TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زبان کی آفتوں کے مسائل - زبان کی آفتوں کے مسائل - Book 164 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 164 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 169 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

169 Hadith · 30 Chapters
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۵۸)۔ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ یَزِیْدَ، مَوْلیٰ بَنِیْ زَمْعَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ذَاتَ یَوْمٍ، ثُمَّ قَالَ: ((اَیُّھَا النَّاسُ ، ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَا تُخْبِرْنَا مَاھُمَا؟ ثُمَّ قَالَ: ((اِثْنَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) حَتّٰی اِذَا کَانَتِ الثَّالِثَۃُ، اَجْلَسَہُ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالُوْا: تَرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیْدُیُبَشِّرُنَا فَتَمْنَعُہُ، فَقَالَ: اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَتَّکِلَ النَّاسُ، فَقَالَ: ((ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، مَا بَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَابَیْنَ رِجْلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۳)
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور پھر فرمایا: لوگو! دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے محفوظ کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں یہ نہ بتلائیے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اسی آدمی نے وہی بات کہی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسر بار ارشاد فرمایا تو صحابہ نے اس آدمی کو بٹھایا اور اس سے کہا: تجھے نظر نہیں آ رہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں، لیکن تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک رہا ہے، اس نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ توکل کر کے مزید عمل ترک کر دیں گے۔ بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میںداخل ہو جائے گا، ایک دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دوسری دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز۔
Takhreej
(۹۸۵۸) تخریج: المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد فیہ تمیم بن یزید، وھو مجھول (انظر: ۲۳۰۶۵)
Explanation
فوائد:… زبان نہ صرف انسان کے احترام و اکرام اور ذلالت و رسوائی کا معیار قرار پا چکی ہے، بلکہ اخروی کامیابی و کامرانی اور ناکامی ونامرادی کا دارو مدار بھی اسی پر ہے، اس حدیث ِ مبارکہ میں زبان کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر حفاظت ِ زبان کا اہتمام نہ کیا گیا تو یہ سارے اعمال کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے اور انسان کو جنت میں داخل کرنے کی بجائے آتش ِ دوزخ کا ایندھن بنا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نجات کی بابت سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حصولِ نجات کے لیے ان تین امور کا ذکر کیا: ((أَمْسِکْ عَلَیْکَ لِسَانَکَ وَلْیَسَعْکَ بَیْتُکَ وَابْکِ عَلٰی خَطِیْئَتِکَ۔)) (ترمذی) … اپنی زبان کو قابو میں رکھو، تمہارا گھر تم کو اپنے اندر سموئے رکھے اور اپنی خطاؤں پر رویا کرو۔ معلوم ہوا کہ لوگوں سے بلاضرورت زیادہ میل جول اور ان سے بے مقصد گپ شب میں انسان کے دین کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے زیادہ اختلاط کی بجائے گھر میں رہا جائے اور اپنا وقت ذکرو اذکار، غور و فکر اور اہل وعیال کی خدمت میں صرف کیا جائے۔ دیکھیں حدیث نمبر (۹۸۷۷)۔
9858
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ الصَّبْھَائِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِیْدَ بْنَ جُبَیْرٍیُحَدِّثُ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا رَفَعَہُ قَالَ: ((اِذَا اَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَاِنَّ اَعْضَائَہُ تُکَفِّرُ اللِّسَانَ تَقُوْلُ: اتَّقِ اللّٰہَ فِیْنَا، فَاِنَّکَ اِنِ اسْتَقَمْتَ اِسْتَقَمْنَا، وَاِنِ اعْوَجَجْتَ اِعْوَجَجْنَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۳۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضائ، زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۹۸۵۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۴۰۷ (انظر: ۱۱۹۰۸)
Explanation
فوائد:… جہاں زبان کا درست استعمال باعث ِ نجات ہے، وہاںاس کی ذرا سی بے اعتدالی کی سزا پورے جسم کو بھگتنا پڑتی ہے، گوشت کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا باعث ِ سعادت بھی اور باعث ِ شقاوت بھی،یہ باعث ِ عزت بھی ہے اور باعث ِ ذلت بھی۔ زبان بعضوںکو معاشرے کا معزز ترین افراد بنا دیتی ہے اور بعضوں کو ذلیل ترین۔ لمحوں نے خطا کی، صدیوں نے سزا پائی کا مصداقِ اول زبان ہے۔ قارئین کرام! جسم کے تمام اعضاء پر نظر دوڑائیں، ہر عضو کوئی برا یا اچھا اقدام کرنے سے پہلے منصوبہ بناتا ہے، مثلا نماز ادا کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، تیمار داری کرنا۔ لیکنیہ زبان ہے جو کروٹ بدلتے بدلتے کئی نیکیوںیا کئی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ مثلا اچانک اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تکبیرات، تحمیدات وغیرہ کہنا شروع کر دے یا جاتے جاتے کسی کو گالی دے دے، برا بھلا کہہ دیے، کلمۂ کفر بول دیے، فحش مذاق کر دے، چغلی و غیبت کر دے، جھوٹ بول دیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سچ فرمایا نبی معظم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہ زبان بڑی تیز طرار ہے اور ہر عضو کو اس کی پھرتی کا شکوہ ہے۔
9859
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۰)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۷)
۔ سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندے کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۹۸۶۰) تخریج: حسن بشواھدہ، أخرجہ الترمذی: ۲۳۱۸ (انظر: ۱۷۳۷)
Explanation
فوائد:… اسلام کا یہ سنہری قانون ہے کہ جس چیز میں مسلمان کا دنیوی اور اخروی فائدہ نہ ہو، وہ اس میں دخل نہ دے، سب سے زیادہ عافیت، سکون اور سلامتی اسی میں ہے۔
9860
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۱)۔ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِیْ بِاَمْرٍ اَعْتَصِمُ بِہٖ (وَفِیْ لَفْظٍ: مُرْنِیْ فِیْ الْاِسْلَامِ بِاَمْرٍ لَا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا بَعْدَکَ) قَالَ: ((قُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: آمَنْتُ بِااللّٰہِ) ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَخْوَفُ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَااَکْبَرُ) مَاتَخَافُ عَلَیَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَاَیُّ شَیْئٍ اَتَّقِیْ) قَالَ: فاَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِہِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۹۷)
۔ سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام سے متعلقہ ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں کہ میں اس کو تھام لوں اور اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کہہ کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ ڈر کس چیز پر ہے، ایک روایت میں ہے: پس میں کس چیز سے بچ کر رہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا! اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: یہ ہے۔
Takhreej
(۹۸۶۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۴۱۰(انظر: ۱۵۴۱۹)
Explanation
فوائد:… اگر پرکھنے کا مزاج شرعی ہو تو یہ حقیقت مشاہدہ شدہ ہو گی کہ اس وقت ہر آدمی کو اس کی زبان کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا ہے، رہی سہی کمی موبائلز کے پیکجز نے پوری کر دی ہے۔ ہر ایک نے گلے شکوے کرنے پر توجہ دھری ہوئی ہے، کوئی اپنا محاسبہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
9861
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِن لِّسَانِہِ وَیِدِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
Takhreej
(۹۸۶۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۰ (انظر: ۶۷۵۳)
9862
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَ اَعْرَابِیًا بِخِصَالٍ مِنْ اَنْوَاعِ الْبِرِّ (فِیْھَا) ((وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَاِنْ لَمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَکُفَّ لِسَانَکَ اِلَّا مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بدّو کو نیکی کی مختلف انواع کے بارے میں بتلایا، ان میں یہ چیزیں بھی تھیں: اور تو نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر، پس اگر تجھ کو ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو بند کر لے، ما سوائے خیر والی باتوں کے۔
Takhreej
(۹۸۶۳) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۷۳۹، والبیھقی: ۱۰/ ۲۷۲، وابن حبان: ۳۷۴، والحاکم: ۲/ ۲۱۷ (انظر: ۱۸۶۴۷)
Explanation
فوائد:… اس کا مطلب یہ ہوا کہ سب سے آسان اور کم از کم نیکی کی صورت یہ ہے کہ زبان کو شرّ سے محفوظ رکھا جائے۔
9863
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۴)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اَلَا اُخْبِرُکَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِہِ، وَذِرْوَۃِ سَنَامِہِ؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: بَلیٰیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَاْسُ الْاَمْرِ وَعَمُوْدُہُ الصَّلَاۃُ، وَذِرْوَۃُ سَنَامِہِ الْجِھَادُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکَ، بِمِلَاکِ ذٰلِکَ کُلِّہِ؟)) فَقُلْتُ: بَلیٰیَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَاَخَذَ بِلِسَانِہِ فَقَالَ: ((کُفَّ عَلَیْکَ ھٰذَا۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ؟فَقَالَ: ((ثَکُلَتْکَاُمُّکَیَا مُعَاذُ! وَھَلَ یَکُبُّ النَّاسَ عَلٰی وُجُوْھِمْ فِیْ النَّارِ۔)) اَوْ قَالَ: ((عَلٰی مَنَاخِرِھِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۶۶)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا میں تجھے بتلاؤ کہ دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی کوہان کی چوٹی کیا ہے ؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین کی اصل اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی نماز ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے اس چیز کے بارے میں بھی بتلا دوں جو ان سب کو کنٹرول کرنے والی ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: اس کو اپنے اوپر روک کر رکھنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہماری باتوں کی وجہ سے بھی ہمارا مؤاخذہ کیاجائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے، لوگوں کو آگ میں ان کے نتھنوں کے بل گرانے والی ان کی زبانوں کی کٹی ہوئی باتیں ہی ہوں گی۔
Takhreej
(۹۸۶۴) تخریج: صحیح بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۷۳، والترمذی: ۲۶۱۶(انظر: ۲۲۰۱۶)
Explanation
فوائد:… حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، مختلف احکام ومسائل کا بیان ہے، جن کا نتیجہ زبان کی حفاظت کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ زبان ایک ایسی چیز ہے کہ اگرآ دمی اس کو احتیاط سے استعمال نہ کرے تو یہ آدمی کو جہنم میںلے جانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی اکثر عورتیں جہنم میں صر ف اسی زبان کو غلط استعمال کرنے کی وجہ سے جائیں گی، اور اسی طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حدیث ہے کہ جو آدمی دوچیزوں (یعنی ایک زبان اور دوسری شرم گاہ)کی ضمانت دے دے میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
9864
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۵)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا یُسْلِمُ عَبْدٌ حَتّٰییَسْلَمَ قَلْبُہُ وَلِسَانُہُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا، جب تک اس کا دل اور زبان سلامتی والے نہیں بن جاتے۔‘
Takhreej
(۹۸۶۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الصباح بن محمد، أخرجہ البزار: ۳۵۶۲، والحاکم: ۲/ ۴۴۷ (انظر: ۳۶۷۲)
9865
Zaeef
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۶)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَکَّلَ لِیْ مَابَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ، تَوَکَّلْتُ لَہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۱۱)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مجھے دو جبڑوں کے درمیان والی اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیزوں کی ضمانت دے گا، میں اس کو جنت کی ضمانت دوں گا۔
Takhreej
(۹۸۶۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۷۴، ۶۸۰۷ (انظر: ۲۲۸۲۳)
Explanation
فوائد:… قارئین کرام! کسی مجلس میں بیٹھ کر نوٹ کرنا کہ اس میں کیے گئے کلام کا زیادہ حصہ لہو و لغو، بیہودہ گوئی و فحش گوئی، چغلی و غیبت اور بے مقصد موضوعات پر مشتمل ہو گا، سیاست و سیادت پر گفت و شنید ہو گی، دنیا کے مختلف ممالک کے حالات اور مستقبل پر تبصرے ہوں گے، جن سے نہ ماضی کو سہارا ملتا ہے اور نہ مستقبل کو کوئی امید۔ ہر کوئی اپنے مسائل و مصائب بیان کر کے اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر تلاہوا نظر آئے گا، زبان کا کثرت سے بے جا استعمال ہو گا، حاضرینِ مجلس اپنے مخالفوں کا تذکرہ کر کے ان پر خوب برستے ہیں۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ فارغ اوقات کوایسے اختلاط کی بجائے گھر میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور ذکر و فکر اور تلاوت اور بیوی بچوں کے مسائل حل کرنے میں اور ان کی خدمت کے تقاضے پورے کرنے میں صرف کیا جائے۔ اس طرح تنہائیوں میں اپنی خطاؤں اور لغزشوں پر رونا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسندیدہ ہے، جس کا موقع صرف خلوت میں ملتا ہے۔
9866
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۷)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْطُفَاوِیِّ، قَالَ: خَرَجَ اَبُوْ الْغَادِیَۃِ، وَحَبِیْبُ بْنُ الْحَارِثِ، وَاُمُّ اَبِیْ الْعَالِیَۃِ مُھَاجِرِیْنَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَسْلَمُوْا ، فَقَالَتِ الْمَرْاَۃُ: اَوْصِنِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِیَّاکِ وَمَا یَسُوْئُ الُاُذُنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۲۱)
۔ سیدنا محمد بن عبد الرحمن طفاوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو غادیہ، سیدنا حبیب بن حارث، سیدہ ام ابی العالیہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہجرت کی اور اسلام قبول کر لیا، اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز سے بچ، جو کانوں کو بری لگتی ہے ۔
Takhreej
(۹۸۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال العاص بن عمرو الطفاوی (انظر: ۱۶۷۰۱)
9867
Zaeef
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۸)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ، عَنْ اُمِّہِ ابْنَۃِ اَبِیْ الْحَکَمِ الْغِفَّارِیِّ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ الرَّجُلََ لَیَدْنُوْ مِنَ الْجَنَّۃِ، حَتّٰی مَایَکُوْنَ بَیْنَہُ وَبَیْنَھَا قِیْدُ ذِرَاعٍ، فَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ فَیَتَبَاعَدُ مِنْھَا اَبْعَدٰ مِنْ صَنْعَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۸۶)
۔ سیدہ بنتِ ابی حکم غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی جنت کے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایسی (بدترین) بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے صنعاء تک جنت سے دور ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۶۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس وقدعنعن (انظر: ۲۳۱۹۹)
Explanation
فوائد:… زبان کی حفاظت مومن کا عظیم وصف ہے، کسی انسان کی شخصیت کا پتہ دینے کے لیے اس کی زبان ہی کافی ہے۔
9868
Zaeef
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ حَفِظَ مَا بَیْنَ فُقْمَیْہِ وَفَرْجَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۸۸)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۹۸۶۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۷۲۷۵، والحاکم: ۴/ ۳۵۸(انظر: ۱۹۵۵۹)
Explanation
فوائد:… کفر وشرک، کذب بیانی و دروغ گوئی، لہو و لغویات، گالی گلوچ، سب و شتم، چغلی و غیبت، دوسروں کی توہین، بڑوں کی گستاخی، چھوٹوں سے کرختگی و سختی، والدین کا دل دکھانا، بے راہ روی و بد کاری کی راہ ہموار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری، اس قسم کے سینکڑوں جرائم کا تعلق زبان سے ہے، یہ زبان ہی ہے جس کی وجہ سے صاحب ِ زبان کو کئی مجالس میں ندامت و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ زبان ہی ہے جو باوقار اور سنجیدہ انسانوں کی عظمت و وقار کو مجروح کر دیتی ہے، بہرحال جو بندہ اپنی زبان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا، وہ کئی برائیوں سے اجتناب کرنے اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے سے محروم رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا سفیان بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے زیادہ خطرے والی چیز، جس کا آپ کو مجھ سے اندیشہ ہو، کیا ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زبان کا تعین کیا۔ (ترمذی)
9869
Sahih
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۷۰)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ عَلْقَمَۃَ اللَّیْثِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَلْقَمَۃَ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَانِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، مَا یَظُنُّ اَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِھَا رِضْوَانَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَایَظُنُّ اَنْ تَبْلُغَ مَابَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا عَلَیْہِ سَخَطَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ )) قَالَ: فکَانَ عَلْقَمَۃُیَقُوْلُ : کَمْ مِنْ کَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِیْہِ حَدِیْثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۴۶)
۔ سیدنا بلال بن حارث مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی سے متعلقہ ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھییہ گمان نہیں ہوتا کہ وہ کس بڑے مرتبے تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے، اور بیشک ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ علقمہ نے کہا: کتنی ہی باتیں ہیں کہ سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس حدیث نے مجھے ان سے روک دیا ہے۔
Takhreej
(۹۸۷۰) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۹۶۹ (انظر: ۱۵۸۵۲)
Explanation
فوائد:… یہ ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ بعض دفعہ آدمی زبان سے ایسا کلمۂ خیر ادا کرتا ہے کہ جس سے کسی کا دل خوش ہو جاتا ہے یا کسی کی ڈھارس بن جاتا ہے یا کسی کی اصلاح ہو جاتی ہے یا کوئی ظلم و معصیت کے ارادے سے باز آ جاتا ہے، یقینا ایسا کلمہ کہنے والے کے لیے باعث ِ اجرو ثواب ہے ۔ لیکن بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ بندہ کوئی کلمۂ شرّ ادا کر دیتا ہے کہ جس سے کسی کی دلآزاری ہو جاتی ہے یا کوئی اس کی وجہ سے ظلم و معصیت پر تل جاتا ہے یا وہ ایسے تنازعے کو ہوا دیتا ہے کہ طویل جھگڑا اور قتل و غارت گری شروع ہو جاتی ہےیا وہ کسی کی ضلالت و گمراہی کا داعی بن جاتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسی بات کہنے والے کے لیے باعث ِ وبال و عقاب ہو گی اور اس کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دے گی۔ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زبانوں کے سلسلے میں محتاط رہیں۔
9870
Sahih
خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۷۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَمَتَ نَجَا۔)) (مسند احمد: ۶۶۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا، وہ نجات پا گیا۔
Takhreej
(۹۸۷۱) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۲۵۰۱ (انظر: ۶۶۵۴)
Explanation
فوائد:… پچھلے باب کی احادیث اور بالخصوص حدیث نمبر (۹۸۶۶) کے فوائد سے زبان کی آفتوں کا اندازہ ہو رہا ہے، ان آفات سے بچنے کا حل یہ ہے کہ زبان کو خیر والے امور کے لیے استعمال کیا جائے، نہیں تو کم از کم خاموش رہا جائے۔
9871
Sahih
خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ،وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَـلَا یُؤْذِ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُل خَیْرًا اَوْ لِیَسْکُتْ ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنی مہمان کی قدر کرے، جس کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو، پس اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Takhreej
(۹۸۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۸۴۱ (انظر: ۹۹۷۰)
9872
Sahih
خاموشی کا بیان
۔ (۹۸۷۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ (وَفِیْہِ) ((وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۰۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر درج بالا حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں لِیَصْمُتْ کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۹۸۷۳) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۳۵۷۵ (انظر: ۲۴۴۰۴)
9873
Sahih
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۸۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاالْغِیَابَۃُ۔)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا لَیْسَ فِیْہَ۔))، قَالَ: اَرَاَیْتَ اِنْ کَانَ فِیْ اَخِیْ مَا اَقُوْلُ لَہُ؟ قَالَ: ((اِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ: فقَدِ اغْتَبْتَہُ، وَاِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْہِ فَقَدْ بَھَتَّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۱۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے بھائی کے وہ عیوب بیان کرنا، جو اس میں ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: میں اپنے بھائی کے بارے میں جو کچھ کہوں، اگر وہ عیوب اس کے اندر پائے جاتے ہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ تو کہہ رہا ہے، اگر وہ چیزیں اس میں پائی جاتی ہیں تو تو نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ نقائص اس میں نہیں ہیں تو تو نے اس پر بہتان لگایا ہے۔
Takhreej
(۹۸۷۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۸۹(انظر: ۷۱۴۶)
Explanation
فوائد:… مطلب بن عبدالملک بن حنطب سے مرسلًا روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَجُلاً سَألَ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَاالْغِیْبَۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أنْ تَذْکُرَ مِنَ الْمَرْئِ مَایَکْرَہُ أنْ یَسْمَعَ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَإنْ کَانَ حَقًّا؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إذَا قُلْتَ بَاطِلاً فَذٰلِکَ الْبُھْتَانُ۔)) … ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: غیبت کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کی ایسی بات بیان کرنا ، جس کو وہ سننا نا پسند کرے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ بات حق (اور درست) ہو؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو نے (کسی کے بارے میں) غیر حق بات کی تو وہ تو بہتان ہو گا (نہ کہ غیبت)۔ (موطا امام مالک: ۳/۱۵۰، صحیحہ: ۱۹۹۲) اس میں غیبت اور بہتان دونوں کے معنی و مفہوم اور شناعت و قباحت کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری کامیابی اور کامرانی کے لیے ہمارے سامنے ایک معیار رکھ دیا ہے کہ ہم کسی پر تبصرہ کرنے لگیں تو پہلے غور کریں کہ آیا اُس آدمی کی موجودگی میں یہ گفتگو کی جا سکتی ہے، اگر نہیں کی جا سکتی ہے تو فوراً رک جانا چاہئے۔ اگر اس روایت کے طرق اور سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ لَیْسَ کے الفاظ اس حدیث کا حصہ نہیں ہیں،یہ کسی راوی سے کوئی سہو ہو گیا ہے، ترجمہ میں اس لَیْسَ کے لفظ کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
9874
Sahih
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۸۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: نَادٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فَقَالَ:) ((یَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ قَلْبَہُ، لَا تَغْتَابُوْا الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تَتَّبِعُوْا عَوْرَاتِھِمْ، فَاِنَّہُ مَنْ یَتَّبِعْ عَوْرَاتِھِمْ یَتَّبِِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ، وَمَنْ یَتَّبِِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ یَفْضَحْہُ فِیْ بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۴)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قدر بلند آواز دی کہ جوان عورتوں نے بھی سن لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ان افراد کی جماعت جو زبان سے ایمان لائے ہو اور ابھی تک ایمان دل میں داخل نہیں ہوا، تم مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے پردے والے امور کی ٹوہ میں نہ لگو، جو ان کے معائب کو تلاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کی تلاش میں پڑ جائے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کی جستجو میں پڑ جاتا ہے، اس کو اس کے گھر میں رسوا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۸۷۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۸۸۰ (انظر: ۱۹۷۷۶)
9875
Sahih
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۸۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، حَکَتْ اِمْرَاَۃً عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَتْ قِصَرَھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدِ اغْتَبْتِھَا، مَا اُحِبُّ اَنَّیْ حَکَیْتُ اَحَدًا وَاَنَّ لِیْ کَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۲۷)
۔ سیدنا ابو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک عورت کی نقل اتاری اور اس کے کوتاہ قد کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی غیبت کی ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں کسی کی نقل اتاروں اور اس کے عوض میں مجھے اتنا کچھ عطا کر دیا جائے۔
Takhreej
(۹۸۷۶) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۸۷۵، والترمذی: ۲۵۰۲، ۲۵۰۳ (انظر: ۲۵۷۰۸)
9876
Sahih
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۸۷۷)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْ حُذَیْفَۃَ اَیْضًا، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَتْ: حَکَیْتُ لِلنَّبِیِّ رَجُلًا ، فَقَالَ: ((مَایَسُرُّنِیْ اَنِّیْ حَکَیْتُ رَجُلًا وَاَنَّ لِیْ کَذَا وَکَذَا)) قَالَتْ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ صَفِیِّۃَ امْرَاَۃٌ وَقَالَ: بِیَدِہِ (یَعْنِیْ الرَّاوِیَ) کَاَنَّہُ یَعْنِیْ قَصِیْرَۃً فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لقَدْ مَزَحْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: تَکَلَّمْتِ) بِکَلِمَۃٍ لَوْ مُزِجَ بِھَا مَائُ الْبَحْرِ مَزَجَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۷۵)
۔ (دوسری سند) عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ایک مرد کی نقل اتارنے لگی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقالی کروں، اگرچہ اس کے عوض میں مجھے بہت کچھ دیا جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک صفیہ تو چھوٹے قد والی خاتون ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا: تم نے ایسی بات کی ہے کہ اگر اس کو سمندر کے پانی کے ساتھ ملا دیا جائے تو وہ مل جائے گی (یعنی بات کی گندگی سمندر کے پانی پر غالب آکر اسے خراب کر دے گی)۔
Takhreej
(۹۸۷۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے حقارت آمیز انداز میں ایک عورت کی نقل اتارنا چاہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جواب کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے کوئی خوشی نہیں ہوتی کہ آپ کسی کے عیب کا تذکرہ کریںیا از راہِ تنقیص کسی کے فعل یا قول کی نقالی کریں۔ امام نووی نے کہا: اس حدیث میں غیبت سے سب سے زیادہ ڈانٹا گیا ہے، میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قدر مذمت کی ہے۔
9877
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.