TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان - Book 175 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 175 of Musnad Ahmad, with 43 chapters and 280 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

280 Hadith · 43 Chapters
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۷۹)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔)) وَمَدَّ اِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴۱)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ ساتھ ہی آپ نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو پھیلا کر اشارہ کیا۔
Takhreej
(۱۲۷۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۰۴، ومسلم: ۲۹۵۱ (انظر: ۱۳۰۱۰)
Explanation
فوائد:… درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں: (۱) جس طرح یہ انگلیاں ایک دوسری کے قریب اور ملی ہوئی ہیں ،یہی معاملہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور قیامت کا ہے، (۱) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور قیامت کے مابین اتنا فاصلہ رہ گیا ہے، جتنی درمیانی انگلی شہادت والی انگلی سے بڑی ہے۔
12779
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۰)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ :رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشِیْرُ بِاِصْبَعَیْہِ وَیَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۶۰)
سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور فرمایا: میری بعثت اور قیامت اب اس طرح ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں جیسے یہ انگلی اس کے ساتھ ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۸۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی:۱۸۴۴ (انظر: ۲۰۸۷۰)
12780
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ثَنَا الْاَ عْمَشُ عَنْ اَبِیْ خَالِدٍ عَنْ وَھْبٍ السَّوَائِیِّ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہٰذِہِ مِنْ ہٰذِہِ، اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُہَا۔))وَجَمَعَ الْاَعْمَشُ اَلسَّبَّابَۃَ وَالْوُ سْطٰی وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُرَّۃَ اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۷۷)
سیدنا وہب سوائی کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میری بعثت اور قیامت اس طرح متصل ہیں جیسے یہ انگلی دوسری انگلی کے ساتھ متصل ہے، یقینا قریب تھا کہ قیامت میری بعثت سے پہلے قائم ہوجاتی ۔ پھر امام اعمش نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیان انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔
Takhreej
(۱۲۷۸۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ ان کادت لتسبقھا وھذا اسناد اختلف فیہ علی الاعمش، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۳۴۶ (انظر: ۱۸۷۷۰)
12781
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۲)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ جَمِیْعًا اِنْ کَادَتْ لَتَسْبِقُنِیْ۔)) (مسند احمد:۲۳۳۳۵ )
سیدنابریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری بعثت اور قیامت کو ایک دوسرے کے ساتھ اس حد تک متصل کر دیا گیا کہ قریب تھا کہ قیامت مجھ سے سبقت لے جاتی۔
Takhreej
(۱۲۷۸۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۲۹۴۷)
12782
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۳)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَہَاتَیْنِ۔)) وَ فَرَّقَ بَیْنَ اِصْبَعَیْہِ الْوُسْطٰی وَالَّتِیْ تَلِی الْاِبْہَامَ ثُمَّ قَالَ: ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَمَثَلِ فَرْسَیْ رَھَانٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((مَثَلِیْ وَمَثَلُ السَّاعَۃِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَہُ قَوْمُہٗطَلِیْعَۃً فَلَمَّا خَشِیَ اَنْ یُسْبَقَ اَلَاحَ بِثَوْبِہٖاُتِیْتُمْ اُتِیْتُمْ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَنَا ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۹۵)
سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے‘ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور قیامت کے قرب کی مثال ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی (انگشت ِ شہادت) اور درمیانی (انگلی) کو تھوڑا سا الگ کر کے اشارہ کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کی سی ہے۔ پھر فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہو، جب اسے خطرہ ہو ا کہ دشمن اس سے آگے نکل جائے گا تو وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر قوم کو اطلاع دینے لگا کہ دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا، دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بس میں وہی ہوں۔
Takhreej
(۱۲۷۸۳) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۲۲۸۰۹)
12783
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۴)۔ وَعَنِ الْمُطَّلَبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّہٗکَانَوَاقِفًابِعَرَفَاتٍفَنَظَرَاِلَی الشَّمْسِ حِیْنَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوْبِ فَبَکٰی وَاشْتَدَّ بُکَاؤُہُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ عِنْدَہٗ :یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَدْ وَقَفْتَ مَعِیَ مِرَارًا لَمْ تَصْنَعْ ہٰذَا فَقَالَ: ذَکَرَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ وَاقِفٌ بِمَکَانِیْ ہٰذَا فَقَالَ: ((اَیُّہَا النَّاسُ اِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ دُنْیَاکُمْ فِیْمَا مَضٰی مِنْہَا اِلاَّ کَمَا بَقِیَ مِنْ یَوْمِکُمْ ہٰذَا فِیْمَا مَضٰی مِنْہٗ۔)) (مسنداحمد:۶۱۷۳)
سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میدانِ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے، جب سورج غروب کے وقت ڈھا ل کی مانندہو کر نظر آنے لگا تو وہ رونے لگ گئے اور بہت زیادہ روئے، ان کے قریب کھڑے ایک آدمی نے کہا : اے ابو عبدالرحمن! آپ نے میرے ساتھ کئی بار وقوف کیا ہے، لیکن آپ نے کبھی بھی ایسے تو نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا:مجھے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یاد آ گئے ہیں، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہیں میری جگہ کھڑے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا : لوگو! دنیا کی گزری ہوئی مدت کے مقابلے میں بقیہ زمانے کی وہی نسبت ہے جو آج کے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس باقی وقت کی ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۸۴) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۴۳ (انظر: ۶۱۷۳)
12784
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ ذِئْبٌ اِلٰی رَاعِیْ الْغَنَمِ فَاَخَذَ مِنْہَا شَاۃً فَطَلَبَہٗالرَّاعِیْ حَتّٰی اِنْتَزَعَہَا مِنْہُ قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلٰی تَلٍّ فَاَقْعٰی وَاسْتَذْفَرَ فَقَالَ: عَمِدْتُّ اِلٰی رِزْقٍ رَزَقَنِیْہِ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِنْتَزَعْتَہُ مِنِّی، فَقَال الرَّجُلُ: تَاللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتُ کَالْیَوْمِ ذِئْبًا یَتَکَلَّمُ، فَقَالَ الذِّئْبُ: اَعْجَبُ مِنْ ہٰذَا رَجُلٌ فِی النَّخَلَاتِ بَیْنَ الْحَرَّتَیْنِیُخْبِرُکُمْ بِمَا مَضٰی وَبِمَا ھُوَ کَائِنٌ بَعْدَکُمْ وَکَانَ الرَّجُلُ یَہُوْدِیًّا، فَجَائَ الرَّجُلُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَخَبَّرَہُ: فَصَدَّقَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا اَمَارَۃٌ مِنْ اَمَارَاتِ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ قَدْ اَوْشَکَ الرَّجُلُ اَنْ یَّخْرُ جَ فَلَا یَرْجِعَحَتّٰی تُحَدِّثَہُ نَعْلَاہُ وَسَوْطُہُ مَا اَحْدَثَ اَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد:۸۰۴۹ )
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑیا ایک چرواہے کی طرف آیا اور اس کے ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کرلے گیا، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری کو چھڑالیا۔ بھیڑیا ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا اور اگلی ٹانگیں کھڑی کر کے سرین پر بیٹھ کر کہنے لگا:میں نے ایسے رزق کا قصد کیا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا، لیکن تو نے مجھ سے وہ چھین لیا، وہ چراوہا کہنے لگا: میں نے آج تلک ایسا منظر نہیں دیکھا کہ بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرتا ہو، یہ سن کربھیڑئیے نے کہا: تم میری بات سن کر تعجب کر رہے ہو، اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ دو حرّوں کے مابین کھجوروں کے باغات میںایک ایسا شخص ہے، جو انسانوں کو ماضی اور مستقبل کی باتیں بتلاتا ہے، وہ چرواہا یہودی تھا، جب اس نے آکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ سنایا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا: جانوروں کا انسانوں کی طرح باتیں کرنابھی علاماتِ قیامت میں سے ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان اپنے گھر سے باہر جا ئے گا تو اس کے اہل خانہ نے اس کی عدم موجودگی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کی واپسی پر اس کے جوتے اور چھڑی اسے سب کچھ بتلا دیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شہر بن حوشب، أخرجہ عبد الرزاق: ۲۰۸۰۸(انظر: ۸۰۶۳)
Explanation
فوائد:… اس موضوع سے متعلقہ درج روایت صحیح ہے:
12785
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۶)۔ وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ: ((اَمَا اِنَّہَا قَائِمَۃٌ فَمَا اَعْدَدْتَّ لَھَا؟)) قَالَ: وَاللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ غَیْرَ اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ قَالَ: ((فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلَکَ مَا احْتَسَبْتَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃ؟)) فَاُتِیَ بِالرَّجُلِ فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْبَیْتِ فَاِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَھْطِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَیُقَالُ لَہٗسَعْدُبْنُمَالِکٍفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذَا الْغُلَامُ اِنْ طَالَ بِہٖعُمُرُہُلَمْیَبْلُغْ بِہِ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) قَالَ الْحَسَنُ: وَاَخْبَرَنِیْ اَنَسٌ اَنَّ الْغُلَامَ کَانَ یَوْ مَئِذٍ مِنْ اَقْرَانِیْ۔ (مسند احمد:۱۴۰۵۷ )
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا،ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ تو قائم ہو کر رہے گی، تم نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا :اللہ کی قسم ! میںنے قیامت کے لیے کوئی زیادہ اعمال تو نہیں کیے ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن کے ساتھ تم کو محبت ہو گی ‘ آخرت میں انہی کے ساتھ ہوگے اور تم جو امید رکھو گے، وہی کچھ تمہیں ملے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور جب نما ز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا آدمی کہاںہے؟ پس اسے لایا گیا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر کی طرف دیکھا،تو سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے خاندان بنودوس کے ایک لڑکے پر نظر پڑھی، اس کا نام سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت آ جائے گی۔ حسن کہتے ہیں: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلایا کہ وہ نوجوان ان دنوں ان کا ہم عمر تھا۔
Takhreej
(۱۲۷۸۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۲۷۵۸ (انظر: ۱۴۰۱۲)
Explanation
فوائد:… آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا، ملاحظہ ہوں احادیث نمبر (۹۴۲۹، ۹۴۳۰)، حدیث کے باقی حصے کی وضاحت کے لیے اگلی حدیث کے فوائد دیکھیں۔
12786
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۷)۔ وَعَنْ اَنَسٍ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَتٰی تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَعِنْدَہٗغُلَامٌمِنَالْاَنْصَارِیُقَالُ لَہُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ یَّعِشْ ہٰذَا الْغُلَامُ فَعَسٰی اَنْ لَّا یُدْرِکَہُ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد:۱۳۴۱۹ )
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی؟اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب محمد نامی ایک انصاری لڑکا موجود تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سوا ل کے جواب میں فرمایا : اگر یہ نوجوان زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔
Takhreej
(۱۲۷۸۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۵۳ (انظر: ۱۳۳۸۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں قیامت قائم ہونے سے مراد اس صدی کا گزر جانا یا مخاطَب لوگوں کا فوت ہو جانا ہے، جیسا کہسیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہمیں نمازِ عشاء پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہٖ، فَاِنَّ رَأْسَ مِائَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ الْیَوْمَ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔)) … کیا خیال ہے تمہارا اس رات کے بارے، (ذرا غور کرو کہ آج) جو زمین کی پشت پر موجود ہے، وہ سو برس تک باقی نہیں رہے گا۔ ( صحیح بخاری: ۶۰۱، صحیح مسلم: ۲۵۳۷)
12787
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۸)۔ وَعَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَائَ تِ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ جَائَ الْمَوْتُ بِمَا فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۶۱)
سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین کو جھنجھوڑنے والی بس آ گئی ہے، اس کے بعد (سخت بھونچال) آنے والا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ موت اپنا سارا کچھ لے کر آ گئی ہے۔
Takhreej
(۱۲۷۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن محمد بن عقیل ضعیف فی التفرد، أخرجہ الترمذی: ۲۴۵۷(انظر: ۲۱۲۴۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم درج ذیل آیات میںبیان کیا گیا ہے۔
12788
Zaeef
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی اِحْدٰی وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً فَہَلَکَتْ سَبْعُوْنَ فِرْقَۃً وَخَلَصَتْ فِرْقَۃٌ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَتَفْتَرِقُ عَلَی اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً فَتَہْلِکُ اِحْدٰی وَسَبْعُوْنَ وَتَخْلُصُ فِرْقَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کُلُّہَا فِی النَّارِاِلَّا فِرْقَۃٌ)۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ تِلْکَ الْفِرَقَۃُ؟ قَالَ: ((اَلْجَمَاعَۃُ الْجَمَاعَۃُ۔)) (مسند احمد:۱۲۵۰۷ )
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : بنو اسرائیل (۷۱) گروہوں میں تقسم ہوئے تھے، ان میں سے (۷۰) گروہ ہلاک ہو گئے اور ایک گروہ کامیاب ہوا ، اور میری امت (۷۲) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، ان میں سے (۷۱) فرقے ہلاک ہوں گے اور صرف ایک گروہ نجات پائے گا، ایک روایت میں ہے: سارے کے سارے فرقے آگ میں جائیں گے، ماسوائے ایک فرقے کے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسا گروہ ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جماعت والا‘ جماعت والا۔
Takhreej
(۱۲۷۸۹) تخریج: صحیح بشواہدہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۹۳(انظر: ۱۲۴۷۹)
12789
Sahih
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِفْتَرَقَتِ الْیَہُوْدُعَلٰی اِحْدٰی اَوِ اثْنَتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ فِرَقَۃً وَ سَتَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ فِرْقَۃً۔)) (مسند احمد:۸۳۷۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہود (۷۱) یا (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت (۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ۔
Takhreej
(۱۲۷۹۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابودواد: ۴۵۹۶، والترمذی: ۲۶۴۰، وابن ماجہ: ۳۹۹۱ (انظر: ۸۳۹۶)
12790
Sahih
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ عَمَّارٍ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ لُحَیٍّی قَالَ :حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَامَ حِیْنَ صَلّٰی صَلاَۃَ الظُّہْرِ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( اِنَّ اَہْلَ الْکِتَابِ اِفْتَرَقُوْا فِی دِیْنِہِمْ عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَاِنَّ ہٰذِہِ الْاُمَّۃَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً،یَعْنِیْ الْاَھْوَائَ، وَکُلُّہَا فِی النَّارِ اِلَّا وَاحِدَۃً وَھِیَ الْجَمَاعَۃُ‘ وَاِنَّہُ سَیَخْرُجُ فِی اُمَّتِیْ اَقْوَامٌیُجَارِیْ بِہِمْ تِلْکَ الْاَھْوَائُ کَمَا یُجَارِی الْکَلبُ بِصَاحِبِہِ لَا یَبْقٰی مِنْہُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ اِلَّا دَخَلَہُ۔)) وَاللّٰہِ!یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُوْمُوْا بِمَا جَائَ بِہِ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِغَیْرُکُمْ مِنَ النَّاسِ اَحْرٰی اَنْ لَا یَقُوْمُ بِہِ۔ (مسند احمد:۱۷۰۶۱)
ابو عامر عبداللہ بن لحی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں حج کیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو نماز ظہر کے بعد انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ: اہل کتاب دین کے بارے میں (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ امت (خواہشات کی وجہ سے) (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی، لیکن ایک گروہ کے علاوہ سب گروہ جہنم میں جائیں گے اور عنقریب میری امت میں بہت سے ایسے لوگ بھی ظاہر ہوں گے کہ ان میں خواہشات یوں سرایت کریں گی، جیسے باولے کتے (کے کٹنے کا زہر) آدمی میں اس طرح گھس جاتا ہے کہ اس کی کوئی رگ اور جوڑ باقی نہیں رہتا مگر اس میں سرایت کر جاتا ہے۔ اے عرب قوم! اللہ کی قسم! تمہارا نبی جس دین کو لے کر آیا ہے، اگر تم ہی اس پر کاربند نہ رہے تو ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا اس پر قائم نہیں رہے گا۔
Takhreej
(۱۲۷۹۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۵۹۷(انظر: ۱۶۹۳۷)
Explanation
فوائد:… علامہ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ لکھتے ہیں: شیخ صالح مقبلی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے (العَلَم الشامخ فی ایثار الحق علی الآباء والمشایخ: صـ ۴۱۴) میں کہا: بلا شک و شبہ کثیر روایات سے امت کا تہتر فرقوں میں بٹ جانا ثابت ہوتا ہے، … (پھر انھوں نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث ذکر کی اورکہا:) اصل اشکال اس جملے میں ہے: ((کُلُّھَا فِیْ النَّارِ اِلَّا مِلَّۃً۔)) … سارے کے سارے فرقے جہنم میں جائیں گے، سوائے ایک کے۔
12791
Sahih
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۲)۔ وَعَنْ اَبِیْ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ فَجَائَ نِیْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُسَلِّمُ عَلَیَّ فَجَعَلْتُ اُحَدِّثُہُ عَنْ اِفْتِرَاقِ النَّاسِ وَمَا اَحْدَثُوْا فَجَعَلَ جَابِرٌیَبْکِیْ ثُمَّ قَالَ :سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( اِنَّ النَّاسَ دَخَلُوْا فِی دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا وَسَیَخْرُ جُوْنَ مِنْہُ اَفْوَاجًا۔)) (مسند احمد:۱۴۷۵۲ )
ابو عمار سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک ہمسائے نے کہا: جب میں ایک سفر سے واپس آیا تو سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے سلام کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں ان کو لوگوں کے افتراق اور ان کے ایجاد کردہ نئے نئے امور کے بارے میں بتلانے لگا، یہ سن کر سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگ گئے اور پھر کہا کہ میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: لوگ دین میں جوق در جوق داخل ہوئے اور قریب ہے کہ وہ فوج در فوج دین سے نکلنا شروع کر دیں گے۔
Takhreej
(۱۲۷۹۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ جار جابر بن عبد اللہ (انظر: ۱۴۶۹۶)
12792
Zaeef
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۳)۔ وَعَنْ زَکَرِیَّا بْنِ سَلَامٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَجُلٍ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ:((اَیُّہَاالنَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَاِیَّاکُمْ وَالْفُرْقَۃَ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَھَا اِسْحٰقُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ)۔ (مسند احمد:۲۳۵۳۳ )
ایک صحابی رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تواس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یوں ارشاد فرما رہے تھے : لوگو! تم جماعت کے ساتھ مل کر رہنا اور تفرقہ بازی سے بچ کر رہنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔
Takhreej
(۱۲۷۹۳) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۳۱۴۵)
12793
Sahih
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۴)۔ وَعَنْ عَرْفَجَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ:(( تَکُوْنُ ھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقَ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ وَھُمْ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہٗبِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۸۴)
سیدنا عرفجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ فتنے اور ہنگامے ہوں گے، جب مسلمان متحد ہوں تو جو شخص ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا ارادہ کرے تو اسے تلوار سے قتل کر ڈالو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
Takhreej
(۱۲۷۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۵۲ (انظر: ۱۸۲۹۵)
Explanation
فوائد:… اسلام نے جماعت کو بہت اہمیت دی ہے، جہاں تک ہو سکے، اسی کا اہتمام کرنا چاہیے، غور کریں کہ مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس وقت ایک ارب سے زائد مسلمان دنیا میں موجود ہیں، لیکن مسلمانوں کا اجتماعی اور جماعتی نظام موجود نہیں ہے۔
12794
Sahih
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۵)۔ وَعَنْ بِلَالٍ الْعَبَسِیِّ قَالَ اَنْبَاْنَا عِمْرَانُ بْنُ حِصْنٍ الضَّبَّیُّ اَنَّہُ اَتَی الْبَصَرَۃَ وَبِہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ اَمِیْرٌ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِیْ ظِلِّ الْقَصْرِ یَقُوْلُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ،صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ،لَا یَزِیْدُ عَلَی ذٰلِکَ، فَدَنَوْتُ مِنْہُ شَیْئًا فَقُلْتُ لَہٗ: لَقَدْاَکْثَرْتَمَنْقَوْلِکَ صَدَقَاللّٰہُوَرَسُوْلُہٗ فَقَالَ: اَمَاوَاللّٰہِ! لَئِنْشِئْتَلَاََخْبَرْتُکَ،فَقُلْتُ: اَجَلْ،فَقَالَ: اِجْلِسْاِذًا،فَقَالَ: اِنِّیْ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَبِالْمَدِیْنَۃِ فِیْ زِمَانِ کَذَا وَکَذَا وَقَدْکَانَ شَیْخَانِ لِلْحَیِّ قَدْ اِنْطَلَقَ اِبْنٌ لَھُمَا فَلَحِقَ بِہٖفَقَالَا: اِنَّکَقَادِمُالْمَدِیْنَۃِ وَاِنْ اِبْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِہٰذَا الرَّجُلِ فَأْتِہٖفَاَطْلُبْہٗمِنْہُ فَاِنْ اَبٰی اِلَّا الْاِفْتِدَائَ فَافْتَدِہْ، فَاَتَیْتُ اَلْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہ اِنَّ شَیْخَیْنِ لِلْحَیِّ اَمَرَانِیْ اَنْ اَطْلُبَ اِبْنَا لَھُمَا عِنْدَکَ فَقَالَ:(( تَعْرِفُہٗ؟)) فَقُلْتُ: اَعْرِفُنَسَبَہٗفَدَعَاالْغُلَامَفَجَائَ فَقَالَ:((ھُوَذَا، فَائْتِ بِہٖاَبَوَیْہٖ۔)) فَقُلْتُ: اَلْفِدَائُ یَانَبِیَّ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِنَّہُ لَا یُصْلِحُ لَنَا آلَ مُحَمَّّدٍ اَنْ نَّاْکُلَ ثَمَنَ اَحَدٍ مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ۔)) ثُمَّ ضَرَبَ عَلٰی کَتِفِیْ ثُمَّ قَالَ:(( لَا اَخْشٰیْ عَلٰی قُرَیْشٍ اِلَّا اَنْفُسَہَا۔)) قُلْتُ: وَمَالَھُمْ یَانَبِیَّ اللّٰہِ!؟ قَالَ:(( اِنْ طَالَ بِکَ الْعُمُرُ رَاَیْتَہُمْ ھٰہُنَا حَتّٰی تَرَی النَّاسَ بَیْنَہَا کَالْغَنَمِ بَیْنَ حَوْضَیْنِ اِلٰی ہٰذَا وَمَرَّۃً اِلٰی ہٰذَا۔)) فَاَنَا اَرٰی نَاسًا یَسْتَاذِنُوْنَ عَلَی ابْنِ عَبْاسٍ رَاَیْتُہُمُ الْعَامَ یَسْتَاذِنُوْنَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ فَذََکَرْتُ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد:۱۵۹۹۹ )
بلال عبسی سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہمیں عمران بن حصن ضبی نے بیان کیا کہ وہ بصرہ گئے، ان دنوں سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہاں کے امیر تھے، انہوں نے محل کے سائے میں ایک آدمی کو کھڑے دیکھا جو بار بار یہ کلمہ دوہرا رہا تھا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا،میں اس کے قریب ہوا اور اس سے کہا: آپ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اس کی وجہ کیا ہے؟اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں اس کی وجہ بیان کر دیتا ہوں، میں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر بیٹھ جاؤ، فلاں وقت کی بات ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف جانا چاہا، ایک قبیلہ کے دو بزرگ تھے، ان کا بیٹا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جا ملا تھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم مدینہ منورہ جارہے ہو، ہمارا ایک بیٹا اس شخص کے ساتھ جا ملا ہے، تم ان سے ہمارے بیٹے کو طلب کرنا اور اگر وہ فدیے کا مطالبہ کریں تو تم ادا کر دینا۔ میں مدینہ منورہ پہنچا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! فلاں قبیلہ کے دو بزرگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ان کا جو بیٹا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہے‘ میں اسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے طلب کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اسے پہنچاتے ہو؟ میں نے کہا: جی، اس کا نسب جانتا ہوں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس لڑکے کو بلوایا اور فرمایا: یہ وہ لڑکا ہے، تم اسے اس کے والدین کے پاس لے جاؤ۔ میںنے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کا فدیہ کتنا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کی قیمت لے کر کھائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: : مجھے قریشیوں سے متعلقہ کوئی اندیشہ نہیں ہے، ما سوائے اس کے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی ! انہیں کیا ہوجائے گا کہ ایسا کرنے لگیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں طویل زندگی ملی تو دیکھنا کہ لوگ ان قریشیوں کے گروہوں کے درمیان ان بکریوں کی طرح آئیں جائیں گے جو دو حوضوں کے درمیان ہوں، کبھی اس حوض پر آجاتی ہوں اور کبھی دوسرے حوض پر ۔ پھر میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ہاں حاضری کے لیے اجازت لے رہے ہیں، اور اس سال دیکھا کہ وہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد یاد آگیا ۔
Takhreej
(۱۲۷۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عمران بن حصین الضبی (انظر: ۱۵۹۰۴)
12795
Zaeef
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۶)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ ثَلَاثًا فَاَعْطَانِیْ ثِنْتَیْنِ وَ مَنَعَنِیْ وَاحِدَۃً، سَاَلْتُ اَنْ لَّا یَبْتَلِیَ اُمَّتِیْ بِالسِّنِیْنَ فَفَعَلَ وَسَاَلْتُ اَنْ لَّا یَظْہَرَ عَلَیْہِمْ عَدُوُّھُمْ فَفَعَلَ وَسَاَلْتُ اَنْ لَّا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَاَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کیں، اس نے دو دعائیں قبول کر لیں اور ایک قبول نہیں کی، میں نے یہ دعا کی کہ وہ میری امت کو عام قحط میں مبتلا نہ کرے، اس نے یہ دعا قبول کر لی، پھر میں نے دوسری دعا یہ کی کہ میری امت کے دشمن اس پر غالب نہ آئیں، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے تیسری دعا یہ کہ وہ ان کو مختلف گروہوں میں بٹ جانے سے بچائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
Takhreej
(۱۲۷۹۶) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۲۵۸۹)
12796
Sahih
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۷)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُمُ الْیَوْمَ عَلٰی دِیْنٍ وَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ فَلَا تَمْشُوْا بَعْدِیْ اَلْقَہْقَرٰی۔)) (مسند احمد:۱۴۸۷۱ )
سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: تم آج صحیح دین پر قائم ہو اور میں تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا میرے بعد تم دین سے واپس نہ پلٹ جانا۔
Takhreej
(۱۲۷۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد بن سعید، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۵۱۱۰ (انظر: ۱۴۸۱۱)
12797
Zaeef
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
۔ (۱۲۷۹۸)۔ عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ اَخًا لِاَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَتَسَرَّعُ فِیْ الْفِتْنَۃِ فَجَعَلَ یَنْہَاہُ وَلَا یَنْتَہِیْ فَقَالَ: اِنْ کُنْتُ اَرٰی اِنَّہُ سَیَکْفِیْکَ مِنِّیْ الْیَسِیْرُ اَوْ قَالَ مِنَ الْمَوْعِظَۃِ دُوْنَ مَا اَرٰی‘ وَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ:(( اِذَا تَوَاجَہَ الْمُسْلِمَانِ بِسَیْفَیْہِمَا فَقَتَلَ اَحَدُھُمَا الآخَرَ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُوْلُ فِی النَّارِ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُوْلِ؟ قَالَ :((اِنَّہٗاَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۹۸۱۹)
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک بھائی فتنوں میں پیش پیش رہتا تھا، وہ اسے منع تو کرتے تھے لیکن وہ باز نہیں آتا تھا،سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک دن اس سے کہا: میں تو سمجھتا تھا کہ میری تھوڑی سی وعظ و نصیحت تیرے لیے کافی رہے گی، لیکن صورتحال یہ ہے کہ میں اس کے برعکس دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: جب دومسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے بالمقابل نکل آئیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول ! قاتل تو جہنمی ہوا، مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے مقابلے میں آنے والے کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔
Takhreej
(۱۲۷۹۸) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۲۵، وابن ماجہ: ۳۹۶۴(انظر: ۱۹۵۹۰)
12798
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.