TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ

Chapter 110 of فضائل و مناقب کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 110 of 144 · 12 Hadith
۔ (۱۱۹۰۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَامِتٍ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَکَانُوا یُحِلُّونَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ أَنَا وَأَخِی أُنَیْسٌ وَأُمُّنَا، فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی نَزَلْنَا عَلٰی خَالٍ لَنَا ذِی مَالٍ وَذِی ہَیْئَۃٍ، فَأَکْرَمَنَا خَالُنَا فَأَحْسَنَ إِلَیْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُہُ، فَقَالُوْا: إِنَّکَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَہْلِکَ خَلَفَکَ إِلَیْہِمْ أُنَیْسٌ، فَجَائَ نَا خَالُنَا فَنَثَا عَلَیْہِ مَا قِیلَ لَہُ، فَقُلْتُ: أَمَّا مَا مَضٰی مِنْ مَعْرُوفِکَ فَقَدْ کَدَّرْتَہُ وَلَا جِمَاعَ لَنَا فِیمَا بَعْدُ، قَالَ: فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَیْہَا وَتَغَطّٰی خَالُنَا ثَوْبَہُ وَجَعَلَ یَبْکِی، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی نَزَلْنَا بِحَضْرَۃِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَنَافَرَ أُنَیْسٌ رَجُلًا عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِہَا فَأَتَیَا الْکَاہِنَ فَخَیَّرَ أُنَیْسًا، فَأَتَانَا بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِہَا وَقَدْ صَلَّیْتُ یَا ابْنَ أَخِی قَبْلَ أَنْ أَلْقٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَ سِنِینَ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلّٰہِ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَیْنَ تَوَجَّہُ؟ قَالَ: حَیْثُ وَجَّہَنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: وَأُصَلِّی عِشَائً حَتّٰی إِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ أُلْقِیتُ کَأَنِّی خِفَائٌ (قَالَ أَبِی: قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ سُلَیْمَانُ: کَأَنِّی جِفَائٌ) حَتّٰی تَعْلُوَنِی الشَّمْسُ، قَالَ: فَقَالَ أُنَیْسٌ: إِنَّ لِی حَاجَۃً بِمَکَّۃَ فَاکْفِنِی حَتّٰی آتِیَکَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَیَّ ثُمَّ أَتَانِی، فَقُلْتُ: مَا حَبَسَکَ؟ قَالَ: لَقِیتُ رَجُلًا یَزْعُمُ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَہُ عَلٰی دِینِکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا یَقُولُ النَّاسُ لَہُ؟ قَالَ: یَقُولُونَ، إِنَّہُ شَاعِرٌ وَسَاحِرٌ وَکَاہِنٌ، قَالَ: وَکَانَ أُنَیْسٌ شَاعِرًا، قَالَ: فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکُہَّانِ فَمَا یَقُولُ بِقَوْلِہِمْ، وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَہُ عَلٰی أَقْرَائِ الشِّعْرِ فَوَاللّٰہِ مَا یَلْتَامُ لِسَانُ أَحَدٍ أَنَّہُ شِعْرٌ، وَاللّٰہِ إِنَّہُ لَصَادِقٌ وَإِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: ہَلْ أَنْتَ کَافِیَّ حَتّٰی أَنْطَلِقَ فَأَنْظُرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَکُنْ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ عَلٰی حَذَرٍ فَإِنَّہُمْ قَدْ شَنِفُوا لَہُ وَتَجَہَّمُوا لَہُ، وَقَالَ عَفَّانُ: شِیفُوا لَہُ، وَقَالَ بَہْزٌ: سَبَقُوْا لَہُ، وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ: شَفَوْا لَہُ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حَتّٰی قَدِمْتُ مَکَّۃَ فَتَضَیَّفْتُ رَجُلًا مِنْہُمْ فَقُلْتُ: أَیْنَ ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی تَدْعُونَہُ الصَّابِئَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ إِلَیَّ، قَالَ: الصَّابِئُ، قَالَ: فَمَالَ أَہْلُ الْوَادِی عَلَیَّ بِکُلِّ مَدَرَۃٍ وَعَظْمٍ حَتّٰی خَرَرْتُ مَغْشِیًّا عَلَیَّ، فَارْتَفَعْتُ حِینَ ارْتَفَعْتُ کَأَنِّی نُصُبٌ أَحْمَرُ، فَأَتَیْتُ زَمْزَمَ فَشَرِبْتُ مِنْ مَائِہَا وَغَسَلْتُ عَنِّی الدَّمَ، فَدَخَلْتُ بَیْنَ الْکَعْبَۃِ وَأَسْتَارِہَا، فَلَبِثْتُ بِہِ ابْنَ أَخِی ثَلَاثِینَ مِنْ بَیْنِ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، وَمَا لِی طَعَامٌ إِلَّا مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتّٰی تَکَسَّرَتْ عُکَنُ بَطْنِی، وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِی سَخْفَۃَ جُوعٍ، قَالَ: فَبَیْنَا أَہْلُ مَکَّۃَ فِی لَیْلَۃٍ قَمْرَائَ أَضْحِیَانٍ، وَقَالَ عَفَّانُ: أَصْخِیَانٍ، وَقَالَ بَہْزٌ: أَصْخِیَانٍ، وَکَذٰلِکَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ، فَضَرَبَ اللّٰہُ عَلٰی أَصْمِخَۃِ أَہْلِ مَکَّۃَ فَمَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ غَیْرُ امْرَأَتَیْنِ فَأَتَتَا عَلَیَّ وَہُمَا تَدْعُوَانِ إِسَافَ وَنَائِلَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَنْکِحُوْا أَحَدَہُمَا الْآخَرَ فَمَا ثَنَاہُمَا ذٰلِکَ، قَالَ: فَأَتَتَا عَلَیَّ، فَقُلْتُ: وَہَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَۃِ غَیْرَ أَنِّی لَمْ اَکْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوْ کَانَ ہَاہُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَہُمَا ہَابِطَانِ مِنَ الْجَبَلِ، فَقَالَ: مَا لَکُمَا؟ فَقَالَتَا: الصَّابِئُ بَیْنَ الْکَعْبَۃِ وَأَسْتَارِہَا، قَالَا: مَا قَالَ لَکُمَا، قَالَتَا: قَالَ لَنَا کَلِمَۃً تَمْلَأُ الْفَمَ، قَالَ: فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ وَصَاحِبُہُ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ صَلَّی، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَیَّاہُ بِتَحِیَّۃِ أَہْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: ((عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ مِمَّنْ أَنْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: مِنْ غِفَارٍ، قَالَ: فَأَہْوَی بِیَدِہِ فَوَضَعَہَا عَلٰی جَبْہَتِہِ، قَالَ: فَقُلْتُ فِی نَفْسِی: کَرِہَ أَنِّی انْتَمَیْتُ إِلٰی غِفَارٍ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِیَدِہِ فَقَذَعَنِی صَاحِبُہُ وَکَانَ أَعْلَمَ بِہِ مِنِّی، قَالَ: ((مَتٰی کُنْتَ ہَاہُنَا؟)) قَالَ: کُنْتُ ہَاہُنَا مُنْذُ ثَلَاثِینَ مِنْ بَیْنِ لَیْلَۃٍ وَیَوْمٍ، قَالَ: ((فَمَنْ کَانَ یُطْعِمُکَ؟)) قُلْتُ: مَا کَانَ لِی طَعَامٌ إِلَّا مَائُ زَمْزَمَ، قَالَ: فَسَمِنْتُ حَتّٰی تَکَسَّرَ عُکَنُ بَطْنِی، وَمَا وَجَدْتُ عَلٰی کَبِدِی سُخْفَۃَ جُوعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ، وَإِنَّہَا طَعَامُ طُعْمٍ۔)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ: ائْذَنْ لِی یَا رَسُولَ اللّٰہِ فِی طَعَامِہِ اللَّیْلَۃَ؟ قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَانْطَلَقَ أَبُو بَکْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَہُمَا حَتّٰی فَتَحَ أَبُو بَکْرٍ بَابًا فَجَعَلَ یَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِیبِ الطَّائِفِ، قَالَ: فَکَانَ ذٰلِکَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَکَلْتُہُ بِہَا فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنِّی قَدْ وُجِّہَتْ إِلَیَّ أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ، وَلَا أَحْسَبُہَا إِلَّا یَثْرِبَ فَہَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّی قَوْمَکَ لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَنْفَعَہُمْ بِکَ وَیَأْجُرَکَ فِیہِمْ؟)) قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حَتّٰی أَتَیْتُ أُنَیْسًا، قَالَ: فَقَالَ لِی: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّی صَنَعْتُ أَنِّی أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: قَالَ: فَمَا لِی رَغْبَۃٌ عَنْ دِینِکَ إِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ثُمَّ أَتَیْنَا أُمَّنَا، فَقَالَتْ: فَمَا بِی رَغْبَۃٌ عَنْ دِینِکُمَا فَإِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، فَتَحَمَّلْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا، فَأَسْلَمَ بَعْضُہُمْ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، وَقَالَ: یَعْنِی یَزِیدَ بِبَغْدَادَ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: إِذَا قَدِمَ، فَقَالَ بَہْزٌ: إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ، وَکَذَا قَالَ أَبُو النَّضْرِ، وَکَانَ یَؤُمُّہُمْ خُفَافُ بْنُ إِیمَائِ بْنِ رَحَضَۃَ الْغِفَارِیُّ، وَکَانَ سَیِّدَہُمْ یَوْمَئِذٍ، وَقَالَ: بَقِیَّتُہُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْلَمْنَا، فَقَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ فَأَسْلَمَ بَقِیَّتُہُمْ، قَالَ: وَجَائَ تْ أَسْلَمُ، فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَی الَّذِی أَسْلَمُوْا عَلَیْہِ فَأَسْلَمُوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((غِفَارٌ غَفَرَ اللّٰہُ لَہَا وَأَسْلَمُ سَالَمَہَا اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۵۸)
سیدنا عبد اللہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اپنی قوم غفار، جو حرمت والے مہینے کو حلال سمجھتے تھے، سے وفد کی صورت میں نکلے۔ میں (ابو ذر)، میرا بھائی انیس اور میری ماں روانہ ہوئے، ہم اپنے ماموں کے پاس آکر ٹھہرے جو مالدار اور اچھی پوزیشن والا تھا۔ انھوں نے ہماری بڑی عزت کی اور ہمارے ساتھ احسان کیا، لیکن ان کی قوم ہم سے حسد کرنے لگی ۔ اس لیے انھوں نے کہا: جب تو اپنے اہل خانہ سے باہر جاتا ہے تو انیس ان کے پاس آ جاتا ہے۔ پس ہمارا ماموں آیا اور جو بات اسے کہی گئی، اس کے سلسلے میں ہماری غیبت کرنے لگ گیا۔ میں نے اسے کہا: جو تو نے ہمارے ساتھ نیکی کی تھی، اسے تو تو نے گدلا کر دیا ہے اور آئندہ ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے۔ ہم اپنی اونٹنیوں کے قریب پہنچے اور سوار ہو کر چل پڑے، میرے ماموں نے کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کر دیا۔ ہم چلتے گئے اور مکہ کے قریب جا کر پڑاؤ ڈالا۔ انیس نے ایک آدمی سے ہماری اونٹنیوں اور اتنی ہی اور کے عوض فخر کا اظہار کیا۔ وہ دونوں فیصلہ کرانے کے لیے ایک نجومی کے پاس گئے، اس نے انیس کو منتخب کیا، پس انیس ہماری اور اتنی اور اونٹنیاں لے کر ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا: اے میرے بھیتجے! میں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملنے سے تین برس پہلے سے نماز پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا: کس کے لیے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کے لیے۔ میں نے کہا: تو کس طرف رخ کرتا تھا۔ اس نے کہا: جس طرف میرا ربّ میرا رخ موڑ دیتا تھا۔ میں رات کے آخری حصے میں نمازِ عشا ادا کرتا تھا۔ اب میں گم سم ہو کر لیٹ گیا،یہاں تک کہ سورج چڑھ آیا۔ انیس نے کہا: مجھے مکہ میں کوئی کام ہے، تو مجھے کفایت کر۔ انیس چلا گیا، مکہ پہنچ گیا اور مجھے اچھائی کا بدلہ برائی سے دیا۔ پھر وہ واپس آ گیا۔ میں نے پوچھا: تو نے وہاں کیا کیا ہے؟ اس نے کہا: میں مکہ میں ایک ایسے آدمی کو ملا ہوں جو تیرے دین پر ہے، وہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے کہا: لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: لوگ اسے شاعر، نجومی اور جادو گر کہتے ہیں۔ انیس خود بھی ایک شاعر تھا۔ اس نے کہا: لیکن میں نے نجومیوں کا کلام سنا ہے اور اس کے کلام کو زبان آور شعراء کے کلام پر پیش کیا ہے، لیکن کسی کی زبان یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ وہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کلام بھی) شعر ہے۔ اللہ کی قسم! وہ صادق ہے اور لوگ جھوٹے ہیں۔ میں نے کہا: اب تو مجھے کفایت کر، تاکہ میں بھی جا کر دیکھ سکوں (کہ اصل ماجرا کیا ہے؟) اس نے کہا: تم مکہ والوں سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ اسے ناپسند کر رہے ہیں میں مکہ پہنچ گیا اور ایک آدمی کے پاس مہمان ٹھہرا اور اس سے پوچھا: وہ آدمی کہاں ہے جس کو تم لوگ بے دین کہتے ہو؟ اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ بے دین۔ (یہ سنتے ہی) اہل وادی مٹی کے ڈھیلے اور ہڈیاں لے کر مجھ پر چڑھ دوڑے، میں بے ہوش ہو کر گر پڑا، جب (مجھے افاقہ ہوا اور)میں اٹھا تو ایسے لگتا تھا کہ میں ایک سرخ پتھر ہوں۔ میں زمزم پانی پر آیا، خون دھویا، اس کا پانی پیا اور میں کعبہ کے پردوں کے اندر داخل ہو گیا اے میرے بھتیجے! میں وہاں تیس دنوں تک ٹھہرا رہا۔ میرے پاس مائے زمزم کے علاوہ کوئی کھانا نہیں تھا، وہی پی کر میں موٹا ہوتا رہا (یعنی خوراک کی کمی پوری کرتا رہا) اور اپنے پیٹ کی سلوٹیں ختم کرتا رہا۔ مجھے بھوک کی وجہ سے ہونے والی لاغری محسوس نہیں ہوئی۔ (دن گزرتے رہے اور ) ایک دن مکہ میں چاندنی رات اور صاف فضا تھی، اچانک ان کے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں۔ اس نے کہا: وہ طواف کے دوران میرے پاس سے گزریں، میں نے کہا: ایک کی دوسرے سے شادی کر دو۔ لیکن وہ اپنے قول سے باز نہ آئیں۔ (چکر کے دوران پھر) میرے پاس سے گزریں۔ میں نے کہا: شرمگاہ تو لکڑی کی طرح ہے اور میں نے بات کنایۃً نہیں کی۔ وہ دونوں چیختی چلاتی چلتی گئیں اور یہ کہتی گئیں کہ کاش ہماری جماعت کا بھی کوئی آدمییہاں ہوتا! اس نے کہا: اسی اثنا میں ان کے سامنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر (بلندی سے) اترتے ہوئے آ رہے تھے۔ آپ نے کہا: تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان بے دین ہے۔ انہوں نے کہا: اس نے تمھیں کیا کہا: انھوں کہا: ایسی بات کہی کہ جس سے منہ بھر جاتا ہے۔ اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور حجرِ اسود کا استلام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا اور پھر نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابوذر نے کہا: میں پہلا آدمی تھا جس نے انھیں اسلام کا سلام پیش کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وعلیک ورحمۃ اللہ پھر فرمایا: آپ کون ہیں؟ میں نے کہا: میں غفار قبیلے سے ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ جھکایا اور اپنی انگلی اپنی پیشانی پر رکھی۔ میں دل ہی دل میں کہنے لگا کہ شاید آپ نے غفار کی طرف میری نسبت کو ناپسند کیا۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن آپ کے ساتھی نے مجھے روک دیااور وہ آپ کو مجھ سے زیادہ جانتا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: آپ اس جگہ کب سے ہیں؟ میں نے کہا: میں تیس دنوں سے یہاں ہوں، پھر آپ نے فرمایا: کون تجھے کھانا کھلاتا تھا؟ میں نے کہا: زمزم کے پانی کے علاوہ میرے پاس کوئی کھانا نہیں ہے، یہی پانی پی کر میں موٹا ہوتا رہا اور اپنے پیٹ کی سلوٹیں پر کرتا رہا اور مجھے بھوک کی وجہ سے کوئی لاغری محسوس نہیں ہوئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ پانی مبارک ہے اور یہ کھانے کا کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، آج رات میں اس کو کھانا کھلاؤں گا۔ آپ نے اجازت دے دی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابوبکر چل پڑے اور میں بھی ان کے ساتھ چل دیا۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دروازہ کھولا اور طائف کا منقی لانا شروع کیا۔ یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے کھایا، پھر کچھ مدت میں وہاں ٹھہرا پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی کھجوروں والی زمین میرے لیے مطیع کر دی گئی ہے، مجھے لگتا ہے کہ وہ یثرب (مدینہ) ہے، کیا تو اپنی قوم کو میرا پیغام پہنچا دے گا، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے ان کو نفع دے اور ان کی وجہ سے تجھے اجرو ثواب بھی عطا کرے۔ میں انیس کے پاس پہنچا۔ اس نے پوچھا: تو نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: اسلام قبول کر لیا ہے اور تصدیق کی ہے۔ اس نے کہا: میں بھی تیرے دین سے بے رغبتی نہیں کرتا، میں بھی مطیع ہو گیا ہوں اورمیں نے بھی تصدیق کی ہے ہم دونوں اپنی ماں کے پاس گئے تو کہنے لگی مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں میں بھی مسلمان ومطیع ہوگئی۔ ہم سوار ہوئے اور اپنی قوم غفار کے پاس پہنچ گئے۔ نصف قبیلہ تو مسلمان ہو گیا۔ ایماء بن رحضہ غفاری، جو ان کا سردار تھا، ان کو نماز پڑھاتا تھا۔ اور نصف قبیلے نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم بھی مسلمان ہو جائیں گے۔ پس جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہ نصف قبیلہ کے لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔ اسلم قبیلہ کے لوگ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز پر ہمارے بھائی مسلمان ہوئے، ہم بھی اسی چیز پر مسلمان ہوتے ہیں۔ پھر وہ مسلمان ہو گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غفار قبیلہ، اللہ اس کو بخش دے اور اسلم قبیلہ، اللہ اسے سلامتی کے ساتھ رکھے۔
Takhreej
(۱۱۹۰۷) تخریج: اخرجہ مسلم: ۲۴۷۳ (انظر: ۲۱۵۲۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اصل نام جندب بن جنادہ ہے، انہوںنے اسلام کے اولین دور میں مکہ مکرمہ آ کر اسلام قبول کیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لے کر اپنے علاقے میں واپس چلے گئے اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل رہا، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا امتیازی وصف یہ تھا کہ ڈٹ کر حق بات کرنے والے اور دنیا سے اتنی بے رغبتی برتنے والے تھے کہ انسان کی ضرورت سے زائد چیز کو ذخیرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ آپ کی وفات ربذہ میں (۳۲) سن ہجری میں ہوئی، سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہ بھی ان سے دس دنوں کے بعد مدینہ منورہ میں وفات پا گئے۔
11907
Sahih
۔ (۱۱۹۰۸)۔ عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الْأَسْوَدِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَائُ وَلَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَائُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِی ذَرٍّ۔)) (مسند احمد: ۷۰۷۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین نے نہیں اٹھایا کسی ایسے آدمی کو اور آسمان نے سایہ نہیں کیا کسی ایسے آدمی پر جو ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بڑھ کر سچا ہو۔
Takhreej
(۱۱۹۰۸) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ الترمذی: ۳۸۰۱،وابن ماجہ: ۱۵۶(انظر: ۷۰۷۸)
11908
Sahih
۔ (۱۱۹۰۹)۔ (وَعَنْہٗ فِیْ أُخْرٰی): ((أَصْدَقَ لَھْجَۃً مِنْ أَبِیْ ذَرٍّ۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۰)
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جو زبان کے لحاظ سے ابو ذر سے سچا ہو۔
Takhreej
(۱۱۹۰۹) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے صدق اور سچائی کو ثابت کرنے کے لیے کمال کی تاکید اور مبالغہ ہے۔
11909
Sahih
۔ (۱۱۹۱۰)۔ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: إِنِّی لَأَقْرَبُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ أَقْرَبَکُمْ مِنِّی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْیَا کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ تَرَکْتُہُ عَلَیْہِ۔)) وَإِنَّہُ وَاللّٰہِ! مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْہَا بِشَیْئٍ غَیْرِی۔ (مسند احمد: ۲۱۷۹۰)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قیامت کے دن میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوں گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم میں سے جو آدمی دنیا سے اس حال میں گیا، جس حال میں میں اسے چھوڑ کر جائوں تو وہ قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا۔ اللہ کی قسم! میرے سوا تم میں سے ہر ایک دنیوی امور اور معاملات سے ملوث ہو چکا ہے۔
Takhreej
(۱۱۹۱۰) تخریج: حدیث محتمل للتحسین، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۶۲۷(انظر: ۲۱۴۵۸)
Explanation
فوائد:… دنیا ہی واحد چیز ہے، جو انسان کو آخرت کے معاملے میں دھوکہ دے سکتی ہے اور سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دنیا کو اپنے قریب تک نہیں پھٹکنے دیا۔
11910
Sahih
۔ (۱۱۹۱۱)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ: کَانَ أَبُوْ ذَرٍّ یَسْمَعُ الْحَدِیثَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِ الشِّدَّۃُ،ثُمَّ یَخْرُجُ إِلٰی قَوْمِہِ یُسَلِّمُ لَعَلَّہُ یُشَدِّدُ عَلَیْہِمْ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرَخِّصُ فِیہِ بَعْدُ فَلَمْ یَسْمَعْہُ أَبُو ذَرٍّ، فَیَتَعَلَّقَ أَبُو ذَرٍّ بِالْأَمْرِ الشَّدِیدِ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۶۷)
سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنتے، جس میں کوئی سخت حکم ہوتا، وہ یہ حدیث سن کر اپنی قوم کی طرف چلے جاتے تاکہ اس حدیث کی روشنی میں ان پر سختی کریں، بعد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس حکم میں رخصت اور نرمی کر دیتے۔ لیکن سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس نرمی اور رخصت والا حکم نہ سن پاتے، پس وہ اس سخت حکم پر ہی کاربند رہتے۔
Takhreej
(۱۱۹۱۱) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۷۱۳۷)
11911
Sahih
۔ (۱۱۹۱۲)۔ وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: کُنْتُ بِالْمَدِینَۃِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ یَفِرُّ النَّاسُ مِنْہُ حِینَ یَرَوْنَہُ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: مَا یُفِرُّ النَّاسَ؟ قَالَ: إِنِّی أَنْہَاہُمْ عَنِ الْکُنُوزِ بِالَّذِی کَانَ یَنْہَاہُمْ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۸۲)
احنف بن قیس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ ایک آدمی کو دیکھتے تو اس سے دور بھاگ جاتے، میں نے اس آدمی سے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس نے بتلایا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابی ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر کیوں بھاگ جاتے ہیں؟ انہوںنے بتلایا کہ میں ان لوگوں کو وہ خزانے یعنی مال و دولت جمع کرنے سے روکتا ہوں، جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کیا تھا۔
Takhreej
(۱۱۹۱۲) تخریج: صحیح، اخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۲۲ (انظر: ۲۱۴۵۱)
11912
Sahih
۔ (۱۱۹۱۳)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ جَالِسًا، وَکَانُوْا یَظُنُّونَ أَنَّہُ یَنْزِلُ عَلَیْہِ، فَأَقْصَرُوْا عَنْہُ حَتّٰی جَائَ أَبُوْ ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ، فَأَتٰی فَجَلَسَ إِلَیْہِ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ ہَلْ صَلَّیْتَ الْیَوْمَ؟)) قَالَ: لَا قَالَ: ((قُمْ فَصَلِّ۔)) فَلَمَّا صَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ الضُّحٰی أَقْبَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ تَعَوَّذْ مِنْ شَرِّ شَیَاطِینِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ۔)) قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! وَہَلْ لِلْإِنْسِ شَیَاطِینُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، شَیَاطِینُ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ یُوحِی بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أُعَلِّمُکَ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: بَلٰی جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاء َکَ، قَالَ: ((قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، قَالَ: ثُمَّ سَکَتَ عَنِّی فَاسْتَبْطَأْتُ کَلَامَہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ إِنَّا کُنَّا أَہْلَ جَاہِلِیَّۃٍ وَعَبَدَۃَ أَوْثَانٍ فَبَعَثَکَ اللّٰہُ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِینَ أَرَأَیْتَ الصَّلَاۃَ مَاذَا ہِیَ؟ قَالَ: ((خَیْرٌ مَوْضُوعٌ مَنْ شَائَ اسْتَقَلَّ وَمَنْ شَائَ اسْتَکْثَرَ۔)) قَالَ: قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ الصِّیَامَ مَاذَا ہُوَ؟ قَالَ: ((فَرْضٌ مُجْزِیئٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ الصَّدَقَۃَ مَاذَا ہِیَ؟ قَالَ: ((أَضْعَافٌ مُضَاعَفَۃٌ، وَعِنْدَ اللّٰہِ الْمَزِیدُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((سِرٌّ إِلٰی فَقِیرٍ، وَجُہْدٌ مِنْ مُقِلٍّ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیُّمَا نَزَلَ عَلَیْکَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} آیَۃُ الْکُرْسِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیُّ الشُّہَدَائِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سُفِکَ دَمُہُ وَعُقِرَ جَوَادُہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَأَیُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَغْلَاہَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُہَا عِنْدَ أَہْلِہَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَأَیُّ الْأَنْبِیَائِ کَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: ((آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَام۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَوَنَبِیٌّ کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ، خَلَقَہُ اللّٰہُ بِیَدِہِ، ثُمَّ نَفَخَ فِیہِ رُوحَہُ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: یَا آدَمُ قُبْلًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَمْ وَفَّی عِدَّۃُ الْأَنْبِیَائِ؟قَالَ: ((مِائَۃُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَۃٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، الرُّسُلُ مِنْ ذٰلِکَ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیرًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۴)
سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، صحابۂ کرام نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول ہو رہا ہے، انہوںنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے خاموشی اختیار کئے رکھی،یہاں تک کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آکر مجلس میں گھس گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا بیٹھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ابو ذر! کیا تم نے آج نماز چاشت ادا کر لی ہے؟ انہوںنے کہا:جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز ادا کرلو۔ انہوںنے چاشت کی چادر رکعات ادا کیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: ابوذر! آپ جنات اور انسانی شیاطین کے شر سے پناہ طلب کرتے رہا کریں۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، جنات اور انسانی شیاطین دھوکہ دیتے ہوئے جھوٹی باتوں کو ایک دوسرے کی طرف القاء کرتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کا ایک کلمہ نہ سکھائوں؟ انہوںنے کہا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ضرور سکھلائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِکہو۔ میں نے یہ کلمہ دہرایا، اس کے بعد آپ میری طرف سے خاموش ہو گئے، میں نے آپ کی بات کی انتظار کی، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم مشرک اور بت پرست تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیا، نماز کے متعلق ارشاد فرمائیں کہ یہ کیسی چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک بہترین عبادت ہے، اب یہ انسانوں کی مرضی ہے تھوڑی عبادت کریںیا زیادہ؟ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! روزے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ فرض ہے اور اس کا ثواب بہت ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! صدقہ کے بارے میں فرمائیں کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا ثواب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا اجر کئی گنا ہے اور اللہ کے ہاں اس کا مزید اجر بھی ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پوشیدہ طور پر کسی حاجت مند تہی دست کو صدقہ دینا اور تنگ دست آدمی کا صدقہ کرنا سب سے افضل صدقہ ہے۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے نبی! آپ پر جو قرآن نازل ہوا ہے۔اس میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت کونسی ہے؟ آپ نے فرمایا: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}یعنی آیت الکرسی، سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کون سا شہید سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا خون اللہ کی راہ میں بہادیا گیا اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کس قسم کے غلام کو آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ قیمت والا ہو اور اپنے مالکوں کی نظر میں زیادہ پسند ہو۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! سب سے پہلے نبی کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ ایسے نبی تھے، جن سے اللہ تعالیٰ نے براہ راست کلام کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے مبارک ہاتھ سے پیدا کیا، پھر اس میں اپنی پیدا کی ہوئی روح پھونکی، پھر اللہ نے ان سے فرمایا:آدم! سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ان میں سے تین سو پندرہ افراد کی بڑی جماعت رسول ہیں۔
Takhreej
(۱۱۹۱۳) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا من اجل علی بن یزید الالھانی، اخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۸۷۱، وابن حبان: ۶۱۹۰ (انظر: ۲۲۲۸۸)
11913
Zaeef
۔ (۱۱۹۱۴)۔ عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ الدِّیْلِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ اَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا رَأَیْتُ لِاَبِیْ ذَرٍّ شَبِیْہًا۔ (مسند احمد: ۲۱۹۰۸)
ابو اسود دیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے متعدد صحابۂ کرام کی زیارت کی ہے، میں نے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔
Takhreej
(۱۱۹۱۴) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۲۱۵۷۵)
11914
Sahih
۔ (۱۱۹۱۵)۔ حَدَّثَنَا شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ غَنْمٍ، أَنَّہُ زَارَ أَبَا الدَّرْدَائِ بِحِمْصَ فَمَکَثَ عِنْدَہُ لَیَالِیَ وَأَمَرَ بِحِمَارِہِ فَأُوکِفَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: مَا أَرَانِی إِلَّا مُتَّبِعَکَ، فَأَمَرَ بِحِمَارِہِ فَأُسْرِجَ فَسَارَا جَمِیعًا عَلٰی حِمَارَیْہِمَا، فَلَقِیَا رَجُلًا شَہِدَ الْجُمُعَۃَ بِالْأَمْسِ عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ بِالْجَابِیَۃِ، فَعَرَفَہُمَا الرَّجُلُ وَلَمْ یَعْرِفَاہُ فَأَخْبَرَہُمَا خَبَرَ النَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ قَالَ: وَخَبَرٌ آخَرُ کَرِہْتُ أَنْ أُخْبِرَکُمَا أُرَاکُمَا تَکْرَہَانِہِ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: فَلَعَلَّ أَبَا ذَرٍّ نُفِیَ، قَالَ: نَعَمْ وَاللّٰہِ فَاسْتَرْجَعَ أَبُو الدَّرْدَائِ وَصَاحِبُہُ، قَرِیبًا مِنْ عَشْرِ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: ارْتَقِبْہُمْ وَاصْطَبِرْ کَمَا قِیلَ لِأَصْحَابِ النَّاقَۃِ، اللّٰہُمَّ إِنْ کَذَّبُوْا أَبَا ذَرٍّ فَإِنِّی لَا أُکَذِّبُہُ، اللّٰہُمَّ وَإِنِ اتَّہَمُوہُ فَإِنِّی لَا أَتَّہِمُہُ، اللّٰہُمَّ وَإِنِ اسْتَغَشُّوہُ فَإِنِّی لَا أَسْتَغِشُّہُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْتَمِنُہُ حِینَ لَا یَأْتَمِنُ أَحَدًا وَیُسِرُّ إِلَیْہِ حِینَ لَا یُسِرُّ إِلٰی أَحَدٍ، أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی الدَّرْدَائِ بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ یَمِینِی مَاأَبْغَضْتُہُ بَعْدَ الَّذِی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَائُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَائُ مِنْ ذِی لَہْجَۃٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِی ذَرٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۷)
شہر بن حوشب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے عبدالرحمن بن غنم نے بیان کیا کہ وہ حمص میں سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زیارت کو گئے اور کئی راتیں ان کے ہاں قیام کیا، انہوںنے اپنے گدھے پر کاٹھی رکھنے کا حکم دیا، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے: میں بھی آپ کے ہم راہ چلتا ہوں، انہوں نے اپنے گدھے پر گدی رکھنے کا حکم دیا، دونوں اپنے اپنے گدھے پر سوار ہو کر سفر پر روانہ ہوئے، ان کی ملاقات ایک آدمی سے ہوئی جو صرف ایک ہی دن قبل جابیہ میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرکے آیا تھا۔ اس نے ان دونوں کو پہچان لیا،یہ دونوں اسے نہیں پہچانتے تھے، اس نے ان کو لوگوں کے احوال سے آگاہ کیا، پھر اس نے کہا: ایک خبر اور بھی ہے، میں وہ آپ کو بتلانا نہیں چاہتا، میں جانتا ہوں کہ آ پ اس خبر کو اچھا نہیں سمجھیں گے۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بول اٹھے کہ شاید سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شہر بدر کر دیا گیا ہوگا، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! واقعی واقعہ رو نماہو چکا ہے، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھی عبدالرحمن بن غنم نے تقریباً دس مرتبہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کے کلمات دہرائے۔ پھر سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اب آپ ان لوگوں پر اللہ کے عذاب کے منتظر رہیں اور دیکھتے رہیں کہ ہوتا کیا ہے؟ یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جیسے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنے والوں سے کہا گیا تھا کہ تم اپنے گھروں میں تین دن گزار لو۔ پھر سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یااللہ! یہ لوگ اگر ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تکذیب کرتے ہیں تو کریں میں اس کی بات کی تکذیبنہیں کرتا۔ یا اللہ! اگر یہ لوگ ان پر الزامات لگاتے ہیں تو لگائیں میں ان پر کسی قسم کا الزام نہیں دھرتا۔ یا اللہ! اگر یہ لوگ اس پر غالب آنا چاہتے ہیں تو آئیں میں ان پر غالب آنے کی کوشش نہیں کروں گا۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اس وقت بھروسہ کیا کرتے تھے، جب آپ کو کسی پر بھروسہ نہ ہوتا تھا، اور آپ اس وقت ان سے راز کی باتیں کر لیا کرتے تھے، جبکہ آپ کسی بھی شخص کے ساتھ راز دارانہ گفتگو نہ کیا کرتے تھے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو درداء کی جان ہے! اگر ابو ذر میرا دایاں ہاتھ کاٹ بھی ڈالیں تو میں ان سے ناراض نہ ہوں گا، کیونکہ میں رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات کہتے سن چکا ہوں کہ زمین نے نہیں اٹھایا کسی ایسے آدمی کو اور آسمان نے سایہ نہیں کیا کسی ایسے آدمی پر جو ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بڑھ کر سچا ہو۔
Takhreej
(۱۱۹۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب، والمرفوع فی آخرہ حسن لغیرہ، اخرجہ مختصرا البزار: ۲۷۱۴، والحاکم: ۳/۳۴۴ (انظر: ۲۱۷۲۴)
11915
Zaeef
۔ (۱۱۹۱۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ یَعْنِی ابْنَ الْأَشْتَرِ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، حَضَرَہُ الْمَوْتُ وَہُوَ بِالرَّبَذَۃِ فَبَکَتِ امْرَأَتُہُ، فَقَالَ: مَا یُبْکِیکِ؟ قَالَتْ: أَبْکِی لَا یَدَ لِی بِنَفْسِکَ وَلَیْسَ عِنْدِی ثَوْبٌ یَسَعُکَ کَفَنًا، فَقَالَ: لَا تَبْکِی فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَہُ فِی نَفَرٍ یَقُولُ: ((لَیَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْکُمْ بِفَلَاۃٍ مِنَ الْأَرْضِ، یَشْہَدُہُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ۔)) قَالَ: فَکُلُّ مَنْ کَانَ مَعِی فِی ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ مَاتَ فِی جَمَاعَۃٍ وَفُرْقَۃٍ فَلَمْ یَبْقَ مِنْہُمْ غَیْرِی، وَقَدْ أَصْبَحْتُ بِالْفَلَاۃِ أَمُوتُ فَرَاقِبِی الطَّرِیقَ فَإِنَّکِ سَوْفَ تَرَیْنَ مَا أَقُولُ، فَإِنِّی وَاللّٰہِ! مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ، قَالَتْ: وَأَنّٰی ذَلِکَ وَقَدِ انْقَطَعَ الْحَاجُّ؟، قَالَ رَاقِبِی الطَّرِیقَ، قَالَ: فَبَیْنَا ہِیَ کَذٰلِکَ إِذَا ہِیَ بِالْقَوْمِ تَخْدِیْہِمْ رَوَاحِلُہُمْ کَأَنَّہُمُ الرَّخَمُ، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتّٰی وَقَفُوْا عَلَیْہَا، فَقَالُوْا: مَا لَکِ؟ قَالَتْ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ تُکَفِّنُونَہُ وَتُؤْجَرُوْنَ فِیہِ، قَالُوْا: وَمَنْ ہُوَ؟ قَالَتْ: أَبُو ذَرٍّ، فَفَدَوْہُ بِآبَائِہِمْ وَأُمَّہَاتِہِمْ وَوَضَعُوْا سِیَاطَہُمْ فِیْ نُحُورِہَا یَبْتَدِرُونَہُ، فَقَالَ: أَبْشِرُوا أَنْتُمْ النَّفَرُ الَّذِینَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیکُمْ مَا قَالَ، أَبْشِرُوْا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ امْرَأَیْنِ مُسْلِمَیْنِ ہَلَکَ بَیْنَہُمَا وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثَۃٌ فَاحْتَسَبَا وَصَبَرَا فَیَرَیَانِ النَّارَ أَبَدًا۔)) ثُمَّ قَدْ أَصْبَحْتُ الْیَوْمَ حَیْثُ تَرَوْنَ، وَلَوْ أَنَّ ثَوْبًا مِنْ ثِیَابِی یَسَعُنِی لَمْ أُکَفَّنْ إِلَّا فِیہِ، فَأَنْشُدُکُمُ اللّٰہَ أَنْ لَا یُکَفِّنَنِی رَجُلٌ مِنْکُمْ کَانَ أَمِیرًا أَوْ عَرِیفًا أَوْ بَرِیدًا، فَکُلُّ الْقَوْمِ کَانَ قَدْ نَالَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا إِلَّا فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: أَنَا صَاحِبُکَ ثَوْبَانِ فِیْ عَیْبَتِیْ مِنْ غَزْلِ أُمِّیْ وَأَجِدُ ثَوْبَیَّ ھٰذَیْنِ الَّذَیْنِ عَلَیَّ، قَالَ: اَنْتَ صَاحِبِیْ فَکَفِّنِّی۔ (مسند احمد: ۲۱۷۹۹)
ابراہیم بن الاشتر سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ربذہ میں تھے، ان کی وفات کا وقت آیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں۔ انہوںنے دریافت کیا کہ آپ کیوں روتی ہیں؟ وہ بولیں: میں اس لیے رو رہی ہوں کہ میںاکیلی آپ کی تدفین کیسے کروں گی؟ اور میرے پاس تو آپ کے کفن کے لیے کافی کپڑا تک بھی نہیں ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم مت روؤ۔ میں نے ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا تھا، اس وقت میں صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک آدمی کو جنگل میں موت آئے گی، اس کے پاس اہل ایمان کی ایک جماعت پہنچ جائے گی، اس وقت میرے ساتھ جتنے بھی لوگ وہاں موجود تھے، وہ سب اس حال میں فوت ہوئے کہ ان کے اردگرد لوگوں کی جماعتیں موجود تھیںیا ان کی وفات کسی آبادی میں ہوئی، ان لوگوں میں سے صرف میں ہی باقی بچا ہوں اور اب میں جنگل (ویرانے) میں مر رہا ہوں، تم راستے پر نظر رکھو، میں تم سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم عنقریبیہ سب کچھ دیکھ لو گی، اللہ کی قسم نہ تو میں غلط بیانی کر رہا ہوں اور نہ بیان کرنے والے یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غلط بیانی کی ہے۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ نے حیران ہو کر کہا: ایسا کیونکر ہوگا۔ حجاج کرام حج سے فراغت کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو واپس روانہ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہرحال تم راستے پر نظر رکھنا، وہ اسی کیفیت میں تھی کہ اس نے دور سے لوگوں کو آتے دیکھا، جن کی سواریاں ان کو تیزی سے لا رہی تھیں، دور سے یوں لگتا تھا گویا کہ وہ پرندوں کا جھنڈ ہے، لوگ آتے آتے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ کے پاس پہنچ گئے۔ انہوںنے دریافت کیا: کیا معاملہ ہے؟ وہ بولیں کہ ایک مسلمان آدمی ہے۔ آپ لوگ رک کر اس کی تکفین کریں، اللہ تمہیں اجر دے گا۔ انہوںنے دریافت کیا: وہ کون ہے؟ اس خاتون نے بتلایا کہ وہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ تو ان سب لوگوں نے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اور انہوںنے اپنی لاٹھیاں سواریوں کی گردنوں میں لٹکا دیں اور بڑی پھرتی سے ان کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم لوگوں کو بشارت ہو، تم ہی وہ لوگ ہو جن کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا، تمہیں مبارک ہو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ دو مسلمان (خاوند بیوی) جن کے دو یا تین (نابالغ) بچے وفات پا جائیں اور وہ دونوں ان بچوں کی وفات پر صبر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کے امید وار ہوں تو وہ کبھی بھی جہنم کو نہیں دیکھیں گے اور آج تم میرا حال دیکھ رہے ہو، اگر میرے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا کافی ہو تو مجھے اسی میں کفن دیا جائے، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم میں سے جو آدمی کسی قوم یاعلاقے کا امیر ہو یا اپنی قوم کا سردار ہو یا قوم کاقاصد ہو وہ مجھے کفن نہ پہنائے، وہ سب لوگ ان ذمہ داریوں کو ادا کر چکے تھے، البتہ ان میں صرف ایک انصاری لڑکا تھا۔ اس نے کہا: میں اس بارے میں آپ کی خدمت بجا لائوں گا، میرے سامان میں دو کپڑے زائد ہیں،یہ دو کپڑے میری والدہ نے اپنے ہاتھوں سے کاتے ہیں اور میرے پاس اپنے استعمال کے لیےیہ دو کپڑے جو میرے زیب تن ہیں وہ کافی ہیں۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم ہی مجھے کفن دینا۔ سیدہ ام ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھییہ حدیث مختصراً مروی ہے۔
Takhreej
(۱۱۹۱۶) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۲۱۴۶۷)
11916
Sahih
۔ (۱۱۹۱۸)۔ عَنْ قَنْبَرٍ حَاجِبِ مُعَاوِیَۃَ قَالَ: کَانَ أَبُو ذَرٍّ یُغَلِّظُ لِمُعَاوِیَۃَ، قَالَ: فَشَکَاہُ إِلٰی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَإِلٰی أَبِی الدَّرْدَائِ وَإِلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَإِلٰی أُمِّ حَرَامٍ، فَقَالَ: إِنَّکُمْ قَدْ صَحِبْتُمْ کَمَا صَحِبَ وَرَأَیْتُمْ کَمَا رَأٰی فَإِنْ رَأَیْتُمْ أَنْ تُکَلِّمُوہُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰی أَبِی ذَرٍّ فَجَائَ فَکَلَّمُوہُ، فَقَالَ: أَمَّا أَنْتَ یَا أَبَا الْوَلِیدِ! فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَبْلِی وَلَکَ السِّنُّ وَالْفَضْلُ عَلَیَّ، وَقَدْ کُنْتُ أَرْغَبُ بِکَ عَنْ مِثْلِ ہٰذَا الْمَجْلِسِ، وَأَمَّا أَنْتَ یَا أبا الدَّرْدَائِ! فَإِنْ کَادَتْ وَفَاۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَفُوتَکَ ثُمَّ أَسْلَمْتَ فَکُنْتَ مِنْ صَالِحِی الْمُسْلِمِینَ، وَأَمَّا أَنْتَ یَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ! فَقَدْ جَاہَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَّا أَنْتِ یَا أُمَّ حَرَامٍ! فَإِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَۃٌ وَعَقْلُکِ عَقْلُ امْرَأَۃٍ، وَأَمَّا أَنْتَ وَذَاکَ، قَالَ: فَقَالَ عُبَادَۃُ: لَا جَرَمَ، لَا جَلَسْتُ مِثْلَ ہٰذَا الْمَجْلِسِ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۱۶۳۴)
سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دربان قنبر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سختی سے پیش آیا کرتے تھے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا ابوالدرداء، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدہ ام حرام سے ان کی شکایت کی اور کہا: تم بھی اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہو، جیسے وہ ہیں، جیسے انہوںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، آپ لوگوں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح دیکھا ہے، اگر مناسب سمجھو تو ان سے بات کرکے دیکھ لو کہ وہ ایسا سخت رویہ کیوں رکھتے ہیں؟ پھر انہوںنے سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیجا، پس وہ آ گئے اور ان حضرات نے ان سے گفتگو کی۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابو الولید! (یعنی عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) آپ مجھ سے قبل دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہوئے، آپ کو مجھ پر عمر اور فضیلت میں سبقت حاصل ہے، میں اس قسم کی محفل کی بجائے آپ کے ساتھ بیٹھنے کی رغبت رکھتا تھا، اے ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اگر ایسا ہوتا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات پہلے ہو جاتی اور تم ان کے بعد اسلام میں آتے تو تب بھی تم صالح مسلمانوں میں سے ہوتے، اے عمرو بن عاص! آپ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں شریک رہے ہیں اور اے ام حرام! (یہ عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ تھیں) آپ تو ایک خاتون ہیں۔ اور آپ کی عقل بہر حال ایک عورت کی سی ہی ہے، آپ کو ایسے امور میں دخل انداز ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ سن کر سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یقینا میں اس قسم کی مجلس میں کبھی نہیں بیٹھ سکوں گا۔
Takhreej
(۱۱۹۱۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، وفی بعض حروفہ نکارۃ، قنبر مولی معاویۃ مجھول (انظر: ۲۱۳۰۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انتہائی زاہدانہ زندگی کے قائل تھے اور جو آدمی دنیوی مال و دولت جمع کرتا اور ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی گزارتا وہ اِن کی گرفت سے نہیں بچ سکتا تھا اور سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بلا جھجک اعتراض کرنے کی جرأت بھی رکھتے تھے۔
11918
Zaeef

Chapters

144
01
صحابۂ کرام کے مناقب کا اجمالی تذکرہ
8 Hadith
02
انصار کے فضائل و مناقب
24 Hadith
03
انصار کے بہترین گھرانوں کا تذکرہ
2 Hadith
04
انصار اور مہاجرین کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
05
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
14 Hadith
06
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
7 Hadith
07
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
1 Hadith
08
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
1 Hadith
09
صحابۂ کرام کی ایک جماعت کے بعض خصائص
3 Hadith
10
خواتین صحابہF کی ایک جماعت کے مشترکہ خصائص
3 Hadith
11
عشرہ مبشرہ اور دیگر صحابہ کے فضائل
3 Hadith
12
نُجَبَائ، ابدال اور اصحاب صفہ کاتذکرہ
3 Hadith
13
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی فضیلت
9 Hadith
14
صحابۂ کرام کے دورکی تحدید اور ان سے اور دوسرے حضرات سے متعلقہ تاریخی امور کا بیان
10 Hadith
15
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
16
سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
17
سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
18
اصیرم بن عبدالاشھل یعنی عمرو بن ثابت بن وقش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
1 Hadith
19
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
9 Hadith
20
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
21
سیدنا براء بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
22
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
23
مؤذن رسول سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
5 Hadith
24
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
25
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
26
سیدنا جعفر بن ابی طالب اور ان کی اولادکا تذکرہ
5 Hadith
27
سیدنا جلیبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
28
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پھوپھی زاد سیدنا حارثہ بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
1 Hadith
29
سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
30
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی فضیلت اور ان کا واقعہ
3 Hadith
31
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
32
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ماموں حرام بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
33
سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
34
سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
35
سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 Hadith
36
سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
37
سیدنا خبیب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
2 Hadith
38
سیدنا خریم اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
39
دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
40
سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
41
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
2 Hadith
42
سیدنا زاہر بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
43
سیدنا زبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
44
سیدنا زید بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
45
سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
46
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
2 Hadith
47
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
48
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
49
سیدنا سعد بن ابی ذباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
50
سیدنا سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی کہا جاتا ہے
8 Hadith
51
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
52
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
10 Hadith
53
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم ابو عبدالرحمن سفینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
54
سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
5 Hadith
55
سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
56
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
3 Hadith
57
سیدنا سمرہ بن فاتک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
58
سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
59
سیدنا ضرار بن ازور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
60
سیدنا ضماد ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان
1 Hadith
61
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
62
سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
63
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
64
سیدنا عامر بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
65
سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
66
سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
67
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
68
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
69
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
70
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
71
ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
72
سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
73
سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
74
سیدنا عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
75
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
13 Hadith
76
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
2 Hadith
77
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
78
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
3 Hadith
79
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
80
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
81
سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
82
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
3 Hadith
83
سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
84
سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
4 Hadith
85
سیدنا عروہ بن ابی جعد بارقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
86
سیدنا عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
87
سیدنا علاء بن الحضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
88
سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
9 Hadith
89
سیدنا عمرو بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
90
نابینا صحابی سیدنا عمر وبن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
91
سیدنا عمرو بن تغلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
92
سیدنا عمرو بن جموح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
1 Hadith
93
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
94
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
10 Hadith
95
سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
96
سیدنا فرات بن حیان عجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
97
سیدنا قتادہ بن ملحان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
98
سیدنا معاویہ بن قرہ مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا قرہ بن ایاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
99
سیدنا کعب بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
100
سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
101
سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
102
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
6 Hadith
103
سیدنا معن بن یزید سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
104
سیدنا مقداد بن اسود کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
105
سیدنایوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
106
سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا صدی بن عجلان تھا
1 Hadith
107
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
108
سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
109
سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
110
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
12 Hadith
111
سیدناابوزیدانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا نام عمرو بن اخطب ہے
6 Hadith
112
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
8 Hadith
113
سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
114
سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
2 Hadith
115
سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
5 Hadith
116
سیدنا ابو عامر عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
117
امین الامہ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
7 Hadith
118
سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موت کابیان
1 Hadith
119
سیدنا ابو قتادہ حارث بن ربعی سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کاتذکرہ
4 Hadith
120
سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ
7 Hadith
121
سیدنا ابو مالک عبید اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
122
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
11 Hadith
123
سیدنا ابو الیسر کعب بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
1 Hadith
124
سیدہ اسما بنت ابی بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
125
سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
126
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بیٹی سیدہ امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
127
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
128
سیدہ درہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
129
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
10 Hadith
130
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لونڈی اور مربیہ سیدہ ام ایمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
131
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خالہ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
2 Hadith
132
سیدہ ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
133
سیدہ ام شریک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
134
سیدہ ام فروہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
1 Hadith
135
سیدہ ام فضل لبابہ بنت حارث ہلالیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
3 Hadith
136
یہ بنو اسد بن خزیمہ کے قبیلہ کی خاتون ہیں اور یہ ان خواتین میں سے ہیں، جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا۔
1 Hadith
137
سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا تذکرہ
7 Hadith
138
اویس قرنیlکا تذکرہ
2 Hadith
139
سفیان بن عینیہlکا تذکرہ
1 Hadith
140
زید بن عمرو بن نفیل کا تذکرہ
1 Hadith
141
امام مالک بن انسlکا تذکرہ
1 Hadith
142
حبشہ کے بادشاہ نجاشیlکا تذکرہ
2 Hadith
143
ورقہ بن نوفل کا تذکرہ
1 Hadith
144
ابن جریجlکا تذکرہ
1 Hadith
No chapter matched that.