قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ابن مریم علیہ السلام روحائ کے کشادہ راستے سے حج یا عمرے یا دونوں کا تلبیہ کہیں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۱۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۵۲(انظر: ۷۲۷۳)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ عیسی علیہ السلام حج و عمرہ کی ادائیگی بھی کریں گے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امیدہے کہ اگر میری عمرطویل ہوئی تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے میری ملاقات ہوجائے گی اور اگر میری موت جلدی آ گئی تو تم میں سے جس کی ان سے ملاقات ہو، وہ انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دے۔
Takhreej
(۱۳۰۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۷۹۷۰)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب مسیح بن مریم علیہ السلام ایک عادل اور منصف حکمران کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، وہ خنزیر کو قتل کر دیں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور دین ایک ہوجائے گا، تم انہیں رسول اللہ کا سلام پہنچا دینا، اگر یہ ہوا کہ میں ان سے گفتگو کروں تو وہ میری تصدیق کریں گے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم انہیںمیری طرف سے سلام پہنچا دینا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا، جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰR سے میری ملاقات ہوئی، جب انہوں نے قیامت کا ذکر کیا تو سب نے بات کو ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹایا، لیکن انہوں نے فرمایا: مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں ہے،پھر انھوں نے بات کو موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا، لیکن انہوں نے بھی فرمایا: مجھے اس کا علم نہیں ہے، اور انہوں نے اس معاملے کو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ڈال دیا، انہوں نے کہا: جہاں تک قیامت کے واقع ہونے کی بات ہے، تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، البتہ میرے ربّ نے مجھے بتایا تھا کہ قیامت سے پہلے دجال کا ظہور ہوگا، (جب میں عیسی کا نزول ہو گا تو) میرے پاس دو لاٹھیاں (یا تلواریں) ہوں گی، وہ جب مجھے دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا، جیسے تانبا پگھلتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دے گا، یہاں تک ہر پتھر اور درخت بول کر کہے گے: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ کافر چھپا ہوا ہے،آکر اسے قتل کر دو، اس طرح اللہ تعالیٰ انہیں نیست و نابود کر دے گا، اس کے بعد لوگ اپنے اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے، بعد ازاں یا جوج و ماجوج کا ظہور ہوگا اور وہ ہر بلندی کی طرف سے نکل آئیں گے اور آکر لوگوں کے شہروں پر چھا جائیں گے، وہ جس چیز پر بھی پہنچیں گے، اسے ختم کر دیں گے، وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے، اسے پی جائیں گے۔ پھر لوگ ان کی شکایت کرنے کے لیے میرے پاس آئیں گے، میں اللہ تعالیٰ سے ان پر بد دعا کروں گا، پس اللہ تعالیٰ ان کو ختم کر دے گا اور ان کے اجسام کی بو سے پوری روئے زمین بدبودار ہوجائے گی، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو ان کے اجسام کو بہا کر سمندر میں جا ڈال دے گی۔ امام احمد کہتے ہیں: یہاں حدیث کا بعض حصہ مجھے سمجھ نہ آ سکا، ابن ہارون نے یوں بیان کی: پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا، اس کے بعد وہ ہشیم کی روایت کی طرف لوٹ آئے او رکہا: (عیسیٰ علیہ السلام کہیں کے کہ) میرے رب نے مجھ سے جو کچھ کہا اس میں یہ بھی ہے کہ جب اس قسم کے حالات پیدا ہوجائیں گے تو قیامت کسی بھی وقت آسکتی ہے، بالکل اس طرح جیسے مدت پوری کر لینے والی حاملہ خاتون کی ہوتی ہے کہ اس کے گھر والوں کو کوئی علم نہیں ہوتا کہ دن یا رات کے کس وقت میں وہ اچانک بچہ پیدا کر دے گی۔
Takhreej
(۱۳۰۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، مؤثر بن عفازۃ لم یوثقہ غیر ابن حبان والعجلی، فھو فی عداد المجاھیل، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۸۱(انظر: ۳۵۵۶)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج روزانہ دیوار کو کھودتے ہیں، جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا امیر کہتا ہے: واپس چلو، کل تم اسے کھود لو گے، لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں، تو وہ دیوارپہلے سے بھی زیادہ سخت ہوچکی ہوتی ہے، (ہر روز یہی کچھ ہوتا ہے) حتی تک جب ان کا مقررہ وقت پورا ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کر لے گا کہ وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں، تو اسی طرح کھودنا شروع کریں گے، جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوگا تو اس بار ان کا امیر ان سے کہے گا: واپس چلو، اگر اللہ نے چاہا تو باقی کل کھود لیں گے، اس دفعہ وہ ان شاء اللہ کہے گا، دوسرے دن جب وہ وہاں آئیں گے تو اسے اسی حالت میں پائیں گے، جس میں چھوڑ کر گئے ہیں، چنانچہ وہ اسے کھود لیں گے اور لوگوں کی طرف نکل جائیں گے، وہ سارے پانیوں کو چوس جائیں گے اور لوگ ان سے ڈر کر اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوجائیں گے،(زمین پر قبضہ جما لینے کے بعد) یاجوج ماجوج آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے، وہ تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں گے، یہ دیکھ کروہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر بھی اور آسمان والوں پر بھی غالب آگئے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، جس کی وجہ سے وہ مر جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کے گوشت اور خون کھا کھا کر زمین کے جانور خوب موٹے تازے ہوجائیںگے۔
Takhreej
(۱۳۰۲۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۳۱۵۳،و ابن ماجہ: ۴۰۸۰(انظر: ۱۰۶۳۲)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث ذو القرنین اور یاجوج و ماجوج کے قصے میں اس آیت کے ضمن میں ذکر کی ہے: {فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ یَّظْہَرُوْہُ وَ مَااسْتَطَاعُوْالَہٗ نَقْبًا} (سورۂ کہف: ۹۷)… پس نہ تو ان (یاجوج ماجوج) میں اس دیوار پر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے۔
پھر انھوں نے یہ قصہ ذکر کرنے کے بعد کہا: اس حدیث کی سند تو جیّد ہے، لیکن اس کے متن کو مرفوع بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا کہ وہ دیوار اتنی مضبوط اور سخت ہے کہ نہ وہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں۔
میں (البانی) کہتا ہوں: یہ آیت کسی طرح بھی اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی کہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ آیت ِ مبارکہ میں ماضی کی خبر دی گئی ہے اور حدیث میں مسقبل کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث درج ذیل آیت کا مکمل مفہوم ادا کر رہی ہے: {حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔} (سورۂ انبیا: ۹۶)… یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
میں نے اس تحریر کے بعد امام ابن کثیر کی (البدایۃ والنھایۃ: ۲/۱۲۲) میں اس قصے کا مراجعہ کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اِسی قسم کا جواب دیا، ہاں اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے امور بھی ذکر کیے۔ (صحیحہ: ۱۷۳۵)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے۔ وضاحت کرنے کے لیے حدیث کے راوی وہیب نے نوے (۹۰) کی گرہ لگائی۔
فوائد:… عربوں کے ہاں نوے (۹۰) کی گرہ یہ ہے: انگشتِ شہادت کا سرا انگوٹھے کی جڑ پر رکھیں پھر انگوٹھے کو انگلی کے ساتھ ملا دیں ( کہ اندر گول دائرے کا سوراخ بن جائے)۔اگر دوسری روایات کو دیکھا جائے تو اس سوراخ سے مراد ان کے فتنے کا قریب ہونا ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالآخر یاجوج ماجوج کے لیے دیوار کھول دی جائے گی اور وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} (سورۂ انبیائ: ۹۶) (وہ ہر بلندی سے تیزی سے دوڑتے آئیں گے)، وہ زمین پر چھا جائیں گے، مسلمان ان کے شر اور فتنوں سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور قلعوں میں بند ہوجائیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے، یاجوج ماجوج زمین سے اس قدر پانی پئیں گے کہ جب ان میں سے بعض افراد پانی کی نہرکے پاس سے گزریں گے، تو اس طرح پانی پی جائیں گے کہ نہر خشک ہو جائے گی، ان کے بعد گزرنے والے اس نہر کے بارے میں یہ کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی ہوتا تھا،جب ہر آدمی اپنے قلعے یا شہر میں بند ہو جائے گا (اور زمین پر ان کا مکمل قبضہ ہو جائے گا تو) وہ یاجوج ماجوج میں سے ایک فرد کہے گا: ہم اہل زمین سے تو فارغ ہوگئے ہیں، البتہ آسمان والے باقی ہیں، پھر ان میں سے ایک اپنے نیزے کو حرکت دے کر آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ نیزہ ان کے امتحان و آزمائش کے لیے خون آلود ہو کر واپس گرے گا۔ ( یہ دیکھ کر وہ کہیں گے کہ ہم آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے ہیں)۔ وہ اسی قسم کی کیفیات میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کردے گا، جیسے ٹڈی دل کا لاروا ان کی گردنوں میں ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ سارے اس طرح مر جائیں گے کہ ان کی حرکت تک بھی سنائی نہیں دے گی، مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا کوئی ایسا فرد ہے جو اپنے آپ کو قربان کرے اور یہ خبر لائے کہ یاجوج ماجوج کا کیا بنا ہے، ایک مسلمان دشمن کے حالات کو دیکھنے کے لیے اس خیال سے جائے گا کہ وہ وہاں قتل ہوجائے گا، لیکن جب وہ ان کے درمیان پہنچے گا تو دیکھے گا کہ وہ تو سب ایک دوسرے کے اوپر گرے مرے پڑے ہیں، وہ مسلمانوں کو آواز دے گا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کا صفایا کر دیا ہے، پھر مسلمان اپنے شہروں ور قلعوں سے باہر نکل آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیں گے، ان مویشیوں کی خوراک یاجوج ماجوج کا گوشت ہوگا، وہ اس سے پہلے کبھی گھاس کھا کھا کر اس قدر سیر نہیں ہوئے ہوں گے، جس قدر ان کا گوشت کھا کر سیر ہوں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۲۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۷۹ (انظر: ۱۱۷۳۱)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کے ظہور کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ کیا جائے گا۔
ابن حرملہ اپنی خالہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا، جبکہ بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی پر پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں فرمایا: تم کہتے ہو کہ اب تمہارا کوئی دشمن باقی نہیں رہا، یاد رکھو تم اپنے دشمنوں سے لڑتے رہو گے حتی کہ یا جوج ما جوج آ جائیں گے، ان کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی ہوں گے اور سر کے بالوں میں بھورا پن ہو گا، وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن حرملۃ، قال الحافظ فی التقریب : مقبول، یعنی عند المتابعۃ والا فلین الحدیث، وھو ھنا لم یتابع (انظر: ۲۲۳۳۱)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوجائے اور جب یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا وقت ہوگا کہ کسی ایسے شخص کو اس کا ایما ن لانا فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۰۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۶۳۵، ومسلم بعد حدیث: ۱۵۷(انظر: ۷۱۶۱)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَا خَیْرًا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸)
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
اس نشانی کے ظہور کے وقت جس کے ایمان یا کفر اور نیکی یا برائی کی جو کیفیت ہو گی، وہی معتبر ہو گی، اگرچہ نشانی کو دیکھنے کے بعد سارے لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایمان ان کو نفع نہیں دے گا، نیز اس علامت کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں ہو گی۔
سیدناابن سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو سکتی۔ اور سیدنامعاویہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت کی دو قسمیں ہیں، ایک یہ کہ تم برائیوں کو ترک کر دو۔ اور دوسری یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرو، جب تک اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ قبول ہوتی رہے گی، تب تک ہجرت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا اور تو یہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہو جاتا اور جب سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوجائے گا، تب ہر دل میں (کفر یا ایمان اور عمل کی صورت میں) جو کچھ ہو گا، اس پر مہر لگا دی جائے گی اور اس وقت لوگوں کو عمل سے بے نیاز کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۳۰) تخریج: اسنادہ حسن، حدیث ابن السعدی: أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۴۶، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۵/ ۲۷۔ والبیھقی: ۹/ ۱۷۔ وابن حبان: ۴۸۶۶۔ حدیث معاویۃ: أخرجہ ابوداود: ۲۴۷۹۔ حدیث عبد الرحمن بن عوف أخرجہ البزار: ۱۰۵۴(انظر: ۱۶۷۱)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا۔
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گدھے پر سوار تھا، اور اس گدھے پر ایک کمبل چادر تھی (جو جانور کے پالان کے نیچے رکھی جاتی ہے) یہ غروب آفتاب کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دلدل والے ایک چشمہ میں غروب ہوتا ہے، پھر یہ چلتے چلتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہوتا ہے، جب اس کے طلوع کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے طلوع ہونے کی اجازت دیتا ہے اور یہ جا کر طلوع ہوجاتا ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ یہ مغرب ہی کی طرف سے طلوع ہو تو اللہ تعالیٰ اسے روک لے گا، سورج کہے گا: اے رب! میرا سفر بہت طویل ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جو جہاں غروب ہوا ہے، وہیں سے طلوع ہو جا، یہ ایسا وقت ہوگا کہ اس وقت ایمان لانا کسی کے لیے مفید نہیں ہوگا۔
فوائد:… سورج کا دلدل والے چشمے میں غروب ہونا، اللہ تعالیٰ نے ذو القرنین کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
{اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَہَا قَوْمًا قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْہِمْ حُسْنًا} … یہاں تک کہ جب وہ سورج غروب ہونے کے مقام پر پہنچا تو اسے پایا کہ وہ دلدل والے چشمے میں غروب ہو رہا ہے اور اس کے پاس ایک قوم کو پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین! یا تو یہ ہے کہ تو (انھیں) سزا دے اور یا یہ کہ تو ان کے بارے میں کوئی اچھا سلوک کرے۔ (سورۂ کہف: ۸۶)
ذوالقرنین ایک راہ پر چلا اور زمین کے نشانات کے سہارے زمین کی مغربی جانب کوچ کیا، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے، یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے، ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے،ذوالقرنین پہنچ گئے ۔
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے، جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے ۔
حَمِئَۃ یا تو مشتق ہے حَمَاۃ سے یعنی چکنی مٹی ۔ایک قرأت میں فِیْ عَیْنٍ حَامِیَۃٍ ہے، یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیںاوران کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں، کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی گرم ہو گا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو گا۔
سیدنا معاویہ علیہ السلام نے کعب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے ؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہئے ، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔
سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَالْأَنْعَامُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} … کیا تو دیکھتا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، مویشی اور بہت زیادہ لوگ۔ (سورۂ حج: ۱۸)
ابو العالیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج غروب ہونے والے اپنے مقام سے طلوع ہوگا اورچاشت کے وقت ایک جانور ظاہر ہوگا، ان میں سے جو علامت بھی پہلے ظاہر ہو گئی تو دوسری اس کے بعد جلد نمایاں ہوجائے گی۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا پہلے ہو گا، یہی پہلی علامت ہو گی۔
ابوذرعہ بن عمرو کہتے ہیں: مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مروان کو سنا وہ علاماتِ قیامت بیان کر رہا تھا، اس نے کہا کہ قیامت کی پہلی علامت دجال کا خروج ہے۔ پھر یہ لوگ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور مروان سے سنی ہوئی علامات ِ قیامت کا ذکر ان سے کیا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مروان نے کوئی علمی بات نہیں کہی، ا س بارے میں مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث یاد ہے، جو مجھے ابھی تک بھولی نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی علامتیں جو ظاہر ہوں گی، وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت چوپائے کا نکلنا ہے، ان میں سے جو علامت پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے بعد جلد ہی ظاہر ہوجائے گی۔ چونکہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ آسمانی کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ سب سے پہلی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہی ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتاہے، پھر واپس جانے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے واپس جانے کی اجازت مل جاتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو، تو یہ معمول کے مطابق سارے امور سرانجام دے گا، عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہونے کے بعد حسب سابق واپس جانے کی اجازت طلب کرے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے کوئی جواب نہیں دے گا، یہ دوبارہ اجازت مانگے گا، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، وہ تیسری مرتبہ اجازت مانگے گا ، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر جائے گا اور سورج کو یقین ہوجائے گا کہ اب اگر اسے واپسی کی اجازت مل بھی جائے تو وہ اپنے مقرر وقت پر مشرق تک نہیںپہنچ سکے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب ! مشرق کس قدر بعید ہے! اب میرا اور لوگوں کا معاملہ، اس کا کیا بنے گا؟ یہاں تک کہ افق جب ایک گول حلقہ کی طرح ہوجائے گا تو وہ پھر ایک دفعہ واپسی کی اجازت طلب کرے گا، اب کی بار اسے کہا جائے گا: آج تم یہیں سے طلوع ہوجاؤ، چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔} (سورۂ انعام: ۱۵۸) (جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔)
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغرب کی سمت میں توبہ کے لیے ستر سال کی مسافت پر مشتمل ایک بڑا دروازہ کھلا ہوا ہے، وہ دروازہ سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے تک بند نہیں کیا جائے گا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مغرب کی جہت میں توبہ کے لیے ایک دروازہ بنایا ہے، اس کی مسافت ستر سال ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہوجاتا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} (جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی، تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا۔) (الانعام: ۱۵۸)۔
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان پیدا کیے تھے، اسی دن توبہ کے لیے یہ دروازہ کھولا تھا، اب وہ اس کو اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس کی طرف سے یعنی مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک چوپایہ ظاہر ہوگا، اس کے پاس موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی مہر ہوگی، وہ کافر کے چہرے یا ناک پر اس مہر سے نشان لگائے گا، او راس عصا کے ساتھ اہل ایمان کے چہروں کو چمکا دے گا، یہاں تک کہ ایک دسترخوان پر جمع ہو کر لوگ بیٹھے ہوں اور وہ (اس علامت کی وجہ سے شناخت کر کے) کہیں گے: اے مومن، اے کافر! (اس علامت کو دیکھ کر) ایک دوسرے کو کہیں گے کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۳۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ الترمذی: ۳۱۸۷، وابن ماجہ (انظر: ۷۹۳۷)