TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12074 - فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
۔ (۱۲۰۷۴)۔ وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: عَہِدَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَنَّ اَخْوَفَ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ الْاَئِمَّۃُ الضّٰلُّوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۳)
سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے تاکیداً فرمایا کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ ڈر گمراہ حکمرانوں کا ہے۔
12074
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۰۷۴) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ الطیالسی: ۹۷۵، والدارمی: ۲۱۱(انظر: ۲۷۴۸۵)
Explanation
شرح و تفصیل
۔ فوائد:… اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ … لوگ اپنے بادشاہوں والا دین اختیار کرتے ہیں۔ جیسا حکمران ہو گا، ویسی رعایا ہو گی۔ ظالم و جابر حکمرانوں سے عوام بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جو لوگ منافقت اور چاپلوسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتے ہیں اور جو ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں، ان کو بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا تو ان کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا موت کے گھاٹ اترنا پڑتا ہے، یا پھر حکمرانوں کی پابندیوں کے مطابق زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث سے مراد گمراہ کن مذہبی پیشوا اور مشائخ ہوں، جو اپنے مریدوں کا اعتقاد بڑھانے اور حسنِ عقیدت قائم رکھنے کے لیے ہزاروں طرح کے مکرو فریب کرتے ہیں اور اپنے مریدوں اور معتقدوں کو راضی رکھنے کے لیے ان کے خلافِ شرع کاموں پر سکوت اختیار کرتے ہیں، لعنت ہو ایسی مولویت اور مشائخیت پر، تر نوالوں کی خاطر شریعت کو مسخ کر رہے ہیں۔ آخر سلف صالحین بھی پیشوا تھے، جو اپنے لیے خود کمائی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضامندی کی خاطر لوگوں کو نصیحت کرتے، وہ دنیا داروں کے خوف و خطر، پاس و لحاظ اور خفگی و ناراضگی کی کوئی پروا نہ کرتے۔

Related Chapters

470
1
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
Musnad Ahmad
2
اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
Musnad Ahmad
3
Chapter: About Hell - May Allah Protect Us From It
جہنم ،اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے!
Sahih Muslim
4
اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
Musnad Ahmad
5
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطوط اور کاتبین کا بیان اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: غیر مسلم حکمرانوں کے نام رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکتوبات کا بیا ن
Musnad Ahmad
6
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
7
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
Musnad Ahmad
8
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
Musnad Ahmad
9
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
Musnad Ahmad
10
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
Musnad Ahmad
11
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
Musnad Ahmad
12
جنت الفردوس کی صفات،اس کے مستحقین، اس میں جنتوں کے درجات اور فردوس کا سب سے اعلی مرتبہ ہونا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس میں رہنے والوں میں سے بنا دے
Musnad Ahmad
13
(5) CHAPTER. The statement of Allah: … And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp, (necessitating shaving), he must pay a Fidya (ransom), of either observing Saum (fasts) (three days), or giving Sadaqa (charity - feeding six poor persons), or offer sacrifice (one sheep) ...” (V.2:196)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں ( جوؤں کی ) کوئی تکلیف ہو تو اسے روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دینا چاہئے یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے
Sahih Bukhari
14
(22) CHAPTER: And a believing man of Firaun's (Pharaoh) family, who hid his faith said.. (up to).. A Musrif (a polytheist, or a murderer who shed blood without a right, or those who commit great sins, oppressor, transgressor), a liar! (V.40:28)
( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اور فرعون کے خاندان کے ایک مومن مرد ( شمعان نامی ) نے کہا جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھے ہوئے تھا ‘ اللہ تعالیٰ کے ارشاد مسرف کذاب تک ۔
Sahih Bukhari
15
(13) CHAPTER. Allah will keep good relations with the one who will keep good relations with his kith and kin.
جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا
Sahih Bukhari
16
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: “Nay! This is a Glorious Quran (Inscribed), in Al-Lauh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet).” (V.85:21,22)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمانا بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
Sahih Bukhari
17
Chapter: The Saying of Allah Most High: ... And as for those who can fast with difficulty, they have) a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day) is Abrogated by His saying: ... So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Sawm (fasts) that month ...
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور ان لوگوں پرجو اس کی طاقت رکھتے ہیں‘فدیہ ‘ایک مسکین کا کھانا ہے ‘‘اس کے فرمان :’’اور تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے ‘‘کی بنا پر منسوخ ہو گیا
Sahih Muslim
18
CHAPTER: It Is Recommended To Think Positively Of Allah At The Time Of Death.
باب: مستحب ہے کہ انسان موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھے ۔
Sunnan Abu Dawood
19
باب: ضلالت و گمراہی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Excellence Of Martyrs With Allah
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہیدوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Misguiding A'immah
باب: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Whoever Loves To Meet Allah, Allah Loves To Meet Him
باب: جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Insignificance Of The World To Allah, The Mighty And Sublime
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقارت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
28
باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند کرتا ہے
Jam e Tirmazi
29
باب: اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مثال کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: “Allah Created a Hundred Mercies”
باب: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں
Jam e Tirmazi
31
بَاب أَسمَاء الله تَعَالَى
اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان
Mishkat
32
بَاب حرم مَكَّة حرسها الله تَعَالَى
حرمت مکہ ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
33
بَابُ حَرَمِ الْمَدِينَةِ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى
حرمتِ مدینہ کا بیان ، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے
Mishkat
34
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
36
اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور اس کو ہر نقص سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
38
اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مضبوطی سے جم جانے کا بیان
Musnad Ahmad
39
قضائے حاجت کے دوران سلام کا جواب دینے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے کی کراہیت کا بیان
Musnad Ahmad
40
وضو کے بغیر اللہ تعالیٰ کاذکر اور قرآن کی تلاوت کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
41
اس عقیدے کا بیان کہ بارش اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اس کی مخلوق ہے اور اسی کی ایجاد کردہ ہے اور اس آدمی کے کفر کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے
Musnad Ahmad
42
اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
Musnad Ahmad
44
اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
Musnad Ahmad
47
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
48
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
49
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
50
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

97
Musnad Ahmad
9709
۔ (۹۷۰۹)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ النَّضْرِ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیْدِ،یَعْنِی ابْنَ بَھْرَامَ، قَالَ: قَالَ شَھْرُ بْنُ حَوْشَبٍ: قَالَ ابْنُ غَنَمٍ: لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِیَۃِ اَنَا وَاَبُوْالدَّرْدَائِ لَقِیْنَا عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ، فَاَخَذَیَمِیْنِیْ بِشِمَالِہِ وَشِمَالَ اَبِی الدَّرْدَائِ بِیَمِیْنِہِ فَخَرَجَ یَمْشِیْ بَیْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِیْ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ فِیْمَا نَتَنَاجٰی وَذٰلِکَ قَوْلُہُ: فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ: لَئِنْ طَالَ بِکُمَا عُمْرُ اَحَدِ کُمَا اَوْ کِلَا کُمَا لَتُوْشِکَانِّ اَنْ تَرَیَا الرَّجُلَ مِنْ ثَبَجِ الْمُسْلِمِیْنَ،یَعْنِیْ مِنْ وَسْطٍ، قَرَئَ الْقُرْآنَ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَلٰی لِسَانِ اَخِیْہِ قِرَائَۃً عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَاَعَادَہُ وَاَبْدَاہُ وَاَحَلَّ حَلَالَہُ وَحَرَّمَ حَرَامَہُ وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِہِ لَایَحُوْرُ فِیْکُمْ اِلَّا کَمَا یَحُوْرُ رَاْسُ الْحِمَارِ الْمَیِّتِ، قَالَ: فَبَیْنَا نَحْنُ کَذٰلِکَ، اِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ اَوْسٍ وَعَوْفُ بْنُ مَالِکٍ فَجَلَسَا اِلَیْنَا، فَقَالَ شَدَّادٌ : اِنَّ اَخْوَفَ مَااَخَافُ عَلَیْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مِنَ الشَّھْوَۃِ الْخَفِیَّۃِ وَالشِّرْکِ۔)) فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ وَاَبُوْ الدَّرْدَائِ: اَللّٰھُمَّ غَفْرًا، اَوَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ حَدَّثَنَا اَنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ یَئِسَ اَنْ یُعْبَدَ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرْبِ؟ فَاَمَّا الشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ فَقَدْ عَرَفْنَاھَا ھِیَ شَھَوَاتُ الدُّنْیَا مِنْ نِسَائِھَا وَشَھَوَاتِھَا، فَمَا ھٰذَا الشِّرْکُ الَّذِیْ تُخَوِّفُنَا بِہٖیَا شَدَّادُ؟ فَقَالَ شَدَّادٌ: اَرَاَیْتُکُمْ لَوْ رَاَیْتُمْ رَجُلًا یُصَلِّیْ لِرَجُلٍ، اَوْ یَصُوْمُ لَہُ، اَوْ یَتَصَدَّقُ لَہُ، اَتَرَوْنَ اَنَّہُ قَدْ اَشْرَکَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ! وَاللّٰہِ اِنَّ مَنْ صَلَّی لِرَجُلٍ اَوْ صَامَ لَہُ، اَوْ تَصَدَّقَ لَہُ، فَقَدْ اَشْرَکَ، فَقَالَ شَدَّادٌ: فَاِنِّیْ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ صَلّٰییُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، فَقَالَ عَوْفُ بْنِ مَالِکٍ عِنْدَ ذٰلِکَ: اَفَـلَا یَعْمِدُ اِلٰی مَاابْتُغِیَ فِیْہِ وَجْھُہُ مِنْ ذٰلِکَ الْعَمَلِ کُلِّہِ فَیَقْبَلَ مَاخَلَصَ لَہُ وَیَدَعَ مَایُشْرِکُ بِہٖ؟فَقَالَشَدَّادٌعِنْدَذٰلِکَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَنَا خَیْرُ قَسِیْمٍ لِمَنْ اَشْرَکَ بِیْ، مَنْ اَشْرَکَ بِیْ شَیْئًا فَاِنَّ حَشْدَہُ عَمَلَہُ قَلِیْلَہُ وَکَثِیْرَہُ لِشَرِیْکِہِ الَّذِیْ اَشْرَکَ بِہٖ،وَاَنَاعَنْہُغَنِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷۰)
۔ ابن غنم کہتے ہیں: جب میں اور سیدنا ابو درداء جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے، انھوں نے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم سرگوشی کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم کس چیز میں سرگوشی کر رہے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم میں سے ایک کییا دونوں کی عمر لمبی ہو گئی تو ممکن ہے کہ تم یہ دیکھو کہ درمیانے قسم کے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک آدمی ہو گا، وہ محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان کے مطابق قرآن مجید پڑھے گا، پھر وہ اس کو بار بار پڑھے گا اور اس کو ظاہر کرے گا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے گا اور اس کے احکام کا پابند رہے گا، لیکن پھر بھی وہ تمہارے پاس اتنی خیر لائے گا، جتنی کہ مردار گدھے کا سر لاتا ہے، (یعنی وہ آدمی ذرا برابر خیر و بھلائی لے کر نہیں آئے گا)۔ ہم اسی اثنا میں تھے کہ سیدنا شداد بن اوس اور سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے، سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس چیز کا ہے، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مخفی شہوت اور شرک ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اے اللہ! بخشنا، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ شیطان اس چیز سے ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں اس کی عبادت کی جائے؟ البتہ مخفی شہوت کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی شہوات ہوتی ہیں، ان کا تعلق عورتوں سے اور ان کی شہوات سے ہوتا ہے، لیکن شداد! یہ شرک کیا چیز ہے، جس کے بارے میں تم ہمیں ڈرا رہے ہو؟ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اچھا اس کے بارے میں تم مجھے بتلاؤ کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھ رہا ہو، یا روزہ رکھ رہا ہو، یا صدقہ کر رہا ہو، کیا اس کے بارے میںتمہاری رائے یہی ہے کہ اس نے شرک کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! جس آدمی نے کسی آدمی کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی،یا روزہ رکھا، یا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے صدقہ کیا، اس نے شرک کیا۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیااس طرح نہیں ہو گا کہ اس کے وہ اعمال دیکھے جائیں جو اس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے کیے ہوں اور ان کو قبول کر لیا جائے اور شرکیہ اعمال کو چھوڑ دیا جائے؟ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے میرے ساتھ شرک کیا، میں اس کا سب سے بہترین قسیم اور حصہ دار ہوں، جس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرایا تو اس آدمی کے اعمال کی ساری جمع پونجی، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اس کے اس ساجھی کے لیے ہو جائے گی، جس کے ساتھ وہ شرک کرے گا اور میں (اللہ) اس سے غنی ہوں گا۔
Musnad Ahmad
5028
۔ (۵۰۲۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ الْکِنْدِیِّ، أَنَّہُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِی الدَّرْدَائِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْکِنْدِیِّ، فَتَذَاکَرُوْا حَدِیثَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ لِعُبَادَۃَ: یَا عُبَادَۃُ! کَلِمَاتُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا فِی شَأْنِ الْأَخْمَاسِ، فَقَالَ عُبَادَۃُ: قَالَ إِسْحَاقُ فِی حَدِیثِہِ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی بِہِمْ فِی غَزْوِہِمْ إِلَی بَعِیرٍ مِنْ الْمُقَسَّمِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَنَاوَلَ وَبَرَۃً بَیْنَ أُنْمُلَتَیْہِ، فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ مِنْ غَنَائِمِکُمْ، وَإِنَّہُ لَیْسَ لِی فِیہَا إِلَّا نَصِیبِی مَعَکُمْ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ، فَأَدُّوا الْخَیْطَ وَالْمِخْیَطَ، وَأَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَأَصْغَرَ)) الحدیث۔(مسند أحمد: ۲۳۱۵۷)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبادہ بن صامت ، سیدنا ابو درداء اور سیدنا حارث بن معاویہ کندی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث کا ذکر کیا، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے عبادہ: فلاں فلاں غزوے میں خمس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باتیں، سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک غزوے کے دوران ہمیں نماز پڑھائی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس مالِ غنیمت کا ایک اونٹ تھا، جس کو ابھی تک تقسیم نہیںکیا گیا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوگئے،اپنے دو پوروں میں اونٹ کے بال پکڑے اور فرمایا: یہ بال بھی تمہاری غنیمتوں میں سے ہیں اور اس مال میں تمہارے ساتھ میرا حصہ نہیں ہے، مگر خمس، اور وہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں، سب کچھ ادا کر دو۔
Musnad Ahmad
6327
۔ (۶۳۲۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَصَدَّقَ عَلَیْکُمْ بِثُلُتِ اَمْوَالِکُمْ عِنْدَ وَفَاتِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۳۰)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں وفات کے وقت اپنے مالوں میں سے ایک تہائی کا صدقہ کر دینے کی اجازت دے دی ہے۔
Musnad Ahmad
103
۔ (۱۰۳)۔عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجِلُّوْا اللّٰہَ یَغْفِرْلَکُمْ۔)) قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ) یَعْنِی أَسْلِمُوْا۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۷۷)
سیدنا ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرو، وہ تم کو بخش دے گا۔ ابن ثوبان راوی نے کہا: اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جاؤ۔
Musnad Ahmad
183
۔ (۱۸۳)۔عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَلَقَ اللّٰہُ آَدَمَ حِیْنَ خَلَقَہُ فَضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُمْنَی فَأَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً بَیْضَائَ کَأَنَّہُمُ الذَّرُّ وَ ضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُسْرَی فَأَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً سَوْدَائَ کَأَنَّہُمْ الْحُمَمُ، فَقَالَ لِلَّذِیْ فِی یَمِیْنِہِ: اِلَی الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ قَالَ لِلَّذِی فِی کَفِّہِ الْیُسْرٰی: اِلَی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۶)
سیدنا ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑکو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی، وہ چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی، پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائے اور کوئلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی، پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والے اولاد کے بارے میں کہا: یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بے پرواہ ہوں۔
Musnad Ahmad
200
۔ (۲۰۰)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فَرَغَ اللّٰہُ اِلٰی کُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ، مِنْ أَجَلِہِ وَ رِزْقِہِ وَأَثَرِہِ وَ شَقِیٍّ أَمْ سَعِیْدٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۶۶)
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر بندے سے پانچ چیزوں سے فارغ ہو گیا ہے، اس کی موت، رزق، عمر اور بدبختی یا خوش بختی۔
Musnad Ahmad
207
۔ (۲۰۷)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ شَیْئٍ حَقِیْقَۃٌ، وَمَا بَلَغَ عَبْدٌ حَقِیْقَۃَ الْاِیْمَانِ حَتَّی یَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَہُ وَمَا أَخْطَاَہُ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۸)
سیدنا ابو درداءؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور آدمی ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک اسے اس چیز کا (پختہ) علم نہ ہو جائے کہ جو چیز (اللہ کی تقدیر کے فیصلے کے مطابق) اسے لاحق ہونی ہے وہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتی اور جس چیز نے اس سے تجاوز کرنا ہے وہ اسے لاحق نہیں ہو سکتی۔
Musnad Ahmad
222
۔ (۲۲۲)۔عن أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: قَالَوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَا نَعْمَلُ، أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُہُ؟ قَالَ: ((بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ۔)) قَالُوْا: فَکَیْفَ بِالْعَمَلِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((کُلُّ امْرِیئٍ مُہَیَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۵)
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے، جس (کا فیصلہ کر کے) اس سے فارغ ہو اجا چکا ہے، یا از سرِ نو ہو رہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے کہ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کرنے کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر بندے کو اس چیز کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔
Musnad Ahmad
227
۔ (۲۲۷)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُکَذِّبٌ بِقَدَرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۲)
سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نافرمان و بد سلوک، ہمیشہ شراب پینے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔