TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12606 - باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
۔ (۱۲۶۰۶)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِیِّ، عَنْ اَبِیہِ، أَنَّہُ قَالَ: عَدَلَ إِلَیَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَۃٍ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَکَ تَحْتَ ہٰذِہِ السَّرْحَۃِ؟ قُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّہَا، قَالَ: ہَلْ غَیْرَ ذَلِکَ؟ قُلْتُ: لَا، مَا أَنْزَلَنِی إِلَّا ذٰلِکَ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا کُنْتَ بَیْنَ الْأَخْشَبَیْنِ مِنْ مِنًی، وَنَفَحَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِنَّ ہُنَالِکَ وَادِیًا،یُقَالُ لَہُ: السُّرَرُ، بِہِ سَرْحَۃٌ سُرَّ تَحْتَہَا سَبْعُونَ نَبِیًّا۔)) (مسند احمد: ۶۲۳۳)
سیدنا عمران انصاری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مکہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے ٹھہراہوا تھا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میری طرف آئے اور انہوں نے پوچھا: آپ اس درخت کے نیچے کس لیے ٹھہرے ہیں؟ میں نے کہا: میں تو محض اس کے سائے میں آرام کی غرض سے رکا ہوں، انہوں نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی کوئی مقصد ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، میں تو صرف سایہ میں آرام کی غرض سے یہاں ٹھہرا ہوں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم منی میں دو پہاڑوں کے درمیان پہنچ جاؤ اور پھر مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ وہاں ایک وادی ہے، جسے وادی سرر کہتے ہیں، اس میںایک بڑا درخت ہے، جس کے نیچے سترانبیاء کی ولادت ہوئی اور ان کی ناف یہیں کاٹی گئی۔
12606
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۲۶۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن عمران الانصاری و ابوہ، قال الذھبی: لا یدری من ھو ولا ابوہ، اخرجہ النسائی: ۵/ ۲۴۸ (انظر: ۶۲۳۳)

Related Chapters

287
1
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
Musnad Ahmad
2
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
3
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
Musnad Ahmad
4
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
Musnad Ahmad
5
بَاب هِجْرَة أَصْحَابه صلى الله عَلَيْهِ وَسلم من مَكَّة ووفاته
صحابہ کرام ؓ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور نبی ﷺ کی وفات کا بیان
Mishkat
6
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
7
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
Musnad Ahmad
8
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
Musnad Ahmad
9
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
Musnad Ahmad
10
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
11
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
12
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
Musnad Ahmad
13
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
Musnad Ahmad
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
Musnad Ahmad
16
عمرۂ حدیبیہ کا ذکر اور قریش کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو مکہ مکرمہ میں داخلہ سے روکنے اورصلح ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
17
فتح خیبر کے بعد سیدنا حجاج بن علاط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مکہ مکرمہ جا کر کفار قریش سے حیلہ بازی کر کے اپنا مال حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
Musnad Ahmad
19
مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
Musnad Ahmad
20
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
21
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
22
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
Musnad Ahmad
23
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
Musnad Ahmad
24
باب چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے دوران رونما ہونے والے بعض واقعات کا بیان جرعہ کے دن والا واقعہ
Musnad Ahmad
25
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
Musnad Ahmad
26
باب چہارم: سیدنا امام حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاتذکرہ اور اس امر کابیان کے صادق وامین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق ان کی وفات سے خلفائے راشدین کی مدت خلافت پوری ہوگئی
Musnad Ahmad
27
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
باب ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
Musnad Ahmad
29
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
30
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
Musnad Ahmad
31
(89) CHAPTER. The mosques which are on the way to Al-Madina and the places where the Prophet had offered Salat (prayers).
ان مساجد کا بیان جو مدینہ کے راستے میں واقع ہیں اور وہ جگہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی ہے
Sahih Bukhari
32
فتح مکہ کے دن بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی سورہ فتح کی قراءت کا تذکرہ
Sahih Muslim
33
Chapter: It is recommended to enter Makkah from the Upper Mountain Pass and to leave from the Lower Mountain Pass; Entering a city via a route different than the one by which you leave it
مکہ ثنیہ علیا (بالائی گھاٹی )سے داخل ہونا اور ثنیہ سفلیٰ(زیر یں گھاٹی )سے باہر نکلنا اور شہر میں ایک راستے سے داخل ہونا اور دوسرے سے نکلنا مستحب ہے
Sahih Muslim
34
مکہ مکرمہ میں ہر وقت نماز پڑھنے کے جواز کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے وقت کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
باب: مکہ مکرمہ میں جنگ و جدال کی حرمت کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
Chapter: What Has Been Related About the Prophet Going To The Eid By One Route, And Returning By Another
باب: عید کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About What Is Done With The Hadi When It Is Afflicted
باب: ہدی کا جانور جب راستے میں مرنے لگے تو کیا کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Road: When There Is A Disagreement About It, How Should It Be Made?
باب: راستے کے سلسلہ میں جب اختلاف ہو تو اسے کتنا چھوڑا جائے؟
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The One Whose Two Feet Became Dusty In The Cause Of Allah
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں غبار آلود قدموں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Removing Harm From The Road
باب: راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About What Is Required For Gatherings In The Road
باب: راستے میں بیٹھنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
44
فصل چہارم: قبر کے میت کو سختی کی ساتھ دبوچنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
Musnad Ahmad
46
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
47
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
Musnad Ahmad
48
جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
Musnad Ahmad
49
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
50
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

9
Musnad Ahmad
4858
۔ (۴۸۵۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ فَتًی مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی أُرِیدُ الْجِہَادَ وَلَیْسَ لِی مَالٌ أَتَجَہَّزُ بِہِ، فَقَالَ: ((اذْہَبْ إِلٰی فُلَانٍ الْأَنْصَارِیِّ، فَإِنَّہُ قَدْ کَانَ تَجَہَّزَ وَمَرِضَ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْرِئُکَ السَّلَامَ، وَیَقُولُ لَکَ: ادْفَعْ إِلَیَّ مَا تَجَہَّزْتَ بِہِ۔)) فَقَالَ لَہُ ذٰلِکَ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُ! ادْفَعِی إِلَیْہِ مَا جَہَّزْتِنِی بِہِ، وَلَا تَحْبِسِی عَنْہُ شَیْئًا، فَإِنَّکِ وَاللّٰہِ إِنْ حَبَسْتِ عَنْہُ شَیْئًا لَا یُبَارِکُ اللّٰہُ لَکِ فِیہِ۔)) قَالَ عَفَّانُ: إِنَّ فَتًی مِنْ أَسْلَمَ۔ (مسند أحمد: ۱۳۱۹۲)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں جہاد تو کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس مال نہیں ہے کہ میں تیار کر سکوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ، اس نے جہاد کی تیاری کر رکھی تھی، لیکن وہ بیمار پڑ گیا ہے اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول تم کو سلام کہہ رہے ہیں اور تم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو تم نے تیاری کر رکھی ہے، وہ مجھے دے دو۔ اس نے جا کر یہی پیغام دیا، اس نے جواباً اپنی بیوی سے کہا: اے فلاں خاتون! تونے میرے لیے جو کچھ تیاری کی تھی، وہ سارا کچھ اس آدمی کو دے دے، اور کوئی چیز مت روک، اللہ کی قسم! اگر تو نے کوئی چیز روکی تو اللہ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت نہیں ڈالے گا۔ عفان راوی نے کہا: یہ نوجوان بنو اسلم قبیلے سے تھا۔
Musnad Ahmad
5052
۔ (۵۰۵۲)۔ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ قَتَلَ رَجُلًا مِنَ الْکُفَّارِ، فَنَفَّلَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَلَبَہُ وَدِرْعَہُ، فَبَاعَہُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ۔ (مسند أحمد: ۲۲۹۸۸)
۔ سیدنا ابو قتادہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک کافر کو قتل کیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کافر کا سلب اور زرہ ان کو دی، پھر انھوں نے وہ زرہ پانچ اوقیوں کے عوض فروخت کی تھی۔
Musnad Ahmad
10826
۔ (۱۰۸۲۶)۔ عَنْ مُجَمِّعِ ابْنِ جَارِیَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، وَکَانَ أَحَدَ الْقُرَّائِ الَّذِینَ قَرَئُ وْا الْقُرْآنَ، قَالَ: شَہِدْنَا الْحُدَیْبِیَۃَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْہَا إِذَا النَّاسُ یُنْفِرُونَ الْأَبَاعِرَ، فَقَالَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ: مَا لِلنَّاسِ؟ قَالُوْا: أُوحِیَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ حَتَّی وَجَدْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی رَاحِلَتِہِ عِنْدَ کُرَاعِ الْغَمِیمِ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَیْہِ، فَقَرَأَ عَلَیْہِمْ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا} فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیْ رَسُولَ اللّٰہِ! وَفَتْحٌ ہُوَ؟ قَالَ: ((أَیْ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ إِنَّہُ لَفَتْحٌ۔)) فَقُسِمَتْ خَیْبَرُ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ، لَمْ یُدْخِلْ مَعَہُمْ فِیہَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَہِدَ الْحُدَیْبِیَۃَ، فَقَسَمَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا، وَکَانَ الْجَیْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَۃٍ، فِیہِمْ ثَلَاثُ مِائَۃِ فَارِسٍ، فَأَعْطَی الْفَارِسَ سَہْمَیْنِ وَأَعْطَی الرَّاجِلَ سَہْمًا۔ (مسند احمد: ۱۵۵۴۹)
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،جو ان قراء میں سے تھے، جنھوں نے قرآن پڑھا ہوا تھا،سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حدیبیہ میں حاضر ہوئے، جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو لوگ اچانک اپنے اپنے اونٹوں کو تیز تیز چلانے لگے، لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھا: کیا بات ہوئی؟ تو دوسروں نے بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول ہوا ہے، ہم بھی اونٹوں کو دوڑاتے ہوئے دوسرے لوگوں کے ساتھ چل دئیے، ہم نے کراع غمیم مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سواری پر موجود پایا، لوگ آپ کے اردگرد جمع تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے سامنے {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنَا۔} یعنی سورۂ فتح کی تلاوت کی۔ صحابہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ! کیایہ ہمارے حق میں واقعی فتح ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! یہیقینا فتح ہے۔ اس کے بعد غزوۂ خیبر کی غنیمتیں صرف ان لوگوں میں تقسیم کی گئیں، جو حدیبیہ میں حاضر تھے، ان کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کیا گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان غنیمتوں کو اٹھارہ حصوں میں بانٹ دیا، لشکر میں پندرہ سو آدمی تھے، ان میں سے تین سو گھڑ سوار بھی تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھڑ سواروں کو دو دو حصے اور پیدل لوگوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
Musnad Ahmad
11044
۔ (۱۱۰۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا اجْتَمَعَ الْقَوْمُ لِغُسْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ فِی الْبَیْتِ إِلَّا أَہْلُہُ عَمُّہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ، وَصَالِحٌ مَوْلَاہُ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا لِغُسْلِہِ نَادٰی مِنْ وَرَائِ الْبَابِ أَوْسُ بْنُ خَوْلِیِّ نِ الْأَنْصَارِیُّ، ثُمَّ أَحَدُ بَنِی عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَکَانَ بَدْرِیًّا عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ لَہُ: یَا عَلِیُّ نَشَدْتُکَ اللّٰہَ! وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: ادْخُلْ، فَدَخَلَ فَحَضَرَ غُسْلَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَلِ مِنْ غُسْلِہِ شَیْئًا، قَالَ: فَأَسْنَدَہُ إِلٰی صَدْرِہِ وَعَلَیْہِ قَمِیصُہُ، وَکَانَ الْعَبَّاسُ وَالْفَضْلُ وَقُثَمُ یُقَلِّبُونَہُ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَکَانَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ وَصَالِحٌ مَوْلَاہُمَا یَصُبَّانِ الْمَائَ، وَجَعَلَ عَلِیٌّیَغْسِلُہُ، وَلَمْ یُرَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ شَیْئٌ مِمَّا یُرٰی مِنَ الْمَیِّتِ، وَہُوَ یَقُولُ: بِأَبِی وَأُمِّی مَا أَطْیَبَکَ حَیًّا وَمَیِّتًا، حَتّٰی إِذَا فَرَغُوا مِنْ غُسْلِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ یُغَسَّلُ بِالْمَائِ وَالسِّدْرِ جَفَّفُوہُ، ثُمَّ صُنِعَ بِہِ مَا یُصْنَعُ بِالْمَیِّتِ، ثُمَّ أُدْرِجَ فِی ثَلَاثَۃِ أَثْوَابٍ ثَوْبَیْنِ أَبْیَضَیْنِ وَبُرْدِ حِبَرَۃٍ، ثُمَُُُُّ دَعَا الْعَبَّاسُ رَجُلَیْنِ، فَقَالَ: لِیَذْہَبْ أَحَدُکُمَا إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَکَانَ أَبُو عُبَیْدَۃَیَضْرَحُ لِأَہْلِ مَکَّۃَ، وَلْیَذْہَبْ الْآخَرُ إِلَی أَبِی طَلْحَۃَ بْنِ سَہْلٍ الْأَنْصَارِیِّ، وَکَانَ أَبُو طَلْحَۃَیَلْحَدُ لِأَہْلِ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ الْعَبَّاسُ لَہُمَا حِینَ سَرَّحَہُمَا: اللَّہُمَّ خِرْ لِرَسُولِکَ، قَالَ: فَذَہَبَا فَلَمْ یَجِدْ صَاحِبُ أَبِی عُبَیْدَۃَ أَبَا عُبَیْدَۃَ وَوَجَدَ صَاحِبُ أَبِی طَلْحَۃَ أَبَا طَلْحَۃَ فَجَائَ بِہِ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کے لیے لوگ جمع ہوئے، گھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل خانہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا فضل بن عباس، سیدنا قثم بن عباس، سیدنا اسامہ بن زید بن حار ثہ اجمعین اور ان کا غلام سیدنا صالح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، یہ لوگ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کے لیے جمع ہوئے تو دروازہ کے باہر سے بنو عوف بن خزرج کے ایک فرد سیدنا اوس بن خولی انصاری بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آواز دیتے ہوئے کہا: اے علی! میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، ہمارا بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر حق اور حصہ ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اندر آجاؤ، سو وہ اندر آگئے، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غسل کے موقع پر حاضر رہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے میں شریک نہیں ہو سکے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قمیض اسی طرح رہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے سینے سے لگا لیا، سیدنا عباس، سیدنا فضل اور سیدنا قثم ، سیدنا علی بن ابی طالب کے ساتھ مل کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو کو بدلتے اور سیدنا اسامہ بن زید اور ان کا غلام سیدنا صالح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پانی ڈالتے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دیتے، عام طور پر فوت ہونے والوں کے جسم میں جو ناروا باتیں دیکھی جاتی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دیتے جاتے اور کہتے: میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی زندگی میں اور زندگی کے بعد بھی کس قدر پاکیزہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیری کے پتے ملے پانی سے غسل دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسم کو خشک کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وہ سارے کام کئے گئے جو میت کے ساتھ کئے جاتے ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تین کپڑوں میں داخل کیا گیا، ان میں سے دو سفید تھے اور ایک دھاری دار چادر تھی، اس کے بعد سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دو آدمیوں کو بلوا کر ایک کو سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اور دوسرے کو سیدنا ابو طلحہ بن سھل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انصاری کو بلانے کے لیے بھیجا، سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ میں اہل مکہ کے لیے قبر کھودا کرتے تھے، یہ صندوقییعنی شق والی قبر بناتے تھے اور سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اہل مدینہ کے لیے بغلییعنی لحد والی قبر تیار کیا کرتے تھے، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان دونوں کو روانہ کرنے کے بعد کہا: اے اللہ ! ان دونوں میں سے تو جسے چاہے، اپنے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اختیار فرما، وہ دونو ں گئے، جو آدمی سیدنا عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلانے گیا تھا، وہ اسے نہیں مل سکے، اور جو آدمی سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلانے گیا تھا، وہ اسے مل گئے، چنانچہ وہ ان کو ساتھ لے آئے اور انہوں نے آکر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے لحدوالی (بغلی قبر) تیار کی۔
Musnad Ahmad
11305
۔ (۱۱۳۰۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، حَدَّثَنِی أَبِی، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَۃٌ، فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَحْرِ بَعْضِ ظُہُوْرِھِمْ وَقَالُوْا: یُبَلِّغُنَا اللّٰہُ بِہِ، فَلَمَّا رَأٰی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ ھَمَّ أَنْ یَأْذَنَ لَھُمْ فِی نَحْرِ بَعْضِ ظُہُوْرِھِمْ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِیْنَا الْقَوْمَ غَدًا جِیَاعًا أَوْ رِجَالًا؟ وَلٰکِنْ إِنْ رَأَیْتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَایَا أَزْوَادِھِمْ فَنَجْمَعَھَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللّٰہَ فِیْہَا بِالْبَرَکَۃِ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی سَیُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِکَ، فَدَعَاالنَّبٍیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِبَقَایَا أَزْوَادِھِمْ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَجِیْئُوْنَ بِالْحَثْیَۃِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذٰلِکَ، وَکَانَ أَعْلَاھُمْ مَنْ جَائَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَجَمَعَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَدْعُوَ، ثُمَّ دَعَا الْجَیْشَ بِأَوْعِیَتِہِمْ فَأَمَرَھُمْ أَنْ یَحْتَثُوْا، فَمَا بَقِیَ فِی الْجَیْشِ وِعَائٌ إِلَّا مَلَؤُوْہُ وَبَقِیَ مِثْلُہٗ،فَضَحِکَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ فَقَالَ: ((أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ، لَا یَلْقَی اللّٰہَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِہِمَا إِلاَّ حُجِبَتْ عَنْہُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۲۸)
عبدالرحمن بن ابی عمرۃ انصاری اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، اس دوران لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری کے بعض اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہمارے اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کا اللہ مالک ہے۔ لیکن جب سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو بعض اونٹوں کے نحر کرنے کی اجازت دینے کو تیار ہیں تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسو ل! کل جب ہم بھوکے یا پیدل دشمن کے مقابل ہوں گے تو ہمارا کیا بنے گا؟ اس کے بدلے اگر آپ مناسب سمجھیں تو لوگوں کے پاس کھانے پینے کی جو اشیاء بچی ہوئی ہوں،وہ منگوائیں ۔ہم ان اشیاء کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے ان میں برکت کی دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کی دعا سے ہمارے لیے برکت فرمائے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں سے کھانے پینے کی بچی ہوئی اشیاء منگوائیں، لوگ کھانے کی ایک ایک مٹھییا اس سے کچھ زیادہ لانے لگے، کوئی زیادہ سے زیادہ طعام لایا تو وہ ایک صاع کھجور تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان تمام اشیاء کو جمع کرکے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے بقدردعائیں کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لشکر کو بلوایا کہ وہ اپنے اپنے برتن (تھیلے، بوریاں وغیرہ) لے آئیں اور ان کو کھانے سے بھر لیں، پورے لشکر میں جتنے بھی برتن تھے، انہوں نے ان سب کو کھانے سے بھر لیااور اتنا ہی کھانا باقی بچا رہا، یہ دیکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شدت فرح سے اس حدتک مسکرائے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑیں نظر آنے لگیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں،جو مومن ان دو باتوں کی شہادت اور دلی اقرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، قیامت کے دن اس سے آگ کو دور ہٹا دیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
11533
۔ (۱۱۵۳۳)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِیَادٍ السَّاعِدِیِّ الْأَنْصَارِیِّ، أَنَّہُ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَہُوَ یُبَایِعُ النَّاسَ عَلَی الْہِجْرَۃِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَایِعْ ہٰذَا، قَالَ: ((وَمَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ ابْنُ عَمِّی حَوْطُ بْنُ یَزِیدَ أَوْ یَزِیدُ بْنُ حَوْطٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا أُبَایِعُکَ، إِنَّ النَّاسَ یُہَاجِرُونَ إِلَیْکُمْ وَلَا تُہَاجِرُونَ إِلَیْہِمْ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ لَا یُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یُحِبُّہُ، وَلَا یَبْغُضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَہُوَ یَبْغُضُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۵)
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے کی بیعت لے رہے تھے، حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد حوط بن یزیدیایزید بن حوط ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے بیعت نہیں لیتا، لوگ تمہاری طرف ہجرت کرکے آئیں گے، تم ان کی طرف ہجرت کرکے نہیں جائو گے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! جو آدمی انصار سے محبت کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے محبت کرتا ہوگا، لیکن جو آدمی انصار سے بغض رکھے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے بغض رکھتا ہو گا۔
Musnad Ahmad
11694
۔ (۱۱۶۹۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَوْ غَیْرِہِ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: لَمَّا کُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آیَۃً کُنْتُ أَسْمَعُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوَجَدْتُہَا عِنْدَ خُزَیْمَۃَ الْأَنْصَارِیِّ، {مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ … …تَبْدِیلًا} قَالَ: فَکَانَ خُزَیْمَۃُ یُدْعٰی ذَا الشَّہَادَتَیْنِ، أَجَازَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہَادَتَہُ بِشَہَادَۃِ رَجُلَیْنِ، قَالَ الزُّھْرِیُّ: وَقُتِلَ یَوْمَ صِفِّیْنَ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹۱)
سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کے مصاحف لکھے جا رہے تھے تو میں نے ایک آیت گم پائی، میں خود اس آیت کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا کرتا تھا، وہ مجھے کسی کے ہاں سے لکھی ہوئی نہیں مل رہی تھی، آخر کار وہ مجھے سیدنا خزیمہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں سے لکھی ہوئی ملی، وہ آیتیہ تھی:{مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗوَمِنْھُمْمَّنْیَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔} … اہل ایمان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہدو پیمان کو خوب پورا کیا اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے مقصد اور منزل کو پاگئے اور بعض حصول منزل کے منتظر ہیں اور انہوںنے اپنے کئے ہوئے عہد میں تبدیلی بالکل نہیں کی۔ (سورۂ احزاب: ۲۳) سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ذوالشھادتین یعنی دو گواہیوں والے کہلاتے تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان اکیلے کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا تھا۔ زہری کہتے ہیں کہ وہ صفین کے موقعہ پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں قتل ہوئے۔
Musnad Ahmad
12570
۔ (۱۲۵۷۰)۔ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ أَسْلَمَ وَغِفَارًا وَمُزَیْنَۃَ وَأَشْجَعَ وَجُہَیْنَۃَ، وَمَنْ کَانَ مِنْ بَنِی کَعْبٍ مَوَالِیَّ دُونَ النَّاسِ، وَاللّٰہُ وَرَسُولُہُ مَوْلَاہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۹۳۹)
سیدناابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؒ نے فرمایا: اسلم، غفار، مزینہ، اشجع، جہینہ اور بنو کعب کے قبائل میرے حلیف، معاون اور مدد گار ہیں اوراللہ اور اس کے رسول ان کے مددگار ہیں۔
Musnad Ahmad
12737
۔ (۱۲۷۳۷)۔ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیِّ، قَالَ: أَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ نَحْوَ الْیَمَنِ فَقَالَ: ((الْإِیمَانُ ہَاہُنَا۔)) قَالَ: ((أَلَا! وَإِنَّ الْقَسْوَۃَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِی الْفَدَّادِینَ عِنْدَ اُصُوْلِ اَذْنَابِ الْإِبِلِ، حَیْثُیَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ فِی رَبِیعَۃَ وَمُضَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۹)
سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اصل ایمان یہاں ہے اور شدت اور دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوںمیں ہے، جہاں شیطان کا سینگ نمودار ہو گا، ربیعہ اور مضر قبائل میں۔