TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12164 - باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
۔ (۱۲۱۶۴)۔ عَنْ رَافِعٍ الطَّائِیِّ رَفِیقِ أَبِی بَکْرٍ فِی غَزْوَۃِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: وَسَأَلْتُہُ عَمَّا قِیلَ مِنْ بَیْعَتِہِمْ، فَقَالَ: وَہُوَ یُحَدِّثُہُ عَمَّا تَکَلَّمَتْ بِہِ الْأَنْصَارُ، وَمَا کَلَّمَہُمْ بِہِ، وَمَا کَلَّمَ بِہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْأَنْصَارَ، وَمَا ذَکَّرَہُمْ بِہِ مِنْ إِمَامَتِی إِیَّاہُمْ بِأَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ، فَبَایَعُونِی لِذٰلِکَ، وَقَبِلْتُہَا مِنْہُمْ، وَتَخَوَّفْتُ أَنْ تَکُونَ فِتْنَۃٌ، تَکُونُ بَعْدَہَا رِدَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۴۲)
سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غزوۂ سلا سل کے دوران ساتھ رہنے والے رافع طائی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ان کی بیعت کے بارے میں کہی جانے والی باتوں کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے وہ کچھ بیان کیا، جو انصار نے کہا، جو انھوں نے خود بیان کیا اور پھر سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے جواب میں جو کچھ کہا، سیدنا عمر نے بیچ میں یہ بات بھی ذکر کی کہ میں (ابوبکر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مرض الموت کے دوران میں امامت کراتا رہا، پس پھر لوگوں نے میری بیعت کی اور میں نے ان سے ان کی بیعت قبول کی، لیکن مجھے ڈرتھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسا فتنہ بپا ہو جائے کہ جس کے بعد لوگ دین سے مرتد ہونا شروع ہو جائیں۔
12164
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۱۶۴) تخریج: اسنادہ جیّد (انظر: ۴۲)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… معلوم ہوا کہ سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس ڈر سے امامت و خلافت کا منصب قبول کر لیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امت کسی بڑے فتنے میں مبتلا ہو جائے۔ یہ سارے معاملات سوموار کے باقی دن میں طے ہو گئے تھے، دوسرے روز صبح مسجد میں تمام مہاجرین و انصار نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تجہیز و تکفین سے پہلے یہ امور طے ہو گئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تجہیز و تکفین کاسلسلہ منگل کے دن شروع ہوا تھا۔

Related Chapters

2,008
1
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خادم سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے نکاح کا واقعہ اور اس میں سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان
Musnad Ahmad
2
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
Musnad Ahmad
3
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
Musnad Ahmad
4
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
Musnad Ahmad
5
سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں تالیف قرآن کا بیان
Musnad Ahmad
6
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
7
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
Musnad Ahmad
8
بنو فزارہ کی طرف سیدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سربراہی میں بھیجے گئے دستہ کا بیان
Musnad Ahmad
9
سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قیادت میں حج کی ادائیگی اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اہلِ مکہ کی طرف اعلانِ براء ت کے لیے روانہ کئے جانے کا بیان
Musnad Ahmad
10
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مدینہ منورہ آمد، ان کی بیعت اور قبولِ اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
11
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
12
صحابہ کرام اور اہل بیت پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کا اثر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی روح قبض ہونے پر ان کے دہشت زدہ ہونے، رونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انتقال کے بعد سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
13
ان خصوصیات و فضائل کا بیان جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
14
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
15
سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ
Musnad Ahmad
16
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
17
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
19
سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ذہانت، فطانت، علم اور فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
20
باب ششم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیماری، مرض الموت اور وفات کا بیان
Musnad Ahmad
21
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
Musnad Ahmad
22
تیسرے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلاف سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت و بیعت کا بیان
Musnad Ahmad
23
یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا بیان
Musnad Ahmad
24
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
25
بسلسلۂ شفاعت سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، اور اس میں اصدقائ، انبیاء اور شہداء کی شفاعت کا تذکرہ
Musnad Ahmad
26
اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
27
حج کے بعض اعمال کے اسباب کا بیان حج کے بعض اعمال کے اسباب سے متعلقہ روایت، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ابو طفیل نے روایت کی
Musnad Ahmad
28
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
Musnad Ahmad
29
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
30
شراب کے مفاسد اور شراب کی حرمت سے قبل سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو اونٹنیوں کے متعلق واقعہ
Musnad Ahmad
31
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
Musnad Ahmad
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
Musnad Ahmad
33
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
Musnad Ahmad
34
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
35
غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
Musnad Ahmad
36
سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ یہ دراصل گزشتہ دو ابواب کی تلخیص پر مشتمل ہے
Musnad Ahmad
37
اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا ظہور
Musnad Ahmad
38
اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
Musnad Ahmad
39
فتح مکہ کے دن سیّدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے باپ ابو قحافہ کے قبولِ اسلام کا بیان
Musnad Ahmad
40
سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا واقعہ، جبکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، اور ان کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں قرآن کریم نازل ہوا
Musnad Ahmad
41
کاتبین میں سے ایک سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے
Musnad Ahmad
42
ان فضائل کا ذکر جن میں سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا بلال، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور دیگر فقراء مہاجرین شریک ہیں
Musnad Ahmad
43
سیدنا سائب بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
Musnad Ahmad
44
سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام سیدنا سالم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
45
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
Musnad Ahmad
46
چوتھے نمبر پر دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے ابو نجیح سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
47
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے قبول اسلام کا واقعہ
Musnad Ahmad
48
سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ، ان کا صدی بن عجلان تھا
Musnad Ahmad
49
سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
50
سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
10845
۔ (۱۰۸۴۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، فَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَیْدَۃَ عَلَی الْمُہَاجِرِینَ، وَاسْتَعْمَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَی الْأَعْرَابِ، فَقَالَ لَہُمَا: تَطَاوَعَا، قَالَ: وَکَانُوا یُؤْمَرُونَ أَنْ یُغِیرُوْا عَلٰی بَکْرٍ، فَانْطَلَقَ عَمْرٌو فَأَغَارَ عَلٰی قُضَاعَۃَ لِأَنَّ بَکْرًا أَخْوَالُہُ، فَانْطَلَقَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ إِلٰی أَبِی عُبَیْدَۃَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسْتَعْمَلَکَ عَلَیْنَا وَإِنَّ ابْنَ فُلَانٍ قَدْ ارْتَبَعَ أَمْرَ الْقَوْمِ وَلَیْسَ لَکَ مَعَہُ أَمْرٌ، فَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَنَا أَنْ نَتَطَاوَعَ فَأَنَا أُطِیعُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنْ عَصَاہُ عَمْرٌو۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸)
عامر سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذات السلاسل کے لیے لشکر روانہ کیا، مہاجرین پر سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اور دیہاتیوں پر سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امیر مقرر فرمایا، سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جا کر بنو قضاعہ پر چڑھای کر دی کیونکہ بنو بکر ان کے ماموں تھے۔ سیدنا مغیر ہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جا کر ان سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو ہم پر امیر مقرر فرمایا ہے، جب کہ عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی قوم کی رعایت کی ہے اور آپ کا تو ان سے کچھ بھی معاملہ نہیں ہے۔ تو سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں جو حکم دیا ہم اس کی اطاعت کریں گے، پس میں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی اطاعت کروں گا، خواہ عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ کی بات نہ مانی ہو۔
Musnad Ahmad
10846
۔ (۱۰۸۴۶)۔ عن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی جَیْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: ((عَائِشَۃُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَمِنْ الرِّجَالِ؟ قَالَ: ((أَبُوہَا۔)) إِذًا قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((عُمَرُ۔)) قَالَ: فَعَدَّ رِجَالًا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۴)
سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ذات السلاسل کی طرف بھیجے گئے لشکر پر امیر مقرر فرماکر روانہ کیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ کے رسول!آپ کو لوگوں میں سے کونسا آدمی سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ۔ میں نے عرض کیا: اور مردوں میں سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا باپ (یعنی سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ )۔ میں نے دریافت کیا: اور ان کے بعد؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید مردوں کانام لیے۔
Musnad Ahmad
11567
۔ (۱۱۵۶۷)۔ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ إِلَی الْمَسْجِدِ فِیہِ الْمُہَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ، وَمَا مِنْہُمْ أَحَدٌ یَرْفَعُ رَأْسَہُ مِنْ حَبْوَتِہِ إِلَّا أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ، فَیَتَبَسَّمُ إِلَیْہِمَا وَیَتَبَسَّمَانِ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۴۴)
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف لاتے، وہاں مہاجرین و انصار سب موجود تھے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوا کوئی آدمی آپ کی طرف سر نہ اٹھاتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان دونوں کی طرف دیکھ کر وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
12162
۔ (۱۲۱۶۲)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا عَلٰی مِنْبَرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمْنَ خِلَافَتِہٖ،مِنْہَاقَوْلُہٗ: وَقَدْبَلَغَنِی أَنَّ قَائِلًا مِنْکُمْ یَقُولُ: لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بَایَعْتُ فُلَانًا، فَلَا یَغْتَرَّنَّ امْرُؤٌ أَنْ یَقُولَ: إِنَّ بَیْعَۃَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَتْ فَلْتَۃً، أَلَا وَإِنَّہَا کَانَتْ کَذَلِکَ، أَلَا وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَقٰی شَرَّہَا، وَلَیْسَ فِیکُمُ الْیَوْمَ مَنْ تُقْطَعُ إِلَیْہِ الْأَعْنَاقُ مِثْلُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَلَا وَإِنَّہُ کَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِیًّا وَالزُّبَیْرَ وَمَنْ کَانَ مَعَہُمَا تَخَلَّفُوا فِی بَیْتِ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بِنْتِ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَتَخَلَّفَتْ عَنَّا الْأَنْصَارُ بِأَجْمَعِہَا فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ، وَاجْتَمَعَ الْمُہَاجِرُونَ إِلٰی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا بَکْرٍ! انْطَلِقْ بِنَا إِلٰی إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْطَلَقْنَا نَؤُمُّہُمْ حَتّٰی لَقِیَنَا رَجُلَانِ صَالِحَانِ، فَذَکَرَا لَنَا الَّذِی صَنَعَ الْقَوْمُ، فَقَالَا: أَیْنَ تُرِیدُونَ؟یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! فَقُلْتُ: نُرِیدُ إِخْوَانَنَا ہٰؤُلَائِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَا: لَا عَلَیْکُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوہُمْ وَاقْضُوْا أَمْرَکُمْ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَنَأْتِیَنَّہُمْ، فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی جِئْنَاہُمْ فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ، فَإِذَا ہُمْ مُجْتَمِعُونَ، وَإِذَا بَیْنَ ظَہْرَانَیْہِمْ رَجُلٌ مُزَمَّلٌ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ، فَقُلْتُ: مَا لَہُ؟ قَالُوْا: وَجِعٌ، فَلَمَّا جَلَسْنَا قَامَ خَطِیبُہُمْ، فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ، وَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَکَتِیبَۃُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتُمْ یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ! رَہْطٌ مِنَّا، وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّۃٌ مِنْکُمْ، یُرِیدُونَ أَنْ یَخْزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا، وَیَحْضُنُونَا مِنَ الْأَمْرِ، فَلَمَّا سَکَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ وَکُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَۃً أَعْجَبَتْنِی، أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَہَا بَیْنَیَدَیْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَقَدْ کُنْتُ أُدَارِی مِنْہُ بَعْضَ الْحَدِّ، وَہُوَ کَانَ أَحْلَمَ مِنِّی وَأَوْقَرَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: عَلٰی رِسْلِکَ، فَکَرِہْتُ أَنْ أُغْضِبَہُ وَکَانَ أَعْلَمَ مِنِّی وَأَوْقَرَ، وَاللّٰہِ! مَا تَرَکَ مِنْ کَلِمَۃٍ أَعْجَبَتْنِی فِی تَزْوِیرِی إِلَّا قَالَہَا فِی بَدِیہَتِہِ، وَأَفْضَلَ حَتّٰی سَکَتَ، فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَمَا ذَکَرْتُمْ مِنْ خَیْرٍ فَأَنْتُمْ أَہْلُہُ، وَلَمْ تَعْرِفْ الْعَرَبُ ہٰذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِہٰذَا الْحَیِّ مِنْ قُرَیْشٍ، ہُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا، وَقَدْ رَضِیتُ لَکُمْ أَحَدَ ہٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ أَیَّہُمَا شِئْتُمْ، وَأَخَذَ بِیَدِی وَبِیَدِ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ، فَلَمْ أَکْرَہْ مِمَّا قَالَ غَیْرَہَا، وَکَانَ وَاللّٰہِ! أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِی، لَا یُقَرِّبُنِی ذٰلِکَ إِلٰی إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلٰی قَوْمٍ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ إِلَّا أَنْ تَغَیَّرَ نَفْسِی عِنْدَ الْمَوْتِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَاالْمُرَجَّبُ، مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌیَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! فَقُلْتُ لِمَالِکٍ: مَا مَعْنَی أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ؟ قَالَ: کَأَنَّہُ یَقُولُ: أَنَا دَاہِیَتُہَا، قَالَ: وَکَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ حَتّٰی خَشِیتُ الِاخْتِلَافَ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ یَدَکَیَا أَبَا بَکْرٍ! فَبَسَطَ یَدَہُ فَبَایَعْتُہُ وَبَایَعَہُ الْمُہَاجِرُونَ، ثُمَّ بَایَعَہُ الْأَنْصَارُ، وَنَزَوْنَا عَلٰی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ: قَتَلْتُمْ سَعْدًا، فَقُلْتُ: قَتَلَ اللّٰہُ سَعْدًا، وَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا وَجَدْنَا فِیمَا حَضَرْنَا أَمْرًا ہُوَ أَقْوٰی مِنْ مُبَایَعَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، خَشِینَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ وَلَمْ تَکُنْ بَیْعَۃٌ أَنْ یُحْدِثُوا بَعْدَنَا بَیْعَۃً، فَإِمَّا أَنْ نُتَابِعَہُمْ عَلٰی مَا لَا نَرْضٰی، وَإِمَّا أَنْ نُخَالِفَہُمْ فَیَکُونَ فِیہِ فَسَادٌ، فَمَنْ بَایَعَ أَمِیرًا عَنْ غَیْرِ مَشْوَرَۃِ الْمُسْلِمِینَ، فَلَا بَیْعَۃَ لَہُ وَلَا بَیْعَۃَ لِلَّذِی بَایَعَہُ تَغِرَّۃً أَنْ یُقْتَلَا، قَالَ مَالِکٌ: وَأَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، أَنَّ الرَّجُلَیْنِ اللَّذَیْنِ لَقِیَاہُمَا عُوَیْمِرُ بْنُ سَاعِدَۃَ وَمَعْنُ بْنُ عَدِیٍّ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: وَأَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ أَنَّ الَّذِی قَالَ: أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ، الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ۔ (مسند احمد: ۳۹۱)
سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے دور خلافت میں منبرِ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایک خطبہ دیا، اس میں آپ نے یہ بھی کہا تھا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ اگر عمر فوت ہوجائیں تو میں فلاں کی بیعت کروں گا اور کوئی آدمی یہ دھوکا نہ کھائے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اچانک ہوئی تھی، خبردار! اگرچہ وہ اسی طرح ہی ہوئی تھی، لیکن خبردار! اللہ تعالیٰ نے اچانک ہونے والی بیعت کے شر سے محفوظ رکھا، آج تمہارے اندر ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جیسا ایک بھی آدمی نہیںہے، جسے دیکھنے کے لیے دور دراز کے سفر کیے جائیں، یا د رکھو جب اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم سب سے افضل تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھ والے افراد دختر رسول سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر چلے گئے اور تمام انصار سقیفہ بنی ساعدہ میںجمع ہوگئے اور مہاجرین ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف روانہ ہوگئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو بکر! آؤانصاری بھائیوں کی طرف چلیں، ہم ان کا قصد کر کے ان کی طرف روانہ ہو گئے، راستے میں ہمیں دو نیک آدمی ملے اور انہوں نے ہمیںلوگوں کے عمل سے مطلع کیا اور انہوں ے پوچھا: اے مہاجرین! تم کدھر جارہے ہو؟ میںنے کہا: ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جارہے ہیں۔ ان دونوں نے کہا: اے مہاجرین کی جماعت! اگر تم ان کے ہاں نہ جاؤ اور اپنا معاملہ خودہی حل کر لو تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا۔ لیکن میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کے پاس ضرور جائیں گے، پس ہم آگے چل دیئے، یہاں تک کہ ہم سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچ گئے، وہ لوگ جمع تھے، ان کے درمیان سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ موجود تھے، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ میں نے کہا: ان کو کیا ہوا ہے؟لوگوں نے بتلایا کہ یہ بیمار ہیں، جب ہم بیٹھ گئے تو ان کا ایک مقرر کھڑا ہوا، اس نے اللہ کی کما حقہ حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد اس نے کہا:ہم اللہ تعالیٰ کے انصار اور اسلامی لشکر ہیں اور اے مہاجرو! تم ہمارا ہی چھوٹا سا حصہ ہو، تم میں سے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے مقام سے نیچے گرادیں اور ہمیں حکمرانی سے محروم کردیں، جب وہ آدمی خاموش ہوا تو میرا (عمر) نے بھی ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی موجودگی میں کچھ کہنے کا ارادہ کیا، میں ایک مقالہ یعنی تقریر تیار کر چکا تھا، وہ خود مجھے بھی خوب اچھی لگ رہی تھی، میں کسی حد تک ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے جھجکتا تھا، وہ مجھ سے زیادہ با حوصلہ اور باوقار تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے فرمایا: ذرا ٹھہر جاؤ، میں نے ان کو ناراض کرنا اچھا نہ سمجھا، جبکہ وہ مجھ سے زیادہ صاحب علم اور صاحب وقا رتھے، اللہ کی قسم! میں اپنی تیار کردہ تقریر میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فی البدیہ وہ سب کچھ کہہ دیا، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے، پھر انھوں نے کہا: اے انصار! تم نے جس فضلیت اور خوبی کا تذکرہ کیا ہے، تم واقعی اس کے اہل ہو، لیکن عرب لوگ خلافت کے فضلیت و شرف کا مستحق صرف قریش کو ہی سمجھتے ہیں، وہ اپنے نسب اور سکونت کے لحاظ سے تمام عرب سے اعلیٰ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے میں (عمر) کااور سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا:میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں کا انتخاب کر رہا ہوں، تم ان میں سے جسے چاہو اپنا امیر مقرر کر لو، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جتنی باتیں کی تھیں، ان میں سے مجھے صرف یہی بات ناگوار گزری تھی، اللہ کی قسم! اگر مجھے آگے لایا جاتا اور میری گردن اڑادی جاتی اور کوئی سابھی گناہ مجھے اس مقام تک نہ لے جاتا، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہوتے ہوئے کسی قوم کا امیر بن جاؤں،انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا: میں وہ آدمی ہوں، جس سے اس معاملے کی شفا حاصل کی جا سکتی ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی طرف اس معاملے میں رجوع ہونا چاہیے، بس اے قریش کی جماعت! ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے۔ میں نے امام مالک سے کہا: مَا مَعْنٰی أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: شاید وہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں ہی معاملہ فہم ہوں اور اس چیز کا شعور رکھتا ہوں۔ اس پر شور مچ گیا ور آوازیں بلند ہوگئیں، یہاں تک کہ مجھے لڑائی کا خدشہ ہو گیا، میں نے کہا: اے ابوبکر! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں، انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،میں نے ان کی بیعت کرلی اور مہاجرین نے بھی ان کی بیعت شروع کر دی، اس کے بعد انصار نے بھی ان کی بیعت کرلی، بیچ میں ہم نے سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اوپر ہجو م کیا، ان میں سے ایک نے کہا: تم نے سعد کو قتل کر دیا ہے۔میںنے کہا: اللہ سعد کو قتل کرے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں جس قدر بھی امور پیش آئے، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت سے بڑھ کر ہم نے کسی امر کو زیادہ قوی نہیں پایا، ہمیں اندیشہ تھا کہ اگر ہم لوگوں کو چھوڑ گئے او ربیعت نہ ہوئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ کوئی اور بیعت کرلیں، تب یا تو ہم ان سے ایسے امر پر بیعت کریں گے، جو ہمیں پسند نہیں ہو گا، یا ہم ان کی مخالفت کریں گے تو فساد مچ جائے گا، جو آدمی مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی امیر کی بیعت کر لے، اس کی بیعت کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا، اسی طرح جس کے حق میں بیعت کی گئی ہو گی، وہ بھی غیر معتبر ہو گا، یہ دونوں بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا قتل کر دئیے جانے کے حقدار ہوں گے۔ امام مالک نے کہا: مجھے ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے بیان کیا کہ جو دو آدمی راستے میں ملے تھے وہ سیدہا عریمر بن ساعدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا معمر بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ابن شہاب نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھے بیان کیا کہ جس آدمی نے یہ بات کی تھی کہ میں وہ آدمی ہوں، جس سے اس معاملے کی شفا حاصل کی جا سکتی ہے اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس کی طرف اس معاملے میں رجوع ہونا چاہیے۔ وہ سیدنا حباب بن منذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔
Musnad Ahmad
12174
۔ (۱۲۱۷۴)۔ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی جَیْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: ((عَائِشَۃُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَمِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: ((أَبُوہَا۔)) قُلْتُ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((عُمَرُ۔)) قَالَ: فَعَدَّ رِجَالًا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۴)
سیدنا عمر و بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے غزوۂ ذات ِسلاسل کے لیے روانہ کیا، میں اس سے فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگوں میںسے آپ کو سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ سے۔ میں نے کہا: اور مردو ں میں سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے والد سے۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر سے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید چند آدمیوں کے نام لیے۔
Sahih Muslim
6177
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ «أَبُوهَا» قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «عُمَرُ» فَعَدَّ رِجَالًا
Amr b. al-'As reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent him in command of the army despatched to Dhat-as-Salasil. When 'Amr b. al-'As came back to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) he said: Who amongst people are dearest to you? He said: A'isha. He then said: Who amongst men? He said: Her father, and I said: And who next? He said: Umar. He then enumerated some other men.
عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ نے ان کو ذات السلاسل کے لشکر کے ساتھ بھیجا ( ذات السلاسل نواحی شام میں ایک پانی کا نام ہے وہاں کی لڑائی جمادی الاخری۸ھ میں ہوئی ) ۔ وہ آئے آپ کے پاس انہوں نے کہا یا رسول اﷲؐ! سب لوگوں میں آپ کو کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپ نے فرمایا عائشہ صدیقہؓ سے ۔ انہوں نے کہا مرودں میں کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ان کے باپ سے ۔ انہوں نے کہا پھر ان کے بعد کس سے؟ آپؐ نے فرمایا عمرؓ سے یہاں تک کہ آپ نے کئی آدمیوں کا ذکر کیا ۔