TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

280 Hadith · 43 Chapters
چوپائے کا ظہور
۔ (۱۳۰۳۹)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا حَجِیْنُ بْنُ الْمُثَنّٰی ثَنَا عَبْدُالْعَزِیْزِیَعْنِیْ ابْنَ اَبِیْ مَسْلَمَۃَ الْمَاجِشُوْنَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَطِیَّۃَ بْنِ دِلَافٍ الْمُزَنِیِّ لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا حَدَّثَہُ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَرْفَعُہُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَخْرُجُ الدَّابَّۃُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلٰی خَرَاطِیْمِہِمْ ثُمَّ یَعْمُرُوْنَ فِیْکُمْ حَتّٰییَشْتَرِیَ الرَّجُلُ الْبَعِیْرَ فَیَقُوْلُ: مِمَّنِ اشْتَرَیْتَہُ؟ فَیَقُوْلُ: مِنْ اَحَدِ الْمُخَطَّمِیْنَ۔))وَقَالَ یُوْنُسُ،یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ،: ثُمَّ یَعْمُرُوْنَ فِیْکُمْ وَلَمْ یَشُکَّ قَالَ فَرَفَعَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۶۴)
سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک چوپایہ نکلے گا‘ وہ لوگوں کی ناک پر ایک علامت لگائے گا اور وہ تم میں لمبی عمریں پائیں گے‘ حتی کہ ایک آدمی اونٹ خریدے گا، جب کوئی اس سے پوچھے گا کہ تو نے یہ اونٹ کس سے خریدا ہے، تو وہ جواب دے گا: میں نے یہ نشان زدہ لوگوں میں سے ایک آدمی سے خریدا تھا۔
Takhreej
(۱۳۰۳۹) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۶/ ۱۷۲ (انظر: ۲۲۳۰۸)
13039
Sahih
چوپائے کا ظہور
۔ (۱۳۰۴۰)۔ وَعَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ذَھَبَ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی مَوْضِعٍ بِالْبَادِیَۃِ قَرِیْبًا مِّنْ مَکَّۃَ فَاِذَا اَرْضٌ یَابِسَۃٌ حَوْلَھَا رَمْلٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَخْرُجُ الدَّابَّۃُ مِنْ ہٰذَا الْمَوْضِعِ۔)) فَاِذَا فِتْرٌ فِیْ شِبْرٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۱۱)
سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے اپنے ساتھ لیے مکہ کے قریب ایک دیہاتی جگہ تشریف لے گئے، وہاں ایک خشک زمین تھی، اس کے ارد گرد ریت تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس مقام سے چوپایہ ظہور پذیر ہوگا۔ وہاں ایک بالشت کے برابر دراڑسی تھی۔
Takhreej
(۱۳۰۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا من اجل خالد بن عبید ابی عصام العتکی، فھو متروک الحدیث، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۶۷ (انظر: ۲۳۰۲۳)
Explanation
فوائد:… دابّۃ (زمین کا چوپایہ)، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا عَلَیْہِمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ} (سورۂ نمل: ۸۲): جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔
13040
Zaeef
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
۔ (۱۳۰۴۱)۔ عَنْ عَیَّاشِ بْنِ اَبِیْ رَبِیْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَجِیْئُ رِیْحٌ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ تُقْبَضُ فِیْہَا اَرْوَاحُ کُلِّ مُوْمِنٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۴۲)
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایک ہوا چلے گی، اس میں ہر اہل ایمان کی روح قبض کر لی جائے گی۔
Takhreej
(۱۳۰۴۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ عبد الرزاق: ۲۰۸۰۲، والحاکم: ۴/ ۴۸۹(انظر: ۱۵۴۶۳)
13041
Sahih
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
۔ (۱۳۰۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ حَدِیْثٍ ذَکَرَ فِیْ اَوَّلِہِ الدَّجَّالَ ثُمَّ نُزُوْلَ نَبِیِّ اللّٰہِ عِیْسٰی علیہ السلام وَقَتْلَہُ الدَّجَّالَ قَالَ: ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ رِیْحًا بَارِدَۃً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا یَبْقٰی اَحَدٌ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ اِیْمَانٍ اِلَّا قَبَضَتْہُ، حَتّٰی لَوْ اَنَّ اَحَدَھُمْ کَانَ فِیْ کَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ۔)) قَالَ: سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَیَبْقٰی شِرَارُ النَّاسِ۔)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۵۵۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک حدیث ذکر کی، اس کے شروع مین دجال کے ظہور کا اور اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے، بیچ میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارضِ شام کی طرف سے ایک خوشگوار قسم کی ہوا چلائے گا، جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن کسی پہاڑ کے بیچ میں ہوا تو وہ وہاں بھی جا پہنچے گی۔ سیدناعبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے، ……۔
Takhreej
(۱۳۰۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۴۰(انظر: ۶۵۵۵)
13042
Sahih
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
۔ (۱۳۰۴۳)۔ وَعَنْ مِرْدَاسِ نِ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُقْبَضُ الصَّالِحُوْنَ اَلْاَوَّلُ فَالْاَوَّلُ حَتّٰییَبْقٰی کَحُثَالَۃِ التَّمْرِ اَوِ الشَّعِیْرِ لَایُبَالِی اللّٰہُ بِہِمْ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۸۱)
سیدنا مرداس اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیک لوگ یکے بعد دیگرے فوت ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ بچی ہوئی خراب اور ردی کھجور یا جو کی طرح گھٹیا قسم کے لوگ رہ جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کوئی پروا ہ نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۱۵۶ (انظر: ۱۷۷۲۹)
Explanation
فوائد:… جب اس ہوا کی وجہ سے سارے مؤمن فوت ہو جائیں گے تو صرف برے لوگ رہ جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔
13043
Sahih
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
۔ (۱۳۰۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُبَایَعُ لِرَجُلٍ مَا بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ وَلَنْ یَّسْتَحِلَّ الْبَیْتَ اِلَّا اَھْلُہُ، فَاِذَا اسْتَحَلُّوْہُ فَلَا یُسْاَلْ عَنْ ھَلَکَۃِالْعَرَبِ، ثُمَّ تَاْتِی الْحَبْشَۃُ فَیُخَرِّبُوْنَہُ خَرَابًا لَایَعْمُرُ بَعْدَہُ اَبَدًا وَھُمُ الَّذِیْنَیَسْتَخْرِجُوْنَ کَنْزَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک (خلیفہ) کی حجراسود اور مقام ِ ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور اسی بیت اللہ والے یعنی اسی امت کے لوگ اس گھر کو حلال سمجھیں گے (اور اس پر چڑھائیاں کریں گے) اور جب ایسے ہو گا تو اس وقت کے عربوں کی تباہی کے بارے میںکچھ نہ پوچھا جائے، پھر حبشی لوگ آکر بیت اللہ تعالیٰ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، اس کے بعد یہ گھر کبھی بھی آباد نہیں ہو گا، وہ لوگ اس کے خزانوں کو نکالیں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۴۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۶۸۲۷، والحاکم: ۴/ ۴۵۲ ، وابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۵۲(انظر: ۷۹۱۰)
Explanation
فوائد:… اسی امت کے لوگ بیت اللہ کو حلال سمجھیں گے یعنی اہل اسلام خود بیت اللہ کو نقصان پہنچائیں گے اور اس کی حرمتوں کو پامال کریں گے۔ ایسے ہی ہوا ، اپنوں کے ہاتھوں حرم کی بے حرمتی ہوتی رہی، تفصیل آ رہی ہے۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ احادیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے: {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا} ، کیونکہ اس آیت کے مطابق تو حرم کو امن والا قرار دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت اصحاب الفیل کو اس سے روک لیا تھا، جب یہ مسلمانوں کا قبلہ ہی نہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب حبشی اس پر کیسے مسلط آئیں گے، جبکہ یہ مسلمانوں کا قبلہ بھی بن چکا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حبشی کا یہ واقعہ آخری زمانہ میں قیامت کے قریب پیش آئے گا، اس وقت اللہ اللہ کہنے والا کوئی ایک شخص بھی اس زمین میں نہیں ہو گا، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک اللہ اللہ کہا جانا بند نہ ہو جائے۔ اسی لیے سعید بن سمعان کی روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد بیت اللہ کبھی بھی آباد نہیں ہو گا۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ بیت اللہ میں قتال تو کیا گیا، پھر شامیوں نے یزید بن معاویہ کے زمانے میں اس پر چڑھائی کی، اس کے بعد بھی کئی حملے کیے گئے، جن میں سب سے بڑا حملہ قرامطہ کا تھا، جو چوتھی صدی ہجری میں پیش آیا، انھوں نے بے شمار مسلمان کو مَطاف میں قتل کیا اور حجراسود کو اکھاڑ کر اپنے علاقے میں لے گئے، پھر طویل مدت کے بعد واپس کیا تھا، اس کے بعد کئی لڑائیاں ہوئیں۔ لیکن اس سب کچھ کا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمَا آمِنًا} سے کوئی تناقض اور تضاد نہیں، کیونکہ یہ سارا مسلمانوں نے خود کیا، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور بیت اللہ کی حرمتوں کو پامال کرنے والے اہل بیت اللہ ہی ہوں گے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو پیشین گوئی پیش کی، معاملہ اسی طرح ہوا، اور دوسری بات یہ ہے کہ آیت سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ امن کا وجود استمراراً قائم رہے گا۔ واللہ اعلم۔ (فتح الباری: ۳/ ۵۸۹) یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کے مصداق کو اغلب اوقات پر محمول کیا جائے۔
13044
Sahih
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
۔ (۱۳۰۴۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ یَظْہَرُ ذُوْالسُّوَیْقَتَیْنِ عَلٰی الْکَعْبَۃِ۔)) قَالَ: حَسِبْتُ اَنَّہُ قَالَ: ((فَیَہْدِمُہَا۔)) (مسند احمد: ۸۰۸۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں باریک پنڈلیوں والا ایک آدمی کعبہ پر چڑھے گا اور اس کو گرا دے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۴۵) تخریج:أخرجہ البخاری: ۱۵۹۱، ومسلم: ۲۹۰۹(انظر: ۸۰۹۴)
Explanation
فوائد:… آگے حدیث آرہی ہے کہ وہ حبشی آدمی کعبہ چڑھ کر اس کا ایک ایک پتھر گرائے گا۔ (عبداللہ رفیق)
13045
Sahih
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
۔ (۱۳۰۴۶)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُخَرِّبُ الْکَعْبَۃَ ذُو السُّوَیْقَتَیْنِ مِنَ الْحَبَشَۃِ وَیَسْلُبُہَا حِلْیَتَہَا وَیُجَرِّدُھَا مِنْ کِسْوَتِہَا وَلَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ اُصَیْلِعََ اُفَیْدِعَیَضْرِبُ عَلَیْہَا بِمِسْحَاتِہٖوَمِعْوَلِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۷۰۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حبشہ کا باریک پنڈلیوں والا ایک حکمران کعبہ کو منہدم کر کے اس کے خزانوں کو لوٹے گا اور اس کا غلاف اتار لے گا، میں گویا کہ اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں، اس کا سر گنجا اور پنڈلیاں مڑی ہوئی ہیں اور اس گھر پر اپنا کدال اور گینتی چلا رہا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۴۶) تخریج: بعضہ مرفوع صحیح، وبعضہ یروی مرفوعا وموقوفا، والموقوف اصح، أخرجہ بنحوہ ابوداود: ۴۳۰۹ (انظر: ۷۰۵۳)
13046
Sahih
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
۔ (۱۳۰۴۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اُتْرُکُوا الْحَبْشَۃَ مَا تَرَکُوْکُمْ، فَاِنَّہُ لَایَسْتَخْرِجُ کَنْزَ الْکَعْبَۃِ اِلَّا ذُو السُّوَیْقَتَیْنِ مِنَ الْحَبْشَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۴۲)
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی کو سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حبشی لوگوں کا اس وقت تک نہ چھیڑوں، جب تک وہ تمہیں چھوڑیں رکھیں، کیونکہ کعبہ کے خزانوں کو نکالنے والا چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی ہو گا۔
Takhreej
(۱۳۰۴۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۳۰۹ (انظر: ۲۳۱۵۵)
Explanation
فوائد:… حبشیوں کے بارے میں یہ رخصت دینے کا پس منظر یہ تھا کہ حبشی علاقہ مسلمانوں کے علاقوں سے بہت دور تھا، اس تک پہنچنے کے لیے بہت زیادہ محنت و مشقت درکار تھی، اسی قسم کا معاملہ ترکوں کا ہے، کہ ان کا علاقہ بہت ٹھنڈا تھا، جبکہ اس وقت عرب لوگوں کا خطہ گرم تھا اور ترک لوگ لڑنے میں بھی بڑے سخت تھے۔ ان امور کو دیکھ کر مشروط خاموشی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی۔ لیکن اگر ایسے ہو کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں گھس آئیں تو ان سے ہر ایک کا لڑنا ضروری ہو جائے گا۔ کعبہ کے خزانے سے مراد اس میں دفن شدہ مال ہے، حبشیوں کے مذکورہ شرّ کی وجہ سے ان سے جنگ نہ چھیڑنے کی تلقین کی گئی۔
13047
Sahih
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
۔ (۱۳۰۴۸)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ اَسْوَدَ اَفْحَجَ یَنْقُضُہَا حَجَرًا حَجَرًا۔)) یَعْنِی الْکَعْبَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں گویا کالے رنگ کے اس آدمی کی طرف دیکھ رہا ہوں، جس کے پیروں کے اگلے حصے قریب اور ایڑھیاں دور ہیں، وہ کعبہ کے پتھروں کو ایک ایک کر کے گرا رہا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۹۵ (انظر: ۲۰۱۰)
Explanation
فوائد:… حبشی لوگوں کی پنڈلیاں بالعموم باریک ہوتی ہیں، لیکن اس شخص کی پنڈلیاں اتنی زیادہ باریک ہوں گی کہ وہ دوسرے حبشیوں سے بھی ممتاز نظر آئے گا۔ معلوم ایسے ہوتا ہے کہ ذو السویقتین حبشی کا زمانہ عیسی علیہ السلام کے بعد اور قیامت کے قریب ہو گا، کیونکہ دجال کے زمانے میں حرمین شریفین آباد ہوں گے، صحیح بخاری (۱۵۹۳) کی روایت کے مطابق یاجوج ماجوج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج و عمرہ کیا جائے گا۔
13048
Sahih
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۴۹)۔ وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَحَّارِنِ الْعَبْدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَیُقَالُ مَنْ بَقِیَ مِنْ بَنِیْ فُلَانٍ۔)) قَالَ: فَعَرَفْتُ حِیْنَ قَالَ قَبَائِلَ اَنَّہَا الْعَرَبُ لِاَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ اِلٰی قُرَاھَا۔ (مسند احمد: ۱۶۰۵۲)
سیدنا صحار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کئی قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا ، (جب ایک قبیلہ کو دھنسایا جائے گا تو) پوچھا جائے گا کہ بنو فلاں میں سے کون کون بچا ہے؟ سیدنا صحار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبائل کا ذکر کیا تو میں پہچان گیا کہ یہ عرب لوگ ہوں گے، کیونکہ عجمی لوگوں کو تو بستیوں کاطرف منسوب کیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن صُحار مجھول أخرجہ ابویعلی: ۶۸۳۴، والبزار: ۳۴۰۳، والطبرانی فی الکبیر : ۷۴۰۴ (انظر: ۱۵۹۵۶)
13049
Zaeef
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۰)۔ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ بُقَیْرَۃَ امْرَاَۃَ الْقَعْقَاعِ بْنِ اَبِیْ حَدْرَدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((اِذَا سَمِعْتُمْ بِجَیْشٍ قَدْ خُسِف بِٖہٖ قَرِیْبًا فَقَدْ اَظَلَّتِ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷۰)
قعقاع بن ابی حدرد کی اہلیہ سیدہ بقیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: تم جب سنو کہ تمہارے قریب کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے، تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق، وان صرح بسماعہ من محمد بن ابراہیم التیمی عند الحمیدی، الا انہ تفرد بہ، وفی بعض ما تفرد بہ نکارۃ، ثم انہ اختلف علیہ فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۲۲۵، والحمیدی: ۳۵۱(انظر: ۲۶۱۲۹)
13050
Zaeef
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۱)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اِنِّیْ لَجَالِسَۃٌ فِیْ صُفَّۃِ النِّسَائِ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ وَھُوَ یُشِیْرُ بِیَدِہٖ الْیُسْرٰی فَقَالَ: ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اِذَا سَمِعْتُمْ یُخْسَفُ ہٰہُنَا قَرِیْبًا فَقَدْ اَظَلَّتِ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۷۱)
۔ (دوسری سند) سیدہ بقیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں عورتوں والے حصے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: لوگو ! تم جب سنو کہ یہاں قریب ہی کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھ لینا کہ قیامت تمہارے سروں پر آچکی ہے۔
Takhreej
(۱۳۰۵۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
13051
Zaeef
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۲)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدِ نِ الْغِفَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرْفُوْعًا: ((اِنَّ السَّاعَۃَ لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ عَشْرَ آیَاتٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِی جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَّۃُ وَطُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَیَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنٍ تُرْحِلُ النَّاسَ۔))اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۴۴)
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہ دس علامتیں نہیں دیکھ لو گے:مشرق مے دھنسنا، مغرب میں دھنسنا، جریرۂ عرب میں دھنسنا، دھواں، دجال ، چوپایہ، آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، یا جوج و ماجوج اور عدن کے انتہائی مقام سے نکلنے والی آگ، جو لوگوں کو اپنے آگے آگے ہانک کر لے جائے گی، ……۔
Takhreej
(۱۳۰۵۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۱، وابوداود!: ۴۳۱۱ (انظر: ۱۶۱۴۴)
13052
Sahih
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَکْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَۃِ حَتّٰییَاْتِی الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَیَقُوْلُ: مَنْ صَعِقَ مِنْکُمُ الْغَدَاۃَ، فَیَقُوْلُوْنَ: صَعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۴۳)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے قریب بے ہوشیاں بہت زیادہ ہوں گی، یہاں تک کہ ایک آدمی لوگوں کے پاس آکر پوچھے گا: آج صبح تم میں سے کون کون بے ہوش ہوا ہے؟ وہ بتائیں گے کہ فلاں فلاں بیہوش ہوئے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۰۵۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۴۴(انظر: ۱۱۶۲۰)
13053
Sahih
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَ مُوْتَ اَوْ مِنْ بَحْرِحَضْرَ مُوْتَ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ تَحْشُرُ النَّاسَ۔)) قَالَ: قُلْنَا: یَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَاذَا تَاْمُرُنَا؟ قَالَ: ((عَلَیْکُمْبِالشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی، جو لوگوں کو جمع کرے گی۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس وقت شام کے علاقے میں سکونت اختیار کرنا۔
Takhreej
(۱۳۰۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۲۲۱۷(انظر: ۵۳۷۶)
13054
Sahih
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمُوْتَ اَوْ بِحَضْرَ مُوْتَ فَتَسُوْقُ النَّاسَ۔)) قُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا تَاْمُرُنَا؟ قَالَ: ((عَلَیْکُمْ بِالشَّامِ۔)) (مسند احمد: ۴۵۳۶)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حضر موت کے علاقے سے ایک آگ نکلے گی، وہ لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس وقت کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔
Takhreej
(۱۳۰۵۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابویعلی: ۵۵۵۱، وابن حبان: ۷۳۰۵ (انظر: ۴۵۳۶)
Explanation
فوائد:… یمن کی اُس طرف والی انتہائی حدود میں حضرموت واقع ہے۔
13055
Sahih
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۶)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدٍ قَالَ: قَامَ اَبُوْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: یَابَنِیْ غِفَّارٍ! قُوْلُوْا وَلَاتَخْتَلِفُوْا فَاِنَّ الصَّادِقَ وَالْمَصْدُوْقَ حَدَّثَنِیْ: ((اَنَّ النَّاسَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی ثَلَاثَۃِ اَفْوَاجٍ، فَوْجٌ رَاکِبِیْنَ طَاعِمِیْنَ کَاسِیْنَ وَفَوْجٌ یَمْشُوْنَ وَیَسَعَوْنَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُہُمُ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ وَتَحْشُرُھُمْ اِلَی النَّارِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ: ہٰذَانِ قَدْ عَرَفْنَاھُمَا فَمَا بَالُ الَّذِیْنَیَمْشُوْنَ وَیَسَعَوْنَ قَالَ: یُلْقِی اللّٰہُ الْآفَۃَ عَلٰی الظَّہْرِ حَتّٰی لَایَبْقٰی ظَہْرٌ حَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ یَکُوْنُ لَہُ الْحَدِیْقَۃُ الْمُعْجِبَۃُ فَیُعْطِیْہَا بِالشَّارِفِ ذَاتِ الْقَتَبِ فَلَا یَقْدِرُعَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۸۸)
سیدنا حذیفہ بن اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کھڑے ہوئے اور کہا: اے بنو غفار! تم درست بات کیا کرو اور آپس میں اختلاف نہ کیا کرو، بے شک صادق و مصدوق یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بیان کیا تھا کہ: لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کر کے لایا جائے گا، ایک حصہ ان لوگوں کاہو گا، جو سوار ہوں گے، اللہ کی رحمت کے امیدوار ہوں گے اور لباس بھی پہنا ہوا ہو گا، ایک حصہ وہ لوگ ہوں گے، جو چلتے اور دوڑتے ہوئے آئیں گے اور تیسری قسم کے وہ لوگ ہوں گے۔ جنہیں فرشتے چہروں کے بل گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ کسی پوچھنے والے نے پوچھا: ہم ان پہلی اور تیسری قسم کے لوگوں کو تو جانتے ہیں، یہ چلنے والے اور دوڑنے والوں کیسے اور کیوں ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفتیں نازل کرے گا، یہاں سواریاں بہت کم رہ جائیں گے، ایک آدمی کے پاس ایک شاندار باغ ہوگا، وہ ایک پالان والی اونٹنی حاصل کرنے کے لیے وہ سارا باغ دینے کو تیار ہوگا، مگروہ ایسی اونٹنی نہیں پا سکے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۵۶) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ النسائی: ۴/ ۱۱۶(انظر: ۲۱۴۵۶)
13056
Sahih
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۷)۔ وَعَنْ رَافِعِ بْنِ بِشْرٍ اَوْ بِسْرِ نِ السُّلَمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُوْشِکُ اَنْ تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ حُبْسِ سَیْلٍ، تَسِیْرُ سَیْرَ بَطِیْئَۃِ الْاِبِلِ، تَسِیْرُ النَّہَارَ وَتُقِیْمُ اللَّیْلَ، تَغْدُوْ وَتَرُوْحُ،یُقَالُ: غَدَتِ النَّارُ اَیُّہَا النَّاسُ! فَاغْدُوْا، قَالَتِ النَّارُ اَیُّہَا النَّاسُ! فَاَقِیْلُوْا، رَاحَتِ النَّارُ اَیُّہَا النَّاسُ! فَرُوْحُوْا، مَنْ اَدْرَکَتْہُ اََکَلَتْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۴۳)
سیدنا بشر یا بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک آگ حبسِ سیل سے نکلے گی، وہ سست رفتار اونٹ کی طرح چلے گی، وہ دن کو چلے گی اور رات کو ٹھہر جائے گی، وہ صبح و شام کرے گی، کہاجائے گا: لوگو! آگ صبح کو چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو۔ لوگو! اب آگ قیلولہ کرنے لگی ہے، تم بھی سستا لو، اب آگ چل پڑی ہے، تم بھی چل پڑو، جس آدمی کو وہ آگ پا لے گی، اسے جلا دے گی۔
Takhreej
(۱۳۰۵۷) تخریج: رجالہ رجال الصحیح غیر رافع، وھو ثقۃ، قالہ الھیثمی فی المجمع : ۸/ ۱۲، أخرجہ ابویعلی: ۹۳۴، وابن حبان: ۶۸۴۰، والحاکم: ۴/ ۴۴۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۲۲۹ (انظر: ۱۵۶۵۸)
13057
Sahih
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
۔ (۱۳۰۵۸)۔ وَعَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ اُسَیْدِ نِ الْغِفَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَشْرَفَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غُرْفَۃٍ وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ السَّاعَۃَ فَقَالَ: ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَرَوْنَ عَشْرَ آیَاتٍ: طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَالدُّخَانُ وَالدَّابَّۃُ وَخُرُوْجُ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ وَخُرُوْجُ عِیْسٰی بْنِ مَرْیَمَ وَالدَّجَّالُ وَثَلاَثُ خُسُوْفٍ: خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِعَدْنٍ تَسُوْقُ اَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ، تَبِیْتُ مَعَہُمْ حَیْثُ بَاتُوْا، وَتَقِیْلُ مَعَہُمْ حَیْثُ قَالُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۶۲۴۴)
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بالاخانے سے ہماری طرف جھانکا اور پھر فرمایا: تم جب تک یہ دس نشانیاں نہیں دیکھ لیتے، قیامت قائم نہیں ہوگی: آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، دھواں، چوپایہ، یاجوج ماجوج کا خروج، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول، دجال، ان تین مقامات میں دھنسنے کے واقعات: مغرب میں دھنسنا، مشرق میں دھنسنا اور جزیرۂ عرب میں دھنسنا اور عدن کے انتہائی مقام سے ایک آگ کا نکلنا، جو لوگوں کو ہانک کر لے جائے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہ آگ بھی وہاں رات گزارے گی اور جہاں وہ قیلولہ کریں گے وہ بھی وہاں قیلولہ کر ے گی۔
Takhreej
(۱۳۰۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۱ (انظر: ۱۶۱۴۴)
Explanation
فوائد:… عدن یمن کا مشہور شہر ہے، قاموس میں ہے کہ عدن یمن میں ایک جزیرے کا نام ہے۔ یہ آگ اس اعتبار سے قیامت کی پہلی علامت ہے کہ اس کے بعد دنیوی امور کا وجود ختم ہو جائے گا اور اس لحاظ سے آخری نشانی ہے کہ قیامت کی جتنی نشانیاں بیان کی گئیں ہیں، ان میں سب سے آخری یہ آگ ہو گی، اس کے بعد صور پھونک دیا جائے گا۔ حافظ ابن حجر کی بحث کا خلاصہ: کل چار حشر ہوں گے، دو دنیا میں اور دو آخرت میں۔ ۱۔ پہلا حشر، جس کاذکر سورۂ حشر میں ہے: {ہُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ مِنْ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ } (سورۂ حشر: ۲) … وہی (اللہ) ہے، جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے، پہلے حشر کے وقت نکالا۔ اس سے مراد یہودی قبیلے بنو نضیر کی جلاو طنی ہے، جو مدینہ منورہ سے نکل کر خیبر میں جاکر مقیم ہو گئے۔ بہرحال یہ حشر کی کوئی مستقل قسم نہیں ہے۔ ۲۔ دوسرے حشر کا ذکر ان احادیث میں کیا گیا ہے، جو قیامت کی علامت ہے، اس آگ کی جائے خروج کے بارے میں مختلف روایات ہیں، مثلاً مشرق سے، حجاز سے، حضرموت سے، عدن سے، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ اس آگ کی ابتدا عدن کے انتہائی علاقے سے ہو گی، پھر یہ زمین میں پھیل جائے گی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دو تین مقامات سے آگ کی ابتداء ہو جائے، جیسا کہ قاضی عیاض نے کہا۔ ۳۔ مردوں کو ان کی قبروں سے اٹھا کر موقف کی طرف لے کر جانا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَحَشَرْنَاھُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اَحَدًا} ۴۔ حساب و کتاب کے بعد لوگوں کو جنت و جہنم کی طرف لے کر جانا۔ درج بالا بحث کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((سَتَکُوْنُ ھِجْرَۃٌ بَعْدَ ھِجْرَۃٍ فَخِیَارُ اَھْلِ الْاَرْضِ اَلْزَمُھُمْ مُھَاجَرَ اِبْرَاہِیْمَ، وَیَبْقٰی فِیْ الْاَرْضِ شِرَارُ اَھْلِھَا تَلْفِظُھُمْ اَرْضُوْھُمْ، تَقْذَرُھُمْ نَفْسُ اللّٰہِ،وَتَحْشُرُھُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ۔)) … ہجرت کے بعد ہجرت ہوتی رہے گی، زمین کے باسیوں میں سب سے بہتر لوگ وہ ہوں گے، جو ابراہیم علیہ السلام کے دارِ ہجرت (شام) کو سب سے زیادہ لازم پکڑنے والے ہوں گے اور (قربِ قیامت کے وقت) برے لوگ ہی رہ جائیں گے۔ ان کی زمینیں انہیں نکال باہر پھینکیں گی، اللہ عزوجل بھی انہیں برا جانے گا اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرے گی۔ (ابوداود: ۲۴۸۲) آخری جملے کا معنی یہ ہے کہ آگ ان کو جمع کرے گی اور ان کو ہانکے گی، یہ لوگ آگ سے ڈر کر جانوروں کے ساتھ بھاگیں گے۔ شام کا علاقہ اس وقت آگ کے پہنچنے سے سالم ہو گا اور رحمت والے فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔
13058
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.