TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12983 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 24 in this chapter
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
۔ (۱۲۹۸۳)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ یَہُوْدِیَّۃِ اَصْبَہَانَ مَعَہُ سَبْعُوْنَ اَلْفًا مِنَ الْیَہُوْدِ، عَلَیْہِمُ السِّیْجَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دجال اصبہان کی یہودیوں کی بستی سے ظاہر ہوگا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، انھوں نے سبز رنگ کی شالیںکندھوں پر ڈال رکھی ہوں گی۔
12983
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۹۸۳) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابویعلی: ۳۶۳۹، والطبرانی فی الاوسط : ۴۹۲۷، وأخرجہ مختصرا مسلم: ۲۹۴۴ (انظر: ۱۳۳۴۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یہودیوں کا ماضی بھی حق کی مخالفت سے بھر پڑا ہے اور مستقبل کا یہ حال ہے۔

Related Chapters

145
1
غزوۂ تبوک میں صحابہ کرام کو سواریوں کی قلت وغیرہ سے جو سامنا رہا اس کا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صادر ہونے والے معجزات کا بیان
Musnad Ahmad
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام اللیل اور وتر وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
3
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جانورں، اونٹوں ، اونٹنیوں، گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
4
(16) CHAPTER. The free emancipation of the captives by the Prophet (p.b.u.h) without taking out the Khumus from the booty.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان رکھ کر قیدیوں کو مفت چھوڑ دینا ، اور خمس وغیرہ نہ نکالنا
Sahih Bukhari
5
(19) CHAPTER. What the Prophet (p.b.u.h) used to give to those Muslims whose faith was not so firm, and to other Muslims, from the Khumus or other resources.
تالیف قلوب کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض کافروں وغیرہ نو مسلموں یا پرانے مسلمانوں کو خمس میں سے دینا
Sahih Bukhari
6
(49) CHAPTER. What is disliked as regarding the eating of garlic or other (bad smelling vegetables).
لہسن اور دوسری ( بدبودار ) ترکاریوں کا بیان ۔ ( جیسے پیازمولی وغیرہ ) اس بارے میں حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کراہت نقل کی ہے 2
Sahih Bukhari
7
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
Sahih Muslim
8
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
Sahih Muslim
9
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
10
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
Musnad Ahmad
11
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
Musnad Ahmad
12
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
13
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
Sahih Bukhari
14
Chapter: Remembering Allah, the Most High, when one is sexually impure, and at other times
جنابت وغیرہ کی صورت میں اللہ کا ذکر کرنا
Sahih Muslim
15
Chapter: Seeking Refuge With Allah From Helplessness, Laziness Etc
(نیکی کے کاموں سے) عاجز رہ جانے اور سستی وغیرہ سے (اللہ کی) پناہ مانگنا
Sahih Muslim
16
باب: شراب پینے کی وجہ سے ہونے والے گناہ جیسے ترک صلاۃ، اللہ کی طرف حرام کردہ قتل ناحق اور محرم سے زنا کاری وغیرہ کا ذکر۔
Sunnan Nisai
17
Chapter: What Has Been Related About Charity On What Is Watered By Rivers Or Otherwise
باب: نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related Aout The Severity Of Lying And False Speech
باب: جھوٹ اور جھوٹی گواہی وغیرہ پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering With Reeds And The Like
باب: بانس وغیرہ سے ذبح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: جنتیوں کے اوصاف کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: About Waiting For Relief And Other Than That
باب: کشادگی اور خوشحالی وغیرہ کے انتظار کا بیان
Jam e Tirmazi
23
بَاب تَغْطِيَة الْأَوَانِي وَغَيرهَا
برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان
Mishkat
24
بَاب الْإِنْذَار والتحذير
ڈرانے اور نصیحت کرنے کا بیان
Mishkat
25
گزشتہ باب کے متعلقات (میراثِ نبوی ﷺ وغیرہ) کا بیان
Mishkat
26
دین میں بدعت سے ڈرانے اور گمراہی کی طرف بلانے والے کے گناہ کا بیان
Musnad Ahmad
27
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
حیض کے ایام میں بیوی سے ہم بستری کرنے سے ڈرانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان
Musnad Ahmad
30
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
31
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
32
مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
Musnad Ahmad
34
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
35
شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
Musnad Ahmad
36
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
39
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
Musnad Ahmad
40
مشرکوں سے عام صلح کرنے یا مال وغیرہ کے عوض صلح کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
کافروں کے ساتھ جائز شرطوں اور مصالحت کی مدت وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
42
تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
43
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
44
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
Musnad Ahmad
45
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
46
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
Musnad Ahmad
47
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
Musnad Ahmad
48
ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
ختنہ وغیرہ کے موقع کی دعوت کو قبول کرنے کا بیان اور اس چیز کا حکم کہ چھ افراد کو دعوت دی اور ایک آدمی ان کے ساتھ ویسے ہی چل پڑا
Musnad Ahmad
50
دودھ ، اس کو پینے اور اس کو دوہنے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
1154
۔ (۱۱۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الصُّنَابِحِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَنْ تَزَالَ أُمَّتِیْ فِیْ مُسْکَۃٍ مَا لَمْ یَعْمَلُوْا بِثَلَاثٍ، مَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْمَغْرِبَ بِاِنْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاہَاۃَ الْیَہُوْدِ، وَمَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْفَجْرَ اِمْحَاقَ النُّجُوْمِ مُضَاہَاۃَ النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَا لَمْ یَکِلُوْا الْجَنَائِزَ اِلَی أَہْلِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۷)
سیدنا ابو عبد الرحمن صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میری امت اس وقت تک ہمیشہ خیر پر برقرار رہے گی، جب تک یہ تین کام نہیں کرے گی: یہودیوں کی مشابہت کرتے ہوئے اندھیرے کے انتظار میں مغرب کو لیٹ کرنا، عیسائیوں کی مشابہت کرتے ہوئے ستاروں کے چھپ جانے تک فجر کو مؤخر کرنا اور جنازے کو اس کے اہل کے سپرد کر دینا۔
Musnad Ahmad
3231
۔ (۳۲۳۱) عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوْسٰی الأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَّتْ بِکُمْ جَنَازَۃٌ فَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا أَوْ یَہُوْدِیًّا أَوْ نَصْرَانِیَّا فَقُوْمُوْا لَہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ لہَا نَقُوْمُ، وَلٰکِنْ نَقُوْمُ لِمَنْ مَعَہَا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ۔)) قَالَ لَیْثَ فَذَکَرْتُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ لِمُجَاھِدٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَخْبَرَۃَ الأَزْدِیُّ، قَالَ: إِنَّا لَجُلُوْسٌ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نَنْتَظِرُ جَنَازَۃً إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرٰی، فَقُمْنَا، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا یُقِیْمُکُمْ؟ فَقُلْنَا: ہٰذَا مَا تَأْتُوْنَا بِہِ یَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ! قَالَ: وَمَا ذَالِکَ؟ قُلْتُ: زَعَمَ اََبُوْ مُوْسٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَّتْ بِکُمْ جَنَازَۃٌ، فَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا أَوْ یَہُوْدِیًّا أَوْنَصْرَانِیًّا فَقُوْمُوا لَہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ لَہَا نَقُوْمُ، وَلٰکِنْ نَقُوْمُ لِمَنْ مَعَہَا مِنَ الْمَلَائِکَۃَ۔)) فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا فَعَلَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ غَیْرَ مَرَّۃٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْیَہُوْدِ، وَکَانُوْا أَہْلَ کِتَابٍ وَکَانَ یَتَشَبَّہُ بِہِمْ، فَإِذَا نُھِیَ اِنْتَہٰی، فَمَا عَادَلہَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۴۲)
سیّدناابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوںکے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیث کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث مجاہد کو بیان کی تو انھوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن سنجرہ ازدی نے بیان کرتے ہوئے کہا:ہم سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ایک جنازے کا انتظار کر رہے تھے کہ ہمارے قریب سے کوئی اور جنازہ گزرا،ہم اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اصحابِ محمد! تم نے ہمیں جو حدیث بیان کی ہے، ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ میں نے کہا کہ سیّدنا ابوموسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوںکے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سن کر سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ یہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کی موافقت کیا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (اللہ کی طرف سے) روک دیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے اور اس کے بعد ایسا عمل نہیں کیا۔
Musnad Ahmad
3324
۔ (۳۳۲۴) عَنْ جَسْرَۃَ قَالَتْ: حَدَّثَنِی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَیَّ امْرَأَۃٌ مِنَ الْیَہُوْدِ، فَقَالَتْ: إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ، فَقُلْتُ: کَذَبْتِ، فَقَالَتْ: بَلٰی إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْہُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ وَقَدِ ارْتَفَعَتْ اَصْوَاتُنَا، فَقَالَ: ((مَا ہٰذِہِ؟)) فَأَخْبَرْتُہُ بِمَا قَالَتْ، فَقَالَ: ((صَدَقَتْ۔)) قَالَتْ: فَمَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ یَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِی دُبُرِ الصَّلَاۃِ: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ (أَعِذْنِیْ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۲۸)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہا:پیشاب کی وجہ سے قبر کا عذاب ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تم غلط کہتی ہو، اس نے کہا: بات ایسے ہی ہے، بلکہ ہم تو
Musnad Ahmad
6806
۔ (۶۸۰۶)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: سَحَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ، قَالَ: فَاشْتَکٰی لِذَالِکَ أَیَّامًا، قَالَ: فَجَائَ جِبْرِیْلُ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ سَحَرَکَ عَقَدَ لَکَ عُقَدًا عُقَدًا فِیْ بِئْرٍ کَذَا وَکَذَا، فَأَرْسِلْ إِلَیْہَا مَنْ یَجِیْئُ بِہَا، فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاسْتَخْرَجَہَا فَجَائَ بِہَا فَحَلَّلَہَا، قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ، فَمَا ذَکَرَ لِذَالِکَ الْیَہُوْدِیِّ وَلَا رَآہ فِیْ وَجْہِہِ قَطُّ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۲)
۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جادو کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وجہ سے کئی دن بیمار رہے، بالآخر جناب جبریل علیہ السلام نے آ کر کہا : یہودیوں میں سے ایک آدمی نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جادو کی گرہیں لگائی ہیں، جادوں کایہ عمل فلاں کنویں میں پڑا ہے، آپ کسی آدمی کو بھیجیں جو اس عمل کو نکال کر لے آئے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھیجا، وہ اس کو نکال کر لے آئے اور ان گرہوںکو کھول دیا،یوں لگا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رسی سے کھول دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا نہ اس یہودی سے ذکر کیااور نہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا،یہاں تک کہ وہ مر گیا۔