۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دورِ جاہلیت والے لوگ یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن جب ماہِ رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس روزے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیںیومِ عاشوراء کو روزہ رکھنے کا حکم فرماتے، اس کی ترغیب دلاتے اور جب یہ دن قریب ہوتا تو ہمیں اس کی توجہ بھی دلاتے، لیکن جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہمیں اس کا حکم دیا، نہ اس سے منع کیا اور نہ اس دن کی آمد پر توجہ دلائی۔
۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کی فرضیت سے قبل یومِ عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ تو اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، البتہ ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔
۔ حمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں خطبہ دیا اور کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ یہیومِ عاشوراء ہے، اس دن کا روزہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا، اس لیے تم میں سے جو آدمی اس کا رکھنا چاہتا ہو، وہ رکھے، البتہ میں تو روزے سے ہوں۔ پھر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔
فوائد:… سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں۴۴ھ میں پہلا اور ۵۷ھ میں آخری حج کیا تھا، حافظ ابن حجر کارجحان اس طرف ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آخری حج کے موقع پر مدینہ منورہ آ کر یہ حدیث بیان کی تھی، چونکہ ذوالحجہ اسلامی سال کا آخری اور محرم پہلا مہینہ ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ادائے حج کے بعد یوم عاشوراء تک ٹھہریں ہوں گے۔
۔ حکم بن اعرج کہتے ہیں: میں سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ زمزم کے کنویں کے قریب ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے۔ میں نے پوچھا: آپ مجھے یومِ عاشورہ کے بارے میں بتائیں۔ انھوں نے کہا: اس کی کون سی حالت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس دن کے روزے کے بارے میں، انھوں نے کہا: جب ماہ محرم کا چاند دیکھو، تو تاریخ کو شمار کرتے رہو، جب ۹ محرم کی صبح ہو جائے تو اس دن روزہ رکھو۔میں نے پوچھا:’کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جب تم ماہِ محرم کا چاند دیکھو تو (۹) محرم تک شمار کرتے رہو اور نویں محرم کی صبح روزہ کی حالت میں کرو۔ باقی حدیث اوپر والی ہی ہے۔
Takhreej
(۳۹۲۷) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصود یہ نہیں ہے کہ (۹) محرم یوم عاشوراء ہے، وہ درج ذیل حدیث اور اس کی تشریح میں مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محرم کی (۹) اور (۱۰) تاریخوں کا روزہ رکھا جائے۔ امام شوکانی نے کہا: زیادہ مناسب یہی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے اس دن کی طرف سائل کی رہنمائی کی ہے، جس میں روزہ رکھا جاتا ہے اور اس کے لیےیوم عاشوراء کا تعین نہیں کیا کہ وہ محرم کا دسواں دن ہے، کیونکہ اس کے بارے میں تو سوال ہی نہیں کیا گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ سائل کا مقصود یہ ہے کہ اس دن کا تعین کیا جائے جس کو روزہ رکھا جائے گا، اس لیے انھوں نے (۹) محرم کی بات کی۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ کہنا کہ ’’جی ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ رہتے تو اسی طرح روزے رکھنے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قولی حدیث میں اسی چیز کی وضاحت کی تھی۔ (نیل الاوطار: ۴/ ۳۲۶)
درج ذیل حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اگر آئندہ سال زندہ رہا تو نو (تاسع) محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس سے نو اور دس محرم کے دو روزے رکھنے کی تائید نہیں ہوتی۔ بلکہ عاشوراء (دس محرم) کی جگہ صرف نو محرم کے روزے کی تائید ہوتی ہے، ورنہ آپ فرماتے میں نو اور دس محرم کا روزہ رکھوں گا۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو محرم کو ضرور روزہ رکھوں گا۔
Takhreej
(۳۹۲۸) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۳۴(انظر: ۱۹۷۱)
Explanation
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عزم کے دو مطلب لیے جا سکتے ہیں: (۱) آئند دس محرم کے ساتھ ساتھ نو محرم کا بھی روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو۔ (۲) آئندہ صرف نو محرم کا روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ اس لیے سلف صالحین کے ہاں بھییہ مسئلہ مختلف فیہ رہا ہے، اگرچہ جمہور علماء و فقہاء کی رائے یہی ہے کہ یوم عاشورا دس محرم ہی ہے، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ یوم عاشورا نو محرم ہے۔ جمہور کی رائے راجح معلوم ہوتی ہے، اس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم کا یہ معنی ہو گاکہ ہم دس محرم کے ساتھ ساتھ نومحرم کا بھی روزہ رکھیں گے، تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو سکے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہفتہ والے دن روزہ رکھنے سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہودیوں کی مشابہت سے بچنا تھا، جیسا کہ شارح ابوداؤد علامہ عظیم آبادی نے کہا، لیکن پھر اس صورت میں اجازت دے دی کہ اگر اس کے ساتھ جمعہ کے دن کا روزہ رکھا جائے تو ہفتہ کے دن کا روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ایک اور مثال سے اسی مؤقف کی تائیدہوتی ہے: سیدنابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: …صحابہ نے کہا: اے اللہ رسول! بیشک اہل کتاب چمڑے کے موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنْتَعِلُوْا وَتَخَفَّفُوْا وَخَالِفُوْا أَھْلَ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل کتاب کی مخالفت کے لیے موزوں کو ترک کی تعلیم نہیں دی، بلکہ ان کے ساتھ جوتوں کے استعمال کا اضافہ کردیا۔ مخالفت کی صورت یہ ہو گئی کہ وہ صرف موزے پہنتے ہیں اور ہم موزے بھی پہنتے ہیں اور جوتے بھیاستعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح دس محرم کے ساتھ ساتھ نو محرم کا روزہ رکھنا بھی اہل کتاب کے ساتھ مخالفت کرنے کی ایک صورت ہے۔ واللہ اعلم
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عزم کا پہلا معنی ہی راجح ہے، درج ذیل روایات سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو ایسا کرنے کا حکم دیا تو صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی اور عیسائی بھی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَاِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ صُمْنَا التَّاسِعَ۔)) قَالَ: فَلَمْ یَاْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتّٰی تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ ’’اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جب اگلا سال ہو گا، ہم نو کا روزہ رکھیں گے۔‘‘ لیکن ہوا یوں کہ ابھی تک اگلا سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے۔
معجم کبیر طبرانی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنْ عِشْتُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ إِلٰی قَابِلٍ صُمْتُ التَّاسِعَ، مَخَافَۃَ أَن یَّفُوْتَنِییَوْمُ عَاشُوْرَائَ)) ’’اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ رکھوں گا، تاکہ یوم عاشورا کا روزہ فوت ہو جانے کا خطرہ (ختم ہو جائے)۔‘‘ (صحیحہ:۳۵۰) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: صُوْمُوْا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَخَالِفُوْا الْیَھُوْدَ۔ نو اور دس کو روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (سنن بیہقی: ۴/ ۲۸۷)
ہفتہ کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھنا اور جوتے اور موزے اکٹھے پہننا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیےیہ تو ٹھیک ہے اور مخالفت کییہ بھی ایک صورت ہے اسی طرح نو اور دس محرم کے اکٹھے روزے اگر آپ سے ثابت ہوتے تو ہم کہتے یہ بھی مخالفت کی ایک شکل ہے۔ یہ چونکہ ثابت نہیں اس لیے اس جگہ اصل مخالفت یہ ہے کہ جس دن (دس محرم) کا یہودی روزہ رکھتے ہیں، اس کا روزہ نہ رکھا جائے اور مسلم کی حدیث کا مطلب یہی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہی مطلب سمجھا ہے، اس لیے وہ یہ عاشورہ کے بارے سوال کرنے والے کو بتا رہے ہیں کہ نو محرم صبح کوتمہارا روزہ ہونا چاہیے۔
اس حدیث کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر دس کا روزہ رکھیں،یہود کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور اگر نو کا روزہ بھی نہ رکھا جائے تو یوم عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عاشوراء کا روزہ بالکل رہ جانے کے خوف سے میں نو کا روزہ رکھوں گا تاکہ مخالفت بھی ہو جائے اور روزہ بھی رکھ لیا جائے۔(عبداللہ رفیق)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یومِ عاشوراء کو روزہ رکھا کرو، البتہ اس کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کیا کرو اور وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو یا اس کے بعد۔
Takhreej
(۳۹۲۹) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی لیلی، سییء الحفظ وداود بن علی الھاشمی، قال الامام الذھبی: ولیس حدیثہ بحجۃ، وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘ اخرجہ ابن خزیمۃ: ۲۰۹۵، والبیھقی: ۴/ ۲۸۷(انظر: ۲۱۵۴)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درست معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پہلے ایک روزہ رکھ کر مشابہت کو ختم کیا جا سکتا ہے، اسی طرح بعدمیں بھی رکھا جا سکتا ہے، جیسے جمعہ کے دن کے روزے کا مسئلہ ہے۔
ضعیف حدیث سے استدلال کی شرعی کوئی حیثیت نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
۔ عثمان بن حکیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے ماہِ رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا کہ اس بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟انہوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی وقت اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے عرصے کے لیے روزے ترک کرنا شروع کر دیتے کہ ہم یہ سمجھتے اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی بھی روزہ نہیں رکھیں گے۔
فوائد:… سعید بن جبیریہ کہنا چاہتے ہیں کہ نہ تو رجب میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا اور نہ اس اعتبار سے اس کی کوئی فضیلت اور خصوصیت بیان کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزوں کا معین اور مقرر اوقات سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی روزے رکھ لیتے اور بسا اوقات یہ سلسلہ ترک کر دیتے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات تو اس قدر کثرت سے روزے رکھتے کہ ہمیہ کہنے لگ جاتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا طویل عرصہ روزہ نہ رکھتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے۔
۔ مُجِیْبَہ کے باپ یا چچا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دفعہ کسی کام کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہیں پہچانتے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تم ہو کون؟ اس نے کہا: میں باہلہ قبیلہ کا وہی آدمی ہوں، جو گزشتہ سال آپ کے پاس آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس وقت آئے تھے، توتمہارا جسم، رنگت اور ہیئت بہت اچھی تھی، اب تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جانے کے بعد میں نے ایک دن بھی روزہ ترک نہیں کیا، وگرنہ مسلسل روزے رکھتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف دو؟ تمہیں کس نے حکم دیا کہ تم اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرو؟ کس نے تمہیںیہ کہا کہ خود کو تکلیف دو؟ تم صرف ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا : میرے اندر طاقت ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم ایک مہینہ میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ رکھ سکتا ہوں، مجھ میں طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مہینہ میں دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مزید روزے رکھنے کی اجازت دے دیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ماہِ صبر یعنی رمضان اور اس کے علاوہ ہر مہینے میں دو روزوں کے علاوہ مزید کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو طاقت والا سمجھتا ہوں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس سے زیادہ روزے رکھنے کیا جازت دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر رک گئے اور قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے زیادہ اجازت نہیں دیں گے، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، مزید کی اجازت دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر حرمت والے مہینوں میں روزے رکھ بھی لیا کرو اور ترک بھی کر دیا کرو۔
Takhreej
(۳۹۳۲) تخر یـج: قال الالبانی: ضعیف (سنن ابی داود: ۲۴۲۸)۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۲۸، وابن ماجہ: ۱۷۴۱(انظر: ۲۰۳۲۳)
Explanation
فوائد:… حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم۔ اس باب میں ان کے روزے خصوصیت کے ساتھ ثابت نہیں ہوئے، البتہ محرم کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں اور (۹) ذوالحجہ کی فضیلت پر مشتمل احادیث آگے آئیں گی۔ بنا ساعاتی نے کہا: اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ رجب میں روزے رکھنا دوسرے حرمت والے مہینوں کی طرح مستحب ہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر کثرت سے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر اس قدر طویل عرصہ تک روزہ چھوڑ دیتے کہ ہم سمجھتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفلیروزے نہیں رکھیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے تھے اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کی بہ نسبت کسی دوسرے مہینے میں زیادہ روزے رکھے ہوں۔
۔ (دوسری سند) اس میں یہ اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں شاذو نادر ہی کسی دن کا روزہ چھوڑتے تھے، بلکہ یوں کہہ دینا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سال کے کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گویا پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
Takhreej
(۳۹۳۵) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ان روایات میں ’’کُلٌّ‘‘ اور اس کے معانی پر دلالت کرنے والے دوسرے الفاظ مجازی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، ان سے مراد اکثر دنوں کے روزے رکھنا ہیں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض اوقات تو اس قدرکثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہ چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے لمبے عرصے کے لیے روزے چھوڑ دیتے کہ ہمیں یہ خیال آنے لگتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رات کو سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نفلی روزے رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ شعبان کا مہینہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ میں روزے رکھ کر اسے ماہِ رمضان کے ساتھ ملا دیتے۔
۔ خالد بن معدان کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا کیا گیا، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں روزے رکھتے تھے اور سوموار اور جمعرات کے دنوں کے روزے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے ہوں، ماسوائے اس صورت کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بغیر ناغہ کیے اس انداز میں نفلی روزے رکھنا شروع کر دیتے، کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ کوئی روزہ ترک نہ کرنے کا ہے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اس تسلسل کے ساتھ) روزے چھوڑنا شروع کر دیتے کہ ہم کہنے لگتے کہ اس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی روزہ نہیں رکھنا۔ ماہِ شعبان کے روزے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھے۔
Takhreej
(۳۹۴۱) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، عثمان بن رشید ضعّفہ یحیی بن معین۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۷۶۳ (انظر: ۱۳۴۰۳)