TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 9131 - مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 5 in this chapter
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
۔ (۹۱۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لا یَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا، اِلاَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ بھی دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔
9131
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۹۱۳۱) تخریج:حدیث صحیح(انظر: ۹۲۴۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ہاں اسلام کا اظہار کرنے والے وجود کے اکرام کا اندازہ لگائیں، کسی کی پردہ پوشی کرنا کوئی عمل نہیں ہے، بلکہ ہلکا سا صبر کر کے زبان کو کنٹرول کرنے کا نتیجہ ہے، لیکن صد افسوس امت ِ مسلمہ مسلمان کی اس شان کو پہچاننے سے قاصر ہے اور ہر کوئی دوسرے کی عیب جوئی کر کے اپنے آپ کو کامل مسلمان ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنی ذات کے منفی پہلو اور دوسروں کے مثبت پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا اور پھر اپنی ذات کو دوسروں کے مثبت پہلوؤں سے متصف کرنے کی کوشش کی جاتی، لیکن معاملہ اس کے برعکس ثابت ہوا اور ہر ایک نے اپنے مثبت پہلو کے زعم میں دوسرے کے منفی پہلوؤں پر خوب کیچڑ اچھالا، یہ گناہ والاکام تو ہے ہی سہی، لیکن اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ لوگوں کو ان کی اصلاح کا موقع نہیں ملا اور ان کے مزاجوں میں فساد آ گیا۔

Related Chapters

214
1
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: What Has Been Related About Covering (The Faults Of) The Muslim
باب: مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: Regarding The Prophet (s.a.w) Encouraging Gifts
باب: ہدیہ دینے پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
4
میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
Musnad Ahmad
5
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
Musnad Ahmad
6
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
7
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
8
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
9
نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
10
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
Musnad Ahmad
11
Chapter: The ruling on one who seeks to divide the muslims when they are united
مسلمانوں کی جمیعت میں تفریق ڈالنے والے کےبارے میں شریعت کا فیصلہ
Sahih Muslim
12
CHAPTER: Encouragement To Pray The Night Prayer.
باب: نماز تہجد پڑھنے کی ترغیب دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
CHAPTER: Regarding Providing For Offspring.
باب: مسلمانوں کی اولاد کو وظیفہ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: Concealing those who have committed deeds for which had punishments are prescribed.
باب: حد والوں پر پردہ ڈالنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا ثواب اور شکوک و شبہات کی وجہ سے حد ساقط ہو جانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
باب: ہجرت کی ترغیب دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Jizyah Required From The Muslims
باب: مسلمانوں پر جزیہ نہیں ہے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Marriage And Encouraging It
باب: شادی کرنے کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Seeking Assistance (From Allah) By The Destitute Muslims
باب: غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
باب: علاج کرنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What has been Related About Encouraging (To Make) The Will
باب: وصیت کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What has been Related About Adhering to the Jama'ah
باب: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About What Is Sufficient And Being Patient With It
باب: بقدر کفاف (روزمرہ کے خرچ) پر صبر کی ترغیب
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Narrated About Tatrib When Writing
باب: خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
32
نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
Musnad Ahmad
34
فجر اور عشاء کی جماعتوں میں حاضر ہونے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
35
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
36
اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
37
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
38
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
Musnad Ahmad
39
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
40
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
Musnad Ahmad
41
ذرائع آمدنی کے ابواب کسب مال کی رغبت دلانے، پست ہمتی سے گریزکرنے، نیز حلال کی ترغیب اور حرام سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
42
غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
43
باہمی صلح جوئی کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
44
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
Musnad Ahmad
45
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
46
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
Musnad Ahmad
47
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
48
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
Musnad Ahmad
49
نکاح کی ترغیب دلانے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو چھوڑنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
50
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

162
Musnad Ahmad
8823
۔ (۸۸۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ: {وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ} [البروج: ۳] قَالَ: یَعْنِیْ لِلشَّاھِدِ یَوْمَ عَرَفَۃَ وَالْمَوْعُوْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت {وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ} کے میں فرمایا: شاہد سے مراد عرفہ کادن ہے اور موعود سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Musnad Ahmad
273
۔ (۲۷۳)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَکَتَمَہُ أُلْجِمَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَلْجَمَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ) بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۵۶۱)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی سے علم سے متعلق کوئی سوال کیا گیا، لیکن اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے لگام ڈالیں گے۔
Musnad Ahmad
3099
۔ (۳۰۹۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَا یَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۷)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں دوسرے آدمی پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔
Musnad Ahmad
3377
۔ (۳۳۷۷) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَبِیْصَۃَ بْنَ ہُلْبٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْہِ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَذَکَرَ الصَّدَقَۃَ قَالَ: ((لاَ یَجِیْئَنَّ أَحَدُکُمْ بِشَاۃٍ لَہَا یُعَارٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۱۷)
سیدنا ہُلب طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زکوۃ پر مشتمل ایک حدیث بیان، اس میں یہ فرمایا تھا کہ: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس کے ساتھ اس کی بکری ہو، جو ممیا رہی ہو۔
Musnad Ahmad
3467
۔ (۳۴۶۷) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ الرَّجُلُ یَأْتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیُسْلِمُ لِشَیْئٍیُعْطَاہُ مِنَ الدُّنْیَا، فَلَا یُمْسِیْ حَتّٰییَکُوْنَ الْإِسْلَامُ اَحَبَّ إِلَیْہِ وَاَعَزَّ عَلَیْہِ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۲۰۷۳)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آ کر محض اس لئے اسلام قبول کرتا کہ اسے کچھ دنیوی مفاد حاصل ہو جائے گا، لیکن ابھی تک شام نہیں ہوتی تھی کہ اسلام اس کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے پسندیدہ اور معزز بن چکا ہوتا تھا۔
Musnad Ahmad
3620
۔ (۳۶۲۰) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَیْنَبَ اِمْرَاَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ لِلنِّسَائِ: ((تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَامَعْشَرَ النِّسَائِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ فَإِنَّکُنَّ اَکْثَرُ اَہْلِ جَہَنَّمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَتْ: فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ خَفِیْفَ ذَاتِ الْیَدِ، فَقَالَتْ لَہُ: اَیَسَعُنِیْ اَنْ اَضَعَ صَدَقَتِیْ فِیْکَ، وَفِی بَنِیْ اَخِیْ اَوْ بَنِیْ اَخٍ لِیْیَتَامٰی، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَلِی عَنْ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا عَلٰی بَابِہِ امْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ یُقَالُ لَہَا زَیْنَبُ تَسْاَلُ عَمَّا اَسْاَلُ عَنْہُ، فَخَرَجَ إِلَیْنَا بِلَالٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْنَا: اِنْطَلِقْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَلْہُ عَنْ ذٰلِکَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ، فَانْطَلَقَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ہُمَا؟)) فَقَالَ: زَیْنَبُ، فَقَالَ: ((اَیُّ الزَّیَانِبِ؟)) فَقَالَ: زَیْنَبُ اِمْرَاَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ وَزَیْنَبُ الْاَنْصَارِیَّۃُ، فَقَالَ: ((نَعَمْ لَہُمَا اَجْرَانِ، اَجْرُ القَرَابَۃِ وَاَجْرُ الصَّدَقَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۸۰)
۔ عمرو بن حارث کہتے ہیں کہ سیدہ زینب زوجہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے فرمایا: صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ تمہارے زیورات کی صورت میں ہو، ایک روایت میں ہے: وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، اگرچہ وہ اپنے زیورات سے ہی دینا پڑے، کیونکہ قیامت کے دن جہنم کی اکثریت تم ہو گی۔ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میرے شوہر سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تنگ دست تھے، ایک دن میں نے ان سے کہا: کیایہ ہو سکتا ہے میں اپنا صدقہ آپ اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دوں؟ انھوں نے جواباً کہا: تم یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھ کر آئو، چنانچہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر زینب نامی ایک انصاری خاتون پہلے سے بیٹھی تھی، اس کا سوال بھی وہی تھا، جس کے بارے میں میں پوچھنے گئی تھی، بہرحال سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ باہر آئے اور ہم نے ان سے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرو، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہمارے بارے میں نہیں بتانا کہ ہم کون ہیں، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں چلے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ یہ عورتیں کون ہیں؟ انہوں نے کہا : سیدہ زینب، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کونسی زینب؟ انھوں نے کہا: ایک تو سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ ہے اور دوسری زینب انصاری ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ اپنے شوہروں کو صدقہ دے سکتی ہیں، بلکہ انہیں دواجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔
Musnad Ahmad
4123
۔ (۴۱۲۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِیْ حَدَّثَنَا یَحْیٰی حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: أَتَیْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَہُوَ فِیْ بَنِی سَلِمَۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ حَجَّۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَثَ بِالْمَدِیْنَۃِ تِسْعَ سِنِیْنَ لَمْ یَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِیْ النَّاسِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجٌّ ہٰذَا الْعَامَ، قَالَ: فَنَزَلَ الْمَدِیْنَۃَبَشَرٌ کَثِیْرٌ کُلُّہُمْ یَلْتَمِسُ أَنْ یَحُجَّ وَیَأْتَمَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَیَفْعَلَ مِثْلَ مَا یَفْعَلُ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَشْرٍ بَقِیْنَ مِنْ ذِیْ الْقَعْدَۃِ وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتّٰی أَتٰی ذَا الْحُلَیْفَۃِ نَفِسَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کَیْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: ((اِغْتَسِلِیْ، ثُمَّ اسْتَذْفِرِی بِثَوْبٍ ثُمَّ أَہِلِّی۔)) فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا اسْتَوَتْ بِہِ نَاقَتُہُ عَلَی الْبَیْدَائِ أَہَلَّ بِالتَّوْحِیْدِ ((لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ)) وَلَبَّی النَّاسُ، وَالنَّاسُ یَزِیْدُوْنَ ذَا الْمَعَارِجِ، وَنَحْوَہُ مِنَ الْکَلَامِ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْمَعُ فَلَمْ یَقُلْ لَہُمْ شَیْئًا، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِی، وَبَیْنَیَدَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ رَاکِبٍ وَمَاشٍ، وَمِنْ خَلْفِہِ مِثْلُ ذَالِکَ، وَعَنْ یَمِیْنِہِ مِثْلُ ذَالِکَ وَعَنْ شِمَالِہِ مِثْلُ ذَالِکَ، قَالَ جَابِرٌ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ أَظْہُرِنَا عَلَیْہِیَنْزِلُ الْقُرْاٰنُ وَہُوَ یَعْرِفُ تَأْوِیْلَہُ وَمَا عَمِلَ بِہِ مِنْ شَیْئٍ عَمِلْنَا بِہِ، فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِی إِلَّا الْحَجَّ حَتّٰی أَتَیْنَا الْکَعْبَۃَ فَاسْتَلَمَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَۃً وَمَشٰی أَرْبَعَۃً حَتّٰی إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلٰی مَقَامِ إِبْرَاہِیْمَ فَصَلّٰی خَلْفَہُ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَرَأَ {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی} قَالَ أَبِی: قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی جَعْفَرًا، فَقَرَأَ فِیْہِمَا بِالتَّوْحِیْدِ، وَ {قُلْ یَآ أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، وَخَرَجَ إِلَی الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ} ثُمَّ قَالَ: ((نَبَدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہِ۔)) فَرَقِیَ عَلَی الصَّفَا حَتّٰی إِذَا نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ کَبَّرَ قَالَ: ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَصَدَّقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی ہٰذَا الْکَلَامِ ، ثُمَّ نَزَلَ حَتّٰی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاہُ فِی الْوَادِی رَمَلَ، حَتّٰی إِذَا صَعِدَ مَشٰی حَتّٰی أَتَی الْمَرْوَۃَ فَرَقِیَ عَلَیْہَا حَتّٰی نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ فَقََالَ عَلَیْہَا کَمَا قَالَ عَلَی الصَّفَا، فَلَمَّا کَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَۃِ، قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنِّی لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُہٗلَمْأَسُقِ الْہَدْیَ، وَلَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً فَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ، وَلْیَجْعَلْہَا عُمْرَۃً۔)) فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّہُمْ، فَقَالَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ وَہُوَ فِیْ أَسْفَلِ الْمَرْوَۃِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلِعَامِنَا ہٰذَا أَمْ لِلْاَبَدِ؟ فَشَبَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَأَصَابِعَہُفَقَالَ: ((لِلْاَبَدِ۔)) ثَلَاثَمَرَّاتٍ،ثُمَّقَالَ: ((دَخَلَتِالْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ فَقَدِمَ بِہَدْیٍ، وَسَاقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ ہَدْیًا، فَإِذَا فَاطِمَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِیَابَہَا صَبِیْغًا، وَاکْتَحَلَتْ فَأَنْکَرَ ذَالِکَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَیْہَا، فَقَالَتْ: أَمَرَنِی بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ بِالْکُوْفَۃِ، قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِی ہَذَا الْحَرْفُ لَمْ یَذْکُرْہُ جَابِرٌ، فَذَہَبْتُ مُحَرِّشًا، أَسْتَفْتِی بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الَّذِیْ ذَکَرَتْ فَاطِمَۃُ، قُلْتُ إِنَّ فَاطِمَۃَ لَبِسَتْ ثِیَابَہَا صَبِیْغًا وَ اکْتَحَلَتْ وَقَالَتْ: أَمَرَنِی بِہِ أَبِی، قَالَ: ((صَدَقَتْ صَدَقَتْ أَنَا أَمَرَتُہَا بِہِ۔)) قَالَ جَابِرٌ: وَقَالَ لِعَلِیٍّ: ((بِمَ أَہْلَلْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُمَّ إِنِّی اُھِلُّ بِمَا أَہَلَّ بِہِ رَسُوْلُکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَمَعِیَ الْہَدْیُ، قَالَ: ((فَلَا تَحِلَّ۔)) قَالَ: فَکَانَتْ جَمَاعَۃُ الْہَدْیِ الَّذِیْ أَتٰی بِہِ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ الْیَمِنْ ِوَالَّذِی أَتَی بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِائَۃً فَنَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِ ہِ ثَلَاثَۃً وَسِتِّیْنَ، ثُمَّ أَعْطٰی عَلِیًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، وَأَشْرَکَہُ فِی ہَدْیِہِ، ثُمَّ اََمَرَ مِنْ کُلِّ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ، فَجُعِلَتْ فِیْ قِدْرٍ َأَکَلَا مِنْ لَحْمِھَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِہَا، ثُمَّ قَالَ نَبِیُّ اللّٰہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((قَدْ نَحَرْتُ ھٰھُنَا وَمِنًی کُلُّھَا مَنْحَرٌ۔)) وَوَقَفَ بِعَرَفَۃَ ‘ فَقَالَ: ((وَقَفْتُ ھٰھُنَا وَعَرَفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ۔)) وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ، فَقَالَ: ((وَقَفْتُ ہٰہُنَا، وَالْمُزْدَلِفَۃُ کُلُّہَا مَوْقِفٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)
۔ جعفر کے والد کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کیا پاس گئے، جبکہ وہ ان دنوں بنو سلمہ محلے میں مقیم تھے، ہم نے ان سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں نو سال بسر کئے اور اس عرصہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج نہیں کیا،اس کے بعد لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ اس سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں،یہ اعلان سن کر بے شمار لوگ مدینہ منورہ میں جمع ہو گئے، ہر آدمی چاہتا تھا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا کرے اور وہی افعال کرے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سرانجام دیں، چنانچہ ذی قعدہ کے دس روز باقی تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر شروع کر دیا،ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں روانہ ہو گئے۔ جب ہم ذوالحلیفہ مقام پر پہنچے تو سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے محمد بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنم دیا، انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ اب وہ کیا کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غسل کرکے لنگوٹ کس لے اور احرام باندھ لے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے آگے بڑھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری بیدائ پر سیدھی ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کلمہٗتوحید پڑھا: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھا، لوگ اپنے تلبیہ میں ذَا الْمَعَارِجِ (اے بلندیوں والے) وغیرہ کے الفاظ بھی بڑھا رہے تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے یہ الفاظ سنے، مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کچھ نہ کہا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، تاحدِّ نظر انسان ہی انسان تھے، کوئی سوار تھا اورکوئی پیدل۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہی اس کی بہترین تفسیر جانتے تھے، جیسے جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمل کئے، ہم بھی اسی کے مطابق کرتے گئے، ہم حج کی نیت سے روانہ ہوئے تھے، جب ہم کعبہ پہنچے تونبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر تین چکروں میں ذرا تیز اور چار چکروں میں ذرا آہستہ چال چل کر بیت اللہ کا طواف کیا، اس سے فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقام ابراہیم کے پاس آئے اور اس کے پیچھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر یہ آیت تلاوت کی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی} …( تم مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کرو۔) ((سورۂ بقرہ : ۱۲۵)) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کی دو رکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور صفاکی طرف چلے گئے اور یہ آیت تلاوت کی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ} … (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس سے اللہ نے ابتدا کی، ہم بھی اسی سے آغاز کریں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کے اوپر اس قدر چڑھ گئے کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ اکبر کہا اور یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَنْجَزَ وَعْدَہُ وَصَدَّقَ عَبْدَہُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلاہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تعریف بھی اسی کی ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اس نے اپنے بندے یعنی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سچا کر دکھایا اور وہ اکیلا تمام جماعتوں اور گروہوں پر غالب رہا)اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں دعائیں کیں۔ بعد ازاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا سے نیچے تشریف لائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے درمیان پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوڑے، جب بلندی شروع ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آہستہ آہستہ چلنے لگے تاآنکہ مروہ پر پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مروہ کے اوپر چلے گئے یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا،وہاں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح دعائیں کیں جیسے صفا پر کی تھیں۔ جب مروہ کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتواں چکر تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! جو بات مجھے اب پتہ چلی ہے، اگر یہ مجھے پہلے پتہ ہوتی تو میںقربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا اور اس عمل کو عمرہ بنا دیتا، اب جن لوگوں کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ اپنے اس عمل کو عمرہ بنا لیں اور احرام کھول دیں، چنانچہ سب لوگ (جن کے پاس قربانی نہیں تھی) حلال ہو گئے۔سیدنا سراقہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو اس وقت مروہ سے نیچے تھے، نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں میں عمرہ کییہ اجازت اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کیلئے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر تین مرتبہ فرمایا: ہمیشہ کے لئے ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ اُدھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے قربانی کے جانور ساتھ لے کر آئے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ سے یہ جانور لے کر آئے تھے۔سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عمرہ کے بعد احرام کھول دیا تھا اور رنگین لباس پہن لیا تھا اور سرمہ بھی ڈال لیا تھا، لیکن ان کا یہ عمل سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اچھا نہ لگا، جب انہوںنے اس پر انکار کیا تو انہوں نے کہا: مجھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کوفہ میں یہ بات بیان کی تھی کہ وہ غصے کی حالت میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا اور کہا کہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رنگ دار کپڑے پہن لئے ہیں اور سرمہ بھی ڈال لیا ہے اور کہتی ہے کہ اس کو اس کے والد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ٹھیک کہتی ہے، (تین بار فرمایا) میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: تم نے تلبیہ پڑھتے وقت کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے کہا تھا کہ جس طرح کی نیت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہے، میری بھی وہی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میرے پاس تو قربانی کا جانور ہے، لہٰذا تم بھی احرام کی حالت میں ہی ٹھہرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ سے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے جو جانور لے کر آئے تھے، ان کی مجموعی تعداد (۱۰۰) تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (۶۳) اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے اور باقی اونٹ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نحر کئے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں قربانی میں شریک کیا تھا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا لے کر پکانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ گوشت ایک ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ نوش کیا۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں جانور ذبح کئے ہیں،تاہم پورامنی قربان گاہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ میں ایک مقام پر قیام کیا اورفرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے، تاہم پورا عرفہ وقوف کی جگہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں ایک مقام پر وقوف کیا اور فرمایا: میں نے تو یہاں ٹھہرا ہوا ہوں، تاہم پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
Musnad Ahmad
4808
۔ (۴۸۰۸)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا وُقِيَ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ، وَ أُومِنَ مِنَ الْفَزَعِ الأکْبَرِ، وَغُدِيَ عَلَیْہِ وَ رِیحَ بِرِزْقِہِ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَ کُتِبَ لَہُ أَجْرُ الْمُرَابِطِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۹۲۳۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رباط کی حالت میں فوت ہو گیا، اس کو قبر کے فتنے سے بچا لیا جائے گا، بڑی گھبراہٹ سے امن دے دیا جائے گا،جنت سے صبح و شام اس کو رزق دیا جائے گا اور اس کے لیے قیامت کے دن تک رباط والے آدمی کا اجر لکھ دیا جائے گا۔
Musnad Ahmad
4836
۔ (۴۸۳۶)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ: أَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ نُفَیْلٍ أَخْبَرَہُمْ، أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّی سَئِمْتُ الْخَیْلَ وَأَلْقَیْتُ السِّلَاحَ وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا، قُلْتُ: لَا قِتَالَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ جَائَ الْقِتَالُ، لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی ظَاہِرِینَ عَلَی النَّاسِ، یَرْفَعُ اللّٰہُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ فَیُقَاتِلُونَہُمْ، وَیَرْزُقُہُمْ اللّٰہُ مِنْہُمْ حَتّٰی یَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِیْنَ الشَّامُ، وَالْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ فِيْ نَوَاصِیْھَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۹۰)
۔ سیدنا سلمہ بن نفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: میں گھوڑے سے اکتا گیا ہوں، اسلحہ پھینک دیا ہے اور جنگ نے اپنے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور جہاد ختم ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تو قتال شروع ہوا ہے، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل ٹیڑھے کرتا رہے گا ، پس یہ ان سے جہاد کرتے رہیں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ اُن سے اِن کو رزق دیتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ گروہ اسی حالت میں ہو گا، خبردار! ایمان والوں کا اصل مرکز شام ہو گا اور قیامت کے دن تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے۔