TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10000 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 6 in this chapter
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ: یَتَعَوَّذُ مِنْ اَرْبَعٍ، مِنْ عَذَابِ جَھَنَّّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (مسند احمد: ۷۸۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار چیزوں سے پناہ طلب کرتے تھے، جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، حیات و ممات کے فتنے سے اور دجال کے فتنے سے۔
10000
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۰۰۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۷۸۷۰)

Related Chapters

236
1
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
Musnad Ahmad
2
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
Musnad Ahmad
3
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
Musnad Ahmad
4
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
5
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
6
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
Musnad Ahmad
7
عدد سے شروع ہونے والی ثنائیات کا بیان
Musnad Ahmad
8
عدد سے شروع ہونے والی ثلاثیات کا بیان
Musnad Ahmad
9
عدد کے ساتھ شروع ہونے والی رباعیات کا بیان
Musnad Ahmad
10
عدد سے شروع ہونے والی خماسیات کا بیان
Musnad Ahmad
11
چار چار امور کا بیان
Musnad Ahmad
12
(20)Chapter: [What Has Been Related] About The Tasmiyah When Performing Wudu
باب: وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
13
24)Chapter: What Has Been Related About Wiping The Head, That It Is To Begin With The Front Of The Head To Its Rear.
باب: سر کے اگلے حصہ سے مسح شروع کرنے اور پچھلے حصہ تک لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
14
(25)Chapter: What Has Been Related That It Is To Be Begun At The Rear Of The Head
باب: مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Is Said During The Opening Of The Salat
باب: نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: [What Has Been Related] About Opening The Recitation With Al-Hamdulillahi Rabbil-Alamin (All Praise Is Due To Allah, The Lord Of All That Exits.)
باب: ”الحمدللہ رب العالمین“ سے قرأت شروع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Four Rak'ah Before Az-Zuhr
باب: ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Four (Rak'ah) Before Asr
باب: عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Beginning With As-Safa Before Al-Marwah
باب: سعی کی شروعات مروہ کے بجائے صفا سے کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About 'The Parable Of Th World Is That Of Four People'
باب: دنیا کی مثال چار قسم کے لوگوں کی مانند ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Supplication At The Opening Of The Salat At Night
باب: نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
24
بَاب مُخَالطَة الْجنب
جنبی شخص سے میل جول رکھنے اور اس کے لیے مباح امور کا بیان
Mishkat
25
ہر تکریم و تزئین والے کام کو دائیں ہاتھ سے شروع کرنے کے مستحبّ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
وضو کی نیت اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
28
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
29
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
30
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
Musnad Ahmad
31
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
Musnad Ahmad
32
تیمم کی مشروعیت کے سبب اور اس کے طریقے کا بیان
Musnad Ahmad
33
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
34
اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت
Musnad Ahmad
35
امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
Musnad Ahmad
36
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
Musnad Ahmad
38
نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
Musnad Ahmad
39
جو شخص چار رکعت والی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لے
Musnad Ahmad
40
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
41
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
42
سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
43
عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
44
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
46
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
47
اس شخص کا بیان جو یہ روایت کرتا ہے کہ نمازِ کسوف دورکعت ہے اور ہر رکعت میں چار رکوع ہیں
Musnad Ahmad
48
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
Musnad Ahmad
49
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
Musnad Ahmad
50
میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

32
Musnad Ahmad
1812
۔ (۱۸۱۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا فَرَغَ أَحَدُکُمْ مِنَ التَّشَہُّدِ الْآخِرِ فَلْیَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۶)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔
Musnad Ahmad
3319
۔ (۳۳۱۹) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِیْ حَائِطٍ مِنْ حِیْطَانِ الْمَدِیْنَۃِ فِیْ أَقْبُرٍ وَہُوَ عَلٰی بَغْلَتِہٖ فَحَادَتْ بِہٖ، وَکَادَتْ أَنْ تُلْقِیَہٗ، فَقَالَ: ((مَنْ یَّعْرِفُ ہٰذِہِ الْأَقْبُرَ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَوْمٌ ہَلَکُوْا فِیْ الْجَاہِلِیَّۃِ؟ فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ لَّا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یُّسْمِعَکُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ۔)) ثُمَّ قَالَ لَنَا: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ۔)) قُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔)) فَقُلْنَا: نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۷)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنازید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم مدینہ کے ایک باغ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے،وہاں کچھ قبریں بھی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس خچر پر سوار تھے، وہ اچانک بدکنے لگا اورقریب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نیچے گرا دیتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر کی آوازیں سنا دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایاـ: تم عذابِ جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عذاب ِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم عذابِ قبر سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
Musnad Ahmad
2904
۔ (۲۹۰۴) عَنْ عَمْرَۃَ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ تْنِی یَہُوْدِیَّۃٌ تَسْأَلُنِیْ، فَقَالَتْ: أَعَاذَکِ اللّٰہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنُعَذَّبُ فِی الْقُبُوْرِ؟ قَالَ: ((عَائِذٌ بِاللّٰہِ۔)) فَرَکِبَ مَرْکَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ فَکُنْتُ بَیْنَ الْحُجَرِ مَعَ النِّسْوَۃِ فَجَائَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ مَرْکَبِہِ فَأَتَی مُصَلَّاہُ فَصَلَّی النَّاسُ وَرَائَ ہُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوْعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَأَطَالَ الْقِیَامَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُوْدَ ثُمَّ قَامَ أَیْسَرَ مِنْ قِیَامِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَکَعَ أَیْسَرَ مِنْ رُکُوْعِہِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ أَیْسَرَ مِنْ سُجُوْدِہِ الْأَوَّلِ، فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ فَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ۔ فَقَالَ: ((اِنَّکُمْ تُفْتَنُوْنَ فِی الْقُبُوْرِ کَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔)) قَالَتْ: فَسَمِعْتُہُ بَعْدَ ذَلِکَ یَسْتَعِیْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۷۲)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت کوئی سوال کرنے کے لیے میرے پاس آئی، اس نے مجھ سے کہا: اللہ تجھے عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تومیں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیںقبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا،پس میں نکلی اور ابھی تک عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان ہی تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری سے اتر کر آ گئے اور نماز کی جگہ پر تشریف لے آئے اور (نماز شروع کر دی)، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لمبا قیام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایااور لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا اورلمبا رکوع کیا،پھر اپنا سر اٹھایا اور (قومہ میں) لمبی دیر کے لیے کھڑے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا اور طویل سجدہ کیا، (پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے) اور پہلی رکعت سے مختصر قیام کیا، پھر رکوع کیا، جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر قیام کیا تو پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سجدہ کیا جو پہلے سجدے سے مختصر تھا۔ اس طرح (دو رکعت نماز میں) چار رکوع اور چار سجدے تھے، اتنے میں سورج صاف ہوگیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دجال کے فتنے کی طرح قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔ اس کے بعد میں سنتی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلبکرتے تھے۔
Sahih Muslim
1324
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah (way peace be upon him) said: When any one of you utters tashahhud (in prayer) he must seek refuge with Allah from four (trials) and should thus say: O Allah! I seek refuge with Thee from the torment of the Hell, from the torment of the grave, from the trial of life and death and from the evil of the trial of Masih al-Dajjal (Antichrist).
وکیع نے کہا : ہمیں اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے محمد بن ابی عائشہ سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، نیز ( اوزاعی نے ) یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے اور انھون نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : روسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھ لے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرے ۔ ’’اے اللہ ! میں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت میں آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں
Sahih Muslim
1325
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ، حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ»
A'isha, the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to supplicate in prayer thus: O Allah! I seek refuge with Thee from the torment of the grave, and I seek refuge with Thee from the trial of the Masih al-Dajjal (Antichrist) and I seek refuge with Thee from the trial of life and death. O Allah! I seek refuge with Thee from sin and debt. She ('A'isha) reported: Someone said to him - (the Holy Prophet): Messenger of Allah! why is it that you so often seek refuge from debt? He said: When a (person) incurs debt, (he is obliged) to tell lies and break promise.
نبی کریم ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں ( یہ ) دعا مانگتے تھے : اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں ، میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں گناہ اور قرض ( میں پھنس جانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ‘ ‘ ) حضرت عائشہ ؓ نے کہا : کسی کہنے والے نے کہا : اللہ رسول ﷺ آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : ”جب آدمی مقروض ہو جائے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ‘ ‘
Sahih Muslim
1326
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When any one of you completes the last tashahhud. he should seek refuge with Allah from four (trials). I.e. from the torment of Hell, from the torment of grave, from the trial of life and death, and from the mischief of Masih at-Dajjal (Antichrist). This hadith has been narrated by al-Auza'i with the same chain of transmitters but with these words: When any one of you completes the tashahhud and he made no mention of the words the last .
ولید بن مسلم نےکہا : مجھے اوزاعی نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں حسان بن عطیہ نےحدیث سنائی ، کہا : مجھے محمد بن ابی عائشہ نے حدیث سنائی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی آخر ی تشہد سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے : جہنم کے عذاب سے ، قبر کے عذاب سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
1328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
Abu Huraira reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O Allah! I seek refuge with Thee from the torment of the grave, and the torment of Hell, and the trial of life and death and the mischief of Masih al-Dajjal.
ہشام نے یحییٰ سے اور انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے : اللہ کے نبی ﷺ نے دعا کی : ’’اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور آگ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔ ‘ ‘
Sunnan Abu Dawood
880
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ:‏‏‏‏ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ .
Narrated Aishah, Ummul Muminin: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم used to make supplication during the prayer saying: O Allah, I seek refuge in Thee from the punishment of the grave; I seek refuge in Thee from the trial of the Antichrist; I seek refuge in Thee from the trial of life and the trial of death; O Allah, I seek refuge in Thee from sin and debt. Someone said to him: How often you seek refuge from debt! He replied: When a man is in debt, he talks and tells lies, makes promises and breaks them.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم»یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح ( کانے ) دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب قرض دار ہوتا ہے، بات کرتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف کرتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
982
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ:‏‏‏‏ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying: When one of you finishes the last tashahhud, he should seek refuge in Allah from four things: the punishment in Hell, the punishment in the grave, the trail of life and death, and the evil of Antichrist.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے ۔