TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں - بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں - نیند کی وجہ سے وضو کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of نیند کی وجہ سے وضو کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 31 · 4 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۷۶۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوْبَ، قَالَ عَفَّانُ: قَالَ حَمَّادٌ: أَنَا أَیُّوبُ وَقَیْسٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَّرَ الْعِشَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ حَتّٰی نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَیْقَظُوْا ثُمَّ نَامُوْا ثُمَّ اسْتَیْقَظُوْا، قَالَ قَیْسٌ: فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: اَلصَّلَاۃَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلّٰی بِہِمْ وَلَمْ یَذْکُر أَنَّہُم تَوَضَّؤُوْا۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا، یہاں تک لوگ سو گئے، پھر بیدار ہوئے، پھر سو گئے، پھر بیدار ہوئے۔ بالآکر سیدنا عمر بن خطاب ؓآئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، راوی نے اس قسم کی کوئی بات ذکر نہیں کی کہ انھوں نے وضو کیا تھا۔
Takhreej
(۷۶۹) تخریج: أخرج نحوہ البخاری: ۷۲۳۹، ومسلم: ۶۴۲ (انظر: ۲۱۹۵)
769
Sahih
۔ (۷۷۰)۔عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: أُقِیْمَتْ صَلاۃُ الْعِشَائِ، قَالَ عَفَّانُ: أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِیْ اِلَیْکَ حَاجَۃً فَقَامَ مَعَہُ یُنَاجِیْہِ حَتّٰی نَعَسَ الْقَومُ، أَوْ قَالَ: بَعْضُ القَوْمِ، ثُمَّ صَلّٰی وَلَم یَذْکُرْ وُضُوئً ا۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۶۸)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز عشاء کے لیے اقامت کہہ دی گئی یا ایک رات نمازِ عشا کو مؤخر کر دیا گیا، پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کوئی کام ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ سونے لگ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی اور وضو کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
Takhreej
(۷۶۹) تخریج: أخرج نحوہ البخاری: ۷۲۳۹، ومسلم: ۶۴۲ (انظر: ۲۱۹۵)
770
Sahih
۔ (۷۷۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنَامُوْنَ وَلَا یَتَوَضَّؤُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۱۳۹۸۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ صحابۂ کرام سو جاتے تھے اور پھر نیا وضو نہیں کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۷۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۷۶ (انظر: ۱۳۹۴۱)
Explanation
فوائد:… مسند بزار (۲ /۳۳۴) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کَانُوْا یَضَعُوْنَ جُنُوْبَھُمْ، فَمِنْھُمْ مَنْ یَتَوَضَّأُ وَمِنْھُمْ مَنْ لَا یَتَوَضَّأُ۔ … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ اپنے پہلوؤں پر سوجاتے تھے، پھر (نماز ادا کرتے وقت) کوئی وضو کرتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ بیٹھ کر اور لیٹ کر سونے میں اس اعتبار سے فرق کرنا درست نہیں ہے کہ بیٹھنے والے کا وضو برقرار رہتا ہے اور لیٹ جانے والے کا ٹوٹ جاتا ہے۔
771
Sahih
۔ (۷۷۲)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کُنْتُ رَجُلًا نَؤُوْمًا وَکُنْتُ اِذَا صَلَّیْتُ الْمَغْرِبَ وَعَلَیَّ ثِیَابِیْ نِمْتُ، ثُمَّ قَالَ یَحْیٰی بْنُ سَعِیْدٍ: فَأَنَامُ قَبْلَ الْعِشَائِ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ فَرَخَّصَ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۸۹۲)
سیدنا علیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بہت زیادہ سونے والا آدمی تھا، اس لیے جب میں مغرب پڑھتا اور مجھ پر میرے کپڑے ہوتے تو میں سو جاتا، پھر ایک دفعہ یحییٰ بن سعید نے علیؓ کی بات نقل کرتے ہوئے یہ کہا: تو میں عشاء سے پہلے سو جاتا پس جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے رخصت دے دی۔
Takhreej
(۷۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن ابی لیلی سییء الحفظ، وجدۃ ابن الاصبھانی لاتُعرف (انظر: ۸۹۲)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام بیٹھ کر بھی سو جاتے تھے اور لیٹ کر بھی، لیکن اِس نیند کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ لیکن درج ذیل دو احادیث میں نیند کو مطلق طور پر ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے: (۱) سیدنا صفوانؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ یَأْمُرُنَا (یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ) اِذَا کُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِیْنَ أَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَـلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ اِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَلٰـکِنْ مِن غَائِطٍ وَبَولٍ وَنَوْمٍ۔ …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کر رہے ہوں تو تین دنوں اور راتوں تک پائخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتارا کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔ (ترمذی: ۳۵۳۵، نسائی: ۱/ ۹۸، ابن ماجہ: ۴۷۸، واللفظ لاحمد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب اور پائخانہ کی طرح نیند بھی مطلق طور پر ناقضِ وضو ہے۔ (۲) سیدنا علیؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((وِکَائُ السَّہِ الْعَیْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَلْیَتَوَضَّأْ۔)) … بیشک آنکھیں، دُبُر کے لیے تسمہ ہیں، اس لیے جو سو جائے، وہ وضو کرے۔ (ابوداود: ۲۰۳، ابن ماجہ: ۴۷۷) سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((اِنَّ الْعَیْنَ وِکَائُ السَّہِ، فَاِذَا نَامَتِ الْعَیْنَانِ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ۔)) … بیشک آنکھ، دُبُر کے لیے تسمہ ہے، اس لیے جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے۔ (مسند أحمد: ۱۶۸۷۹،دارمی: ۱/ ۱۸۴، بیھقی: ۱/ ۱۱۸، دارقطنی: ۱/ ۱۶۰) یہ احادیث بھی مطلق طور پر اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند مطلق طور پر وضو کو توڑ دیتی ہے۔ (۳) تیسری بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کو اس طرح پایا گیا کہ بیٹھے بیٹھے ان کو نیند آ گئی اور نیند کے دوران آواز کے ساتھ ان کی ہوا خارج ہوئی، لیکن ان کو علم تک نہ ہو۔ پھر ان کو بتلایا گیا کہ اُن کا وضو ٹوٹ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس باب کی احادیث اور ان کی شرح سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ درج بالا تین احادیث سے یہ پتہ چل رہا کہ نیند ناقض وضو ہے۔ راجح مذہب کے مطابق ان نصوص میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ درج بالا جن احادیث میں نیند کے ناقضِ وضو ہونے کا ذکر ہے، ان کو ناسخ سمجھ کر نیند کو مطلق طور پر وضو توڑ دینے والا امر قرار دیا جائے اور جن احادیث میں صحابہ کے سونے اور پھر وضو نہ کرنے کا ذکر ہے، ان کو منسوخ سمجھا جائے، اس صورت کی درج ذیل وجوہات ہیں: (۱) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، ان روایات میں نیند کا ناقضِ وضو ہونا حظر ہے۔ (۲)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے نیند کو توڑ دینے والے حکم پر مشتمل احادیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہیں۔ (۳) متعارض نصوص میں احوط یعنی زیادہ احتیاط والی نص پر عمل کیا جائے اور اِن احادیث میں زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ نیند کو ناقضِ وضو سمجھ لیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ صورتیں اس وقت اختیار کی جاتی ہیں جب واضح طور پر نسخ کا علم نہ ہو سکے۔ اونگھ اور اس کی طرح کی ہلکی نیند، جس میں شعور باقی رہتا ہے، ناقض و ضو نہیں ہے۔ صحابہ کے نیند سے وضو نہ کرنے کی صورت کو بھی ہلکی نیند پر محمول کر لیا جائے جس سے شعور باقی رہتا ہے تو اس طرح بھی متعارض نصوص کا تعارض ختم ہو سکتا ہے۔ علامہ عبیداللہ رحمانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے (مرعاۃ المفاتیح، ص: ۳۹۶، رقم الحدیث: ۳۱۹) میں ابو علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی نے سبل السلام کے آغاز میں اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
772
Zaeef

Chapters

31
01
بیٹھنے والے کی نیند کے بارے میں
4 Hadith
02
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
4 Hadith
03
لیٹ کر سو جانے والے کا وضو
3 Hadith
04
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
05
ذکر کو چھونے سے وضو کا ٹوٹ جانا، اس کے بارے میں سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کی حدیث کا بیان
4 Hadith
06
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
3 Hadith
07
عورت کو چھونے اور اس کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کا بیان
3 Hadith
08
قے، ڈکار اور نکسیر سے وضو کرنے کا بیان
2 Hadith
09
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
10
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
5 Hadith
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
5 Hadith
12
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
24 Hadith
13
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
5 Hadith
14
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
3 Hadith
15
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
6 Hadith
16
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
10 Hadith
17
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
4 Hadith
18
غسل کے وقت پردہ کرنا
6 Hadith
19
غسل اور وضو کے پانی کی مقدار کا بیان
6 Hadith
20
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
10 Hadith
21
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
9 Hadith
22
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
5 Hadith
23
غسلِ جنابت کے بعد خشک رہ جانے والی جگہ کو پالینے والے کا بیان
1 Hadith
24
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
2 Hadith
25
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
26
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
3 Hadith
27
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
4 Hadith
28
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
2 Hadith
29
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
4 Hadith
30
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
31
حمام میں داخل ہونے کا حکم
8 Hadith
No chapter matched that.