَانِہِ؟ قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ: فَھَلْ تَعْرِفَانِ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّہُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: وَکُنَّا نَعْرِفُ الْعَبَّاسَ، کَانَ لَا یَزَالُیَقْدِمُ عَلَیْنَا تَاجِرًا، قَالَ: فَاِذَا دَخَلْتُمَا الْمَسْجِدَ فَھُوَ الرَجُلُ الْجَالِسُ مَعَ الْعَبَّاسِ، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَاِذَا الْعَبَّاسُ جَالِسٌ وَرَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُ جَالِسٌ فَسَلَّمْنَا ثُمَّّ جَلَسْنَا اِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعَبَّاسِ: ((ھَلْ تَعْرِفُ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِیَا أَبَا الْفَضْلِ!)) قَالَ: نَعَمْ، ھٰذَا الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ سَیِّدُ قَوْمِہِ وَھٰذَا کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ، قَالَ: واللّٰہِ! مَا اَنْسٰی قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشَّاعِرُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ: یَانَبِیَّاللّٰہِ! اِنِّیْ خَرَجْتُ مِنْ سَفَرِیْ ھٰذَا وَھَدَانِیَ اللّٰہُ لِلْاِسْلَامِ فَرَأَیْتُ أَنْ لَا أَجْعَلَ الْبَنِیَّۃَ مِنِّیْ بِظَھْرٍ فَصَلَّیْتُ اِلَیْھَا وَقَدْ خَالَفَنِیْ أَصْحَابِیْ فِیْ ذٰلِکَ حَتّٰی وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ فَمَاذَا تَرٰییَارَسُوْلَ اللہ؟ قَالَ: ((لَقَدْ کَنْتَ عَلٰی قِبْلَۃٍ لَوْ صَبَرْتَ عَلَیْھَا)) فَقَالَ: فَرَجَعَ الْبَرَائُ اِلٰی قِبْلَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی مَعَنَا اِلَی الشَّامِ، قَالَ: وَأَھْلُہُ یَزْعُمُوْنَ أَنّہُ صَلّٰی اِلَی الْکَعْبَۃِحَتّٰی مَاتَ وَلَیْسَ ذٰلِکَ کَمَا قَالُوْا، نَحْنُ أَعْلَمُ بِہٖمِنْھُمْ،قَالَ: وَخَرَجْنَااِلَی الْحَجِّ فَوَاعَدْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَقَبَۃَ مِنْ أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ الْحَجِّ وَکَانَتِ اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ وَعَدْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ أَبُوْ جَابِرٍ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا وَکُنَّا نَکْتُمُ مَنْ مَعَنَا مِنْ قَوْمِنَا مِنْ الْمُشْرِکِیْنَ أَمْرَنَا فَکَلَّمْنَاہُ وَقُلْنَا لَہُ: یَا اَبَاجَابِرٍ! اِنَّکَ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا وَشَرِیْفٌ مِنْ أَشْرَافِنَا، وَاِنَّا نَرْغَبُ بِکَ عَمَّا أَنْتَ فِیْہِ اَنْ تَکُوْنَ حَطَبًا لِلنَّارِ غَدًا، ثُمَّّ دَعَوْتُہُ اِلَی الْاِسْلَامِ وَأَخْبَرْتُہُ بِمِیْعَادِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْلَمَ وَشَھِدَ مَعَنَا الْعَقَبَۃَ وَکَانَ نَقِیْبًا، قَالَ: فَنِمْنَا تِلْکَ اللَّیْلَۃَ مَعَ قَوْمِنَا فِیْ رِحَالِنَا حَتّٰی اِذَا مَضٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ خَرَجْنَا مِنْ رِحَالِنَا لِمِیْعَادِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَتَسَلَّلُ مُسْتَخْفِیْنَ تَسَلُّلَ الْقَطَا حَتَّی اجْتَمَعْنَا فِی الشِّعْبِ عِنْدَ الْعَقَبَۃِ وَنَحْنُ سَبْعُوْنَ رَجُلًا وَمَعَنَا امْرَأَتَانِ مِنْ نِسَائِھِمْ، نَسِیْبَۃُ بِنْتُ کَعْبٍ اُمُّ عُمَارَۃَ اِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ، وَ اَسْمَائُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ اِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ سَلِمَۃَ وَھِیَ اُمُّ مَنِیْعٍ، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا بِالشعب نَنْتَظِرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَائَ نَا وَمَعَہُ یَوْمَئِذٍ عَمُّہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ عَلَی دِیْنِ قَوْمِہِ اِلَّا أَنَّہُ اَحَبَّ اَنْ یَحْضُرَ اَمْرَ ابْنِ أَخِیْہِ وَیَتَوَثَّقَ لَہُ، فَلَمَّا جَلَسْنَا کَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوَّلَ مُتَکَلِّمٍ، فَقَالَ: یَامَعْشَرَ الْخَزْرَجِ! قَالَ: وَکَانَتِ الْعَرَبُ مِمَّا یُسَمُّوْنَ ھٰذَا الْحَیَّ مِنَ الْاَنْصَارِ الْخَزْرَجَ أَوْسَھَا وَخَزْرَجَھَا، اِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا حَیْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ وَقَدْ مَنَعْنَاہُ مِنْ قَوْمِنَا مِمَّنْ ھُوَ عَلَی مِثْلِ رَأْیِنَا فِیْہِ وَھُوَ فِیْ عِزٍّ مِنْ قَوْمِہِ وَمَنَعَۃٍ فِیْ بَلَدِہِ، قَالَ: فَقُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا مَا قُلْتَ فَتَکَلَّمْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَخُذْ لِنَفْسِکَ وَلِرَبِّکَ مَا أَحْبَبْتَ، قَالَ: فَتَکَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَلَا وَدَعَا اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغَّبَ فِی الْاِسْلَامِ، قَالَ: ((أُبَایِعُکُمْ عَلٰی أَنْ تَمْنَعُوْنِیْ مِمَّا تَمْنَعُوْنَ مِنْہُ نِسَائَکُمْ وَأَبْنَائَکُمْ)) قَالَ: فَأَخَذَ الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ بِیَدِہِ ثُمَّّ قَالَ: نَعَمْ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! لَنَمْنَعُکَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ أُزُرَنَا فَبَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَحْنُ أَھْلُ الْحُرُوْبِ وَأَھْلُ الْحَلْقَۃِ وَرِثْنَاھَا کَابِرًا عَنْ کَابِرٍ، قَالَ: فَاعْتَرَضَ الْقَوْلَ وَالْبَرَائُ یُکَلِّمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبُو الْھَیْثَمِ بْنُ التَّیِّھَانِ حَلِیْفُ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْھَلِ فقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اِنَّ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الرِّجَالِ حِبَالًا وَاِنَّا قَاطِعُوْھَا یَعْنِی الْعُھُوْدَ، فَھَلْ عَسَیْتَ اِنْ نَحْنُ فَعَلْنَا ذٰلِکَ ثُمَّّ أَظْھَرَکَ اللّٰہُ اَنْ تَرْجِعَ اِلٰی قَوْمِکَ وَتَدَعَنَا؟ قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمّّ قَالَ: ((بَلِ الدَّمَ الدَّمَ وَالْھَدَمَ الْھَدَمَ اَنَا مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ مِنِّیْ، أُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُمْ وَأُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُمْ۔)) وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَخْرِجُوْا اِلَیَّ مِنْکُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًایَکُوْنُوْنَ عَلٰی قَوْمِھِمْ۔)) فَأَخْرَجُوْا مِنْھُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا، مِنْھُمْ تِسْعَۃٌ مِنَ الْخَزْرَجِ وَثَلَاثَۃٌمِنَ الْأَوْسِ، وَأَمَّا مَعْبَدُ بْنُ کَعْبٍ فَحَدَّثَنِیْ فِیْ حَدِیْثِہِ عَنْ أَخَیْہِ عَنْ أَبِیْہِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَ عَلٰییَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ ثُمّّ تَتَابَعَ الْقَوْمُ، فَلَمَّا بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَرَخَ الشَّیْطَانُ مِنْ رَأْسِ الْعَقَبَۃِ بِأَبْعَدِ صَوْتٍ سَمِعْتُہُ قَطُّ، یَا أَھْلَ الْجُبَاجِبِ! وَالْجُبَاجِبُ الْمَنَازِلُ، ھَلْ لَکُمْ فِیْ مُذَمَّمٍ وَالصُّبَاۃُ مَعَہُ قَدْ أَجْمَعُوْا عَلٰی حَرْبِکُمْ، قَالَ عَلِیٌّیَعْنِیْ ابْنَ اِسْحَاقَ مَا یَقُوْلُ عَدُوُّ اللّٰہِ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا أَزَبُّ الْعَقَبَۃِ ھٰذَا ابْنُ اَزْیَبَ اسْمَعْ اَیْ عَدُوَّ اللّٰہِ أَمَا وَاللّٰہِ! لَاَ فْرُغَنَّ لَکَ۔)) ثُمّّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجَعُوْا اِلٰی رِحَالِکُمْ)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَادَۃَ بْنِ نَضْلَۃَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَئِنْ شِئْتَ لَنَمِیْلَنَّ عَلٰی أَھْلِ مِنًی غَدًا بِأَسْیَافِنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ أُوْمَرْ بِذٰلِکَ)) قَالَ: فَرَجَعْنَا فَنِمْنَا حَتّٰی اَصْبَحْنَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَتْ عَلَیْنَا جُلَّۃُ قُرَیْشٍ حَتّٰی جَائُ وْنَا فِیْ مَنَازِلِنَا فَقَالُوْا: یَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ! اِنَّہُ قَدْ بَلَغَنَا اَنَّکُمْ قَدْ جِئْتُمْ اِلٰی صَاحِبِنَا ھٰذَا تَسْتَخْرِجُوْنَہُ مِنْ بَیْنِ أَظْھُرِنَا وَتُبَایِعُوْنَہُ عَلٰی حَرْبِنَا، وَاللّٰہِ! اِنَّہُ مَا مِن الْعَرَبِ أَحَدٌ أَبْغَضَ اِلَیْنَا اَنْ تَنْشَبَ الْحَرَبُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ مِنْکُمْ، قَالَ فَانْبَعَثَ مِنْ ھُنَالِکَ مِنْ مُشْرِکِیْ قَوْمِنَا یَحْلِفُوْنَ لَھُمْ بِاللّٰہِ مَا کَانَ مِنْ ھٰذَا شَیْئٌ وَمَا عَلِمْنَاہُ، وَقَدْ صَدَقُوْا لَمْ یَعْلَمُوْا مَا کَانَ مِنَّا، قَالَ: فَبَعْضُنَا یَنْظُرُ اِلٰی بَعْضٍ، قَالَ: وَقَامَ الْقَوْمُ فِیْھِمُ الْحَارِثُ بْنُ ھِشَامِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْمَخْزُوْمِیُّ وَعَلَیْہِ نَعْلَانِ جَدِیْدَانِ قَالَ: فَقُلْتُ: کَلِمَۃً کَأَنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُشْرِکَ الْقَوْمَ بِھَا فِیْمَا قَالُوْا، مَاتَسْتَطِیْعُیَا أَبَا جَابِرٍ وَأَنْتَ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا أَنْ تَتَّخِذَ نَعْلَیْنِ مِثْلَ نَعْلَیْ ھٰذَا، ھٰذَا الْفَتٰی مِنْ قُرَیْشٍ؟ فَسَمِعَھَا الْحَارِثُ فَخَلَعَھُمَا ثُمّّ رَمٰی بِھِمَا اِلَیَّ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَتَنْتَعِلَنَّھُمَا، قَالَ: یَقُوْلُ أَبُوْ جَابِرٍ: أَحْفَظْتَ وَاللّٰہِ! الْفَتٰی فَارْدُدْ عَلَیْہِ نَعْلَیْہِ، قَالَ: فقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَرُدَّھُمَا، قَالَ وَاللّٰہِ! صَالِحٌ لَئِنْ صَدَقَ الْفَأْلُ لَاَسْلُبَنَّہُ، فَھٰذَا حَدِیْثُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ مِنَ الْعَقَبَۃِ وَمَا حَضَرَ مِنْھَا۔ (مسند احمد: ۱۵۸۹۱)
۔ عبید اللہ بن کعب، جو کہ انصاریوں میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو عقبہ میں حاضر ہوئے تھے اور وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنی قوم کے مشرک لوگوںکے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ہم نماز بھی پڑھتے تھے اور ہمیں دین کی سمجھ بھی تھی، ہمارے ساتھ ہمارے بڑے اور ہمارے سردار سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، جب ہم نے رخت ِ سفر باندھا اور مدینہ منورہ سے نکل پڑے تو سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، لیکنیہ میں نہیں جانتا کہ تم میری موافقت کرو گے یا نہیں؟ ہم نے کہا: وہ ہے کون سا؟ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ میں کعبہ کی عمارت کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا اور میں اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں تو یہی بات پہنچی ہے کہ ہمارے نبی شام کی طرف نماز پڑھتے ہیں، لہٰذا ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت تو نہیں کر سکتے، لیکن انھوں نے کہا: میں تو کعبہ کی طرف منہ کر کے ہی نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: لیکن ہم اس طرح نہیں کریں گے، اب صورتحال یہ تھی کہ جب نماز کا وقت ہو جاتا تو ہم شام کی طرف رخ کر کے اور سیدنا براء کعبہ کیطرف منہ کر کے نماز ادا کرتے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے، میرے بھائی نے کہا: ہم نے اس کے کیے کو معیوب تو سمجھا ہے، میرے باپ کی قسم! البتہ اس سے مخالفت نہیں کی، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! چلو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کر کے لاؤ، جو میں نے اس سفر میں کی ہے، جب سے میں نے دیکھا کہ تم لوگ میری مخالفت کر رہے ہو تو میرے نفس میں اس کے بارے میں شبہ پڑ گیا ہے، وہ کہتے ہیں: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرنے کے لیے نکلے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچانتے نہیں تھے، کیونکہ ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا نہیں تھا، جب مکہ مکرمہ کے ایک باشندے سے ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے اس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں دریافت کیا، اس نے کہا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: کیا تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا عباس بن عبد المطلب کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، چونکہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بطورِ تاجر ہمارے پاس آتے رہتے تھے، اس لیے ہم ان کو پہچانتے تھے، بہرحال اس نے کہا: جب تم مسجد میں داخل ہو تو جو آدمی عباس کے ساتھ بیٹھا ہو گا، وہی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہوں گے، پس ہم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے، ہم نے ان کو سلام کہا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے ابو الفضل! کیا آپ ان دو افراد کو جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ اپنی قوم کا سردار براء بن معرور ہے اور یہ کعب بن مالک، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات نہیں بھولا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: جو شاعر ہے، وہ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اب سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اس سفر میں نکلا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے لیے ہدایت دی ہوئی ہے، میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں کعبہ کی عمارت کو پشت پر نہیں رکھوں گا، بلکہ میں اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھوں گا، لیکن میرے ساتھیوں نے میرے ساتھ اتفاق نہیں کیا،یہاں تک کہ میرے نفس میں تردّد پیدا ہو گیا۔ اے اللہ کے رسول! اب آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو صبر کرتا تو تو قبلے پر ہی تھا۔ پس سیدنا براء نے فوراً رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قبلہ اختیار کر لیا اور ہمارے ساتھ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ سیدنا براء کے گھر والے تو یہ گمان کرتے تھے کہ وہ مرتے دم تک کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، لیکنیہ دعوی درست نہیں ہے، ہم اس کے اہل کی بہ نسبت اس کو زیادہ جانتے ہیں، پھر ہم حج کے لیے نکلے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایام تشریق کے وسط میں عقبہ کے مقام پر ملنے کا وعدہ کیا، پس جب ہم حج سے فارغ ہوئے اور وہ رات آ گئی، جس کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وعدہ کیا تھا، اُدھر ہمارے ساتھ ابو جابر عبد اللہ بن عمرو بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ہم اپنی قوم کے مشرک افراد سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات کو چھپانا چاہتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو جابر! تم سرداروں اور اشراف میں سے ایک سردار اور شریف ہو، لیکن جس دین پر تم ہو، ہم اس سے بے رغبت ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کل آگ کا ایندھن بن جاؤ، پھر میںنے ان کو اسلام کی دعوت دی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیے گئے وعدے کی خبر دی، پس وہ بھی مسلمان ہو گئے اور ہمارے ساتھ عقبہ میں شریک ہوئے، بلکہ ان کا نقیب بھی بنایا گیا، پس ہم اس رات کو اپنی قوم کے ساتھ اپنی رہائش گاہوں میں سو گئے، جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنی رہائش گاہوں سے نکل پڑے اور چھپتے ہوئے قطا پرندے کی طرح سرکنے لگے، یہاں تک کہ ہم عقبہ کے پاس گھاٹی میں جمع ہو گئے، ہم کل ستر مرد تھے اور ہمارے ساتھ دو عورتیں تھیں، ایک خاتون ام عمارہ نسیبہ بنت کعب تھیں، ان کا تعلق بنو مازن بن نجار سے تھا اور دوسری خاتون ام منیع اسماء بنت عمرو بن عدی تھیں، ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، ہم لوگ گھاٹی میں جمع ہو کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کرنے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، آپ کے چچا سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، وہ اس وقت اپنی قوم کے دین پر تھے، البتہ وہ چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کا معاملہ دیکھیں اور اعتماد حاصل کر لیں، جب وہاں بیٹھ گئے تو سب سے پہلے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی اور کہا: اے خزرج کی جماعت! بیشک تم جانتے ہو کہ محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہم میں سے ہیں، ہم نے اپنی قوم سے ان کی حفاظت کی ہوئی ہے، یہاں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اپنے قوم میں عزت کے ساتھ اور اپنے شہر میں قوت کے ساتھ ہیں۔ عرب لوگ انصاریوں کے اس قبیلے کو خزرج کہتے تھے، ہم نے کہا: ہم نے تمہاری بات سن لی ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ بات کریں اور اپنی پسند کے مطابق اپنی ذات کے لیے اور اپنے ربّ کے لیے جو معاہدے لینے ہیں، وہ لے لیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گفتگو کی، قرآن مجید کا کچھ حصہ تلاوت کیا، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، ان کو اسلام کی رغبت دلائی اور فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم ہر اس چیز سے مجھے تحفظ فراہم کرو گے، جس سے اپنی عورتوں اور بیٹوں کی حفاظت کرتے ہو۔ سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! ہم آپ کو اس چیز سے بچائیں گے، جس سے اپنی خواتین کو بچاتے ہیں، پس ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، ہم لڑائیوں والے اور اسلحہ والے تھے، یہ چیز ہم کو نسل در نسل ورثے میںملی تھی، ابھی تک سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہم کلام تھے کہ بیچ میں بنو عبد الاشہل کے حلیف سیدنا ابو الہیثم بن تیہان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بول پڑے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارے اور یہودیوں کے مابین معاہدے ہیں اور آپ کی وجہ سے ہم ان کو توڑ دینے والے ہیں، لیکن کیایہ ممکن ہے کہ جب ہم یہ سب کچھ کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کر دے تو آپ اپنی قوم کی طرف واپس آ جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں؟یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: نہیں، بلکہ اب تو جہاں تمہارا خون طلب کیا جائے گا، وہاں میرا خون بھی طلب کیا جائے گا اور جہاں تمہارے خون کو رائیگاں قرار دیا جائے گا، وہاں میرے خون کو بھی رائیگاں قرار دیا جائے گا، اب میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، جن سے تم لڑو گے، میں بھی ان سے لڑوں گا اور جن سے تم صلح کرو گے، میں بھی ان سے صلح کروں گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اپنے بارہ نقیب میری طرف نکالو، جو اپنی اپنی قوم کے ذمہ دار ہوں گے۔ پس انھوں نے بارہ نقیب منتخب کیے، نو خزرج سے تھے اور تین اوس سے، معبد بن کعب کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: پہلا شخص جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، پھر باقی لوگ پے در پے بیعت کرنے لگے، جب ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کر لی تو گھاٹی کی چوٹی سے شیطان بہت بلند آواز میں بولا، میں نے ایسی اونچی آواز کبھی نہیں سنی تھی، اور اس نے کہا: اے ان رہائش گاہوں والو! کیا تمہیں مذمَّم کی فکر ہے، بے دین لوگ تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے اس کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔ اس اللہ کے دشمن شیطان نے محمد نہیں کہا، بلکہ مذمّم کہا، یہ آواز سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس گھاٹی کا اَزَبّ شیطان ہے، یہ ابن اَزْیَب ہے، سن اے اللہ کے دشمن! خبردار! اللہ کی قسم ہے، میں تیرے لیے ضرور ضرور فارغ ہونے والا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹ جاؤ۔ سیدنا عباس بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم کل اپنی تلواریں لے کر اہلِ مِنٰی پر حملہ کر دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابھی تک مجھے اس چیز کا حکم نہیں دیا گیا۔ پس ہم لوٹ آئے اور اپنے اپنے مقام پر سو گئے، جب صبح ہوئی تو سردارانِ قریش ہمارے پاس ہماری رہائش گاہوں میں پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: اے خزرج کی جماعت! ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ تم ہمارے اس صاحب کے پاس گئے ہو اور اب اس کو ہمارے درمیان سے نکالنا چاہتے ہو اور ہمارے ساتھ لڑائی کرنے پر اس کی بیعت کر رہے ہو، اللہ کی قسم! ہر عرب کو یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ ہمارے اور تمہارے ما بینلڑائی بھڑک اٹھے، اب بتاؤ کہ کیا معاملہ ایسے ہی ہے؟ ہماری قوم کے مشرک لوگ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ان کے لیے اللہ کی قسمیں اٹھائیں کہ اس قسم کی کوئی چیز واقع نہیں ہوئی، بلکہ ہمیں تو ایسے معاملے کا علم ہی نہیں ہے، وہ لوگ سچ بول رہے تھے، کیونکہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ہم (ستر افراد) رات کو کیا کر کے آئے ہیں، البتہ ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر وہ لوگ اٹھ پڑے، ان میں حارث بن ہشام بن مغیرہ مخزومی بھی تھے، (یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے) انھوں نے دو نئے جوتے پہنے ہوئے تھے، سیدنا ابو جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے بھی ایک بات کہی ہے، گویا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں بھی لوگوں کے منفی جواب میں شریک ہو جاؤں، ہم نے کہا: اے ابو جابر! کیا آپ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ کے بھیاس قریشی نوجوان کے جوتوں کی طرح جوتے ہوں، جبکہ آپ ہمارے سردار ہیں؟ جب حارث نے یہ بات سنی تو اس نے وہ جوتے اتار دیئے اور ان کو میری طرف پھینک دیا اور کہا: اللہ کی قسم! تو ضرور ضرور ان کو پہنے گا، اس نے کہا: تو نے نوجوان کو ناراض کر دیا ہے، اب یہ جوتے اس کو واپس کر دے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میںیہ واپس نہیں کروں گا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہٹھیک ہیں، اگر یہ فال سچی ہے تو میں اس سے بطورِ سلب لوں گا۔ یہ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عقبہ کے بارے میں اور جو کچھ انھوں نے وہاں دیکھا تھا، اس کے بارے میں حدیث ہے۔
Jam e Tirmazi
1243
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ أَرِنَا ذَهَبَكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ كَلَّا وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ يَقُولُ يَدًا بِيَدٍ.
Narrated Ibn Shihab: From Malik bin Aws bin Hadathan that he said: I once said: 'Who can change some Dirham?' So Talhah bin 'Ubaidullah - and he was with 'Umar bin Al-Khattab - said: Leave your gold with us, then return to us when our servant comes and we will give you your silver. 'Umar bin Al-Khattab said: No! By Allah! Either give him his silver or return his gold to him. Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Silver for gold is Riba, except for hand to hand; and wheat for wheat is Riba except for hand to hand; and barley for barley is Riba except hand to hand; and dried-dates for dried-dates is Riba except for hand to hand.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This is acted upon according to the people of knowledge. And the meaning of Ha' Wa Ha' is hand to hand.
مالک بن اوس بن حدثان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ( بازار میں ) یہ کہتے ہوئے آیا: درہموں کو ( دینار وغیرہ سے ) کون بدلے گا؟ تو طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ نے کہا اور وہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس تھے: ہمیں اپنا سونا دکھاؤ، اور جب ہمارا خادم آ جائے تو ہمارے پاس آ جاؤ ہم ( اس کے بدلے ) تمہیں چاندی دے دیں گے۔ ( یہ سن کر ) عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا تم اسے چاندی ہی دو ورنہ اس کا سونا ہی لوٹا دو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونے کے بدلے چاندی لینا سود ہے، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو ۱؎، گیہوں کے بدلے گیہوں لینا سود ہے، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو، جو کے بدلے جو لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو، اور کھجور کے بدلے کھجور لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ «إلاھاء وھاء» کا مفہوم ہے نقدا نقد۔
Jam e Tirmazi
1610
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، يَخْتَصِمَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ لَهُمْ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، ‏‏‏‏‏‏تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتَ أَنْتَ وَهَذَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ أَنْتَ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
Narrated Malik bin Aws bin Al-Hadathan: I entered upon 'Umar bin Al-Khattab. (Then) Uthman bin 'Affan, Az-Zubair, 'Abdur-Rahman bin Awf, and Sa'd bin Abi Waqqas entered. Then 'Ali and Al-'Abbas came disputing. 'Umar said to them: ' I ask you, by Allah the One by Whose Will the heavens and the earth are maintained, do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) said: We are not inherited from, what we leave is charity? They said: 'Yes.' 'Umar said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) died, Abu Bakr said: I am the caretaker of the Messenger of Allah (ﷺ) So you and he went to Abu Bakr and you sought your inheritance from the son of your brother, and he sought the inheritance of his wife from her father. So Abu Bakr said that the Messenger of Allah (ﷺ) said: We are not inherited from, what we leave is charity. And Allah knows that he is truthful, innocent, instructing and following the truth.' [Abu 'Eisa said:] There is a lengthy story along with the Hadith. And this Hadith is Hasan Sahih Gharib as a narration of Malik bin Anas.
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس گیا، اسی دوران ان کے پاس عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہم بھی پہنچے، پھر علی اور عباس رضی الله عنہما جھگڑتے ہوئے آئے، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے، تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ہمارا ( یعنی انبیاء کا ) کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں! عمر رضی الله عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوں، پھر تم اپنے بھتیجے کی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کرنے اور یہ اپنی بیوی کے باپ کی میراث طلب کرنے کے لیے ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آئے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا ( یعنی انبیاء کا ) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“، ( عمر رضی الله عنہ نے کہا ) اللہ خوب جانتا ہے ابوبکر سچے، نیک، بھلے اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں تفصیل ہے، یہ حدیث مالک بن اوس ۱؎ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
1719
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَعْزِلُ نَفَقَةَ أَهْلِهِ سَنَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي الْكُرَاعِ وَالسَّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهابٍ.
Narrated 'Umar bin Al-Khattab: The wealth of Banu An-Nadir was among the spoils of war which Allah granted upon His Messenger (ﷺ) which the Muslims did not gain with the rush of their horses nor camel. So it was purely for the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) would set aside a year's worth of expenditure for his family, then he would use what remained of it for horses and weapons to be used in Allah's cause. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Sufyan bin 'Uyainah reported this Hadith from Ma'mar, from Ibn Shihab.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسود کے قبیلہ بنی نضیر کے اموال ان میں سے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور «فے» ۱؎ عطا کیا تھا، اس کے لیے مسلمانوں نے نہ تو گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ، یہ پورے کا پورا مال خالص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے اس میں سے ایک سال کا خرچ الگ کر لیتے، پھر جو باقی بچتا اسے جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں اور ہتھیاروں میں خرچ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو معمر کے واسطہ سے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔
Musnad Ahmad
2883
۔ (۲۸۸۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیَّامُ التَّشْرِیْقِ أَیَّامُ طُعْمٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَقَالَ مَرَّۃً أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۳۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایامِ تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔
Musnad Ahmad
2884
۔ (۲۸۸۴) عَنْ نُبَیْشَۃَ الْھُذَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیَّامُ التَّشْرِیْقِ أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ وَذِکْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۹۷)
سیّدنا نبیشہ ہذلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایامِ تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔
Musnad Ahmad
3861
۔ (۳۸۶۱) عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ اُنَادِیَ اَیَامَ مِنًی (وَفِی لَفْظٍ: (((یَا سَعْدُ! قُمْ فَاَذِّنْ بِمِنًی) اَنَّہَا اَیَامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ فَلَا صَوْمَ فِیْہَا۔)) یَعْنِیْ اَیَّامَ التَّشْرِیْقِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۶)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: منیٰ کے دنوں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ اعلان کرنے کا حکم دیایا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد! اٹھو اور منی میں یہ اعلان کرو کہ یہ کھانے کے پینے کے دن ہیں، اس لیے ان دنوں میں کوئی روزہ نہیںہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد ایام تشریق تھے۔
Musnad Ahmad
3862
۔ (۳۸۶۲) عَنْ اَبِی الشَّعْثَائِ قَالَ: اَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی الْیَوْمِ الْاَوْسَطِ مِنْ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ، قَالَ: فَاُتِیَ بِطَعَامٍ فَدَنَا الْقَوْمُ وَتَنَحّٰی ابْنٌ لَہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہٗ: اُدْنُفَاطْعَمْ،قَالَ: فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، قَالَ: فَقَالَ: اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّہَا اَیَّاُم طُعْمٍ وَذِکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۴۹۷۰)
۔ ابو شعثاء کہتے ہیں: ہم ایام تشریق کے درمیانی دن کو سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، اتنے میں کھانا لایا گیا اور لوگ کھانے کے قریب ہوئے، لیکن ان کا ایک بیٹا ذرا دور ہو گیا، سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: قریب ہو کر کھانا کھاؤ۔ لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ کھانے پینے اور ذکر کے دن ہیں۔
Musnad Ahmad
3863
۔ (۳۸۶۳) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( یَوْمُ عَرَفَۃَ وَیَوْمُ النَّحْرِ وَاَیَّامُ التَّشْرِیْقِ عِیْدُنَا اَہْلَ اْلإِسْلَامِ وَہُنَّ اَیَّامُ اَکْلٍ وَشُرْبٍ)) (مسند احمد: ۱۷۵۱۴)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔