TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10631 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 6 in this chapter
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
۔ (۱۰۶۳۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھِنْدٍ الْبَجَلِیِّ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ مُعَاوِیَۃَیَعْنِیْ ابْنَ أَبِیْ سُفْیَانَ وَھُوَ عَلٰی سَرِیْرِہِ وَقَدْ غَمَّضَ عَیْنَیْہِ فَتَذَاکَرْنَا الْھِجْرَۃَ وَالْقَائِلُ مِنَّا یَقُوْلُ: قَدِ انْقَطَعَتْ، وَالْقَائِلُ مِنَّا یَقُوْلُ: لَمْ تَنْقَطِعْ فََاسْتَنْبَہَ مُعَاوِیَۃُ فَقَالَ: مَا کُنْتُمْ فِیْہِ؟ فَأَخْبَرْنَاہُ وَکَانَ قَلِیْلَ الرَدِّ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: تَذَاکَرْنَا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَا تَنْقَطِعُ الْھِجْرَۃُ حَتَّی تَنْقَطِعَ التَّوْبَۃُ وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَۃُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۳۰)
۔ ابوہند بَجَلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ اپنی چارپائی پر اونگھ کی وجہ سے آنکھوں کو بند کر کے تشریف فرما تھے، ہم نے وہاں ہجرت کا تذکرہ کیا، کسی نے کہا: ہجرت منقطع ہو چکی ہے اور کسی نے کہا کہ ابھی تک وہ منقطع نہیں ہوئی، اتنے میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جاگ گئے اور کہا: تم لوگ کیا بات کر رہے تھے؟ ہم نے ان کو تفصیل بتائی، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کم احادیث منسوب کرتے تھے، بہرحال اس بار انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک توبہ منقطع نہیں ہو جاتی اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔
10631
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۰۶۳۱) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۴۷۹ (انظر: ۱۶۹۰۶)

Related Chapters

219
1
CHAPTER: Regarding What Time Is Recommended For The Encounter.
باب: دشمن سے لڑائی کس وقت بہتر ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: What Has Been Related About Lining Up And Positioning At The Time Of Fighting
باب: لڑائی کے وقت صف بندی اور لشکر کی ترتیب کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Supplicating At The Time Of Fighting
باب: لڑائی کے وقت دعا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Breaking Fast At The Time Of Fighting
باب: لڑائی کے وقت روزہ نہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What has been Related About A Man During The Fitnah
باب: فتنہ کے وقت آدمی کو کیسا ہونا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
6
Chapter: About The Supplication When Going Out For An Expedition
باب: لڑائی کے وقت کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
7
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
Musnad Ahmad
9
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
Musnad Ahmad
10
ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
Musnad Ahmad
11
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
Musnad Ahmad
12
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
Musnad Ahmad
13
(36) CHAPTER. Hajj-at-Tamattu during the lifetime of Allah's Messenger .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تمتع کا جاری ہونا
Sahih Bukhari
14
Chapter: The command to fight the people until they say La ilaha illallah Muhammad Rasul-Allah , and establish Salat, and pay the Zakat, and believe in everything that the prophet (saws) brought. Whoever does that, his life and his wealth are protected except by its right, and his secrets are entrusted to Allah, the most high. Fighting those who withhold Zakat or other than that is one of the duties of Islam and the Iman should be concerned with the Laws of Islam
لوگوں سے اس وقت تک لڑائی کرنے کا بیان جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کر لیں
Sahih Muslim
15
Chapter: Riding back after the funeral
واپسی کے وقت نماز جنازہ ادا کرنے والے کا سوار ہونا
Sahih Muslim
16
Chapter: It is recommended to stay overnight in Dhu Tuwa when intending to enter Makkah, and to perform Ghusl before entering it, and to enter it by day
مکہ میں داخل ہونے کے لیے پہلےذی طویٰ میں رات گزارنا‘داخل ہونے کےلیے غسل کرنا اوردن کے وقت داخل ہونا مستحب ہے
Sahih Muslim
17
CHAPTER: Calling The Idolaters (To Accept Islam).
باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
Chapter: What Has Been Related About Whoever Performs Hajj Or Umrah Them Let The Last Of His Acts Be At The House
باب: حج یا عمرہ کرنے والے کا آخری کام بیت اللہ (کعبہ) کا طواف ہونا چاہئے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Hijrah
باب: ہجرت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Lie And Be Deceitful In War
باب: لڑائی میں جھوٹ دھوکہ اور فریب کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Arguing
باب: تکرار کرنے اور لڑائی جھگڑے کی مذمت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Fighting The Turks
باب: ترکوں سے لڑائی کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
24
باب: مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے
Jam e Tirmazi
25
باب: پیٹ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے
Jam e Tirmazi
26
بَاب هِجْرَة أَصْحَابه صلى الله عَلَيْهِ وَسلم من مَكَّة ووفاته
صحابہ کرام ؓ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت اور نبی ﷺ کی وفات کا بیان
Mishkat
27
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
28
خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے
Musnad Ahmad
29
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
30
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
31
امام کا سترہ ہی مقتدی کا سترہ ہے او ر کسی چیز کے گزر جانے سے نماز منقطع نہیں ہوتی
Musnad Ahmad
32
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
33
نمازِ خوف کی چھٹی صورت دونوں گروہوں کا قیام اور سلام میں امام کے ساتھ شریک ہونا
Musnad Ahmad
34
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
35
شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
Musnad Ahmad
36
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
Musnad Ahmad
37
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
Musnad Ahmad
38
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
Musnad Ahmad
39
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
Musnad Ahmad
40
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
Musnad Ahmad
41
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
42
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
Musnad Ahmad
43
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
Musnad Ahmad
44
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
Musnad Ahmad
45
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
46
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
Musnad Ahmad
47
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
Musnad Ahmad
48
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
Musnad Ahmad
49
امان کی وجہ سے خون کی حرمت کا ثابت ہو جانا اور ایک آدمی کی امان کا معتبر ہونا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت
Musnad Ahmad
50
تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

4
Musnad Ahmad
1243
۔ (۱۲۴۳) عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ قَالَ: أتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ شَبَبَۃٌ مُتََقَارِبُوْنَ فَأَقَمْنَا مَعَہُ عِشِْرِیْنَ لَیْلَۃً۔ قَالَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَحِیْمًا رَفِیقاً فَظَنَّ أنَّاَ قَدِ اشْتَقْنَا أَھْلَنَا فَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا فِیْ أَھْلِنَا فَأَخْبَرْنَاہُ فَقَالَ: ((اِرْجِعُوْا إِلٰی أَھْلِیْکُمْ فأَقِیْمُوْا فِیہِمْ وَعَلِّمُوْھُمْ وَمُرُوْھُمْ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۸۳)
سیّدنا مالک بن حویرث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم تقریبا ایک عمر کے نوجوان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور بیس راتیں قیام کیا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑے رحیم اور نرم دل تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محسوس کیا ہم اپنے گھر والوں کے مشتاق ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے ان (افراد)کے متعلق پوچھا جو ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے تھے؟ جب ہم نے ساری بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں میں واپس چلے جاؤ اور ان میں رہو، اور ان کو (دین)سکھاؤ،ان کو حکم دو کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے، پھر تم میں بڑی عمر والا امامت کروائے۔
Musnad Ahmad
5137
۔ (۵۱۳۷)۔ عن حُذَیْفَۃ بْنِ الْیَمَانِ، قَالَ: مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ، أَنَا وَأَبِی حُسَیْلٌ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ، فَقَالُوْا: إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا، قُلْنَا: مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((انْصَرِفَا نَفِیْ بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۴۶)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے غزوۂ بدر میں شرکت کرنے سے روکنے والی چیز یہ تھی کہ میں اور میرے باپ سیدنا حُسَیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکلے، لیکن کفار ِ قریش نے ہم کو پکڑ لیا اور انھوں نے کہا: بیشک تم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس جانا چاہتے ہو، ہم نے کہا: ہم تو صرف مدینہ جا رہے ہیں، پھر انھوں نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا عہد اور پکا وعدہ لیا کہ ہم واقعی مدینہ جائیں گے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر قتال نہیں کریں گے، پس جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم چلے جاؤ، ہم ان سے کیے گئے تمہارے معاہدے کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔
Musnad Ahmad
8933
۔ (۸۹۳۳)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، قَالَ: کُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی الْمَسْجِدِ، یَخْرُجُ عَلَیْنَا فَجَائَ یَزِیْدُ بْنُ مُعَاوِیَۃَیَعْنِیْ النَّخْعِیَّ قَالَ: فَقَالَ: اَلاَ اَذْھَبُ فَاَنْظُرُ، فَاِنْ کَانَ فِی الدَّارِ لَعَلِّیْ اَنْ اُخْرِجَہُ اِلَیْکُمْ، فَجَائَ نَا فَقَامَ عَلَیْنَا فَقَالَ: اِنَّہٗلَیُذَکِّرُ لِیْ مَکَانُکُمْ فَمَا آتِیْکُمْ کَرَاھِیَۃَ اَنْ اُمِلَّکُمْ، لَقَدْ کَانَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَۃِ کَرَاھِیَۃَ السَّآمَۃِ عَلَیْنَا۔ (مسند احمد: ۳۵۸۷)
۔ شقیق کہتے ہیں: ہم مسجد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے ہمارے پاس آنا تھا، اتنے میںیزید بن معاویہ نخعی آ گئے اور کہا: کیا میں خود ان کی طرف چلا جاؤں اور ان کو دیکھوں، اگر وہ گھر میں ہوئے تو ان کو تمہاری طرف لے آنا میری ذمہ داری ہو گی، پس سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہا: مجھے تمہارا مقام و مرتبہ یاد آ رہا تھا، لیکن بات یہ ہے کہ میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اکتا جاؤ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے اکتا جانے کو ناپسند کرتے ہوئے وعظ و نصیحت کرنے میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔
Musnad Ahmad
11674
۔ (۱۱۶۷۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ: مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِی حُسَیْلُ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ، فَقَالُوْا إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا؟ قُلْنَا: مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ، فَأَخَذُوْا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((انْصَرِفَا نَفِی بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۴۶)
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ بدر میں ہماری عدم شرکت کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اور میرا والد سیدنا حسیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جا رہے تھے کہ قریشی کفار نے ہمیں گرفتار کر لیا، انھوں نے کہا کہ تم لوگ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف جا رہے ہو۔ ہم نے کہا کہ ہم تو مدینہ کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوںنے ہم سے اللہ کی قسم اور پختہ عہد لیا کہ ہم مدینہ کی طرف جائیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑائی میں حصہ نہ لیں۔ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ، ہم ان سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ کی مدد کے خواستگار ہیں۔