TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12779 - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 10 in this chapter
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۷۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) وَمَدَّ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ ساتھ ہی آپ نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو پھیلا کر اشارہ کیا۔
12779
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۷۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۰۴، ومسلم: ۲۹۵۱ (انظر: ۱۳۰۱۰)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں: (۱) جس طرح یہ انگلیاں ایک دوسری کے قریب اور ملی ہوئی ہیں ،یہی معاملہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور قیامت کا ہے، (۱) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور قیامت کے مابین اتنا فاصلہ رہ گیا ہے، جتنی درمیانی انگلی شہادت والی انگلی سے بڑی ہے۔

Related Chapters

2,244
1
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
3
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
4
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
6
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے بعد کسی چیز میں تبدیلی کر دینے والے یا کسی چیز کو ایجاد کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
8
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نیند ناقضِ وضو نہیں تھی، اگرچہ وہ لیٹ کر ہوتی
Musnad Ahmad
9
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بعض بیویوں سے اس موضوع سے متعلقہ بیان کی گئی مرویات کا بیان
Musnad Ahmad
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
Musnad Ahmad
12
سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے برکت حاصل کرنا
Musnad Ahmad
13
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
14
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
Musnad Ahmad
15
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
17
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
Musnad Ahmad
18
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
19
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
Musnad Ahmad
20
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
21
وہ افراد جن کے نام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
Musnad Ahmad
22
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کنیتیں رکھیں
Musnad Ahmad
23
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
Musnad Ahmad
24
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
25
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
26
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
27
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
Musnad Ahmad
28
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
Musnad Ahmad
29
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
30
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
Musnad Ahmad
31
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پسندیدہ کھانوں کا ذکر
Musnad Ahmad
32
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
Musnad Ahmad
33
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
Musnad Ahmad
35
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خوابوں کا بیان
Musnad Ahmad
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خواب میں اللہ تعالی کو دیکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا
Musnad Ahmad
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگوٹھی اور اس کا چاندی کے ہونے کا بیان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نقش کے بارے میں تنبیہ
Musnad Ahmad
39
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
41
اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی
Musnad Ahmad
42
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بھوک کا واقعہ اور اس معاملے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عظیم معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
Musnad Ahmad
44
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
Musnad Ahmad
45
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
Musnad Ahmad
46
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
Musnad Ahmad
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
Musnad Ahmad
48
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
Musnad Ahmad
49
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
50
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
1076
۔ (۱۰۷۶)۔عَنْ زَیَادِ بْنِ أَبِیْ زَیَادٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: اِنْصَرَفْتُ مِنَ الظُّہْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِیْنَ صَلَّاہَا ہِشَامُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بِالنَّاسِ اِذْ کَانَ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ اِلَی عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ طَلْحَۃَ نَعُوْدُہُ فِیْ شَکْوٰی لَہُ، قَالَ: فَمَا قَعَدْنَا، مَا سَأَلْنَا عَنْہُ اِلَّا قِیَامًا، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیْ دَارِہِ وَہِیَ اِلٰی جَنْبِ دَارِ أَبِیْ طَلْحَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْہُ الْجَارِیَۃُ فَقَالَتْ: اَلصَّلَاۃَ یَا أَبَا حَمْزَۃَ! قَالَ: قُلْنَا: اَیُّ الصَّلَاۃِ رَحِمَکَ اللّٰہُ؟ قَالَ: الْعَصْرُ، قَالَ: فَقُلْنَا: اِنَّمَا صَلَّیْنَا الظُّہْرَ الْآنَ، قَالَ: فَقَالَ: اِنَّکُمْ تَرَکْتُمُ الصَّلَاۃَ حَتّٰی نَسِیْتُمُوْہَا، أَوْ قَالَ: نُسِّیْتُمُوْہَا حَتّٰی تَرَکْتُمُوْہَا، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) وَمَدَّ اِصْبَعَہُ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند أحمد: ۱۳۵۱۷)
مولائے ابن عباس زیاد بن ابی زیاد کہتے ہیں: میں اور عمر نمازِ ظہر سے فارغ ہوئے، مدینہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل نے نماز پڑھائی تھی، پھر ہم عمرو بن عبد اللہ بن ابی طلحہ کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کی طرف گئے، وہ بیمار تھے، پس ہم ان کے پاس بیٹھے نہیں، کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کر لیا اور پھر ہم وہاں سے پلٹ کر سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس ان کے گھر میں گئے، ان کا گھر ابو طلحہ کے گھر کے پہلو میں تھا، ہم ان کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ ایک لڑکی نے آ کر کہا: ابو حمزہ! نماز پڑھو، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، کون سی نماز؟ انھوں نے کہا: نمازِ عصر، ہم نے کہا: ہم نے تو ابھی ابھی ظہر کی نماز پڑھی ہے، انھوں نے کہا: تم نے نماز کو چھوڑ دیا ہے، یہاں تک کہ تم اس کو بھول گئے ہو، یا کہا: تم کونماز اس طرح بھلا دی گئی ہے کہ تم نے اس کو چھوڑ دیا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب کر کے) بھیجا گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو کھڑا کر کے اشارہ کیا۔
Musnad Ahmad
2785
۔ (۲۷۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ھُوَ لَہُ أَھْلٌ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَاِنَّ أَفْضَلَ الْھُدٰی ھُدٰی مُحَمَّدٍ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ)) ثُمَّ یَرْفَعُ صَوْتَہُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاہُ وَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ اِذَا ذَکَرَ السَّاعَۃَ کَأَنَّہُ مُنْذِرُ جَیْشٍ، قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: ((أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ ھٰکَذَا وَأَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی صَبَّحَتْکُمْ السَّاعَۃُ وَمَسَّتْکُمْ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَھْلِہِ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیَاعًا فَاِلَیَّ وَعَلَیَّ۔)) وَالضَّیَاعُ یَعْنِی وَلدَہُ الْمَسَاکِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۶)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے زیادہ فضیلت والا طریقہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طریقہ ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر
Musnad Ahmad
9040
۔ (۹۰۴۰)۔ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَنَسٍ اَوْ غَیْرِہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَالَ ابْنَتَیْنِ اَوْ ثَلاثَ بَنَاتٍ اَوْ اُخْتَیْنِ اَوْ ثَـلَاثَ اَخَوَاتٍ، حَتّٰییَمُتْنَ اَوْ یَمُوْتَ عَنْھُنَّ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ۔)) وَاَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۵۲۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں،یا تین بیٹیوں،یا دو بہنوں، یا تین بہنوں کی پرورش کی اور ان کے ضروری اخراجات کا ذمہ دار بنا، یہاں تک کہ وہ وفات پا گئیںیا وہ خود فوت ہو گیا تو میں اور وہ شخص ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب ہوں گے۔ ساتھ ساتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
Musnad Ahmad
9068
۔ (۹۰۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَسَحَ رَاْسَ یَتِیْمٍ لَمْ یَمْسَحْہُ اِلاَّ لِلّٰہِ کَانَ لَہُ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مَرَّتْ عَلَیْھَایَدُہُ حَسَنَاتٌ، وَمَنْ اَحْسَنَ اِلٰییَتِیْمَۃٍ، اَوْ یَتِیْمٍ عِنْدَہُ، کُنْتُ اَنَا وَھُوَ فِی الْجَنَّۃِ کَھَاتَیْنِ۔)) وَفَرَّقَ بَیْنَ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۲۲۵۰۵)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کسییتیم کے سر پھر ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں پر سے گزرے گا، اس کو اتنے بالوں کے بقدر نیکیاں ملیں گی اور جس نے یتیم بچے یا بچی کے ساتھ احسان کیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اوردرمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
Musnad Ahmad
11082
۔ (۱۱۰۸۲)۔ (۲۷۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَمِدَ اللّٰہِ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ بِمَا ھُوَ لَہُ أَھْلٌ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَاِنَّ أَفْضَلَ الْھُدَی ھُدَی مُحَمَّدٍ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) وَشَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔)) ثُمَّ یَرْفَعُ صَوْتَہُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاہُ وَیَشْتَدُّ غَضَبُہُ اِذَا ذَکَرَ السَّاعَۃَ کَأَنَّہُ مُنْذِرُ جَیْشٍ، قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ: ((أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ ھٰکَذَا وَأَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی صَبَّحَتْکُمُ السَّاعَۃُ وَمَسَّتْکُمْ مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِأَھْلِہِ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْ ضَیَاعًا فَاِلَیَّ وَعَلَیَّ۔۔)) وَالضَّیَاعُیَعْنِی وَلدَہُ الْمَسَاکِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۶)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے افضل رہنمائی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رہنمائی ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرماتے: تمہارے پاس قیامت آ چکی ہے، مجھے اور قیامت کو (ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب) بھیجا گیا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہادت والی اور درمیانی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ قیامت تمہارے پاس صبح کو آ جائے گییا شام کو، جو مال چھوڑ کر مر گیا وہ اس کے اہل (یعنی ورثائ) کو ملے گا اور جس نے قرض یا اولاد چھوڑی تو وہ میری طرف ہے اور مجھ پر ہے۔ ضَیَاع سے مراد مسکین اولاد ہے۔
Musnad Ahmad
12780
۔ (۱۲۷۸۰)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ بِاِصْبَعَیْہِ وَیَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۶۰)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور فرمایا: میری بعثت اور قیامت اب اس طرح ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں جیسے یہ انگلی اس کے ساتھ ہے۔
Musnad Ahmad
2133
۔ (۲۱۳۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ َومَنْ فِیْہِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌ، اَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَ کَّلْتُ وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِی مَاقَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الَّذِی لَاإِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو نماز کے لئے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ َومَنْ فِیْہِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌ، اَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْکَأَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ،أَنْتَ الَّذِیْ لَاإِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ (اے اللہ! تیرے لئے تعریف ہے، تو ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، تیرے لئے ہی ہرقسم کی تعریف ہے، تو ہی آسمانوں و زمین اور جو ان میں ہے، ان سب کا رب ہے، توحق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے،جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ تیرے لئے میں فرمانبردار ہوا، تیرے ساتھ میں ایمان لایا، تجھ پر میں نے توکل کیا، تیری طرف میں نے رجوع کیا ہے اور تیری توفیق سے میں نے جھگڑا کیا ہے اورتیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ہوں، تو میرے لیے میرے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے پہلے کیے، جو بعدمیں کیے، جو پوشیدہ طور پر کیے اور جو ظاہری طور پر کیے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔)
Musnad Ahmad
9063
۔ (۹۰۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہُ اَوْ لِغَیْرِہِ اَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ اِذَا اتَّقَی اللّٰہَ۔)) وَاَشَارَ مَالِکٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) بِالسَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۸۸۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے یا کسی اور کے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ساتھ مالک راوی نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔
Musnad Ahmad
12781
۔ (۱۲۷۸۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ثَنَا الْاَ عْمَشُ عَنْ اَبِیْ خَالِدٍ عَنْ وَھْبٍ السَّوَائِیِّ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ، اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُہَا۔))وَجَمَعَ الْاَعْمَشُ اَلسَّبَّابَۃَ وَالْوُ سْطٰی وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُرَّۃَ اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۷۷)
سیدنا وہب سوائی کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میری بعثت اور قیامت اس طرح متصل ہیں جیسے یہ انگلی دوسری انگلی کے ساتھ متصل ہے، یقینا قریب تھا کہ قیامت میری بعثت سے پہلے قائم ہوجاتی ۔ پھر امام اعمش نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیان انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔