TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4854 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 9 in this chapter
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِي خُطْبَتِهِ:‏‏‏‏ وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said: When the Messenger of Allah conquered Makkah, he said in his Khutbah: (The Diyah) for fingers is ten each.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: ”انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں“۔
4854
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4850 In-book reference : Book 45, Hadith 145 English translation : Vol. 5, Book 45, Hadith 4854
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4850
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الدیات ۲۰ (۴۵۶۲)، (تحفة الأشراف: ۸۶۸۴)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ۱۸ (۲۶۵۳)، مسند احمد (۲/۲۰۷)

Related Chapters

125
1
Chapter: What Has Been Related About Blood-Money For Fingers
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
انگلیوں کی دیت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
3
(30)Chapter: [What Has Been Related] About Going Between The Fingers
باب: انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Blood Money, How Many Camels Is It?
باب: دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Blood-Money, How Many Dirham Is It ?
باب: دیت میں کتنے درہم دئیے جائیں؟
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Pardoning
باب: دیت معاف کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About One Whose Head Was Fractured With A Rock
باب: جس کا سر پتھر سے کچل دیا گیا ہو اس کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Blood-Money For The Fetus
باب: حمل (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Blood-Money For A Disbeliever
باب: کافر کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Woman: Does She Inherit What Is Due Of Her Husband's Blood-Money
باب: شوہر کی دیت سے بیوی کے میراث پانے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: شوہر کی دیت میں سے بیوی کی وراثت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: مال وارثوں کا ہے اور دیت عصبہ پر ہے
Jam e Tirmazi
14
باب: لوگوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں
Jam e Tirmazi
15
Chapter: When Allah Wants Good For A Slave, He Gives Him Understanding In The Religion
باب: جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے​
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Counting The Tasbih On The Hand
باب: انگلیوں پر تسبیح گننے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
بَاب الدِّيات
دیتوں کا بیان
Mishkat
18
بَاب مَا يضمن من الْجِنَايَات
ایسے قصور اور خطائیں جن پر دیت نہیں
Mishkat
19
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
20
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
Musnad Ahmad
21
پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں
Musnad Ahmad
22
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
23
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
Musnad Ahmad
24
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
25
عمداً کیے گئے قتل کی دیت میں کمی بیشی کر کے صلح کروانے کا بیان
Musnad Ahmad
26
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
Musnad Ahmad
27
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
28
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
29
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
30
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
31
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
32
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
33
جنین کی دیت کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
Musnad Ahmad
35
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
Musnad Ahmad
36
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
37
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
ناخن تراشنے، زیرِ ناف بال مونڈنے اور انگلیوں کے جوڑوں کو صاف کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
صحابۂ کرام کاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مبارک ہاتھ اور انگلیوں کے اثر سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
40
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
Musnad Ahmad
41
(13) CHAPTER. If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend (the religion). [The understanding of the Quran and As-Sunna (legal ways) of the Prophet (Muhammad )].
اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے
Sahih Bukhari
42
(28) CHAPTER. To be furious while preaching or teaching if one sees what one hates.
استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرتے اور تعلیم دیتے وقت ان پر خفا ہو سکتا ہے
Sahih Bukhari
43
(88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque.
مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
44
(10) CHAPTER. Al-Madina expels Al-Khabath (all the evil and bad persons, etc.).
مدینہ برے آدمی کو نکال دیتا ہے
Sahih Bukhari
45
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
Sahih Bukhari
46
(8) CHAPTER. Agreement about Diya (blood money).
دیت پر صلح کرنا ( یعنی قصاص معاف کر کے دیت پر راضی ہو جانا )
Sahih Bukhari
47
(112) CHAPTER. If the Prophet (p.b.u.h) had not started fighting during the early hours of the day, he would delay it till the sun had declined (i.e., after midday).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ہوتے ہی اگر جنگ نہ شروع کر دیتے تو سورج کے ڈھلنے تک لڑائی ملتوی رکھتے
Sahih Bukhari
48
(3) CHAPTER. Whoever divorced (his wife), and should a man tell his wife face to face that she is divorced.
طلاق دینے کا بیان اور کیا طلاق دیتے وقت عورت کے منہ در منہ طلاق دے ؟
Sahih Bukhari
49
(10) CHAPTER. The Prophet never used to eat anything unless it was named for him so that he might know what it was.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کھانا ( جو پہچانا نہ جاتا ) نہ کھاتے جب تک لوگ بتلانہ دیتے کہ فلانا کھانا ہے اور آپ کو جب معلوم نہ ہو جاتا نہ کھاتے تھے ۔
Sahih Bukhari
50
(52) CHAPTER. To lick and suck the fingers before cleaning them with a handkerchief.
رو مال سے صاف کرنے سے پہلے انگلیوں کو چاٹنا ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

3,494
Sunnan Nisai
2541
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:‏‏‏‏ لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا ،‏‏‏‏ مُخْتَصَرٌ.
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said: When the Messenger of Allah conquered Makkah, he stood up to address the people and said in his Khutbah; 'It is not permissible for a woman to give anything without her husband's permission. ' (He narrated it) in abridged from.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا، تو تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے ( منجملہ اور باتوں کے ) اپنی تقریر میں فرمایا: ”کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں“، یہ حدیث مختصر ہے۔
Sunnan Nisai
4856
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِي خُطْبَتِهِ:‏‏‏‏ وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib that his father told him that 'Abdullah bin 'Amr said: When the Messenger of Allah (ﷺ) conquered Makkah , he said in his Khutbah: 'For any wound that exposes the bone, the diyah is five (camels) each.'
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کیا تو خطبے میں فرمایا: ”ہر اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے، دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں“ ۱؎۔
Sunnan Nisai
3788
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. ح وأَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:‏‏‏‏ لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said: When the Messenger of Allah conquered Makkah, he stood up to address (the people) and said in his Khutbah: 'It is not permissible for a woman to give (a gift) except with her husband's permission.'
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنے خطبہ میں آپ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز و درست نہیں“۔
Jam e Tirmazi
1011
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى إِمَامِ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَشْيِ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا دُونَ الْخَبَبِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا عَجَّلْتُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَلَا يُبَعَّدُ إِلَّا أَهْلُ النَّارِ الْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ وَلَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُضَعِّفُ حَدِيثَ أَبِي مَاجِدٍ لِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ:‏‏‏‏ قِيلَ لِيَحْيَى:‏‏‏‏ مَنْ أَبُو مَاجِدٍ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ طَائِرٌ طَارَ فَحَدَّثَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏رَأَوْا أَنَّ الْمَشْيَ خَلْفَهَا أَفْضَلُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق. قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَبَا مَاجِدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَا يُعْرَفُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا يُرْوَى عَنْهُ حَدِيثَانِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْيَى إِمَامُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏يُكْنَى أَبَا الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ يَحْيَى الْجَابِرُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ يَحْيَى الْمُجْبِرُ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ كُوفِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏رَوَى لَهُ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ.
Yahya, the Imam of Banu Taimillah, narrated from Abu Majid : From Abdullah bin Mas'ud who said: We asked the Messenger of Allah about walking behind the funeral. He said: 'Less than a trot. For if he was good, then you will be hastening him to it (goodness), and if he was evil, then it id only an inhabitant of the Fire that is being taken away. The funeral is (to be) followed. The one who precedes it shall not have the reward of those who follow it.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ایسی چال چلے جو دلکی چال سے دھیمی ہو۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے جلدی قبر میں پہنچا دو گے اور اگر برا ہے تو جہنمیوں ہی کو دور ہٹایا جاتا ہے۔ جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس سے آگے نہیں ہونا چاہیئے، جو جنازہ کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ جانے والوں میں سے نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابو حامد کی اس حدیث کو ضعیف بتاتے سنا ہے، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کا بیان ہے کہ حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا: ابوماجد کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک اڑتی چڑیا ہے جس سے ہم نے روایت کی ہے، یعنی مجہول راوی ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
2732
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْجَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَزَوَّجَ رِئَابُ بْنُ حُذَيْفَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَهْمٍ أُمَّ وَائِلٍ بِنْتَ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيَّةَ فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةً فَتُوُفِّيَتْ أُمُّهُمْ فَوَرِثَهَا بَنُوهَا رِبَاعًا وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا. فَخَرَجَ بِهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى الشَّامِ فَمَاتُوا فِي طَاعُونِ عَمْوَاسٍ فَوَرِثَهُمْ عَمْرُو وَكَانَ عَصَبَتَهُمْ فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَاءَ بَنُو مَعْمَرٍ يُخَاصِمُونَهُ فِي وَلَاءِ أُخْتِهِمْ إِلَى عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَضَى لَنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَتَبَ لَنَا بِهِ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَآخَرَ حَتَّى إِذَا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ تُوُفِّيَ مَوْلًى لَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِينَارٍ فَبَلَغَنِي أَنَّ ذَلِكَ الْقَضَاءَ قَدْ غُيِّرَ فَخَاصَمُوهُ إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَنَا إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَتَيْنَاهُ بِكِتَابِ عُمَرَ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتُ لَأَرَى أَنَّ هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي لَا يُشَكُّ فِيهِ وَمَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَمْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بَلَغَ هَذَا أَنْ يَشُكُّوا فِي هَذَا الْقَضَاءِ فَقَضَى لَنَا فِيهِ فَلَمْ نَزَلْ بِهِ بَعْدُ .
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said: “Rabab bin Hudhaifah (bin Sa’eed) bin Sahm married Umm Wa’il bint Ma’mar Al-Jumahiyyah, and she bore him three sons. Their mother died and her sons inherited her houses and the Wala’ of her freed slaves. ‘Amr bin ‘As took them out to Sham, and they died of the plague of ‘Amwas. ‘Amr inherited from them, and he was their ‘Asabah.* When ‘Amr came back, Banu Ma’mar came to him and they referred their dispute with him concerning the Wala’ of their sister to ‘Umar. ‘Umar said: ‘I will judge between you according to what I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard him say: “What the son or father acquires goes to his. ‘Asabah, no matter who they are.’” So he ruled in our favour and wrote a document to that effect, in which was the testimony of ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf, Zaid bin Thabit and someone else. Then when ‘Abdul-Malik bin Marwan was appointed caliph, a freed slave of hers (Umm Wa’il’s) died, leaving behind two thousand Dinar. I heard that that ruling had been changed, so they referred the dispute to Hisham bin Isma’il. We referred the matter to ‘Abdul-Malik, and brought him the document of ‘Umar. He said: ‘I thought that this was a ruling concerning which there was no doubt. I never thought that the people of Al-Madinah would reach such a state that they would doubt this ruling. So he ruled in our favour, and it remained like that afterwards.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رباب بن حذیفہ بن سعید بن سہم نے ام وائل بنت معمر جمحیہ سے نکاح کیا، اور ان کے تین بچے ہوئے، پھر ان کی ماں کا انتقال ہوا، تو اس کے بیٹے زمین جائیداد اور ان کے غلاموں کی ولاء کے وارث ہوئے، ان سب کو لے کر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام گئے، وہ سب طاعون عمواس میں مر گئے تو ان کے وارث عمرو رضی اللہ عنہ ہوئے، جو ان کے عصبہ تھے، اس کے بعد جب عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ شام سے لوٹے تو معمر کے بیٹے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی بہن کے ولاء ( حق میراث ) کا مقدمہ لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اسی کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، میں نے آپ صلی اللہعلیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس ولاء کو لڑکا اور والد حاصل کریں وہ ان کے عصبہ کو ملے گا خواہ وہ کوئی بھی ہو ، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا، اور ہمارے لیے ایک دستاویز لکھ دی، جس میں عبدالرحمٰن بن عوف، زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک تیسرے شخص کی گواہی درج تھی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو ام وائل کا ایک غلام مر گیا، جس نے دو ہزار دینار میراث میں چھوڑے تھے، مجھے پتہ چلا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا کیا ہوا فیصلہ بدل دیا گیا ہے، اور اس کا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس گیا ہے، تو ہم نے معاملہ عبدالملک کے سامنے اٹھایا، اور ان کے سامنے عمر رضی اللہ عنہ کی دستاویز پیش کی جس پر عبدالملک نے کہا: میرے خیال سے تو یہ ایسا فیصلہ ہے جس میں کسی کو بھی شک نہیں کرنا چاہیئے، اور میں یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ مدینہ والوں کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ اس جیسے ( واضح ) فیصلے میں شک کر رہے ہیں، آخر کار عبدالملک نے ہماری موافقت میں فیصلہ کیا، اور ہم برابر اس میراث پر قابض رہے ۱؎۔
Sunnan Nisai
134
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بِهَا هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَوَصَفَ شُعْبَةُ نَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ فَأَعْجَبَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّيْخُ:‏‏‏‏ ابْنُ السُّنِّيِّ الْحَكَمُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
It was narrated from Al-Hakam, from his father, that when the Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu', he would take a handful of water and do this with it. Shu'bah described it: He would sprinkle his private parts with it. [1] Shaikh Ibn As-Sunni said: Al-Hakam (one of the narrators) is Ibn Sufyan Ath-Thaqafi. [1] The purpose is to ward off devilish whispers lest the person think any emission has taken place, and thus think that his Wudu' has been invalidated.
سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے،  ( خالد بن حارث کہتے ہیں )  میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔
Sunnan Nisai
371
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَفِسْتِ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ . وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ.
Umm Salamah narrated: While I was lying down with the Messenger of Allah (ﷺ) under a blanket, my period came so I slipped away and put on the clothes I used to wear when I was menstruating. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Are you menstruating?' I said: 'Yes.' Then he called me to lie down with him under the blanket. This is the wording of 'Ubaidullah bin Sa'eed.[1] [1] That is, one of the narrators in one of the chains, as the author reported it through different chains, as he did when it preceded, see No. 284.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آ گیا، تو میں چپکے سے کھسک آئی، اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:  کیا تم حائضہ ہو گئی؟  میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ نے مجھے بلایا، تو میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی، یہ الفاظ عبیداللہ بن سعید کے ہیں۔
Sunnan Nisai
577
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَسْوَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدِي بَعْدَ الْعَصْرِ صَلَّاهُمَا .
It was narrated that Abu Ishaq said: I heard Masruq and Al-Aswad say: We bear witness that 'Aishah said: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) was with me after 'Asr, he would pray them (these two Rak'ahs).'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کے بعد میرے پاس ہوتے تو ان دونوں رکعتوں کو پڑھتے۔
Sunnan Nisai
827
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to enjoin upon us to make the prayer short, but he would lead us in prayer and recite As-Saffat.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے، اور آپ ہماری امامت سورۃ الصافات سے کرتے تھے ۱؎۔