۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لیے شعروں سے بھر جانے سے بہتر ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرج مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے آ گیا، جو شعر گاہ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پکڑ لو اس شیطان کو، یا فرمایا: روک دو اس شیطان کو، اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے۔
Takhreej
(۹۹۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۵۹ (انظر: ۱۱۰۵۷)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ یہ آدمی کافر ہو یا اس کے اشعار قابل مذمت ہوں۔
۔ ابو نوفل سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شعر سنے جاتے تھے، سیدہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام شعر تھے۔
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عشا کے بعد دو مصرعوں کا شعر مرتب دیا، اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۹۹۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، قزعۃ بن سوید شبہ المتروک، عاصم بن مخلد شیخ مجھول، أخرجہ البزار: ۲۰۹۴، والطبرانی فی الکبیر : ۷۱۳۳ (انظر: ۱۷۱۳۴)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں ان اشعار کی مذمت کی گئی ہے، جو بیہودہ، بے مقصد اور لایعنی ہوں، کیونکہ اچھے اشعار کو شریعت میں سراہا گیا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں اچھے اشعار پڑھے جاتے رہے ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی اشعار پڑھے ہیں۔
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس نے اپنی توجہ اشعار پر مرکوز کر رکھی ہو اور قرآن و حدیث سے غافل ہو گیا ہے۔
امام قرطبی نے کہا: جس شخص پر شعری کلام غالب آ جائے تو اسے عام قوانین و ضوابط کے مطابق موردِ طعن و مذمت ٹھہرنا پڑتا ہے۔ … …
امام ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشعار کی معمولی مقدار کی رخصت دی ہے، کیونکہ اس حدیث کییہ توجیہ بیان کرنا مناسب ہے کہ اس کا تعلق اس شخص سے ہے جو شعروں کا ہی ہو کر رہ جائے اور قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کے ذکرو اذکار سے غافل ہو جائے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم اور دوسرے شرعی علوم سے متصف ہو اور اس کے پاس کچھ اشعار بھی ہوں تو وہ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتا ۔ (صحیحہ: ۳۳۶)
دراصل کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے ، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزِلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) … اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔
(دارقطنی: ۴۹۰، صحیحہ: ۴۴۷)
جس کلام میں دوسروں کی توہین کی گئی ہو، فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی گئی ہو، شرک و بدعت کو فروغ دیا گیا ہو یا اس میں کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی مخالفت کی گئی ہو، تو وہ کلام قابل مذمت ہو گا، وہ شعر ہو یا نثر ہو۔
اس کے برعکس جو کلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر مشتمل ہو، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصافِ حمیدہ کا بیان ہو،اس میں نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلائی گئی ہو یا وہ کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی موافقت کر رہا ہو، تو وہ کلام قابل تعریف ہو گا، وہ شعروں کی صورت میں ہو یا نثر کی صورت میں، بہرحال اشعار کی کثرت سے اجتناب کرنا چاہیے، ضرورت پڑے تو اچھے اشعار پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شعروں کے ذریعے مشرکوں کی ہجو کرو، بیشک مؤمن اپنے نفس اور مال سے جہا د کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے ! گویا کہ یہ شاعر ان پر تیر پھینک رہے ہیں۔
۔ (دوسری سند) انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ شعروں کے بارے میں جوکچھ نازل کرنا تھا، وہ تو کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! گویا کہ تم ان پر تیر برسا رہے ہو۔
۔ (تیسری سند) سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں (مذمت والی آیات) نازل کیں تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں جو کچھ نازل کیا ہے، آپ اس کو جانتے ہیں، اب آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان، دونوں کے ذریعے جہاد کرتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر حکمت و دانائی والے ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں تریاق پی لوں گا اور تمیمہ لٹکا لوں گا یا اپنی طرف سے شعر کہہ لوں گا تو پھر میں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں اور کس چیز پر سوار ہو رہا ہوں۔
Takhreej
(۹۹۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبدالرحمن بن رافع التنوخی، قال البخاری: فی حدیثہ مناکیر، أخرجہ ابوداود: ۳۸۶۹ (انظر: ۷۰۸۱)
Explanation
فوائد:… تریاق وہ معجون اور دوا ہوتی ہے، جو زہر کے اثر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس کی مختلف قسمیں ہوتی ہے، بعض قسموں میں سانپ کا گوشت اور شراب وغیرہ بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض قسموں میں صرف جائز چیزیں مستعمل ہوتی ہیں۔
اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے عظیم شعر یہ ہے: اَلََا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔ قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔
Takhreej
(۹۹۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبدالرحمن بن رافع التنوخی، قال البخاری: فی حدیثہ مناکیر، أخرجہ ابوداود: ۳۸۶۹ (انظر: ۷۰۸۱)
Explanation
فوائد:… باطل سے مراد فنا ہونے والی چیز ہے، یہ شعر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے: {کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ۔} … ہر ایک جو اس( زمین)پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے ۔ (سورۂ رحمن:۲۶، ۲۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: اَلََا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ اشعار کہے تھے: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے ، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۹۹۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن أخرجہ الدارمی: ۲۷۰۳، وابویعلی: ۲۴۸۲، وابن خزیمۃ: ۱/ ۲۰۲ (انظر: ۲۳۱۴)
۔ سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے اشعار پڑھیں، پس انھوں نے سو قافیے سنائے، جب بھی وہ ایک شعر مکمل کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور پڑھو، اور پڑھو۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ یہ شخص مسلمان ہو جاتا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’کیا تجھے امیہ بن ابی صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سناؤ۔ پس میں نے ایک شعر پڑھا، جب بھی میں ایک شعر سے فارغ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور سناؤ۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سو اشعار سنا دیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور میں بھی خاموش ہو گیا۔
Takhreej
(۹۹۵۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید پر مشتمل اشعار سنے ہیں، حالانکہ یہ غیر مسلموں کے مرتب تھے۔
۔ شریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کسی کے شعر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھتے تھے: وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
Takhreej
(۹۹۵۴) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۷۱۲، والنسائی فی الکبری : ۱۰۸۳۴ (انظر: ۲۴۰۲۳)
Explanation
فوائد:… پورا شعر یوں ہے:
سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا
وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ
امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ… (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔
۔ ابن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں کہا،جبکہ اس میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، اے ابوہریرہ! میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حسان! تو میری طرف سے جواب دے، اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تیری مدد کرے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
فوائد:… جب کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کی ہجو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دفاع کریں۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا، وہ اس پر بیٹھ کر شعری کلام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی تائید کرتا ہے، جب تک وہ اس کے رسول کا دفاع کرتا رہتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۵۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ: وضع لحسان منبرا فی المسجد وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن ابی الزناد، أخرجہ ابوداود: ۵۰۱۵، والترمذی عقب الروایۃ: ۲۸۴۶(انظر: ۲۴۴۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی حرام کیا، اس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ تم میں سے لوگ اس پر جھانکے گے، خبردار! میں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تم کو روکتا ہوں تاکہ تم اس طرح آگ میں نہ گرو، جیسے پتنگے اور مکھیاں آگ میں گرتے ہیں۔