قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک چوپایہ نکلے گا‘ وہ لوگوں کی ناک پر ایک علامت لگائے گا اور وہ تم میں لمبی عمریں پائیں گے‘ حتی کہ ایک آدمی اونٹ خریدے گا، جب کوئی اس سے پوچھے گا کہ تو نے یہ اونٹ کس سے خریدا ہے، تو وہ جواب دے گا: میں نے یہ نشان زدہ لوگوں میں سے ایک آدمی سے خریدا تھا۔
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے ساتھ لیے مکہ کے قریب ایک دیہاتی جگہ تشریف لے گئے، وہاں ایک خشک زمین تھی، اس کے ارد گرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس مقام سے چوپایہ ظہور پذیر ہوگا۔ وہاں ایک بالشت کے برابر دراڑسی تھی۔
Takhreej
(۱۳۰۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا من اجل خالد بن عبید ابی عصام العتکی، فھو متروک الحدیث، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۶۷ (انظر: ۲۳۰۲۳)
Explanation
فوائد:… دابّۃ (زمین کا چوپایہ)، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا عَلَیْہِمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ} (سورۂ نمل: ۸۲): جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایک ہوا چلے گی، اس میں ہر اہل ایمان کی روح قبض کر لی جائے گی۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث ذکر کی، اس کے شروع مین دجال کے ظہور کا اور اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے، بیچ میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارضِ شام کی طرف سے ایک خوشگوار قسم کی ہوا چلائے گا، جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن کسی پہاڑ کے بیچ میں ہوا تو وہ وہاں بھی جا پہنچے گی۔ سیدناعبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے، ……۔
سیدنا مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک لوگ یکے بعد دیگرے فوت ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ بچی ہوئی خراب اور ردی کھجور یا جو کی طرح گھٹیا قسم کے لوگ رہ جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کوئی پروا ہ نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۱۵۶ (انظر: ۱۷۷۲۹)
Explanation
فوائد:… جب اس ہوا کی وجہ سے سارے مؤمن فوت ہو جائیں گے تو صرف برے لوگ رہ جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک (خلیفہ) کی حجراسود اور مقام ِ ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور اسی بیت اللہ والے یعنی اسی امت کے لوگ اس گھر کو حلال سمجھیں گے (اور اس پر چڑھائیاں کریں گے) اور جب ایسے ہو گا تو اس وقت کے عربوں کی تباہی کے بارے میںکچھ نہ پوچھا جائے، پھر حبشی لوگ آکر بیت اللہ تعالیٰ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، اس کے بعد یہ گھر کبھی بھی آباد نہیں ہو گا، وہ لوگ اس کے خزانوں کو نکالیں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۴۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۶۸۲۷، والحاکم: ۴/ ۴۵۲ ، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۵۲(انظر: ۷۹۱۰)
Explanation
فوائد:… اسی امت کے لوگ بیت اللہ کو حلال سمجھیں گے
یعنی اہل اسلام خود بیت اللہ کو نقصان پہنچائیں گے اور اس کی حرمتوں کو پامال کریں گے۔ ایسے ہی ہوا ، اپنوں کے ہاتھوں حرم کی بے حرمتی ہوتی رہی، تفصیل آ رہی ہے۔
حافظ ابن حجر کہتے ہیں: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ احادیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے: {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا} ، کیونکہ اس آیت کے مطابق تو حرم کو امن والا قرار دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت اصحاب الفیل کو اس سے روک لیا تھا، جب یہ مسلمانوں کا قبلہ ہی نہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب حبشی اس پر کیسے مسلط آئیں گے، جبکہ یہ مسلمانوں کا قبلہ بھی بن چکا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حبشی کا یہ واقعہ آخری زمانہ میں قیامت کے قریب پیش آئے گا، اس وقت اللہ اللہ کہنے والا کوئی ایک شخص بھی اس زمین میں نہیں ہو گا، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک اللہ اللہ کہا جانا بند نہ ہو جائے۔ اسی لیے سعید بن سمعان کی روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد بیت اللہ کبھی بھی آباد نہیں ہو گا۔
لیکن یہ بات ضرور ہے کہ بیت اللہ میں قتال تو کیا گیا، پھر شامیوں نے یزید بن معاویہ کے زمانے میں اس پر چڑھائی کی، اس کے بعد بھی کئی حملے کیے گئے، جن میں سب سے بڑا حملہ قرامطہ کا تھا، جو چوتھی صدی ہجری میں پیش آیا، انھوں نے بے شمار مسلمان کو مَطاف میں قتل کیا اور حجراسود کو اکھاڑ کر اپنے علاقے میں لے گئے، پھر طویل مدت کے بعد واپس کیا تھا، اس کے بعد کئی لڑائیاں ہوئیں۔ لیکن اس سب کچھ کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا} سے کوئی تناقض اور تضاد نہیں، کیونکہ یہ سارا مسلمانوں نے خود کیا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور بیت اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے والے اہل بیت اللہ ہی ہوں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پیشین گوئی پیش کی، معاملہ اسی طرح ہوا، اور دوسری بات یہ ہے کہ آیت سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ امن کا وجود استمراراً قائم رہے گا۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۳/ ۵۸۹) یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کے مصداق کو اغلب اوقات پر محمول کیا جائے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں باریک پنڈلیوں والا ایک آدمی کعبہ پر چڑھے گا اور اس کو گرا دے گا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حبشہ کا باریک پنڈلیوں والا ایک حکمران کعبہ کو منہدم کر کے اس کے خزانوں کو لوٹے گا اور اس کا غلاف اتار لے گا، میں گویا کہ اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں، اس کا سر گنجا اور پنڈلیاں مڑی ہوئی ہیں اور اس گھر پر اپنا کدال اور گینتی چلا رہا ہے۔
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی کو سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حبشی لوگوں کا اس وقت تک نہ چھیڑوں، جب تک وہ تمہیں چھوڑیں رکھیں، کیونکہ کعبہ کے خزانوں کو نکالنے والا چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی ہو گا۔
فوائد:… حبشیوں کے بارے میں یہ رخصت دینے کا پس منظر یہ تھا کہ حبشی علاقہ مسلمانوں کے علاقوں سے بہت دور تھا، اس تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ محنت و مشقت درکار تھی، اسی قسم کا معاملہ ترکوں کا ہے، کہ ان کا علاقہ بہت ٹھنڈا تھا، جبکہ اس وقت عرب لوگوں کا خطہ گرم تھا اور ترک لوگ لڑنے میں بھی بڑے سخت تھے۔ ان امور کو دیکھ کر مشروط خاموشی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی۔ لیکن اگر ایسے ہو کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں گھس آئیں تو ان سے ہر ایک کا لڑنا ضروری ہو جائے گا۔
کعبہ کے خزانے سے مراد اس میں دفن شدہ مال ہے، حبشیوں کے مذکورہ شرّ کی وجہ سے ان سے جنگ نہ چھیڑنے کی تلقین کی گئی۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گویا کالے رنگ کے اس آدمی کی طرف دیکھ رہا ہوں، جس کے پیروں کے اگلے حصے قریب اور ایڑھیاں دور ہیں، وہ کعبہ کے پتھروں کو ایک ایک کر کے گرا رہا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۹۵ (انظر: ۲۰۱۰)
Explanation
فوائد:… حبشی لوگوں کی پنڈلیاں بالعموم باریک ہوتی ہیں، لیکن اس شخص کی پنڈلیاں اتنی زیادہ باریک ہوں گی کہ وہ دوسرے حبشیوں سے بھی ممتاز نظر آئے گا۔
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ ذو السویقتین حبشی کا زمانہ عیسی علیہ السلام کے بعد اور قیامت کے قریب ہو گا، کیونکہ دجال کے زمانے میں حرمین شریفین آباد ہوں گے، صحیح بخاری (۱۵۹۳) کی روایت کے مطابق یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔
سیدنا صحار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کئی قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا ، (جب ایک قبیلہ کو دھنسایا جائے گا تو) پوچھا جائے گا کہ بنو فلاں میں سے کون کون بچا ہے؟ سیدنا صحار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبائل کا ذکر کیا تو میں پہچان گیا کہ یہ عرب لوگ ہوں گے، کیونکہ عجمی لوگوں کو تو بستیوں کاطرف منسوب کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن صُحار مجھول أخرجہ ابویعلی: ۶۸۳۴، والبزار: ۳۴۰۳، والطبرانی فی الکبیر : ۷۴۰۴ (انظر: ۱۵۹۵۶)
قعقاع بن ابی حدرد کی اہلیہ سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: تم جب سنو کہ تمہارے قریب کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے، تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق، وان صرح بسماعہ من محمد بن ابراہیم التیمی عند الحمیدی، الا انہ تفرد بہ، وفی بعض ما تفرد بہ نکارۃ، ثم انہ اختلف علیہ فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۲۲۵، والحمیدی: ۳۵۱(انظر: ۲۶۱۲۹)
۔ (دوسری سند) سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں عورتوں والے حصے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: لوگو ! تم جب سنو کہ یہاں قریب ہی کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہ دس علامتیں نہیں دیکھ لو گے:مشرق مے دھنسنا، مغرب میں دھنسنا، جریرۂ عرب میں دھنسنا، دھواں، دجال ، چوپایہ، آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، یا جوج و ماجوج اور عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ، جو لوگوں کو اپنے آگے آگے ہانک کر لے جائے گی، ……۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب بے ہوشیاں بہت زیادہ ہوں گی، یہاں تک کہ ایک آدمی لوگوں کے پاس آکر پوچھے گا: آج صبح تم میں سے کون کون بے ہوش ہوا ہے؟ وہ بتائیں گے کہ فلاں فلاں بیہوش ہوئے ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی، جو لوگوں کو جمع کرے گی۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت شام کے علاقے میں سکونت اختیار کرنا۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضر موت کے علاقے سے ایک آگ نکلے گی، وہ لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس وقت کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔
Takhreej
(۱۳۰۵۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابویعلی: ۵۵۵۱، وابن حبان: ۷۳۰۵ (انظر: ۴۵۳۶)
Explanation
فوائد:… یمن کی اُس طرف والی انتہائی حدود میں حضرموت واقع ہے۔
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوئے اور کہا: اے بنو غفار! تم درست بات کیا کرو اور آپس میں اختلاف نہ کیا کرو، بے شک صادق و مصدوق یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بیان کیا تھا کہ: لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے لایا جائے گا، ایک حصہ ان لوگوں کاہو گا، جو سوار ہوں گے، اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوں گے اور لباس بھی پہنا ہوا ہو گا، ایک حصہ وہ لوگ ہوں گے، جو چلتے اور دوڑتے ہوئے آئیں گے اور تیسری قسم کے وہ لوگ ہوں گے۔ جنہیں فرشتے چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ کسی پوچھنے والے نے پوچھا: ہم ان پہلی اور تیسری قسم کے لوگوں کو تو جانتے ہیں، یہ چلنے والے اور دوڑنے والوں کیسے اور کیوں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفتیں نازل کرے گا، یہاں سواریاں بہت کم رہ جائیں گے، ایک آدمی کے پاس ایک شاندار باغ ہوگا، وہ ایک پالان والی اونٹنی حاصل کرنے کے لیے وہ سارا باغ دینے کو تیار ہوگا، مگروہ ایسی اونٹنی نہیں پا سکے گا۔
سیدنا بشر یا بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک آگ حبسِ سیل سے نکلے گی، وہ سست رفتار اونٹ کی طرح چلے گی، وہ دن کو چلے گی اور رات کو ٹھہر جائے گی، وہ صبح و شام کرے گی، کہاجائے گا: لوگو! آگ صبح کو چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو۔ لوگو! اب آگ قیلولہ کرنے لگی ہے، تم بھی سستا لو، اب آگ چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو، جس آدمی کو وہ آگ پا لے گی، اسے جلا دے گی۔
Takhreej
(۱۳۰۵۷) تخریج: رجالہ رجال الصحیح غیر رافع، وھو ثقۃ، قالہ الھیثمی فی المجمع : ۸/ ۱۲، أخرجہ ابویعلی: ۹۳۴، وابن حبان: ۶۸۴۰، والحاکم: ۴/ ۴۴۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۲۲۹ (انظر: ۱۵۶۵۸)
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بالاخانے سے ہماری طرف جھانکا اور پھر فرمایا: تم جب تک یہ دس نشانیاں نہیں دیکھ لیتے، قیامت قائم نہیں ہوگی: آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، دھواں، چوپایہ، یاجوج ماجوج کا خروج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، دجال، ان تین مقامات میں دھنسنے کے واقعات: مغرب میں دھنسنا، مشرق میں دھنسنا اور جزیرۂ عرب میں دھنسنا اور عدن کے انتہائی مقام سے ایک آگ کا نکلنا، جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہ آگ بھی وہاں رات گزارے گی اور جہاں وہ قیلولہ کریں گے وہ بھی وہاں قیلولہ کر ے گی۔
Takhreej
(۱۳۰۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۱ (انظر: ۱۶۱۴۴)
Explanation
فوائد:… عدن یمن کا مشہور شہر ہے، قاموس میں ہے کہ عدن یمن میں ایک جزیرے کا نام ہے۔ یہ آگ اس اعتبار سے قیامت کی پہلی علامت ہے کہ اس کے بعد دنیوی امور کا وجود ختم ہو جائے گا اور اس لحاظ سے آخری نشانی ہے کہ قیامت کی جتنی نشانیاں بیان کی گئیں ہیں، ان میں سب سے آخری یہ آگ ہو گی، اس کے بعد صور پھونک دیا جائے گا۔
حافظ ابن حجر کی بحث کا خلاصہ: کل چار حشر ہوں گے، دو دنیا میں اور دو آخرت میں۔
۱۔ پہلا حشر، جس کاذکر سورۂ حشر میں ہے: {ہُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } (سورۂ حشر: ۲) … وہی (اللہ) ہے، جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے، پہلے حشر کے وقت نکالا۔
اس سے مراد یہودی قبیلے بنو نضیر کی جلاو طنی ہے، جو مدینہ منورہ سے نکل کر خیبر میں جاکر مقیم ہو گئے۔ بہرحال یہ حشر کی کوئی مستقل قسم نہیں ہے۔
۲۔ دوسرے حشر کا ذکر ان احادیث میں کیا گیا ہے، جو قیامت کی علامت ہے، اس آگ کی جائے خروج کے بارے میں مختلف روایات ہیں، مثلاً مشرق سے، حجاز سے، حضرموت سے، عدن سے، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس آگ کی ابتدا عدن کے انتہائی علاقے سے ہو گی، پھر یہ زمین میں پھیل جائے گی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دو تین مقامات سے آگ کی ابتداء ہو جائے، جیسا کہ قاضی عیاض نے کہا۔
۳۔ مردوں کو ان کی قبروں سے اٹھا کر موقف کی طرف لے کر جانا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَحَشَرْنَاھُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اَحَدًا}
۴۔ حساب و کتاب کے بعد لوگوں کو جنت و جہنم کی طرف لے کر جانا۔
درج بالا بحث کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَتَکُوْنُ ھِجْرَۃٌ بَعْدَ ھِجْرَۃٍ فَخِیَارُ اَھْلِ الْاَرْضِ اَلْزَمُھُمْ مُھَاجَرَ اِبْرَاہِیْمَ، وَیَبْقٰی فِیْ الْاَرْضِ شِرَارُ اَھْلِھَا تَلْفِظُھُمْ اَرْضُوْھُمْ، تَقْذَرُھُمْ نَفْسُ اللّٰہِ،وَتَحْشُرُھُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ۔)) … ہجرت کے بعد ہجرت ہوتی رہے گی، زمین کے باسیوں میں سب سے بہتر لوگ وہ ہوں گے، جو ابراہیم علیہ السلام کے دارِ ہجرت (شام) کو سب سے زیادہ لازم پکڑنے والے ہوں گے اور (قربِ قیامت کے وقت) برے لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمینیں انہیں نکال باہر پھینکیں گی، اللہ عزوجل بھی انہیں برا جانے گا اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرے گی۔ (ابوداود: ۲۴۸۲) آخری جملے کا معنی یہ ہے کہ آگ ان کو جمع کرے گی اور ان کو ہانکے گی، یہ لوگ آگ سے ڈر کر جانوروں کے ساتھ بھاگیں گے۔
شام کا علاقہ اس وقت آگ کے پہنچنے سے سالم ہو گا اور رحمت والے فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔