TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

یوم عاشوراء - یوم عاشوراء - Book 70 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 70 of Musnad Ahmad, with 35 chapters and 192 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

192 Hadith · 35 Chapters
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
۔ (۳۹۴۲) عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمْ اَرَکَ تَصُوْمُ مِنْ شَہْرِ مِنَ الشُّہُوْرِ مَا تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ؟ قَالَ: ((ذَالِکَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ، بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ ،وَہُوَ شَہْرٌ یُرْفَعُ فِیْہِ الْاَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَاُحِبُّ اَنْ یُرْفَعُ عَمَلِیْ وَاَنَا صَائِمٌ)) (مسند احمد: ۲۲۰۹۶)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا ہے کہ آپ ماہِ شعبان میں باقی مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مہینہ، جو رجب اور رمضان کے وسط میں ہے، اس سے لوگ غافل ہیں،یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں لوگوں کے اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیںاور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اوپر جائیں کہ میں روزہ سے ہوں۔
Takhreej
(۳۹۴۲) تخر یـج: اسنادہ حسن۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۰۱(انظر: ۲۱۷۵۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں شعبان میں روزے رکھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان المبارک کے بعد سب سے زیادہ روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شعبان کے دوسرے نصف میں روزے رکھنے سے منع بھی کیا ہے، جیسا کہ اگلے باب کی احادیث سے معلوم ہو گا۔ جمع تطبیق کے لیے حدیث نمبر (۳۶۹۲)دیکھیں۔ ایک اشکال اور اس کا جواب: اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کے پیش ہونے کے بارے میں تین قسم کی احادیث مروی ہیں: (۱)ہر روز، (۲) ہر سوموار اور جمعرات کو اور (۳) شعبان میں۔ یہ تینوں احادیث برحق ہیں، ہر روز کا اورپھر تین تین دنوں کاعلیحدہ علیحدہ ریکارڈ پیش کیا جاتا ہے، پھر سال کے بعد سال کا حساب و کتاب پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس نظام کی حکمتوںکا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
3942
Sahih
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
۔ (۳۹۴۳) عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَعْقُوْبَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا کَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ، فَاَمْسکُوْا عَنِ الصَّوْمِ حَتّٰییَکُوْنَ رَمَضَانُ۔)) (مسند احمد: ۹۷۰۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شعبان کا مہینہ آدھا گزر جائے تو روزہ رکھنے سے رک جایا کرو، یہاں تک کہ ماہِ رمضان آ جائے۔
Takhreej
(۳۹۴۳) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۳۷، وابن ماجہ: ۶۱۵۱، والترمذی: ۷۳۸(انظر: ۹۷۰۷)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ شعبان کے اکثر ایام میں روزے رکھتے تھے، جبکہ اس حدیث میں اس مہینے کے دوسرے نصف میں روزے رکھنے سے منع کیا جا رہا ہے، جمع تطبیق کے لیے حدیث نمبر (۳۶۹۲)دیکھیں۔
3943
Sahih
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
۔ (۳۹۴۴) عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ اَوْ لِغَیْرِہِ: ((ہَلْ صُمْتَ سَرَارَ ھٰذَا الشَّہْرِ (وَفِی لَفْظٍ: ہَلْ صُمْتَ مِنْ سَرَرِ ھٰذَا الشَّہْرِ شَیْئًا؟)) یَعْنِی شَعْبَانَ۔ قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَاِذَا اَفْطَرْتَ اَوْ اَفْطَرَ النَّاسُ، فَصُمْ یَوْمَیْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۱۲۳)
۔ سیدنا عمران بن حصین سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سےیا کسی اور سے پوچھا: کیا تم نے ماہِ شعبان کے وسط کے روزے رکھے تھے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ (رمضان کے روزوں سے) فارغ ہو جاؤ تو اس وقت دو دن کے روزے رکھ لینا۔
Takhreej
(۳۹۴۴) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۸۲۱(انظر: ۱۹۸۸۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے الفاظ ’’سَرَارَ‘‘ کے معانی میں اختلاف ہے، ایک معنی ترجمہ میں بیان کیا گیاہے کہ اس سے مراد مہینے کا وسط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’سَرَر‘‘، ’’سرۃ‘‘ کی جمع ہے، اور ’’سرۃ الشیئ‘‘ چیز کے وسط کو ہی کہتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ مہینے کے وسط یعنی ایام بیض کے روزوں کی فضیلت بیان کی گئی، تیسری وجہ یہ ہے کہ مہینے کے آخری ایام میں روزوں کی کوئی خاص فضیلت ثابت نہیں ہے، بلکہ شعبان کے آخر میں تو روزے رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ دوسرا معنییہ ہے کہ اس سے مراد مہینے کا آخر یعنی (۲۸) اور (۲۹) تاریخیں ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ ان تاریخوں میں چاند چھپ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ معنی کیا جائے تو وہ دو کون سے روزے ہیں، جن کا یہاں حکم دیا جا رہا ہے؟ اس کے دو جوابات دیئے گئے ہیں، ایکیہ کہ اس آدمی کی مہینہ کے آخر میں یہ روزے رکھنے کی عادت تھی اور دوسرا یہ کہ اس نے یہ روزے اپنے اوپر واجب کر رکھے تھے۔ جو معنی بھی کیا جائے، بحث کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ جو آدمی عادت کے ساتھ روزے رکھ رہا ہو یا اس نے نذر مانی ہوئی ہو تو دونوں صورتوں میں شعبان میں روزے رکھ سکتا ہے، اگر وہ کسی وجہ سے یہ روزے نہ رکھ سکے تو شوال میں قضائی دے دے۔ جو آدمی شعبان کے پہلے نصف میں روزے نہ رکھ سکے اور نہ ہی ماہوار یا ہفتہ وار روزہ رکھنے کی اس کی عادت ہو تو وہ شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ نہ رکھے۔
3944
Sahih
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۴۵) عَنْ اَبِی عُثْمَانَ اَنَّ اَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ فِیْ سَفَرٍفَلَمَّا نَزَلُوْا اَرْسَلُوْا إِلَیْہِ، وَہُوَ یُصَلِّی، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَلَمَّا وَضَعُوْا الطَّعَامَ وَکَادُوا اَنْ یَفْرُغُوْا جَائَ، فَقَالُوْا: ہَلُمَّ فَکُلْ فَاَکَلَ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلٰی الرَّسُوْلِ فَقَالَ: مَا تَنْظُرُوْنَ؟ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ قَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، فَقَالَ اَبُوْ ہُرَیْرَۃَ: صَدَقَ، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صَوْمُ الدَّہْرِ کُلِّہِ۔)) فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ اَوَّلِ الشَّہْرِ فَاَنَا مُفْطِرٌ فِی تَخْفِیْفِ اللّٰہِ، صَائِمٌ فِی تَضْعِیْفِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۱۰۶۷۳)
۔ ابو عثمان سے روایت ہے کہ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک سفر میں تھے، جب وہ ایک مقام پر ٹھہرے تو لوگوں نے ان کی طرف کھانا کھانے کا پیغام بھیجا، جبکہ وہ نمازپڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ لوگوں نے کھانا لگایا اور جب وہ فارغ ہونے کے قریب تھے تو سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں آ گئے، لوگوں نے دوبارہ کھانے کی دعوت دی، تو اس بار انھوں نے کھانا شروع کر دیا،یہ صورتحال دیکھ کر لوگوں نے پہلے والے قاصد کی طرف از راہِ تعجب دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ اسی نے روزے کا پیغام دیا تھا، لیکن اس نے کہا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟اللہ کی قسم! انہوں نے کہا تھا کہ وہ روزے سے ہیں۔ اس وقت سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: ماہِ رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔)) میں نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے کے آغاز میں تین روزے رکھ لیے تھے، اب میں اللہ تعالیٰ کی رعایت کی بنیاد پر روزہ افطار کر رہا ہوں، جبکہ میں نے اللہ سے کئی گنا اجر پانے کے لیے روزہ رکھا تھا۔
Takhreej
(۳۹۴۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ الطیالسی: ۲۳۹۳، والبیھقی: ۴/۲۹۳(انظر: ۱۰۶۶۳)
Explanation
فوائد:… چونکہ ہر نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ملتا ہے، اس طرح ایک ماہ میں رکھے گئے تین روزوں کا ثواب ایک ماہ کے روزوں کی صورت میں ملے گا، اگر کوئی آدمی ایک ماہ میں تین روزوں کی عادت سے زندگی گزارتا ہے، تو اس کو ساری زندگی کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ یہ تین روزے مہینے میں کسی وقت بھی رکھے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ان کے لیے سوموار اور جمعرات یا ایام بیضیا دوسرے مسنون معین دنوں کو تلاش کرکے تین روزے پورے کر لیے جائیں تو فضیلت میں اضافہ ہو جائے گا، جیسا کہ اگلے باب کی بعض احادیث سے پتہ چلے گا۔ لیکن جن دنوں کے روزوں سے منع کیا گیا، وہ پابندی برقرار رہے گی،مثلا صرف جمعہ کا روزہ۔
3945
Sahih
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۴۶) عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ بَابِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَفِیْنَا اَبُوْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صَوْمُ شَہْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صَوْمُ الدَّہْرِ، وَیُذْہِبُ مَغَلَّۃَ الصَّدْرِ)) قَالَ: قُلْتُ: وَمَا مَغَلَّۃُ الصَّدْرِ؟ قَالَ: ((رِجْسُ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۹۱)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ماہِ صبر یعنی رمضان کے روزے اور پھر ہر ماہ کے تین روزے سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں، ان سے سینہ کی کدورت زائل ہو جاتی ہے۔ میں نے پوچھا: سینے کی کدورت سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: شیطان کی پلیدی۔
Takhreej
(۳۹۴۶) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطیالسی: ۴۸۲ (انظر: ۲۱۳۶۴)
Explanation
فوائد:… اجر و ثواب کے علاوہ نیک عمل کی وجہ سے عامل کی روح اور جسم میں بھی برکت آتی ہے اور آدمی کئی آلائشوں سے بھی پاک ہو جاتا ہے۔روزے دار کو سوچنا چاہیے کہ جہاں وہ بڑا صبر کر کے روزے جیسا عظیم عمل کرتا ہے، وہاں اسے ایسی نیکیوں کو سر انجام دینے کے لیے اور ایسی برائیوں سے بچنے کے لیے بھی ہمت کرنی چاہیے کہ جن کے لیے روزے سے کم صبر درکار ہوتا ہے۔
3946
Sahih
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۴۷) عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّہَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صِیَامُ ثلَاَثَۃِ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ صِیَامُ الدَّہْرِ وَإِفْطَارُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۷۹)
۔ سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا،یہ سال بھر کے روزے بھی ہیں اور سال بھر کا افطار بھی ہے۔
Takhreej
(۳۹۴۷) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الطیالسی: ۱۰۷۴، والدارمی: ۲/ ۱۹، وابن حبان: ۳۶۵۳ (انظر: ۱۵۵۹۴)
Explanation
فوائد:… سال بھر کا افطار اس طرح ہے کہ ایک ماہ میں ستائیس دنوں کو روزہ نہیں رکھا جاتا اور سال بھر کے روزے اس طرح کہ ثواب پورے سال کے روزوں کا مل جاتا ہے۔
3947
Sahih
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۴۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صِیَامٌ حَسَنٌ: صِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۸)
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا بہترین روزے ہیں۔
Takhreej
(۳۹۴۸) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۱۹(انظر: ۱۶۲۷۹)
3948
Sahih
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۴۹) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرِ فَقَدْ صَامَ الدَّہْرَ کُلَّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۶)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہر ماہ میں تین روزے رکھے، اس نے گویا سال بھر روزے رکھے۔
Takhreej
(۳۹۴۹) صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۰۸، والترمذی: ۷۶۲، والنسائی: ۴/ ۲۱۹(انظر: ۲۱۳۰۱)
3949
Sahih
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۵۰) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ۔ (مسند احمد: ۶۷۶۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۹۵۰) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۷۹، ومسلم: ۱۱۵۹(انظر: ۶۷۶۶)
3950
Sahih
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۵۱) عَنْ اَبِی نَوْفَلِ بْنِ اَبِی عَقْرَبٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَاَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ: ((صُمْ مِنَ الشَّہْرِ یَوْمًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی اَقْوٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنِّی اَقْوٰی، إِنِّی اَقْوٰی، صُمْ یَوْمَیْنِ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! زِدْنِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( زِدْنِی، زِدْنِی، ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۶۱)
۔ سیدنا ابو عقرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ ایک روزہ رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، چلو پھر ہر ماہ دو روزے رکھ لیا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں، تو پھر ہر ماہ تین روزے رکھ لیا کرو۔
Takhreej
(۳۹۵۱) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۲۵(انظر: ۱۹۰۵۱)
Explanation
فوائد:… آخر ِ حدیث میں آپ کا دو دفعہ کہنا ’’مجھے اس سے زیادہ کی اجازت دیں۔‘‘ یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس صحابی پر طنز کر رہے ہیں اور اس کو ڈانٹ رہے ہیں۔ دراصل آپ تعجب کے اندا زمیں ساتھی کی بات کو دہرا رہے ہیں کہ یہ اپنے اندر زیادہ قوت محسوس کر کے اپنے اوپر مشقت ڈال رہا ہے اور زیادہ کام کرنے کی اجازت مانگ رہا ہے جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو آسانی کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)
3951
Sahih
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۵۲) عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ اَیِّہِ کَانَ؟ فَقَالَتْ: لَمْ یَکُنْیُبَالِیْ مِنْ اَیِّہِ کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۴۰)
۔ سیدہ معاذہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے، سیدہ معاذہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے پوچھا: وہ مہینے کے کون سے تین دن تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہیں کرتے تھے کہ کون سے دن ہیں۔
Takhreej
(۳۹۵۲) تخر یـج:اخرجہ مسلم: ۱۱۶۰(انظر: ۲۵۱۲۷)
Explanation
فوائد:… ہم اس باب کی پہلی حدیث کے بعد اس باب کی تمام احادیث کا خلاصہ پیش کر چکے ہیں۔
3952
Sahih
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
۔ (۳۹۵۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتٰی اَعْرَابِیٌّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاَرْنَبٍ قَدْ شَوَاہَا وَمَعَہَا صِنَابُہَا وَاُدَمْہَا، فَوَضَعَہَا بَیْنَیَدَیْہِ فَاَمْسَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَاْکُلَ، وَاَمَرَ اَصْحَابَہُ اَنْ یَاْکُلُوا فَاَمْسَکَ الْاَعْرَابِیُّ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُکَ اَنْ تَاْکُلَ؟)) قَالَ: إِنِّی اَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْاَیَّامَ الْغُرَّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک خرگوش بھون کر لایا اور اس کے ساتھ رائی اور کشمش کی چٹنی اور سالن بھی تھا، اس نے لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود تو نہ کھایا، البتہ اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ کھائیں، بدّو نے کھانے سے ہاتھ روکے رکھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا: میں ہر ماہ تین دن روزے رکھتا ہوں، (ایک روزہ آج رکھا ہوا ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو ایامِ بیض کے روزے رکھا کرو۔
Takhreej
(۳۹۵۳) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۲۲ (انظر: ۸۴۳۴)
3953
Sahih
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
۔ (۳۹۵۴) عَنِ ابْنِ الْحَوْتَکِیَّۃِ قَالَ: اُتِیَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِطَعَامٍ فَدَعاَ إِلَیْہِ رَجُلاً، فَقَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: وَاَیُّ الصِّیَامِ تَصُوْمُ؟ لَوْلَا کَراہِیَۃُ اَنْ اَزِیْدَ اَوْ اَنْقُصَ لَحَدَّثْتُکُمْ بِحَدِیْثِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَیْنَ جَائَ ہُ الْاَعْرَابِیُّ بِالأَرْنَبِ، وَلٰکِنْ اَرْسِلُوْا إِلٰی عَمَّارٍ، فَلَمَّا جَائَ ہُ عَمَّارٌ، قَالَ: اَشَاہِدٌ اَنْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ جَائَ ہُ الْاَعْرَابِیُّ بالْاَرْنَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنِّی رَاَیْتُ بِہَا دَمًا۔ فَقَالَ: ((کُلُوْہَا۔)) قَالَ: إِنِّی صَائِمٌ، قَالَ: ((وَاَیُّ الصِّیَامِ تَصُوْمُ؟)) قَالَ: اَوَّلَ الشَّہْرِ وَآخِرَہُ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الثَّلَاثَ عَشْرَۃَ وَالْاَرْبَعَ عَشْرَۃَ وَالْخَمْسَ عَشْرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰)
۔ ابن حو تکیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، انھوں نے ایک آدمی کو کھانے کی دعوت دی، لیکن اس نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ انہوں نے کہا: تم کن دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اگر کمی بیشی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سناتا،جس کے مطابق ایک بدّو آپ کی خدمت میں ایک خرگوش لے کر حاضر ہواتھا، البتہ تم سیدناعمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلاؤ۔ جب وہ آئے تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ اس روز موجود تھے، جس دن ایک بدّو ایک خرگوش لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس بدّو نے کہا تھا: میں نے دیکھا کہ اسے خون آتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کو کھالو۔ اس بدّو نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تم مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: مہینے کے شروع اور آخر میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم نے روزے رکھنے ہوں تو چاند کی۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخوں کا رکھا کرو۔
Takhreej
(۳۹۵۴) تخر یـج: حسن بشواہدہ۔ اخرجہ الطیالسی: ۴۴، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۴۸۲۳، وعبد الرزاق: ۷۸۷۴، وابن خزیمۃ: ۲۱۲۷(انظر: ۲۱۰)
Explanation
فوائد:… شرعی قواعد کے مطابق خرگوش حلال ہے، بدّو یہ کہنا چاہتا تھا کہ جیسے خاتون کو حیض کا خون آتا ہے، اس طرح اِس کو بھی خون آتا ہے، لیکن اس سے اس جانور کے حلال ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طبیعت آمادہ نہیں ہوئی۔
3954
Sahih
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
۔ (۳۹۵۵) عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ الْمِنْہَالِ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاَیَّامِ الْبِیْضِ فَہُوَ صَوْمُ الشَّہْرِ۔ (مسند احمد:۱۷۶۵۴)
۔ سیدنا منہال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایامِ بِیض کے روزے رکھنے کا حکم دیا،یہ ایک ماہ کے روزوں کے برابر ہیں۔
Takhreej
(۳۹۵۵) حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۴۹، وابن ماجہ: ۱۷۰۷، والنسائی: ۴/ ۲۲۴(انظر: ۱۷۵۱۳)
3955
Sahih
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
۔ (۳۹۵۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْمُرُنَا بِصِیَامِ اللَّیْاَلِی الْبِیْضِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ وَاَرْبَعَ عَشْرَۃَ وَخَمْسَ عَشْرَۃَ وَقَالَ: ((ہِیَ کَصَوْمِ الدَّہْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۸۲)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سفیدی والی راتوں یعنی چاند کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: یہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔
Takhreej
(۳۹۵۶) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3956
Sahih
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
۔ (۳۹۵۷) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ صَائِمًا مِنَ الشَّہْرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ فَلْیَصُمِ الثَّلَاثَ الْبِیضَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۷۷)
۔ سیدناابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی ایک مہینہ میں تین روزے رکھنا چاہے تو وہ ایامِ بِیض کے تین دنوں کے روزے رکھا کرے۔
Takhreej
(۳۹۵۷) تخر یـج: اسنادہ حسن۔ اخرجہ الترمذی: ۷۶۱، والنسائی: ۴/ ۲۲۲(انظر: ۲۱۳۵۰)
3957
Sahih
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۵۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، الْخَمِیْسَ مِنْ اَوَّلِ الشَّہْرِ وَالإِثْنَیْنِ الَّذِییَلِیْہِ وَالإِثْنَیْنِ الَّذِییَلِیْہِ۔ (مسند احمد: ۵۶۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ کو ان تین دنوں کے روزے رکھا کرتے تھے: مہینے کی پہلی جمعرات، اس کے بعد والا سوموار اور پھر اس کے بعد والا سوموار۔
Takhreej
(۳۹۵۸) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ، وقد اختلف علیہ فی لفظ الحدیث۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۱۹(انظر: ۵۶۴۳)
3958
Zaeef
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۵۹) عَنْ حَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیْسِ وَیَوْمَ الإِثْنَیْنِ مِنَ الْجُمُعَۃِ الاُخْرٰی۔ (مسند احمد: ۲۶۹۹۵)
۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے: (پہلے ہفتے میں) سوموار اور جمعرات کو اور دوسرے ہفتے میں سوموار کو۔
Takhreej
(۳۹۵۹) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال سواء الخزاعی، ثم ان ھذا الاسناد منقطع بین عاصم وسواء الخزاعی، بینھما المسیب بن رافع او معبد بن خالد، وعاصم تکلموا فی حفظہ وقد اضطرب فی ھذا الاسناد۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۵۱(انظر: ۲۶۴۶۳)
3959
Zaeef
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۶۰) عَنْ ھُنَیْدَۃَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَاَتِہِ عَنْ بَعْضِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُوْمُ تِسْعَ ذِی الْحِجَّۃِ وَیَوْمَ عَاشُوْرَائَ ، وَثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ اَوَّلَ اثْنَیْنِ مِنْ الشَّہْرِ وَخَمِیْسَیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۰۱)
۔ ایک زوجۂ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (۹) ذوالحجہ اور یومِ عاشوراء کو اور ہر ماہ میں تین دنوں کا روزہ رکھتے تھے، (ان تین دنوں کی تفصیلیہ ہے:) ہر ماہ کا پہلا سوموار اور دو جمعراتیں۔
Takhreej
(۳۹۶۰) حدیث ضعیف لاضطرابہ۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۳۷، والنسائی: ۴/ ۲۰۵(انظر: ۲۶۴۶۸)
3960
Zaeef
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
۔ (۳۹۶۱) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اُمِّہِ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَسَاَلْتُہَا عَنِ الصِّیَامِ، فَقَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْمُرُنِیْ اَنْ اَصُوْمَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ، اَوَّلُہَا الإِثْنَیْنِ وَالْجُمُعَۃُ وَالْخَمِیْسُ۔ (مسند احمد:۲۷۰۱۳)
۔ ہُنیدہ اپنی والدہ سے بیان کرتے ہیں، کہ وہ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئیں اور ان سے روزوں کے بارے میں دریافت کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں ہر ماہ کے پہلے سوموار، جمعہ اور جمعرات کو روزہ رکھا کروں۔
Takhreej
(۳۹۶۱) ضعیف لاضطرابہ، انظر الحدیث السابق۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۵۲، والنسائی: ۴/ ۲۲۱(انظر:)
3961
Zaeef

Chapters

35
01
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
16 Hadith
02
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
15 Hadith
03
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
10 Hadith
04
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
2 Hadith
05
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
8 Hadith
06
ایامِ بِیض کے روزوں کا بیان
5 Hadith
07
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
4 Hadith
08
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
1 Hadith
09
ماہِ شوال کے چھ روزوں کا بیان
3 Hadith
10
شوال، بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روزوں کا بیان
2 Hadith
11
ہفتہ اور اتوار کے روزوں کا بیان
1 Hadith
12
سوموار اور جمعرات کے روزوں کے مستحبّ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
5 Hadith
14
حاجیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ذوالحجہ کے نو دنوں کے اور یومِ عرفہ کے روزوں کا بیان
3 Hadith
15
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
10 Hadith
16
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
5 Hadith
17
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
4 Hadith
18
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
6 Hadith
19
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
3 Hadith
20
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
5 Hadith
21
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
3 Hadith
22
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
5 Hadith
23
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
3 Hadith
24
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
8 Hadith
25
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
26
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
7 Hadith
27
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
1 Hadith
28
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
9 Hadith
29
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
30
حج کی فرضیت کا بیان
5 Hadith
31
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
4 Hadith
32
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
6 Hadith
33
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
3 Hadith
34
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
11 Hadith
35
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.