قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو مسلمان جب ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۲۷۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۸۸(انظر: ۲۰۴۲۴)
Explanation
فوائد:… جب آدمی گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیتا ہے،بلکہ اس کا ارتکاب کرنے کے لیے کوشش شروع کر دیتا ہے تو اس کی حیثیت اس طرح کے مجرم کی ہی ہوتی ہے، اگرچہ وہ گناہ اس سے سرزد نہ ہو پائے، ہاں اگر وہ اس گناہ کو اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑتا ہے تو اس کا معاملہ اور ہو گا۔
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے ہَرْج ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: ھَرْج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد قتل ِ عام ہے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: جس قدر اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں‘ کیا اس سے بھی زیادہ قتل ہوگا، آجکل تو ہم ہرسال ستر ہزار سے زائد افراد کو قتل کر دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس قتل سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ تم مسلمانوں کا ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے۔ صحابہ نے پوچھا: جب یہ صورت ِ حال ہوگی تو ان دنوں ہماری عقلیں کہاں جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دور کے لوگوں کی عقلیں ان سے چھین لی جائیں گی،اور ناسمجھ لوگ اقتدارِ حکومت پر غالب ہوں گے کہ ان کی اکثریت خود کو صحیح سمجھے گی، جبکہ وہ کسی دینی چیز پر نہیں ہوں گے۔ راوی حدیث عفان نے کہا: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے اور تم لوگوں کو ایسی صورت ِ حال کا سامنا ہو تو میںاپنے اور تمہارے لیے نجات کی صرف ایک صورت سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جس طرح ہم خالی ہاتھ فتنے میں داخل ہوں اسی طرح کچھ لیے دیئے بغیر اس سے بے دخل ہوجائیں، نہ ہم کوئی خون بہائیں اور نہ مال لیں۔
Takhreej
(۱۲۸۰۰) تخریج: مرفوعہ صحیح، وھذا اسنادہ ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۲/ ۱۲، وابویعلی: ۷۲۳۴ (انظر: ۱۹۴۹۲)
Explanation
فوائد:… یقینا ہمارا معاشرہ ان احادیث کا مصداق بن چکا ہے، قتل اتنا عام ہو گیا کہ ایک ایک دھماکے میں سینکڑوں لوگ کام آ جاتے ہیں۔ محرم رشتہ دار وں میں اس قدر دشمنی اور عداوت ہے کہ وہ ایک دوسرے کی جان کے پیاسے نظر آتے ہیں اور موقع ملنے پر اپنی خواہشِ بد کا اظہار کر دیتے ہیں۔
سیدنا صنابحی احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوضِ کوثر پر موجود ہوںگا اور میں تمہاری کثرت ِ تعداد کی بنا پر دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا تم میرے بعد آپس میں قتال نہ کرنا۔
Takhreej
(۱۲۸۰۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی خطأ فیہ فی اسم صحابیہ، وھو الصنابح بن الاعسر الاحمسی، فمن قال: الصنابحی بیاء النسبۃ فقد اخطا، أخرجہ الحمیدی: ۷۸۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۳۸، وابن حبان: ۶۴۴۶ (انظر: ۱۹۰۶۹)
۔ (دوسری سند) رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری کثرت کی بنا پر میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا،لہذا اس طرح نہ ہونے پائے کہ تم میرے بعد کافر بن کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنا شروع کر دو۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے ہاں تشریف لائے۔ہمیں توقع تھی کہ وہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث یا کوئی اچھی بات سنائیں گے۔ ہم میں سے حکم نامی ایک آدمی نے جلدی کی اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! فتنہ کے دنوں میں قتال کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے کہا: تجھے تیری ماں گم پائے‘ کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا چیز ہے؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکوں سے قتال کیا کرتے تھے، اس وقت مشرکین کی جماعت یا ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا،وہ قتال تمہاری اس لڑائی کی طرح نہیں تھا، جو حصولِ اقتدار کے لیے لڑی جاتی ہے۔
فوائد:… مسلمان کو قتل کرنا سنگین جرم ہے، یہ کفریہ عمل ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗ جَھَنَّمُ خَالِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا۔} … اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔ (سورۂ نسائ:۹۳)
سیدنا وابصہ اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں کوفہ والے اپنے گھر میں تھا کہ دروازے پر یہ آواز سنائی دی:السلام علیکم، میں اندر آ جاؤں، میں نے کہا: وعلیکم السلام، جی تشریف لے آئیں، وہ آدمی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! یہ ملاقات کا کونسا وقت ہے؟ یہ عین دوپہر کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا: دن مجھ پر لمبا ہو رہا تھا، میں سوچنے لگا کہ کس کے ساتھ باتیں کر کے وقت گزارا جائے، (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا)۔ پھر وہ مجھے احادیث ِ نبویہ بیان کرنے لگے اور میں ان کو، انھوں نے یہ حدیث بھی بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتنے بپا ہوں گے، ان حالات میں سویا ہو اآدمی لیٹے ہوئے سے،لیٹا ہوا بیٹھنے والے سے، بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے، چلنے والا سوار سے اور اونٹ سوار گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے والے آدمی سے بہتر ہو گا، ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتلِ عام کے دنوں میں۔ میں نے کہا:قتلِ عام کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان اپنے ساتھ بیٹھنے والے آدمی پر اعتماد نہیں کرے گا۔ میں نے کہا: اگر میں ایسے زمانے کو پا لوں تو میرے لیے آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے نفس اور ہاتھ کو روک لینا اور گھر کے اندر ہی رہنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی جھگڑالو میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گھر کے کسی کمرے میں چلے جانا۔ میں نے کہا: اگر وہ میرے کمرے کے اندر بھی گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں داخل ہو جانا اور اس طرح کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی بند مٹھی کا انگوٹھے والا کنارہ پکڑ لیا اور فرمایا: اور کہنا کہ اللہ ہی میرا رب ہے، حتی کہ اسی حالت پر مر جانا۔
فوائد:… ان لڑائیوں میں قتل ہونے والے سارے کے سارے جہنمی ہوں گے۔ اس کو مسلمانوں کے مابین ہونے والی ان لڑائیوں پر محمول کیا جائے گا، جن کی دونوں طرف سے بنیاد عصبیت، حمیت اور جاہلیت پر ہو گی اور ان میں کوئی شرعی سبب نہیں ہو گا۔
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنے ہوں گے، ان میں لیٹے والا آدمی بیٹھے ہوئے سے ، بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے ،،کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا فتنوں میں بھاگ کر شامل ہونے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حالات کے بارے میں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں، وہ اپنے اونٹوں میں مشغول ہو جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ ان میں مصروف ہو جائے، جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں لگ جائے اور جس کے پاس ایسی کوئی مصروفیت نہ ہو وہ اپنی تلوار کو کسی پتھر پر مار کر اس کی دھار کو ناکارہ کر لے اور جس قدر ممکن ہو ان فتنوں سے دور رہے، اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔
۔ (دوسری سند) اوپر والی حدیث کے آخری الفاظ اس سے جس قدر ہوسکے وہ ان فتنوں سے دور رہے۔ کے بعد اس میں یہ اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! تحقیق میں نے تیری بات پہنچا دی‘ اے اللہ! تحقیق میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے‘ اگر کوئی آدمی میرے ہاتھ کو پکڑ لیتا ہے اور مجبور کر کے کسی ایک صف یا گروہ کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے، پھرکوئی آدمی تلوار کی ضرب لگا کر مجھے قتل کر دیتا ہے، تو میرا کیا بنے گا، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے گناہوں اور تیرے گناہوں کے ساتھ لوٹے گا اور وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۸۰۶) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۵۵۴۸ (انظر:۲۰۴۹۰)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں برپا ہونے والے فتنے کے موقع پر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: عنقریب فتنہ برپا ہوگا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے اور چلنے والا اس فتنہ میں بھاگ کر حصہ لینے والے سے بہتر ہو گا۔ ایک شخص نے کہا: اگر کوئی شخص زبردستی میرے گھر میں داخل ہو کر مجھے قتل کر نے کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میں کیا کروں؟ آ پ نے فرمایا: آدم علیہ السلام کے اس بیٹے والا طرز عمل اختیار کرنا (جو خود تو قتل ہوگیا لیکن اس نے دوسرے پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا)۔
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں:زائدہ یا مزیدہ بن حوالہ نامی عنزہ قبیلے کے ایک آدمی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگ ایک مقام پر ٹھہرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایک بڑے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے، میں اپنے کسی کام سے فارغ ہو کر آرہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا، آپ کے پاس صرف کاتب (لکھنے والے) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! کس سلسلہ میں؟ پھر آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، جب میں مزید قریب ہوا، تو آپ نے دوبارہ فرمایا: اے ابن حوالہ! کیا تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا:اللہ کے رسول! کس سلسلہ میں؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا اور کاتب کی طرف متوجہ ہوگئے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالکل قریب آگیااور دیکھا کہ تحریر کے آغاز میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نام لکھے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر میںجان گیا کہ ان کے نام کسی اچھے کام کے لیے ہی لکھے گئے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابن حوالہ! کیا ہم تمہارا نام بھی لکھ لیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے نبی! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن حوالہ! تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جوزمین کے اطراف میں اس طرح پھیل جائے گا، جیسے وہ گائے کے سینگ ہوں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بتلا دیں کہ مجھے اس دوران کیا کرنا چاہیے؟ آپ نے فرمایا : تم شام کی سرزمین میں چلے جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اس فتنہ کے دوران کیا کرو گے جو خرگوش کی چھلانگ کی مانند یعنی پہلے فتنہ کے بعد جلد ہی بپا ہو جائے گا؟ سیدنا زائدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے دوسرے فتنہ کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا، وہ مجھے یاد نہیں رہا، لیکن جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے فتنے میں بارے میں فرمایا تھا ، اگر وہ مجھے یاد ہوتا تو وہ مجھے اتنے اتنے خزانوں سے بھی محبوب ہوتا۔
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ربذہ مقام سے میرا گزر ہوا، وہاں ایک خیمہ لگا ہوا تھا،میں نے پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے؟ کسی نے کہا کہ یہ محمدبن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا ہے، پس میں نے ان کے پاس خیمہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور اندر چلا گیا، میں نے کہا : آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ کا اس جنگل میں کیا کام؟ بہتر ہوتا کہ آپ لوگوں میں رہتے اور ان کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ، تفرقہ بازی اور اختلاف پیدا ہو گا، اور اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو تم اپنی تلوار لے کر اس احد پہاڑ پر مار کر اسے کند کر دینا‘ تیر کو توڑ ڈالنا اور کمان کی تندی کاٹ دینا اوراپنے گھر میں بیٹھ جانا۔ اب ایسے ہی ہو چکا ہے، (اس لیے میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں)۔ ایک روایت میں ہے: اپنی تلوار کو پہاڑ پر مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا، یہاں تک کہ کوئی ظالم آدمی تمھارے گھر کے اندر گھس آئے یا اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے۔ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، وہ ہو چکا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو حکم دیا تھا، میں نے اسی پر عمل کیا ہے۔ پھر انھوں نے خیمہ کے ستون سے لٹکی ہوئی تلوار اتروائی، لیکن جب اسے میان سے نکالا تو وہ تو لکڑی کی تلوار تھی، پھر انھوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر عمل کر کے اپنے تلوار توڑ ڈالی ہے اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے یہ رکھی ہوئی ہے۔
Takhreej
(۱۲۸۰۹) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۶۲(انظر: ۱۶۰۲۹)
سیدنا ذو اصابع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد ہم اتنی زندگی پائیں کہ ہماری آزمائشیں شروع ہو جائیں تو آپ ہمیں کس مقام کی طرف چلے جانے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بیت المقدس چلے جانا، کیونکہ ممکن ہے کہ وہاں تمہاری اولاد بڑھے اور وہ صبح شام مسجد میں جا سکیں۔
Takhreej
(۱۲۸۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عثمان بن عطاء الخراسانی، وقد اختلف علیہ فیہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۲۳۸، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/ ۲۶۴ (انظر: ۱۶۶۳۲)
سیدناابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے بھی اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا: اے ابوذر رضی اللہ عنہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر لوگ شدید بھوک کی آزمائش سے دوچار ہو جائیں اورتم اپنے بستر سے مسجد تک جانے کی بھی استطاعت نہ رکھتے ہو تو تم کیا کرو گے؟ انہوںنے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسے حالات میں تم کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنا۔ آپ نے پھر پوچھا: ابوذر ! کیا خیال ہے کہ اگر لوگوں میںموت اس قدر عام ہوجائے کہ ایک قبر ایک غلام کے عوض ملے تو تم کیا کروگے؟ میںنے کہا :اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں تم صبر کرنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید پوچھا: ابوذر! کیا خیال ہے کہ اگر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں اور اس قدر خون بہا دیا جائے کہ حجارۃ الزیت مقام خون میںڈوب جائے تو تم کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم گھر کے اندر بیٹھ جانا اور دروازہ بھی بند کیے رکھنا۔ میں نے کہا: اگر مجھے پھر بھی نہ چھوڑا جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنی قوم کے پاس جا کر انہی میں رہنا۔ میں نے کہا :کیا میں اپنے ہتھیار اٹھالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہتھیار اٹھانے کی صورت میں تو تم بھی لوگوں کی لڑائی میں شریک ہو جاؤ گے۔، تمہاری صورتحال یہ ہونی چاہیے کہ جب تم تلوار کی شعاع سے ڈرنے لگو تو اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا، تاکہ (قاتِل) اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ واپس لوٹے۔
Takhreej
(۱۲۸۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۲۶۱، ۴۴۰۹، وابن ماجہ: ۳۹۵۸ (انظر: ۲۱۳۲۵)
Explanation
فوائد:… حجارۃ الزیت، مدینہ منورہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم گھٹیا لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے؟ میںنے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات کب پیدا ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : جب مسلمانوں کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پیدا ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہو جائیں گے۔ یونس راوی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے انگلیوں میں تشبیک دی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس وقت کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا‘ اچھے عمل کرنا، غلط کاموں سے بچ کر رہنا اور اپنے مخصوص لوگوں کا خیال کرنا اور عام لوگوں سے بچ کر رہنا۔
Takhreej
(۱۲۸۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری عن ابن عمر أو ابن عمرو: ۴۷۸، ۴۷۹(انظر: ۶۵۰۸)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں لوگوں کی اس طرح چھان بین کی جائے گی کہ صرف گھٹیا اور ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے وعدوں اور امانتوں میں کھوٹ پید اہو جائے گی اور وہ آپس میں ایک دوسرے سے اختلاف کر یں گے اور اس طرح ہو جائیں گے۔ راوی نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول! ایسے حالات سے نکلنے کی صورت کیا ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اچھے کام کرنا، برے کاموں سے بچنا اور مخصوص لوگوں پر توجہ دینا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔
ربعی کہتے ہیں: میںنے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے اس چار پائی پر لیٹے ہوئے آدمی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا تھا، وہ ایک دفعہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد مجھے کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، اگر تم آپس میں لڑ پڑو گے تو میںاپنے گھر میں داخل ہو جاؤں گا اور اگر کوئی (ظالم) میرے گھر میں گھس آیا تو میں کہوں گا: لیجئے(کر لے قتل) اور پھر میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ واپس چلا جا۔
Takhreej
(۱۲۸۱۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن حذیفۃ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۲۱، والطیالسی: ۴۱۷ (انظر: ۲۳۳۰۷)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد عنقریب اختلافات وغیرہ ہوں گے، اگر تجھ میں ان سے بچ کر رہنے کی استطاعت ہوئی تو ایسے ہی کرنا۔
Takhreej
(۱۲۸۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، فضیل بن سلیمان کثیر الخطأ، وایاس بن عمرو لم یرو عنہ غیر محمد بن ابی یحیی ولم یوثقہ غیر ابن حبان (انظر: ۶۹۵)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تمہارے اوپر ایک ایسا دور آئے گا کہ اس میں آدمی کو دو میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے گا، یا تو وہ (لوگوں کی طعن و تشنیع اور ظلم و تعدّی) برداشت کرے یا پھر گناہ میں شریک ہوجائے، جس آدمی کو ایسا زمانہ ملے تو وہ گناہ میں شریک ہونے کی بجائے (طعن و تشنیع) کو برداشت کرلے۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے اندھیری رات میں اترنے والے اندھیروں کی طرح فتنے بپا ہوں گے، (اورحالات اس قدر شدید ہوجائیں گے کہ) ایک آدمی صبح کے وقت تو مومن ہوگا، مگر شام کو کافر ہوچکا ہوگا ، اسی طرح ایک آدمی شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا۔ ایسے حالات میں بیٹھا ہوا آدمی کھڑے ہونے والے سے ،کھڑا ہونے والاچلنے والے سے اور چلنے والا آدمی اس فتنہ میں بھاگنے والے یعنی حصہ لینے والے سے بہتر ہوگا۔ ایسے حالات میں تم اپنی کمانیں توڑ ڈالنا‘ ان کی تندیوں کو کاٹ ڈالنا اور اپنی تلواروں کو پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور اگر کوئی ظالم تمہارے گھر میں گھس کر زیادتی کرنے لگے تو تم آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے بہتر ِبیٹے کی طرح ہو جانا۔
سیدنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں، ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا جائیں گے، (حالات اس قدر شدید ہوں گے کہ) آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کو کافر یا شام کے وقت مومن اور صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، لوگ دنیا کے معمولی سامان کے عوض اپنا حصہ (دین) بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں، ان کی صورتیں تو انسانوں جیسی ہیں، مگر عقل سے کورے ہیں اور ان کے جسم تو ہیں‘ لیکن سمجھ بوجھ سے عاری ہیں، وہ آگ کے پروانو ں کی طرح بے عقل اور مکھیوں کی طرح حریص ہیں، وہ دو درہم صبح کو لیتے ہیں اوور دو درہم شام کو اور ایک بکری کی قیمت کے عوض میں اپنے دین کو بیچ دیتے ہیں۔
فوائد:… جامع ترمذی کی روایت میں ان فتنوں سے پہلے پہلے عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بوقت ِ صبح مومن اور شام کو کافر… اس کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کو ایمان سے متصف ہو گا اور اعمال صالحہ سے مزین گا، لیکن شام کو کفر کی دلدل میںپھنسا ہوااور کفریہ اعمال کرتا ہوا نظر آئے گا اور یہ معنی بھی کیا گیا ہے صبح کو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھے گا، لیکن شام کو ان کو حلال تصور کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ حالات ایسا رخ اختیار کرلیں گے کہ انسان کو اپنے بدل جانے کی کوئی سمجھ نہیں آئے گی، اس معاملے میں وہ لا شعوری کا اظہار کرے گا۔ اب ایسے ہو رہا ہے کہ ایک انسان اچھا بھلا نیک پرہیزگار نظر آتا ہے، لیکن کچھ دنوں کے بعد جب اس سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کی روحانی کیفیت بگڑ چکی ہوتی ہے اور نماز جیسے فریضے کو ترک کر چکا ہوتا ہے، کوئی سود کھانے کی وجہ سے گر چکا ہو تا ہے تو کسی سے اچانک قتل ہو جاتا ہے، کوئی دوسرے خاندان کی بچی کی حرمتوں کو پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی دوسرے کے مال کو ہڑپ کر جانے کی سوچ رہا ہوتا ہے۔ تاجروں کو کوئی شعور نہیں کہ ان کی تجارت شرعی اصولوں پر مبنی ہے یا نہیں، اپریل ۲۰۰۹ ء کی بات ہے کہ ایک تاجر نے ایک شرعی قاعدے کو نظر انداز کر کے سودا کیا، اسے اس وجہ سے دو دنوں کے اندر اڑتالیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ لوگ دنیا میں بہت زیادہ دلچسپی لینے والے اور اس کے حریص ہوں گے اور ان کے دینی معاملات بگڑ جائیں گے۔