TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12373 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 8 in this chapter
فصل سوم: جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
۔ (۱۲۳۷۳)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ: سَارَ عَلِیٌّ إِلَی النَّہْرَوَانِ، فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَیَجِیئُ قَوْمٌ یَتَکَلَّمُونَ بِکَلِمَۃِ الْحَقِّ، لَا یُجَاوِزُ حُلُوقَہُمْیَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، سِیمَاہُمْ أَوْ فِیہِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ، مُخْدَجُ الْیَدِ، فِییَدِہِ شَعَرَاتٌ سُودٌ۔)) إِنْ کَانَ فِیہِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَیْرَ النَّاسِ۔ قَالَ: ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ، قَالَ: فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِیٌّ سَاجِدًا مَعَنَا۔ (احمد: ۸۴۸)
طارق بن زیاد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں خوارج کے مقابلہ کے لیے نکلے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کوقتل کیااور پھر کہا: ذرادیکھو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ عنقریب ایک قوم نکلے گی کہ وہ بات تو حق کی کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ حق سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میںسے گزر جاتا ہے، ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام، ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کے ہاتھ پر سیاہ بال ہوں گے۔ اب دیکھو کہ اگر کوئی مقتول ایسا ہو تو تم نے ایک بدترین لوگوں کو قتل کیا اور اگر کوئی مقتول ایسا نہ ہو تو تم نے نیک ترین لوگوں کو قتل کیا۔پھر ہم نے واقعی ناقص ہاتھ والے ایسے مقتول کو پا لیا، پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور ہمارے ساتھ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی سجدہ میں گر گئے۔
12373
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۳۷۳) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ البزار: ۸۹۷ (انظر: ۸۴۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ظن غالب کی روشنی میں قتال کیا گیا تھا، لیکن جب ناقص ہاتھ والے مقتول کی علامت نظر آئی تو یقین ہو گیا کہ یہ وہی لوگ تھے، جن سے واقعی قتال ہونا چاہیے تھا۔

Related Chapters

2,004
1
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
2
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
Musnad Ahmad
3
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
Musnad Ahmad
4
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
Musnad Ahmad
5
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے خواب کے بارے خطبہ اور اپنی وفات کے قریب ہونے کی صورت میں اس کی تعبیر کرنا
Musnad Ahmad
6
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
Musnad Ahmad
7
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لشکر کی صفین کے موقع پر کامیابی کے بعد ہز یمت کا سبب اور خوارج کاحضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خلاف خروج اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ان کو قتل کرنا
Musnad Ahmad
8
باب ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
Musnad Ahmad
9
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
Musnad Ahmad
10
فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
Musnad Ahmad
11
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
12
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
Musnad Ahmad
13
فرشتوں، نبیوں اور مومنوں کی شفاعت کا بیان، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید والے اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے
Musnad Ahmad
14
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
15
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
16
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
17
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
18
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
Musnad Ahmad
19
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
20
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
21
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
22
حج کے بعض اعمال کے اسباب کا بیان حج کے بعض اعمال کے اسباب سے متعلقہ روایت، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ابو طفیل نے روایت کی
Musnad Ahmad
23
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
Musnad Ahmad
24
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
25
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
Musnad Ahmad
26
اللہ تعالیٰ اور اپنے مالک کی اطاعت کرنے والے غلام کے ثواب اور اس کی مخالفت کرنے والے غلام کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
27
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
28
شراب کے مفاسد اور شراب کی حرمت سے قبل سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو اونٹنیوں کے متعلق واقعہ
Musnad Ahmad
29
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
Musnad Ahmad
30
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں تالیف قرآن کا بیان
Musnad Ahmad
32
مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے
Musnad Ahmad
33
سورۂ منافقون سورۂ منافقون کے شانِ نزول اور سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کابیان
Musnad Ahmad
34
{لَمْ یَکُنْ…} یعنی سورۃ البینہ کی تفسیر سورۃ البیّنہ کی تفسیر اور سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
35
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میںسے نہیںہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
36
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
37
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
Musnad Ahmad
38
توبہ کے حکم اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اپنے مؤمن بندے سے خوش ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
Musnad Ahmad
40
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
41
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
Musnad Ahmad
42
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
Musnad Ahmad
43
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
44
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
Musnad Ahmad
45
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
Musnad Ahmad
46
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
Musnad Ahmad
47
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
Musnad Ahmad
48
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
Musnad Ahmad
49
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
Musnad Ahmad
50
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Musnad Ahmad
12372
۔ (۱۲۳۷۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْخَوَارِجُ بِالنَّہْرَوَانِ، قَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: إِنَّ ہَؤُلَائِ الْقَوْمَ قَدْ سَفَکُوا الدَّمَ الْحَرَامَ، وَأَغَارُوا فِی سَرْحِ النَّاسِ، وَہُمْ أَقْرَبُ الْعَدُوِّ إِلَیْکُمْ، وَإِنْ تَسِیرُوْا إِلٰی عَدُوِّکُمْ أَنَا أَخَافُ أَنْ یَخْلُفَکُمْ ہٰؤُلَائِ فِی أَعْقَابِکُمْ، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((تَخْرُجُ خَارِجَۃٌ مِنْ أُمَّتِی لَیْسَ صَلَاتُکُمْ إِلٰی صَلَاتِہِمْ بِشَیْئٍ، وَلَا صِیَامُکُمْ إِلٰی صِیَامِہِمْ بِشَیْئٍ، وَلَا قِرَائَتُکُمْ إِلٰی قِرَائَتِہِمْ بِشَیْئٍ،یَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ یَحْسِبُونَ أَنَّہُ لَہُمْ وَہُوَ عَلَیْہِمْ، لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، وَآیَۃُ ذٰلِکَ أَنَّ فِیہِمْ رَجُلًا، لَہُ عَضُدٌ وَلَیْسَ لَہَا ذِرَاعٌ، عَلَیْہَا مِثْلُ حَلَمَۃِ الثَّدْیِ، عَلَیْہَا شَعَرَاتٌ بِیضٌ، لَوْ یَعْلَمُ الْجَیْشُ الَّذِینَیُصِیبُونَہُمْ، مَا لَہُمْ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِمْ، لَاتَّکَلُوا عَلَی الْعَمَلِ، فَسِیرُوا عَلَی اسْمِ اللّٰہِ۔)) فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔ (مسند احمد: ۷۰۶)
زید بن وہب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نہروان میں خوارج کا ظہور ہوا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے رفقاء میں کھڑے ہو کر کہا: ان لوگوں نے نا حق خون بہایااور انھوں نے لوگوں کے جانوروں کو لوٹا اور وہ تمہارے دشمنوں میں سے قریب ترین بھی ہیں، اندیشہ ہے کہ اگر تم اپنے دوسرے دشمن کی طرف جاؤ تو یہ تمہارے بعد باقی ماندہ افراد و اموال پر چڑھ آئیں گے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ایسا گروہ بھی آئے گا کہ تمہاری نمازیں اور روزے ان کی نمازوں اور روزوں کے بالمقابل کچھ بھی نہ ہوںگی اور تمہاری تلاوت ان کی تلاوت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی، وہ قرآن کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں ہے، جبکہ درحقیقت وہ ان کے خلاف ہوگا اور وہ ان کے حلقوں سے نیچے تک نہیں اترے گا، وہ اسلام میں سے یوں نکل جائے گیں، جیسے تیر شکار میں سے کچھ نشان لیے بغیر گزر جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہے کہ ان میںسے ایک آدمی کا بازو محض کہنی کے اوپر والا حصہ ہوگا اور کہنی سے نیچے والا حصہ نہ ہوگا اور وہ بھی پستان کی مانند ہو گا، اس پر کچھ سفید بال ہوں گے، اگر ان کو قتل کرنے والوں کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان سے اپنے عمل اور اس کے ثواب کا علم ہو جائے تو وہ اپنے اسی عمل پر کفایت کر کے اعمال کرنا چھوڑ دیں گے، پس تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر بیان کی۔
Musnad Ahmad
12378
۔ (۱۲۳۷۸)۔ حَدَّثَنَا أَبُو کَثِیرٍ مَوْلَی الْأَنْصَارِ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ سَیِّدِی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ حَیْثُ قُتِلَ أَہْلُ النَّہْرَوَانِ، فَکَأَنَّ النَّاسَ وَجَدُوا فِی أَنْفُسِہِمْ مِنْ قَتْلِہِمْ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ حَدَّثَنَا بِأَقْوَامٍ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ، ثُمَّ لَا یَرْجِعُونَ فِیہِ أَبَدًا حَتّٰییَرْجِعَ السَّہْمُ عَلٰی فُوقِہِ، وَإِنَّ آیَۃَ ذٰلِکَ أَنَّ فِیہِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ، مُخْدَجَ الْیَدِ إِحْدٰییَدَیْہِ کَثَدْیِ الْمَرْأَۃِ، لَہَا حَلَمَۃٌ کَحَلَمَۃِ ثَدْیِ الْمَرْأَۃِ، حَوْلَہُ سَبْعُ ہُلْبَاتٍ۔ فَالْتَمِسُوہُ فَإِنِّی أُرَاہُ فِیہِمْ فَالْتَمَسُوہُ فَوَجَدُوہُ إِلٰی شَفِیرِ النَّہَرِ تَحْتَ الْقَتْلٰی، فَأَخْرَجُوہُ فَکَبَّرَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ، صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، وَإِنَّہُ لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَہُ عَرَبِیَّۃً، فَأَخَذَہَا بِیَدِہِ فَجَعَلَ یَطْعَنُ بِہَا فِی مُخْدَجَتِہِ، وَیَقُولُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، وَکَبَّرَ النَّاسُ حِینَ رَأَوْہُ وَاسْتَبْشَرُوْا، وَذَہَبَ عَنْہُمْ مَا کَانُوا یَجِدُونَ۔ (مسند احمد: ۶۷۲)
انصار کے غلام ابو کثیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے سردار سیدنا علی ابن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا، جب انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تو یو ں محسوس ہواکہ ان کو قتل کرنے کے بعد لوگوں کو ندامت اور افسوس محسوس ہوا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ صورت بھانپ کر کہا: لوگو! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسے لوگوں کی بابت بتلایا تھا جو دین میں سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، وہ کبھی دین کی طرف واپس نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ تیر کمان میں واپس آ جائے، ان کی ایک علامت یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کا وہ ہاتھ عورت کے پستان کی مانند ہوگا اور اس پریوں سرا بنا ہوگا جیسے پستان کے اوپر ہوتا ہے، اس کے ارد گرد سات بال ہوں گے، تم اسے تلاش کرو، میرا خیال ہے کہ وہ انہی میں ہوگا،لوگوں نے اسے تلاش کیا اوراسے نہر کے کنارے پر مقتولوں کے ڈھیر کے نیچے پایا، لوگوں نے اسے نکالا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات سچ ہے، اس وقت سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی عربی کمان لٹکائے ہوئے تھے، وہ اسے اس مقتول کے ناقص ہاتھ والے گوشت کے ٹکڑے پر لگاتے اور کہتے جاتے تھے: اللہ اور اس کے رسول کا فرمان سچ ہے، لوگوںنے بھی جب اسے دیکھا تو اللہ اکبر کہنے لگے اور خوشی کا اظہار کیا اور ان کے افسوس کی کیفیت جاتی رہی۔
Musnad Ahmad
12352
۔ (۱۲۳۵۲)۔ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا وَائِلٍ فِی مَسْجِدِ أَہْلِہِ، أَسْأَلُہُ عَنْ ہٰؤُلَائِ الْقَوْمِ الَّذِینَ قَتَلَہُمْ عَلِیٌّ بِالنَّہْرَوَانِ، فَفِیمَا اسْتَجَابُوا لَہُ؟ وَفِیمَا فَارَقُوہُ؟ وَفِیمَا اسْتَحَلَّ قِتَالَہُمْ؟ قَالَ: کُنَّا بِصِفِّینَ فَلَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِأَہْلِ الشَّامِ اعْتَصَمُوا بِتَلٍّ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِیَۃَ: أَرْسِلْ إِلٰی عَلِیٍّ بِمُصْحَفٍ وَادْعُہُ إِلٰی کِتَابِ اللّٰہِ فَإِنَّہُ لَنْ یَأْبٰی عَلَیْکَ، فَجَائَ بِہِ رَجُلٌ فَقَالَ: بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ: {أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ أُوتُوْا نَصِیبًا مِنْ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ إِلٰی کِتَابِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیقٌ مِنْہُمْ وَہُمْ مُعْرِضُونَ} [آل عمران: ۲۳] فَقَالَ عَلِیٌّ: نَعَمْ، أَنَا أَوْلٰی بِذٰلِکَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، قَالَ: فَجَائَتْہُ الْخَوَارِجُ، وَنَحْنُ نَدْعُوہُمْ یَوْمَئِذٍ الْقُرَّائَ، وَسُیُوفُہُمْ عَلٰی عَوَاتِقِہِمْ، فَقَالُوْا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! مَا نَنْتَظِرُ بِہٰؤُلَائِ الْقَوْمِ الَّذِینَ عَلَی التَّلِّ، أَلَا نَمْشِی إِلَیْہِمْ بِسُیُوفِنَا حَتّٰییَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ، فَتَکَلَّمَ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اتَّہِمُوا أَنْفُسَکُمْ، فَلَقَدْ رَأَیْتُنَایَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ،یَعْنِی الصُّلْحَ الَّذِی کَانَ بَیْنَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَیْنَالْمُشْرِکِینَ، وَلَوْ نَرٰی قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، فَجَائَ عُمَرُ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَہُمْ عَلٰی بَاطِلٍ؟ أَلَیْسَ قَتْلَانَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلَاہُمْ فِی النَّارِ؟ قَالَ: ((بَلٰی۔)) قَالَ: فَفِیمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمِ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ؟ فَقَالَ: ((یَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّی رَسُولُ اللّٰہِ، وَلَنْ یُضَیِّعَنِی أَبَدًا۔)) قَالَ: فَرَجَعَ وَہُوَ مُتَغَیِّظٌ فَلَمْ یَصْبِرْ حَتّٰی أَتٰی أَبَا بَکْرٍ، فَقَالَ: یَا أَبَا بَکْرٍ! أَلَسْنَا عَلٰی حَقٍّ وَہُمْ عَلٰی بَاطِلٍ؟ أَلَیْسَ قَتْلَانَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلَاہُمْ فِی النَّارِ؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَفِیمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمِ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ؟ فَقَالَ: یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! إِنَّہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَلَنْ یُضَیِّعَہُ اللّٰہُ أَبَدًا، قَالَ: فَنَزَلَتْ سُورَۃُ الْفَتْحِ، قَالَ: فَأَرْسَلَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی عُمَرَ فَأَقْرَأَہَا إِیَّاہُ، قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَفَتْحٌ ہُوَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۷۱)
حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو وائل کے ہاں ان کی مسجد میں حاضر ہوا، میں ان سے ان لوگوں کی بابت دریافت کرنا چاہتا تھا جن کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا، کہ لوگوں نے کیونکر ان کی بات مانی اور نہ ماننے والوں نے کیونکر ان کی بات نہ مانی اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیونکر ان کوقتل کرنا حلال سمجھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ صفین کے مقام پر موجود تھے، جب اہل شام کے ساتھ گھمسان کی لڑائی ہونے لگی، تو انہوں نے ٹیلے کی طرف پناہ لی، سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف مصحف بھیجیں اور انہیں کتاب اللہ کے فیصلہ پر آنے کی دعوت دیں، وہ اس بات کو قبول کرنے سے انکار نہیں کریںگے، تو ایک آدمی سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں قرآن لے کر آیا اور اس نے کہاہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ وَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ} … ٍٍِْْ بھلا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو اللہ کی کتاب میں سے حصہ دیا گیا اور انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ کتاب ان لوگوں کے مابین ہونے والے تنازعات کا فیصلہ کردے تو ان میں سے ایک فریق کج ادائی کے ساتھ منہ موڑ جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:ٹھیک ہے، میں اس بات کا زیادہ مستحق ہوں، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب حاکم ہے، خارجی لوگ جنہیں ہم ان دنوں قراء کہا کرتے تھے، وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، وہ اپنی تلواریں اپنے کندھوں پر لٹکائے ہوئے تھے، انہوںنے کہا: امیر المومنین! یہ لوگ جو ٹیلے کی طرف پناہ لیے ہوئے ہیں، ہم ان کی انتظارکیوں کر رہے ہیں؟ ہم کیوںنہ تلواریں تان کر ان کی طرف لڑنے کو نکلیں تاآنکہ اللہ ہمارے اور انکے درمیان فیصلہ کردے، یہ سن کر سیدنا سہل بن حنیف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بولے، انہوں نے کہا: لوگو! اپنی رائے یا بات پر نظر ثانی کرو، میںنے دیکھا کہ صلح حدیبیہ کے دن جو صلح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور مشرکین کے مابین ہوئی، اس روز اگر ہم لڑنا چاہتے تو لڑ سکتے تھے، صلح کی بات ہوئی تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں؟ اور کیا ہمارے مقتول جنتی اور ان کے مقتول جہنمی نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کمزوری کیوں دکھائیں؟ اورہم یوں واپس کیوں لوٹ جائیں، جب کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے مابین فیصلہ نہیں کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غصہ کے عالم میں واپس لوٹ آئے، ان سے صبر نہ ہو وہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور کہا: اے ابو بکر! کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور کیا وہ لوگ کفر پر نہیں ہیں؟ اور کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنمی نہیں؟ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی بالکل، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر ہم اپنے دین کے بارے میں اتنی کمزوری کیوں دکھائیں؟اور ہم یوں ہی واپس کیوںچلے جائیں؟ جب کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے مابین فیصلہ نہیں کیا؟ تو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابن خطاب! وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا، سیدنا سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد سورۂ فتح نازل ہوئی، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجا کہ جا کر انہیں سنا آؤ؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس صلح کا انجام فتح ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
12362
۔ (۱۲۳۶۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِیدَۃَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ذَکَرَ أَہْلَ النَّہْرَوَانِ، فَقَالَ: فِیہِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْیَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْیَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْیَدِ، فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسند احمد: ۹۰۴)
۔ (دوسری سند)سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اہل نہروان کا ذکرکرتے ہوئے کہا: ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہوگا، … پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Musnad Ahmad
12376
۔ (۱۲۳۷۶)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِیدَۃَ قَالَ: لَمَّا قَتَلَ عَلِیٌّ أَہْلَ النَّہْرَوَانِ، قَالَ: الْتَمِسُوہُ، فَوَجَدُوہُ فِی حُفْرَۃٍ تَحْتَ الْقَتْلٰی فَاسْتَخْرَجُوہُ، وَأَقْبَلَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَخْبَرْتُکُمْ مَا وَعَدَ اللّٰہُ مَنْ یَقْتُلُ ہٰؤُلَائِ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِی وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۹۸۳)
عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اہل نہروان کو قتل کیاتو انہوں نے کہا: اس قسم کے مقتول کو تلاش کرو، لوگوں نے اسے مقتولین کے نیچے ایک گڑھے میں گرا ہوا پایا، انھوں نے اس کو نکالا اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم فخر و غرور میںمبتلا ہوجاؤ گے تو میں تمہیں بتلاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبانی ان لوگوں کے قاتلین کے لیے کیا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: اے علی! کیاآپ نے خود یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم ہے۔