TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 13253 - اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان - جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
۔ (۱۳۲۵۳)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ حَتّٰییُعْرِبَ عَنْہُ لِسَانُہُ فَاِذَا اَعْرَبَ عَنْہُ لِسَانُہُ اِماَّ شَاکِرًا وَاِمَّا کَفُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۶۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاںتک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، اور جب ایسے ہوتا ہے توپھر پتہ چلتا ہے کہ اب وہ شکر گزار مسلمان ہے یا ناشکرا کافر۔
13253
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۳۲۵۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو جعفر عیسی بن ابی عیسی الرازی ضعیف سییء الحفظ، وفی روایتہ عن الربیع بن انس اضطراب، وفی الاسناد ایضا عنعنۃ الحسن البصری (انظر: ۱۴۸۰۵)

Related Chapters

213
1
باب: ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے
Jam e Tirmazi
2
Chapter: The Meaning Of Every Child Is Born In A State Of Fitrah And The Ruling On The Dead Children Of The Disbelievers And Of The Muslims.
(فرمان نبوی: ) ہر بچہ پیدا ہونے والے بچے کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے کا مفہوم اور کافروں اور مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے بچوں کا حکم؟
Sahih Muslim
3
Chapter: What Has Been Related About Calling (To Islam) Before Fighting
باب: جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
بَابُ الْكِتَابِ إِلَى الْكُفَّارِ وَدُعَائِهِمْ إِلَى الْإِسْلَامِ
کفار کے نام خط لکھنے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کا بیان
Mishkat
5
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
6
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
8
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
9
اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
نیند میں شیطان کے کھیلنے کی اطلاع نہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
11
نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
12
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
Musnad Ahmad
13
(79) CHAPTER. If a boy becomes a Muslim and then dies, should a funeral prayer be offered for him? Should Islam be explained to a boy (below the age of puberty)?
ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا ‘ تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے ؟
Sahih Bukhari
14
(21) CHAPTER. The sin of the freed slave who denies his master who has freed him.
جب کوئی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے ( تو وہ اس کا وارث ہوتا ہے یا نہیں )
Sahih Bukhari
15
(25) CHAPTER. The foetus (that is inside the uterus) of a (pregnant) woman.
عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو
Sahih Bukhari
16
مزارعت (زمین کو پیدا وار کی متعین مقدار کے عوض )اور مؤاجرت (نقدی کے عوض کرائے پر دینے )کا حکم
Sahih Muslim
17
Chapter: The Prophet (saws) wrote to Heraclius, the ruler of Syria, inviting him to Islam
شام کےباد شاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا نامئہ مبارک
Sahih Muslim
18
Chapter: The Prophet (saws) wrote to the Kings of the Kuffar, inviting them to Islam
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے
Sahih Muslim
19
CHAPTER: Regarding Calling Idolators To Islam.
باب: کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: Calling The Idolaters (To Accept Islam).
باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam.
باب: قیدی پر اسلام پیش کئے بغیر اسے قتل کر دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: Regarding A Newborn Who Raises His Voice And Then Dies.
باب: بچہ روتے ہوئے یعنی زندہ پیدا ہو پھر مر جائے تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Saying the adhan in the ear of the newborn.
باب: بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان دینا کیسا ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
24
تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
25
پیدا ہوتے ہی رونے والے بچہ کے وارث ہونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
26
Chapter: (What Has Been Mentioned) About A Man Performing Ghusl When He Accepts Islam
باب: قبول اسلام کے وقت غسل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Charity On What Is Watered By Rivers Or Otherwise
باب: نہر وغیرہ سے سینچائی کر کے پیدا کی گئی فصل کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Accepts Islam While He Is Married To Two Sisters
باب: جو شخص اسلام قبول کرے اور اس کی زوجیت میں دو بہنیں ہوں
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About A Married Couple Who Are Idolaters, Then One Of Them Accepted Islam
باب: اگر مشرک و کافر میاں بیوی میں سے کوئی اسلام لے آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Apostate
باب: مرتد (اسلام سے پھر جانے والے) کی سزا کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Swear By A Religion Other Than Islam
باب: اسلام کے سوا کسی دوسرے مذہب کے قسم کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Whatever A Lot Of It Intoxicates, A Little Of It Is Unlawful
باب: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Islam Is Based Upon Five.
باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Jibril Describing Iman and Islam to the Prophet (SAW)
باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ایمان و اسلام کے اوصاف بیان کرنا
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Islam Began As Something Strange And It Will Return To Being Something Strange
باب: اسلام اجنبی بن کر آیا پھر اجنبی بن جائے گا
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Write Down Knowledge
باب: (ابتدائے اسلام میں) احادیث لکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: نماز میں چھینک شیطان کی جانب سے آتی ہے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: “Allah Created a Hundred Mercies”
باب: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں
Jam e Tirmazi
39
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
ایمان اور اسلام کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
41
ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
Musnad Ahmad
42
اسلام کے ارکان اور اس کے بڑے بڑے ستونوں کا بیان
Musnad Ahmad
43
دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
Musnad Ahmad
45
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
46
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
Musnad Ahmad
48
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
49
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے والے اور اس شخص کا بیان جس نے کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے
Musnad Ahmad
50
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

466
Jam e Tirmazi
826
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ فَانْطَلَقَ يُهِلُّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَزِيدُ مِنْ عِنْدِهِ فِي أَثَرِ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے تلبیہ پکارا اور تلبیہ پکارتے ہوئے چلے، وہ کہہ رہے تھے: «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ۔
Nafi` narrated: When Ibn Umar would say the talbiyah he would continue saying: Labbaik Allahumma labbaik. Labbaik la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni`mata laka wal-mulk, la sharika laka (I respond to Your call O Allah! I respond to Your call, You have no partner, I respond to You call. All praise, thanks and blessings are for You. And You have no partners with You). He said: Abdullah bin Umar would say: 'This is the Talbiyah of the Messenger of Allah.' He would himself add the following after the Talbiyah of the Messenger of Allah: Labbaik labbaika wa-sa'daik, wal-khairuu fi yadaik. Labbaika war-raghba'u ilaika wal-amal ('I respond to Your call, and I am obedient to Your orders, all good is in Your Hands. I respond to Your call and the requests and deeds are for You).'
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
32
۔ (۳۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَہِدَ مُعَاذًا حِیْنَ حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ یَقُوْلُ: اِکْشِفُوْا عَنِّی سَجْفَ الْقُبَّۃِ، أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَمْ یَمْنَعْنِیْ أَنْ أُحَدِّثَکُمُوْہُ إِلَّا أَنْ تَتَّکِلُوْا، سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِہِ أَوْ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِہِ لَمْ یَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّۃً: دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَلَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۱۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ ؓکی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انھوں نے کہا: قبّے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، اور ایک دفعہ کہا: تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔
Musnad Ahmad
44
۔ (۴۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُوْجِبَتَانِ، مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَ ہُوَ یُشْرِکُ بِہِ دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۷۶۸)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دو واجب کر دینے والی خصلتیں ہیں، جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
79
۔ (۷۹)۔عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صَوْمِ رَمَضَانَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۳۹)
سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے کی شہادت دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
Musnad Ahmad
89
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔
Musnad Ahmad
98
۔ (۹۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (ؓ) أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُْولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سالم رہیں۔
Musnad Ahmad
99
۔ (۹۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فِیْہِ: أَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ بَدْلَ قَوْلِہِ أَیُّ الْاِسْلَامِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۸۰)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: کون سے مسلمان افضل ہیں۔
Musnad Ahmad
101
۔ (۱۰۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ (ؓ) أَنَّہُ جَائَ بِأَمَۃٍ سَوْدَائَ وَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلَیَّ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَإِنْ کُنْتَ تَرٰی ہَذِہِ مُؤْمِنَۃً أَعْتِقْہَا، فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَشْہَدِیْنَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتُؤْمِنِیْنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۵)
ایک انصاری صحابی سے روایت ہے کہ وہ سیاہ رنگ کی ایک لونڈی لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے مسلمان گردن آزاد کرنی ہے، اب اگر آپ اس لونڈی کو مومنہ خیال کرتے ہیں تو اس کو آزاد کر دیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو آزاد کردے۔
Musnad Ahmad
130
۔ (۱۳۰)۔(وَ عَنْہُ أَیْضًا)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَدِیٍّ الْأَنْصَارِیِّؓ حَدَّثَہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ اِذْ جَائَ ہٗ رَجُلٌ یَعْنِیْ یَسْتَأْذِنُہٗ أَیْ یُسَارُّہٗ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۷۱)
۔ (دوسری روایت) اس عبیداللہ بن عدی بن خیار یہ بھی مروی ہے کہ عبداللہ بن عدی انصاری نے اسے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اجازت طلب کی، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سرگوشی کی، باقی روایت مذکورہ بالا کی طرح ہی ہے۔