قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کعبہ کے دروازے کے قریب ایک آدمی دیکھا، اس کی رنگت گندمی، سر کے بال قدرے خمدار، دو آدمیوں پر اپنا ہاتھ رکھے ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟فرشتوں نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھرمیں نے ان کے پیچھے ایک اور آدمی کو دیکھا، وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کے سر کے بال گھنگریالے تھے، میں نے جو لوگ دیکھے ہیں ان میں ابن قطن اس سے مشابہ ہے۔ میںنے پوچھا: یہ کون ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر چھیڑ دیا اورکہا: اس کی آنکھوں کے درمیانی یعنی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم کہہ رہے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہیں سنا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اگر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے دیکھ لو اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور گھنگریالے بالوں والے تھے، میں دیکھتا ہوں کہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی وہ مہار والے ایک سرخ اونٹ پر سوار تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔
سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں کو دجال کے متعلق بتا تو چکا ہوں، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے پہچان ہی نہ سکو۔ (یاد رکھنا کہ) مسیح دجال پست قامت ہوگا، اس کے پیروں کا اگلا حصہ قریب اور ایڑیاں دور ہوں گی،اس کے بال گھنگریالے ہوں گے، اس کی آنکھ اس طرح مٹی ہوئی ہوگی کہ وہ نہ تو ابھری ہوئی ہوگی اور نہ اندر کو دھنسی ہوئی، اگر پھر بھی معاملہ تم پر خلط ملط ہونے لگے تو جان لو کہ تمہارا ربّ کانا بھی نہیں ہے اور تم مرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔
ابو قلابہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میںایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ ا س کے ارد گرد جمع تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہتے ہوئے احادیث بیان کر رہا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک صحابی تھا، پھر میں نے اسے یہ بیان کرتے ہوئے سنا: تمہارے بعد ایک گمراہ کرنے والا جھوٹا آدمی آئے گا، اس کے سر کے بال پیچھے سے گھونگریالے ہوں گے، گھونگریالے، گھونگریالے، اور وہ کہے گا کہ وہ تمہارا ربّ ہے، جس نے اس سے کہا: تو ہمارا رب نہیں ہے، ہمارا رب تو اللہ ہے، ہم نے اسی پر توکل کیا، اسی کی طرف رجوع کیا اور ہم تیرے شر سے اسی اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، تو کذاب کا اس پر کوئی بس نہیں چلے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۰۲) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۳۱۵۹)
Explanation
فوائد:… جب مؤمن کا دجال سے سامنا ہو جائے تو وہ یہ دعا پڑھے: لَسْتَ رَبَّنَا، لٰکِنْ رَبُّنَا اللّّٰہُ عَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْہِ اَنَبْنَا نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکَ۔
اس دعا کی برکت سے وہ دجال کے تسلط سے محفوظ ہو جائے گا۔
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے سر بال پیچھے سے گھونگریالے ہوں گے، جس آدمی نے اس سے کہا: تو میرا رب ہے، وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے گا، لیکن جس نے اس سے کہا: تو جھوٹا ہے، میرا ربّ تو اللہ ہے اور میں اسی پر توکل کرتا ہوں تو دجال اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یا فرمایا: اس پر اس کا کوئی فتنہ نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۰۰۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو قلابۃ لم یسمع من ہشام بن عامر، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۴۵۶، والحاکم: ۴/ ۵۰۸، وعبد الرزاق: ۲۰۸۲۸ (انظر: ۱۶۲۶۰)
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ دجال کے پاس کیا کچھ ہو گا،اس کے پاس دو بہتی ہوئی نہریں ہوں گی، ایک کا پانی بظاہر سفید ہوگا اور دوسری نہر بظاہر دہکتی ہوئی آگ ہوگی، اگر تم میں سے کسی کو ان حالات سے سابقہ پڑ جائے تو وہ اس نہر میںداخل ہوجائے،جسے وہ آگ دیکھ رہا ہو، وہ آنکھیں بند کر کے اور سر جھکا کر اس سے نوش کر لے، وہی ٹھنڈا پانی ہوگا، دجال کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہو گی، اس پر موٹی سی جھلی ہو گی اوراس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ لکھا ہوا ہو گا، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن اس لفظ کو پڑھ لے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۰۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۳۴(انظر: ۲۳۲۷۹)
Explanation
فوائد:… جو بظاہر آگ نظر آئے گی، وہی حقیقت میں باعث ِ تسکین مقام ہو گا، اس لیے مؤمن کو چاہیے ہو گا کہ وہ اپنی آنکھوں سے دھوکہ نہ کھائے، بلکہ ایمان اور شرعی تقاضوں کو سامنے رکھے۔
سیدنا حذیفہ بن یما ن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، اس کے بال بہت زیادہ ہوں گے، ا سکے پاس ایک جنت اور ایک جہنم ہوگی، لیکن اس کی جہنم حقیقت میں جنت اور اس کی جنت حقیقت میں جہنم ہوگی۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے بارے میں جس قدر میںنے پوچھا، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سے متعلقہ اتنے سوالات نہیں کیے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: بیٹے ! تم کیوں گھبراتے ہو، وہ تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ میںنے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پاس روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کم تر اور رذیل ہوگا۔
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال نمودار ہونے والا ہے، وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، اس پر اس پر موٹی سی جھلی ہو گی۔ وہ مادر زاد نا بیناؤں کو اور پھلبہری کے مریضوں کو شفا دے گا اور مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ جس نے اسے اپنا ربّ تسلیم کر لیا وہ فتنے میں پڑ جائے گا، لیکن جس نے اس سے کہا: میر اربّ تو اللہ تعالیٰ ہے اور مرنے تک اسی پر ثابت قدم رہا، تو وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہے گا اوراس کے بعد اس پر کوئی فتنہ اور عذاب نہیں ہو گا، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا، دجال زمین پر ٹھہرے گا، اس کے بعد مغرب کی جہت سے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کی تصدیق کرتے ہوئے اور ان کی ملت پر عمل پیرا ہو کر آئیں گے اور دجال کو قتل کر یں گے، اس کے بعد قیامت قائم ہو گی۔
Takhreej
(۱۳۰۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، فان الحسن البصری لم یذکر سماعہ من سمرۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۶۹۱۹ (انظر: ۲۰۱۵۱)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دجال کے بارے طویل حدیث بیان کی، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: جب دجال آئے گا تو مدینہ منورہ کے راستوں میں داخل ہونا اس پر حرام ہوگا، اس دور کا افضل ترین آدمی دجال کی طرف جا کر اس سے کہے گا: میں شہادت دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خبردار کر گئے ہیں، یہ سن کر دجال لوگوں سے کہے گا: کیا خیال ہے اگر میں اس شخص کو قتل کردوں اور پھر اسے زندہ کر دوں تو کیا تم میرے معاملے پھر بھی کوئی شک کرو گے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ چنانچہ دجال اس آدمی کو قتل کر کے زندہ کر دے گا، وہ آدمی زندہ ہونے کے بعد کہے گا: اللہ کی قسم! مجھے تیرے دجال ہونے کے متعلق جس قدر اب بصیرت ہے، اتنی تو پہلے بھی نہیں تھی، چنانچہ دجال اسے دوبارہ قتل کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن وہ اسے قتل نہیں کر سکے گا۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال اس وقت نکلے گا، جب جب دین کمزور ہو جائے گا اور علم اٹھ جائے گا، اس وقت دجال کا ظہور ہوگا، وہ چالیس دنوں تک ٹھہرے گا، ان میں سے ایک دن ایک سال کے، ایک دن ایک مہنے کے اور ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہوگا اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے۔
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال زمین میں چالیس سال قیام کرے گا، اس کا ایک سال ایک مہینے کی طرح، ایک مہینہ ایک ہفتے کی طرح، ایک ہفتہ ایک دن کی طرح اور ایک دن اس گھڑی کی طرح ہو گا، جس میں کا خشک پتہ آگ میں جل جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شہر بن حوشب، أخرجہ عبدالرزاق: ۲۰۸۲۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۴۳۰ (انظر: ۲۷۵۷۱)
سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مسیح دجال کو بابِ لُدّ کے پاس قتل کریں گے۔
سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن صبح کو دجال کا ذکر کیا، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کبھی اپنی آواز کو پست کر لیتے اور کبھی بلند، یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ وہ یہیں کھجوروں کے کسی جھنڈ میں موجود ہے، ہم اس سے اس قدر خوف زدہ ہوگئے کہ جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر دہشت سی محسوس کر لی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے متعلق مزید دریافت کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج دجال کا ذکر کیا اور اس دوران اپنی آواز کو کبھی پست کیا اور کبھی بلند، یہاں تک کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے کہ وہ یہیں کہیںکھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے متعلق دجال کے علاوہ دوسری بات کا اندیشہ زیادہ ہے، کیونکہ اگر میری موجودگی میں دجال آگیا تو میں تم سے آگے اس کا مقابلہ کر لوں گا اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر آدمی اپنا دفاع خود کر لے گا اور ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ میری طرف سے خلیفہ ہے، (یعنی اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو فتنہ ٔ دجال سے محفوظ رکھے گا)، دجال نوجوان ہوگا، اس کے بال گھنگریالے ہوں گے، اس کی آنکھ خوشۂ انگور میں ابھرے ہوئے دانے کی طرح ہو گی،وہ شام اور عراق کے درمیان کے علاقوں میں ظاہر ہوگا اور دائیں بائیں (زمین پر) گھومے گا، اللہ کے بندو! تم اس وقت دین پر ثابت قدم رہنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا؟ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن، لیکن اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا جو دن ایک سال کے برابر ہوگا ،تو کیا اس میںہمیں ہمیں ایک ہی دن کی نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جی نہیں،تم وقت کا اندازہ کر کے (وقفے وقفے سے نمازیں) ادا کرتے رہنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ زمین میں کس رفتار سے جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی رفتار اس بادل کی سی ہوگی، جسے ہوا آگے کو دھکیل رہی ہو۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال ایک قبیلے کے پاس سے گزرے گا اور انہیں (اپنی ربوبیت) کی دعوت دے گا، لوگ اس کی بات مان لیں گے، پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین نباتات اگائے گی، جنگلوں میں چرنے والے ان کے جانور پہلے سے بڑی کوہانوں والے، بھری ہوئی کو کھوں والے اور بڑے تھنوں والے ہو کر واپس آئیں گے، اسی طرح جب وہ ایک دوسرے قبیلے کے پاس سے گزر ے گا اور ان کو (اپنی ربوبیت پر ایمان لانے کی) دعوت دے گا اور وہ اس کی بات کو ردّ کردیں گے، ان کے اموال (ان کو چھوڑ کر) دجال کے پیچھے چل پڑیں گے اور وہ لوگ تنگ دست ہو کر رہ جائیں گے، ان کے پاس ان کے مالوں میں سے کچھ بھی نہیں بچے گا۔ دجال ایک شور زدہ زمین سے گزرتے ہوئے اس سے کہے گا کہ کہ تو اپنے خزانے اُگل دے، تو اس زمین کے خزانے نکل کر اس کے پیچھے یوں چلیں گے، جیسے شہد کی مکھیوں کے لشکر جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ دجال تلوار کی ضرب سے ایک آدمی کے یک لخت اس طرح دو ٹکڑے کر دے گا، جیسے تیر جلدی سے اور اچانک اپنے ہدف پر جا کر لگتا ہے، پھر وہ اس مقتول کو اپنی طرف بلائے گا تو وہ زندہ ہو کر اس کی طرف آ جائے گا اور اس کا چہرہ بے خوفی اور اطمینان کی وجہ سے خوب روشن ہوگا، دجال اسی طرح لوگوں کو شعبدے دکھا دکھا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرما دے گا، وہ دمشق کے مشرق میں سفید رنگ کی بلند جگہ پر اتریں گے، انھوں نے ورس اور زعفران کے ساتھ رنگے ہوئے دو کپڑے زیب ِ تن کیے ہوں گے اور فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے، وہ اتر کر دجال کا پیچھا کر کے اسے لُدّ کے مشرقی دروازے کے قریب قتل کر دیں گے، اتنے میں اللہ تعالی، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ اب میں ایسے بندے بھیجنے لگا ہوں کہ آپ ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے، لہٰذا آپ اہل ِ ایمان بندوں کو لے کر کوہِ طور کی طرف چلے جائیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کو ظاہر کرے گا، ان کی وہی کیفیت اور حالت ہوگی جو قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے: {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} (وہ ہر بلندی سے تیزی سے دوڑتے آئیں گے)۔ (سورۂ انبیائ: ۹۶) پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں گے اور اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا،اس سے وہ بہت جلد مر جائیں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کوہِ طور سے نیچے آئیں گیاور جب وہ دیکھیں گے کہ ان کی لاشیں اور بدبو زمین پر ہر ہر گھر میں پڑی ہوئی ہے، تو وہ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے اوراللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے بڑے پرندے بھیج دے گا، جو ان کے لاشوں کو اٹھا اٹھا کر ادھر پھینک آئیں گے، جہاں اللہ کو منظور ہوگا۔ یحییٰ بن جابر کہتے ہیں: عطا ء بن یزید سکسکی نے مجھے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کی روایت سے بیان کیا کہ وہ پرندے یا جوج ماجوج کی لاشوں کو مَھْبَل میں جا پھینکیں گے، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ مَھْبَل کہاں ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو چالیس دن تک جاری رہے گی، اس بارش سے کوئی خیمہ یا کوئی گھر محروم نہیں رہے گا، اللہ تعالیٰ اس بارش کے ذریعے زمین کو اچھی طرح دھو دے گا اور زمین صاف چٹیل پتھر کی طرح صاف ہوجائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین کو حکم دیا جائے گا کہ تو وہ اپنے پھل اگا دے اور اپنی برکات اگل دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں میں پھلوں اور باقی چیزوں میں اس قدر برکت ہوگی کہ ایک انار کو لوگوں کی بڑی جماعت کھائے گی اور وہ لوگ اس کے چھلکے کے سائے میں بھی بیٹھ سکیں گے اور دودھ میں بھی اس قدر برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی بڑی بڑی جماعتوں کو کفایت کرے گی اور ایک گائے کا دودھ بھی ایک جماعت کی ضرورت پوری کرے گا اور ایک بکری کا دودھ ایک گھر والوں کے لیے کافی رہے گا، لوگ اسی طرح خوش حالی کی زندگی گزار رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے ایک بہترین خوش بو دار قسم کی ہوا چلائے گا، جو ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور صرف بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور وہ اس قدر بے حیا ہوں گے کہ گدھوں کی مانند بر سرِعام عورتوں کو استعمال کریں گے، پھر ایسے لوگوں پر قیامت قائم ہو جائے گی۔
فوائد:… اس حدیث میں ایک اہم فقہی مسئلے کا بیان بھی ہے کہ زمین کے جن خطوں میں چھ چھ ماہ تک دن یا رات کا وقت رہتاہے، وہاں ہر چوبیس گھنٹوں میں اندازہ کر کے پانچ نمازیں ادا کی جائیں گی۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کا ظہور اس وقت ہوگا جب دینی حالت کمزور ہو گی اور علم اٹھ چکا ہوگا، وہ زمین میں چالیس دن گھومے گا، ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، وہ ایک ایسے گدھے پر سوار ہو گاکہ جس کے دو کانوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ وہ لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کانا ہوگا، جب کہ تمہارا ربّ کانا نہیں، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یعنی ک ف ر لکھا ہوگا، اس لفظ کو ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا، وہ ہر پانی اور ہر گھاٹ یعنی ہر جگہ پہنچے گا، ماسوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، اللہ تعالیٰ نے اِن دونوں حرموں کو اس کے لیے حرام کر دیا ہے، ان دونوں کے دروازوں پر فرشتے حفاظت کے لیے مامور ہیں، دجال کے پاس روٹی کے پہاڑ ہوں گے، اس کی پیروی کرنے والے لوگوں کے علاوہ باقی تمام مسلمان سخت فقرو فاقہ کی حالت میں ہوں گے، اس کے پاس دو نہریں ہوں گی، میں اُن دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ ایک نہر کو جنت اور ایک نہر کو جہنم ظاہر کرے گا، لیکن وہ جسے جنت کہے گا اور اس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جہنم ہوگی اور وہ جسے جہنم کہے گا اوراس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جنت ہوگی، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین (جنات) کو بھی بھیجے گا، وہ لوگوں کے ساتھ ہم کلام ہوں گے، لوگوں کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا، وہ آسمان کو حکم دے گا تو لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ بارش بر سائے گا اور وہ ایک آدمی کو قتل کر کے اسے زندہ بھی کرے گا اور لوگ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے آدمی کو قتل کر کے زندہ کرنے کی طاقت نہیں دے گا۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے کہے گا: لوگو! کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی ایسے کام کر سکتا ہے؟ مسلمان ان حالات میں شام میں واقع پہاڑ دخان کی طرف دوڑ جائیں گے، لیکن وہ بھی ادھر جا کر ان کا محاصرہ کرے گا اورسخت محاصرہ کرے گا، وہ لوگ شدید فقر و فاقہ سے دو چا ہوجائیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور صبح کے وقت یہ آواز دیں گے: لوگو! کیا بات ہے، تم بد ترین کذاب کے مقابلے کے لے کیوں نہیں نکلتے؟ پہلے تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ کسی جن کی آواز ہے، لیکن جب جا کر دیکھیں گے تو وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے، اتنے نما زکی جماعت کھڑی ہو جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: اے روح اللہ! آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں، لیکن وہ فرمائیں گے: تمہارا امام ہی آگے آئے اور نماز پڑھائے، وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد دجال کی طرف نکلیں گے،جب جھوٹا دجال ان کو دیکھے گا تو وہ پانی میں گھل جانے والے نمک کی طرح گھلنے لگ جائے گا، پھر عیسیٰ علیہ السلام اس کی طرف جا کر اسے قتل کر ڈالیں گے اور حالات مسلمانوں کے حق میں اس حد تک بہتر ہوجائیں گے کہ درخت اور پتھر پکار پکار کر کہیں گے: اے روح اللہ! یہ یہودی یہاں ہے، عیسیٰ علیہ السلام دجال کے ایک ایک پیروکار کو پکڑ پکڑ کر قتل کر دیں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۱۳) تخریج: اسنادہ علی شرط مسلم ، أخرجہ ابن خزیمۃ فی التوحید : ۱/ ۱۰۲ (انظر: ۱۴۹۵۴)
یعقوب بن عاصم کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سنا، وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہہ رہا تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ قیامت فلاں وقت تک قائم ہوجائے گا؟ اس کی بات سن کر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ لوگوں کو کوئی چیز بیان نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ تم کچھ عرصہ بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے اور وہ بیت اللہ کی آتش زدگی کی صورت میں ظاہر ہو چکا ہے،اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میری امت میں دجال رونما ہوگا اور وہ چالیس رہے گا، یہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چالیس دن کہا یا چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس راتیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، ان کا حلیہ عروہ بن مسعود ثقفی سے ملتا ہو گا، وہ آکر دجال کو قتل کریں گے، اس کے بعد مسلمان سات برس اس طرح گزاریں گے کہ کوئی سے دو مسلمانوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، جس آدمی کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہوگا، وہ اس ہوا کی وجہ سے فوت ہو جائے گا، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن مسلمان پہاڑوں کے اندر بھی ہوا تو وہ ہوا وہاں بھی جا پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری بات میں نے رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہیں، اس کے بعد شریر ترین اور بد ترین لوگ باقی بچ جائیں گے، جن کا طرز عمل اور عقل پرندوں اور درندوں کی سی ہوگی، جو کسی اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرتے ہوں گے۔ شیطان ان کے لیے انسانی شکل میں نمودار ہو کر ان سے کہے گا: تم میری بات کیوں نہیں مانتے، پھر وہ انہیں بتوں کی پوجا پاٹ کا کہے گا، چنانچہ وہ لوگ بتوں کی پرستش شروع کردیں گے۔ ان دنوں ان کے پاس رزق وافر اور زندگی خوش حال ہوگی، اس کے بعد صور پھونکا جائے گا، اس کی دہشت اور اثر اس قدر ہو گا کہ جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ وہیں ڈھیر ہوجائے گا، سب سے پہلے اس کی آواز سننے والا آدمی اپنے حوض کی مرمت کر رہا ہو گا اور وہ وہیں گر جائے گا، اس کے بعد سب لوگ گرتے چلے جائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ خوب بارش نازل فرمائے گا، اس کے اثر سے لوگوں کے اجسام اگیں گے، اس کے بعد پھر صور پھونکا جائے گا، لوگ دیکھتے بھالتے اٹھ کھڑے ہوں گے، پھر لوگوں سے کہا جائے گا: اپنے ربّ کی طرف آجاؤ، اور فرشتوں سے کہا جائے گا۔ {وَقِفُوْھُمْ اِنَّہُمْ مَسْئُوْلُوْنَ} (سورۂ صافات: ۲۴) (اور انہیں کھڑا کر دو، اب ان سے پوچھ گچھ ہوگی۔)۔ پھر کہا جائے گا کہ جہنم کا حصہ ایک طرف کردو۔ پوچھا جائے گا کہ وہ کتنا ہے؟ جواباً کہا جائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے، اس وقت اس قدر دہشت ہو گی کہ کم سن بچے بوڑھے بن جائیں گے، اور اس دن (اللہ تعالیٰ کی) پنڈلی پر سے حجاب اٹھا لیا جائے گے۔ محمدبن جعفر کہتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث کئی مرتبہ مجھے بیان کی اور میںنے بھی اس کے سامنے اس کی قراء ت کی۔
Takhreej
(۱۳۰۱۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۰ (انظر: ۶۵۵۵)
Explanation
فوائد:… راوی کو شبہ ہو رہا ہے کہ چالیس سال ہیں یا مہینے یا دن، لیکن پیچھے گزر جانے والی احادیث میں یہ وضاحت گزر چکی ہے کہ وہ چالیس دن قیام کرے گا، لیکن اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شا م میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیا علاتی بھائی ہیں، (یعنی ان کا باپ ایک ہے اور) مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور وہ (میری امت میں) اترنے والے ہیں۔ تم جب ان کو دیکھو تو پہچان لینا، وہ درمیانے قد کے ہیں، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل ہے، وہ دو سوتی چادروں میں ملبوس ہوں گے، جب وہ اتریں گے تو ایسے لگیں گے کہ گویا کہ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، اگرچہ ان کو گیلا نہیں کیا ہو گا، وہ لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے، صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ (کا تصور) ختم ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میںاسلام کے علاوہ تمام (باطل) مذاہب کو نیست و نابود کر دے گا اور مسیح دجال کو بھی ہلاک کر دے گا۔ اور (ان کے زمانے میں) زمین میں اتنا امن ہو گا کہ سانپ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، حضرت عیسی علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام کرنے کے بعد فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔ اور ایک روایت میں ہے: پھر ان کو دفن کریں گے۔
فوائد:… علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں، جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے اصول کو باپ سے اور دین کی فروعات کو ماؤں سے تشبیہ دی، یعنی انبیاء و رسل کے ادیان کے اصول یکساں تھے، البتہ شریعت کی فروعات مختلف ہوتی تھیں۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی پہلی سند والی حدیث کے ہم معنی ہی ہے، البتہ اس میں ہے: ان کے زمانے میں گمراہی والا کانا اور جھوٹا مسیح ہلاک ہوجائے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، صلیب کو مٹا دیں گے، ان کی آمد پر نماز با جماعت اداکی جائے گی، وہ لوگوں میں اس قدر مال و دولت تقسیم کریں گے کہ بالآخر کوئی مال قبول نہیں کرے گا، وہ جزیہ کو ختم کر دیںگے اور وہ روحاء مقام پر اتر کر وہاں سے حج یا عمرے یا دونوں کا احرام باندھ کر روانہ ہوں گے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُوْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۔}(سورۂ نسائ: ۱۵۹) (اور تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے اور وہ قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گے)۔ حنظلہ کا خیال ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس طرح کہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے، اب میں نہیں جانتا کہ یہ سارے الفاظ حدیث نبوی کے ہیں یا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے۔
Takhreej
(۱۳۰۱۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ مسلم مختصرا بذکر الاھلال للحج او العمرۃ : ۱۲۵۲(انظر: ۷۹۰۳)