TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4849 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 9 in this chapter
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَّ الْأَصَابِعَ سَوَاءٌ عَشْرًا عَشْرًا مِنَ الْإِبِلِ .
It was narrated that Abu Musa said: The Messenger of Allah ruled that the fingers are the same and (the Diyah is ) ten camels for each.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”انگلیاں سب برابر برابر ہیں، ہر ایک میں دیت دس دس اونٹ ہیں“۔
4849
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4845 In-book reference : Book 45, Hadith 140 English translation : Vol. 5, Book 45, Hadith 4849
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4845
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۴۸۴۷

Related Chapters

125
1
Chapter: What Has Been Related About Blood-Money For Fingers
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
انگلیوں کی دیت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
3
(30)Chapter: [What Has Been Related] About Going Between The Fingers
باب: انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Blood Money, How Many Camels Is It?
باب: دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Blood-Money, How Many Dirham Is It ?
باب: دیت میں کتنے درہم دئیے جائیں؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Pardoning
باب: دیت معاف کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About One Whose Head Was Fractured With A Rock
باب: جس کا سر پتھر سے کچل دیا گیا ہو اس کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Blood-Money For The Fetus
باب: حمل (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Blood-Money For A Disbeliever
باب: کافر کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Woman: Does She Inherit What Is Due Of Her Husband's Blood-Money
باب: شوہر کی دیت سے بیوی کے میراث پانے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: شوہر کی دیت میں سے بیوی کی وراثت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: مال وارثوں کا ہے اور دیت عصبہ پر ہے
Jam e Tirmazi
14
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
Jam e Tirmazi
15
Chapter: When Allah Wants Good For A Slave, He Gives Him Understanding In The Religion
باب: جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے​
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Counting The Tasbih On The Hand
باب: انگلیوں پر تسبیح گننے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
بَاب الدِّيات
دیتوں کا بیان
Mishkat
18
بَاب مَا يضمن من الْجِنَايَات
ایسے قصور اور خطائیں جن پر دیت نہیں
Mishkat
19
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
20
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
Musnad Ahmad
21
پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں
Musnad Ahmad
22
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
Musnad Ahmad
24
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
25
عمداً کیے گئے قتل کی دیت میں کمی بیشی کر کے صلح کروانے کا بیان
Musnad Ahmad
26
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
Musnad Ahmad
27
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
28
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
29
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
30
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
31
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
32
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
33
جنین کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
Musnad Ahmad
35
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
Musnad Ahmad
36
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
37
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
ناخن تراشنے، زیرِ ناف بال مونڈنے اور انگلیوں کے جوڑوں کو صاف کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
صحابۂ کرام کاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مبارک ہاتھ اور انگلیوں کے اثر سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
40
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
Musnad Ahmad
41
(13) CHAPTER. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion). [The understanding of the Quran and As-Sunna (legal ways) of the Prophet (Muhammad )].
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے
Sahih Bukhari
42
(28) CHAPTER. To be furious while preaching or teaching if one sees what one hates.
استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرتے اور تعلیم دیتے وقت ان پر خفا ہو سکتا ہے
Sahih Bukhari
43
(88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque.
مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
44
(10) CHAPTER. Al-Madina expels Al-Khabath (all the evil and bad persons, etc.).
مدینہ برے آدمی کو نکال دیتا ہے
Sahih Bukhari
45
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
Sahih Bukhari
46
(8) CHAPTER. Agreement about Diya (blood money).
دیت پر صلح کرنا ( یعنی قصاص معاف کر کے دیت پر راضی ہو جانا )
Sahih Bukhari
47
(112) CHAPTER. If the Prophet (p.b.u.h) had not started fighting during the early hours of the day, he would delay it till the sun had declined (i.e., after midday).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ہوتے ہی اگر جنگ نہ شروع کر دیتے تو سورج کے ڈھلنے تک لڑائی ملتوی رکھتے
Sahih Bukhari
48
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
Sahih Bukhari
49
(10) CHAPTER. The Prophet never used to eat anything unless it was named for him so that he might know what it was.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کھانا ( جو پہچانا نہ جاتا ) نہ کھاتے جب تک لوگ بتلانہ دیتے کہ فلانا کھانا ہے اور آپ کو جب معلوم نہ ہو جاتا نہ کھاتے تھے ۔
Sahih Bukhari
50
(52) CHAPTER. To lick and suck the fingers before cleaning them with a handkerchief.
رو مال سے صاف کرنے سے پہلے انگلیوں کو چاٹنا ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

41
Jam e Tirmazi
2689
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرِيرِيُّ البلخي،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيِّ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَشْرٌ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عِشْرُونَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ثَلَاثُونَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب عن عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.
Narrated 'Imran bin Husain: A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'As-Salamu 'Alaykum (Peace be upon you).' [He said:] So the Prophet (ﷺ) said: 'Ten.' Then another came and he said: 'As-Salamu 'Alaykum Wa Rahmatullah (Peace be upon you, and the mercy of Allah).' So the Prophet (ﷺ) said: 'Twenty.' Then another came and said: 'As-Salamu 'Alaykum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuh (Peace be upon you, and the mercy of Allah, and His Blessings).' So the Prophet (ﷺ) said: 'Thirty.'
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: «السلام عليكم»،‏‏‏‏ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) دس نیکیاں ہیں“، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله»،‏‏‏‏ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) بیس نیکیاں ہیں“، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا: «السلام عليكم ورحمة الله وبركاته»،‏‏‏‏ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس کے لیے ) تیس نیکیاں ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوسعید اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے۔
Sunnan Nisai
5182
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَوْلًى لِلْعَبَّاسِ،‏‏‏‏ أَنَّ عَلِيًّا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنِ الْقَسِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ .
It was narrated from Nafi', from a freed slave of Ibn 'Abbas, that 'Ali said: The Messenger of Allah [SAW] forbade me from wearing garments dyed with safflower, and from Al-Qassi, and from gold rings, and that I recite Qur'an while I am bowing.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ کے لباس، ریشمی کپڑے اور سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۱؎۔
Jam e Tirmazi
114
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ. ح قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمَذْيِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ،‏‏‏‏ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ:‏‏‏‏ مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق.
Ali narrated: I asked the Prophet about Al-Madhi. He said: For Al-Madhi is Wudu, and for AI-Mani is Ghusl.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”مذی سے وضو ہے، اور منی سے غسل“، ۴- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، اور سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
852
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِدُخُولِهِ مَكَّةَ بِفَخٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يَغْتَسِلُ لِدُخُولِ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ يُسْتَحَبُّ الِاغْتِسَالُ لِدُخُولِ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
Ibn Umar narrated: The Prophet performed Ghusl for entered Makkah at Fakhkh.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے میں داخل ہونے کے لیے ( مقام ) فخ میں ۱؎ غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ۲- صحیح وہ روایت ہے جسے نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ وہ مکے میں داخل ہونے کے لیے غسل کرتے تھے۔ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ مکے میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، ۳- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں۔ احمد بن حنبل اور علی بن مدینی وغیرہما نے ان کی تضعیف کی ہے اور ہم اس حدیث کو صرف انہی کے طریق سے مرفوع جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
2035
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ لِفَاعِلِهِ:‏‏‏‏ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ جَيِّدٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا فَلَمْ يَعْرِفْهُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ حَازِمٍ الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْمَكِّيَّ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَكِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِخَازِنِهِ:‏‏‏‏ أَعْطِهِ دِينَارًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا عِنْدِي إِلَّا دِينَارٌ إِنْ أَعْطَيْتُهُ لَجُعْتَ وَعِيَالُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَغَضِبَ وَقَالَ:‏‏‏‏ أَعْطِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْمَكِّيُّ:‏‏‏‏ فَنَحْنُ عِنْدَ ابْنِ جُرَيْجٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِكِتَابٍ وَصُرَّةٍ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْهِ بَعْضُ إِخْوَانِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْكِتَابِ إِنِّي قَدْ بَعَثْتُ خَمْسِينَ دِينَارًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَحَلَّ ابْنُ جُرَيْجٍ الصُّرَّةَ:‏‏‏‏ فَعَدَّهَا فَإِذَا هِيَ أَحَدٌ وَخَمْسُونَ دِينَارًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ لِخَازِنِهِ:‏‏‏‏ قَدْ أَعْطَيْتَ وَاحِدًا فَرَدَّهُ اللَّهُ عَلَيْكَ وَزَادَكَ خَمْسِينَ دِينَارًا.
Usamah bin Zaid narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: Whoever some good was done to him, and he says: 'May Allah reward you in goodness' then he has done the most that he can of praise.
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے سے «جزاك الله خيراً» ”اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلا دے“ کہا، اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن جید غریب ہے، ہم اسے اسامہ بن زید رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، ۳- مکی بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابن جریج مکی کے پاس تھے، ایک مانگنے والا آیا اور ان سے کچھ مانگا، ابن جریج نے اپنے خزانچی سے کہا: اسے ایک دینار دے دو، خازن نے کہا: میرے پاس صرف ایک دینار ہے اگر میں اسے دے دوں تو آپ اور آپ کے اہل و عیال بھوکے رہ جائیں گے، یہ سن کر ابن جریج غصہ ہو گئے اور فرمایا: اسے دینار دے دو، ہم ابن جریج کے پاس ہی تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس ایک خط اور تھیلی لے کر آیا جسے ان کے بعض دوستوں نے بھیجا تھا، خط میں لکھا تھا: میں نے پچاس دینار بھیجے ہیں، ابن جریج نے تھیلی کھولی اور شمار کیا تو اس میں اکاون دینار تھے، ابن جریج نے اپنے خازن سے کہا: تم نے ایک دینار دیا تو اللہ تعالیٰ نے تم کو اسے مزید پچاس دینار کے ساتھ لوٹا دیا۔
Jam e Tirmazi
2285
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحمَّدٍ الْجُرَيْريُّ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الدِّينَ .
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from some of the companions of the Prophet (s.a.w) that the Prophet (s.a.w) said: While I was sleeping I saw people presented before me, and that they were wearing shirts. Some of them (the shirts) reaching their breasts, and some of them reaching below that. He said: Then 'Umar was presented before me and he was wearing a shirt that was dragging. They said: How did you interpret that O Messenger of Allah? He said: The religion.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما بعض صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا دیکھا: لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، بعض کی قمیص چھاتی تک پہنچ رہی تھی اور بعض کی اس سے نیچے تک پہنچ رہی تھی، پھر میرے سامنے عمر کو پیش کیا گیا ان کے جسم پر جو قمیص تھی وہ اسے گھسیٹ رہے تھے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”دین سے“ ۱؎۔
Sunnan Abu Dawood
3177
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ،‏‏‏‏عَنْ ثَوْبَانَ:‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أُتِيَ بِدَابَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ مَعَ الْجَنَازَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبَ وَهُمْ يَمْشُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا ذَهَبُوا رَكِبْتُ .
Narrated Thawban: An animal was brought to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم while he was going with a funeral. He refused to ride on it. When the funeral was away, the animal was brought to him and he rode on it. He was asked about it. He said: The angels were on their feet. I was not to ride while they were walking. When they went away, I rode.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سواری پیش کی گئی اور آپ جنازہ کے ساتھ تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے سے انکار کیا ( پیدل ہی گئے ) جب جنازے سے فارغ ہو کر لوٹنے لگے تو سواری پیش کی گئی تو آپ سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: جنازے کے ساتھ فرشتے پیدل چل رہے تھے تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ وہ پیدل چل رہے ہوں اور میں سواری پر چلوں، پھر جب وہ چلے گئے تو میں سوار ہو گیا ۔
Sunnan Abu Dawood
3819
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي تَبُوكَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا بِسِكِّينٍ فَسَمَّى وَقَطَعَ .
Narrated Abdullah ibn Umar: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم was brought a piece of cheese in Tabuk. He called for a knife, mentioned Allah's name and cut it.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پنیر لائی گئی آپ نے چھری منگائی اور بسم الله پڑھ کر اسے کاٹا۔
Sunnan Nisai
2286
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يُقَالُ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ كَالْإِفْطَارِ فِي الْحَضَرِ .
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin 'Awf said: It is said that fasting while traveling is like not fasting while a resident. (Daif)
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔