۔ (۵۹۰۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَہٰی أَنْ یَبِیْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ یَتَنَاجَشُوْا۔ (مسند احمد: ۷۲۴۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے یا لوگ بیع نجش کریں۔
Takhreej
(۵۹۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۴۰، ومسلم: ۱۴۱۳ (انظر: ۷۲۴۸)
Explanation
فوائد:… بیع نجش: ایسے شخص کا سودے کی قیمت میں اضافہ کرنا جو خود تو اسے خریدنا نہ چاہتا ہو، لیکن کسی اور کو اس میں پھنسانا چاہتا ہو۔ یہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اس باب میں مذکورہ زیادہ تر قسمیں وضاحت کے ساتھ پہلے گزر چکی ہیں۔
5902
Sahih