TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5709 - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا - دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 12 in this chapter
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
۔ (۵۷۰۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ اَیْضًا نَحْوُہُ وَفِیْہِ: ((مَنْ صَلّٰی عَلَیْکَ مِنْ أُمَّتِکَ صَلَاۃً کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْہُ عَشْرَ سَیِّئَاتٍ، وَرَفَعَ لَہُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَرَدَّ عَلَیْہِ مِثْلَہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۴۶۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، پھر اس طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں یہ تفصیل ہے: آپ کی امت میں سے جس نے آپ پر درود بھیجا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا، اس کی دس برائیاں معاف کر ے گا، اس کے دس درجات بلند کرے گا اور اسی طرح کا درود اس پر لوٹائے گا۔
5709
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۵۷۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو معشر ضعیف، ثم انہ لم یدرک اسحاق بن کعب، واسحاق مجھول الحال، أخرجہ بنحوہ ابوے علی: ۱۴۲۵، والطبرانی فی الکبیر : ۴۷۲۱ (انظر: ۱۶۳۵۲)

Related Chapters

1,074
1
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
Musnad Ahmad
3
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
5
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب کی فضیلت اور پاکیزگی کے بیان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ
Musnad Ahmad
6
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
7
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
Musnad Ahmad
8
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
Musnad Ahmad
9
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
10
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
11
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
12
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
17
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
18
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
19
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
20
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
21
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
Musnad Ahmad
22
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
23
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
24
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
25
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
26
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
Musnad Ahmad
27
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
Musnad Ahmad
28
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
29
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
30
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
31
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
Musnad Ahmad
34
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
35
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
Musnad Ahmad
37
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
Musnad Ahmad
40
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
Musnad Ahmad
41
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
43
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
44
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
45
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
46
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
Musnad Ahmad
47
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
Musnad Ahmad
48
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
49
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

13
Musnad Ahmad
5488
۔ (۵۴۸۸)۔ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ کُنَّ کَعَدْلِ أَرْبَعِ رِقَابٍ، وَکُتِبَ لَہُ بِہِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِیَ عَنْہُ بِہِنَّ عَشْرُ سَیِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَہُ بِہِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَکُنَّ لَہُ حَرَسًا مِنَ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَإِذَا قَالَہَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَمِثْلُ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۱۵)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ فجر ادا کر کے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ تواس کو چارگردنیں آزاد کرنے کے بقدر ثواب ملے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے، شام تک یہ کلمات اس کے لیے شیطان سے محافظ ثابت ہوں گے، اگر وہ مغرب کے بعد دس بار کہے گا تو پھر اسی طرح کی فضیلت حاصل ہو گی۔
Musnad Ahmad
5490
۔ (۵۴۹۰)۔ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِینَ یُصْبِحُ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِکُلِّ وَاحِدَۃٍ قَالَہَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَحَطَّ اللّٰہُ عَنْہُ بِہَا عَشْرَ سَیِّئَاتٍ، وَرَفَعَہُ اللّٰہُ بِہَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ، وَکُنَّ لَہُ کَعَشْرِ رِقَابٍ، وَکُنَّ لَہُ مَسْلَحَۃً مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ إِلٰی آخِرِہِ، وَلَمْ یَعْمَلْ یَوْمَئِذٍ عَمَلًا یَقْہَرُہُنَّ، فَإِنْ قَالَ حِینَ یُمْسِی فَمِثْلُ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۶۴)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت دس بار یہ کلمات ادا کیے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر بار ادائیگی کے عوض دس نیکیاں لکھے گا، اس کی دس برائیاں معاف کرے گا، اس کے دس درجے بلند کرے گا، اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور یہ کلمات دن کے شروع سے آخر تک اس کی حفاظت کرنے کے لیے اسلحہ اور حفاظت ثابت ہوں گے اور اس دن کسی شخص کا عمل اس کے اس عمل پر غالب نہیں آ سکے گا، اگر وہ شام کو یہ عمل کرے گا تو اس کو یہی فضیلت حاصل ہو گی۔
Musnad Ahmad
5492
۔ (۵۴۹۲)۔ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی عَیَّاشٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ حِینَ أَصْبَحَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، کَانَ لَہُ کَعَدْلِ رَقَبَۃٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَکُتِبَ لَہُ بِہَا عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَحُطَّ عَنْہُ بِہَا عَشْرُ سَیِّئَاتٍ، وَرُفِعَتْ لَہُ بِہَا عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَکَانَ فِی حِرْزٍ مِنَ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَإِذَا أَمْسٰی مِثْلُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُصْبِحَ۔)) قَالَ: فَرَأٰی رَجُلٌ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَا یَرَی النَّائِمُ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبَا عَیَّاشٍ یَرْوِی عَنْکَ کَذَا وَکَذَا، قَالَ: صَدَقَ أَبُو عَیَّاشٍ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۹۹)
۔ سیدنا ابو عیاش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ کلمات کہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اس کو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے اور وہ شام تک شیطان سے حفاظت میں رہے گا، اگر اس نے شام کو یہی عمل کیا تو اس کو یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ ایک آدمی نے خواب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو عیاش آپ سے اس قسم کی حدیث بیان کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو عیاش نے سچ کہا ہے۔
Jam e Tirmazi
3474
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏كُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَوْمَهُ ذَلِكَ كُلَّهُ فِي حِرْزٍ مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحُرِسَ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَنْبَغِ لِذَنْبٍ أَنْ يُدْرِكَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلَّا الشِّرْكَ بِاللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
Abu Dharr narrated that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever says at the end of every Fajr prayer, while his feet are still folded, before speaking: ‘None has the right to be worshipped but Allah, Alone without partner, to Him belongs all that exists, and to Him is the praise, He gives life and causes death, and He is powerful over all things, (Lā ilāha illallāh, waḥdahu lā sharīka lahu, lahul-mulku wa lahul-ḥamdu, yuḥyī wa yumītu, wa huwa `alā kulli shay’in qadīr)’ ten times, then ten good deeds shall be written for him, ten evil deeds shall be wiped away from him, ten degrees shall be raised up for him, and he shall be in security all that day from every disliked thing, and he shall be in protection from Shaitan, and no sin will meet him or destroy him that day, except for associating partners with Allah.”
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز فجر کے بعد جب کہ وہ پیر موڑے ( دو زانوں ) بیٹھا ہوا ہو اور کوئی بات بھی نہ کی ہو: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء» دس مرتبہ پڑھے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے لیے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور وہ اس دن پورے دن بھر ہر طرح کی مکروہ و ناپسندیدہ چیز سے محفوظ رہے گا، اور شیطان کے زیر اثر نہ آ پانے کے لیے اس کی نگہبانی کی جائے گی، اور کوئی گناہ اسے اس دن سوائے شرک باللہ کے ہلاکت سے دوچار نہ کر سکے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Musnad Ahmad
5489
۔ (۵۴۸۹)۔ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ نَزَلَ عَلَیَّ فَقَالَ لِی: ((یَا أَبَا أَیُّوبَ! أَلَا أُعَلِّمُکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: بَلٰی، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ یَقُولُ حِینَ یُصْبِحُ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ إِلَّا کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِہَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْہُ عَشْرَ سَیِّئَاتٍ، وَإِلَّا کُنَّ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ مُحَرَّرِینَ، وَإِلَّا کَانَ فِی جُنَّۃٍ مِنْ الشَّیْطَانِ حَتَّی یُمْسِیَ، وَلَا قَالَہَا حِینَ یُمْسِی إِلَّا کَذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِی مُحَمَّدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَہَا مِنْ أَبِی أَیُّوبَ؟ قَالَ: آللَّہِ لَسَمِعْتُہُ مِنْ أَبِی أَیُّوبَ یُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۱۳)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ میرے پاس ٹھہرے اور مجھ سے فرمایا: اے ابو ایوب! کیا میں تجھے کسی چیز کی تعلیم دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی صبح کے وقت یہ کلمات ادا کرتا ہے: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھتا ہے، اس کی دس برائیاں معاف کر دیتا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کے ہاں دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے اور وہ شام تک شیطان سے بچاؤ میں رہتا ہے، اور جو آدمی شام کو یہ کلمات ادا کرے گا، اس کو بھی یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ ابو الورد کہتے ہیں: میں نے ابو محمد سے کہا: تم نے یہ حدیث سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، وہ یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہے تھے۔
Sunnan Abu Dawood
5077
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،‏‏‏‏ وَوُهَيْبٌ نحوه، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي عَائِشٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ لَهُ عِدْلَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏وَكُتِبَ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ قَالَهَا إِذَا أَمْسَى، ‏‏‏‏‏‏كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ،‏‏‏‏ قال فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ:‏‏‏‏ فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يُحَدِّثُ عَنْكَ بِكَذَا وَكَذَا،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ ،‏‏‏‏ قال أبو داود:‏‏‏‏ رَوَاهُ إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُوسَى الزَّمْعِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ سُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَائِشٍ.
Narrated Abu Ayyash: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If anyone says in the morning: There is no god but Allah alone Who has no partner; to Him belong the dominions, to Him praise is due, and He is Omnipotent, he will have a reward equivalent to that for setting free a slave from among the descendants of Ismail. He will have ten good deeds recorded for him, ten evil deeds deducted from him, he will be advanced ten degrees, and will be guarded from the Devil till the evening. If he says them in the evening, he will have a similar recompense till the morning. The version of Hammad says: A man saw the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم in a dream and said: Messenger of Allah! Abu Ayyash is relating such and such on your authority. He said: Abu Ayyash has spoken the truth. Abu Dawud said: Ismail bin Jafar, Musa al-Zim'i and Adb Allah bin Jafar transmitted it from Suhail, from his father on the authority of Ibn 'A'ish.
ابوعیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہے تو اسے اولاد اسماعیل میں سے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور اگر شام کے وقت کہے تو صبح تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خواب میں ) دیکھا جیسے سونے والا دیکھتا ہے تو اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی ایسی حدیث روایت کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ابوعیاش صحیح کہہ رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسماعیل بن جعفر، موسی زمعی اور عبداللہ بن جعفر نے سہیل بن أبی صالح سے سہیل نے اپنے والد سے اور ابوصالح نے ابن عائش سے روایت کیا ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
2957
(حديث موقوف) قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَالطَّوَافُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَالطَّوَافُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِسُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرُفِعَ لَهُ بِهَا عَشْرَةُ دَرَجَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏كَخَائِضِ الْمَاءِ بِرِجْلَيْهِ .
Humaid bin Abu Sawiyyah said: I heard Ibn Hisham asking ‘Ata’ bin Abu Rabah about the Yemenite Corner, when he was performing Tawaf around the House. ‘Ata’ said: Abu Hurairah told me that the Prophet (ﷺ) said: “Seventy angels have been appointed over it. Whoever says: Allahumma inni as’alukal-‘afwa wal-‘afiyah fid-dunya wal-akhirah; Rabbana atina fid-dunya hasanah, wa fil-akhirati hasanah, wa qina ‘adhaban-Nar (O Allah, I ask You for pardon and well-being in this world and in the Hereafter. Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter and protect us from the torment of the Fire), they say: Amin.” When he reached the Black Corner (where the Black Stone is), he said: O Abu Muhammad! What have you heard about this Black Corner? ‘Ata’ said: Abu Hurairah told me that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever faces it is facing the Hand of the Most Merciful.’” Ibn Hisham said to him: O Abu Muhammad, what about Tawaf? ‘Ata’ said: Abu Hurairah told me that he heard the Prophet (ﷺ) say: “Whoever performs Tawaf around the House seven times and does not say anything except: Subhan Allah wal-hamdu lillah, wa la ilaha illallah wa Allahu Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billah (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshipping but Allah, and there is no power nor strength except with Allah), ten bad deeds will be erased from him, ten merits will be recorded for him, and he will be raised ten degrees in status. Whoever performs Tawaf and talks when he is in that situation, is wading in mercy like one who wades in water.”
حمید بن ابی سویہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ہشام کو عطاء بن ابی رباح سے رکن یمانی کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا، اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، تو عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکن یمانی پر ستر فرشتے متعین ہیں جو کوئی «اللهم إني أسألك العفو والعافية في الدنيا والآخرة ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں مغفرت اور عافیت طلب کرتا ہوں، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی سے نواز، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا کہتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں، پھر جب عطاء حجر اسود کے پاس پہنچے تو ابن ہشام نے کہا: ابو محمد! اس حجر اسود کے بارے میں آپ کو کیا بات پہنچی ہے؟ عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو اس کو چھوتا ہے وہ گویا رحمن کا ہاتھ چھو رہا ہے ۔ ابن ہشام نے ان سے کہا: ابو محمد! طواف یعنی اس کے متعلق آپ کو کیا معلوم ہے؟ عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ماتے سنا ہے: جو خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے اور «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولاقوة إلا بالله» کے علاوہ کوئی بات نہ کرے، تو اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جائیں گے، اور جو طواف کرے اور بات کرے تو اس کے پاؤں رحمت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، جیسے پانی میں داخل ہونے والے کے پاؤں پانی میں ڈوبے رہتے ہیں۔
Musnad Ahmad
591
۔ (۵۹۱)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ فَأَتَی الْمَسْجِدَ کَتَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْہَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، فَاِذَا صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَعَدَ فِیْہِ کَانَ کَالصَّائِمِ الْقَانِتِ حَتَّی یَرْجِعَ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۹۵)
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ وضو کر کے مسجد میں آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے دس نیکیاں لکھتے ہیں، پھر جب وہ مسجد میں نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے تووہ روزہ رکھنے والے اور قیام کرنے والے کی طرح ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آتا ہے۔
Musnad Ahmad
1047
۔ (۱۰۴۷)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا تَطَہَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ یَرْعَی الصَّلَاۃَ کَتَبَ لَہُ کَاتِبَاہُ أَوْ کَاتِبُہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْہَا اِلَی الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ یَرْعَی الصَّلَاۃَ کَالْقَانِتِ وَیُکْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ مِنْ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۷۷)
سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب بندہ وضو کرکے مسجد کی طرف آتا ہے اور نماز کا انتظار کرتا ہے تو لکھنے والے دونوں یا ایک مسجد کی طرف اس کے اٹھنے والے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا ہے،اور جو آدمی بیٹھ کر انتظار کر رہا ہوتا ہے، وہ نماز میں قیام کرنے والے کی طرح ہے اور اس آدمی کو گھر سے نکلنے سے لے کر گھر کی طرف لوٹنے تک نمازیوں میں لکھا جاتا ہے۔