TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زبان کی آفتوں کے مسائل - زبان کی آفتوں کے مسائل - Book 164 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 164 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 169 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

169 Hadith · 30 Chapters
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا، خَیْرٌلَہُ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیئَ شِعْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۹۷۵)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لیے شعروں سے بھر جانے سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۹۹۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۵۴(انظر: ۴۹۷۵)
9938
Sahih
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیْرُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْعَرْجِ اِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ یُنْشِدُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا الشَّیْطَانَ، اَوْ اَمْسِکُوْا الشَّیْطَانَ، لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَیْحًا خَیْرٌ لَہُ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیئَ شِعْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۷۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرج مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے آ گیا، جو شعر گاہ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پکڑ لو اس شیطان کو، یا فرمایا: روک دو اس شیطان کو، اگر کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھر جائے۔
Takhreej
(۹۹۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۵۹ (انظر: ۱۱۰۵۷)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ یہ آدمی کافر ہو یا اس کے اشعار قابل مذمت ہوں۔
9939
Sahih
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ نَوْفَلِ بْنِ اَبِیْ عَقْرَبَ، قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُتَسَامَعُ عِنْدَہٗالشِّعْرُ؟فَقَالَتْ: قَدْکَانَاَبْغَضَالْحَدِیْثِ اِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۳۴)
۔ ابو نوفل سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شعر سنے جاتے تھے، سیدہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام شعر تھے۔
Takhreej
(۹۹۴۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۷۲۲، والطیالسی: ۱۴۹۰ (انظر: ۲۵۰۲۰)
9940
Sahih
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۴۱)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھٰرُوْنَ، اَنَا قَزَعَۃُ بْنُ سُوَیْدٍ الْبَاھِلِیِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مَخْلَدٍ، عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ، قَالَ اَبِیْ: ثَنَا الْاَشْیَبُ، فَقَالَ: عَنْ اَبِیْ عَاصِمٍ الْاَحْوَلِ، عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَضَ بَیْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَائِ الْآخِرَۃِ لَمْ تُقْبَلْ لَہُ صَلَاۃُ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۶۴)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے نمازِ عشا کے بعد دو مصرعوں کا شعر مرتب دیا، اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۹۹۴۱) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، قزعۃ بن سوید شبہ المتروک، عاصم بن مخلد شیخ مجھول، أخرجہ البزار: ۲۰۹۴، والطبرانی فی الکبیر : ۷۱۳۳ (انظر: ۱۷۱۳۴)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں ان اشعار کی مذمت کی گئی ہے، جو بیہودہ، بے مقصد اور لایعنی ہوں، کیونکہ اچھے اشعار کو شریعت میں سراہا گیا ہے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجلس میں اچھے اشعار پڑھے جاتے رہے ہیں، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی اشعار پڑھے ہیں۔ امام نووی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس نے اپنی توجہ اشعار پر مرکوز کر رکھی ہو اور قرآن و حدیث سے غافل ہو گیا ہے۔ امام قرطبی نے کہا: جس شخص پر شعری کلام غالب آ جائے تو اسے عام قوانین و ضوابط کے مطابق موردِ طعن و مذمت ٹھہرنا پڑتا ہے۔ … … امام ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشعار کی معمولی مقدار کی رخصت دی ہے، کیونکہ اس حدیث کییہ توجیہ بیان کرنا مناسب ہے کہ اس کا تعلق اس شخص سے ہے جو شعروں کا ہی ہو کر رہ جائے اور قرآن مجید اور اللہ تعالیٰ کے ذکرو اذکار سے غافل ہو جائے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم اور دوسرے شرعی علوم سے متصف ہو اور اس کے پاس کچھ اشعار بھی ہوں تو وہ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتا ۔ (صحیحہ: ۳۳۶) دراصل کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے ، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزِلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) … اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔ (دارقطنی: ۴۹۰، صحیحہ: ۴۴۷) جس کلام میں دوسروں کی توہین کی گئی ہو، فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی گئی ہو، شرک و بدعت کو فروغ دیا گیا ہو یا اس میں کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی مخالفت کی گئی ہو، تو وہ کلام قابل مذمت ہو گا، وہ شعر ہو یا نثر ہو۔ اس کے برعکس جو کلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر مشتمل ہو، اس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اوصافِ حمیدہ کا بیان ہو،اس میں نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت دلائی گئی ہو یا وہ کسی انداز میں شریعت کے اصولوں کی موافقت کر رہا ہو، تو وہ کلام قابل تعریف ہو گا، وہ شعروں کی صورت میں ہو یا نثر کی صورت میں، بہرحال اشعار کی کثرت سے اجتناب کرنا چاہیے، ضرورت پڑے تو اچھے اشعار پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
9941
Zaeef
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
۔ (۹۹۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اھْجُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِالشِّعْرِ، اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ کَاَنّمَایَنَضَحُوْھُمْ بِالنَّبْلِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۸۹)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شعروں کے ذریعے مشرکوں کی ہجو کرو، بیشک مؤمن اپنے نفس اور مال سے جہا د کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے ! گویا کہ یہ شاعر ان پر تیر پھینک رہے ہیں۔
Takhreej
(۹۹۴۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۲۳۹، وابن حبان: ۵۷۸۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۵۱ (انظر: ۱۵۷۹۶)
9942
Sahih
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
۔ (۹۹۴۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہُ قَالَ لِلنَّبیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَنْزَلَ فِیْ الشِّعْرِ مَا اَنَزَلَ، فَقَالَ: ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَکَاَنّمَا تَرْمُوْنَھُمْ بِہٖنَضْحُالنَّبْلِ۔)) (مسنداحمد: ۲۷۷۱۶)
۔ (دوسری سند) انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ شعروں کے بارے میں جوکچھ نازل کرنا تھا، وہ تو کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! گویا کہ تم ان پر تیر برسا رہے ہو۔
Takhreej
(۹۹۴۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9943
Sahih
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
۔ (۹۹۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ حَیْنَ اَنْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ تَعَالیٰ فِیْ الشِّعْرِ مَا اَنْزَلَ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ تَعَالیٰ قَدْ اَنْزَلَ فِیْ الشِّعْرِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَکَیْفَ تَرٰی فِیْہِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ یُجَاھِدُ بِسَیْفِہِ وَلِسَانِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۷۷)
۔ (تیسری سند) سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں (مذمت والی آیات) نازل کیں تو وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے شعروں کے بارے میں جو کچھ نازل کیا ہے، آپ اس کو جانتے ہیں، اب آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنی تلوار اور زبان، دونوں کے ذریعے جہاد کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۴۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9944
Sahih
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
۔ (۹۹۴۵)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۷۲)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر دانائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۹۹۴۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ ابوداود: ۵۰۱۰، وابن ماجہ: ۳۷۵۵ (انظر: ۲۱۱۵۴)
Explanation
فوائد:… یعنی بعض اشعار سچے ہوتے ہیں اور حق کے مطابق اور واقعہ کے موافق ہوتے ہیں۔
9945
Sahih
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
۔ (۹۹۴۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُکْمًا، وَمِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا، (وفِیْ لَفْظٍ) وَاِنَّ مِنَ الْقَوْلِ سِحْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۸۵۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض شعر حکمت و دانائی والے ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں۔
Takhreej
(۹۹۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۸۵۹)
9946
Sahih
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
۔ (۹۹۴۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا اُبَالِیْ مَا اَتَیْتُ، وَمَا رَکِبْتُ، اِذَا اَنَا شَرِبْتُ تِرْیَاقًا، وَتَعَلَّقْتُ تَمِیْمَۃً، اَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِیْ۔)) (مسند احمد: ۷۰۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میں تریاق پی لوں گا اور تمیمہ لٹکا لوں گا یا اپنی طرف سے شعر کہہ لوں گا تو پھر میں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں اور کس چیز پر سوار ہو رہا ہوں۔
Takhreej
(۹۹۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبدالرحمن بن رافع التنوخی، قال البخاری: فی حدیثہ مناکیر، أخرجہ ابوداود: ۳۸۶۹ (انظر: ۷۰۸۱)
Explanation
فوائد:… تریاق وہ معجون اور دوا ہوتی ہے، جو زہر کے اثر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اس کی مختلف قسمیں ہوتی ہے، بعض قسموں میں سانپ کا گوشت اور شراب وغیرہ بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور بعض قسموں میں صرف جائز چیزیں مستعمل ہوتی ہیں۔ اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ جنگ کے موقع پر اور حکمت و دانائی والے اشعار پڑھنا جائز ہیں۔
9947
Zaeef
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ: ((اَشْعَرُ بَیْتٍ قَالَتْہُ الْعَرَبُ، اَلََا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ۔)) وَکَادَ اُمَیَّۃُ بْنُ اَبِیْ الصَّلْتِ اَنْ یُسْلِمَ۔ (مسند احمد: ۹۰۷۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: عربوں کا کہا ہوا سب سے عظیم شعر یہ ہے: اَلََا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔ قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔
Takhreej
(۹۹۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبدالرحمن بن رافع التنوخی، قال البخاری: فی حدیثہ مناکیر، أخرجہ ابوداود: ۳۸۶۹ (انظر: ۷۰۸۱)
Explanation
فوائد:… باطل سے مراد فنا ہونے والی چیز ہے، یہ شعر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے: {کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ۔} … ہر ایک جو اس( زمین)پر ہے، فنا ہونے والا ہے۔اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے ۔ (سورۂ رحمن:۲۶، ۲۷)
9948
Sahih
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۴۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہ قَالَ: ((اَصْدَقُ بَیْتٍ قَالَہُ الشَّاعِرُ اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ۔)) (مسند احمد: ۹۹۰۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر یہ ہے: اَلََا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ (خبردار! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے)۔
Takhreej
(۹۹۴۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9949
Sahih
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَّقَ اُمَیَّۃَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ شِعْرِہِ، فَقَالَ: رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ یَمِیْنِہِ وَالنَّسْرُ لِلْاُخْرٰی وَلَیْتٌ مُرْْصَدُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ۔)) وَقَالَ: وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ کُلَّ آخِرِ لَیْلَۃٍ حَمْرَائَیُصْبِـحُ لَوْنُھَا یَتَوَرَّدُ تَاْبیٰ فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِیْ رِسْلِھَا اِلَّا مُعَـذَّبَۃً وَاِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ)) (مسند احمد: ۲۳۱۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ اشعار کہے تھے: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے ، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۹۹۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن أخرجہ الدارمی: ۲۷۰۳، وابویعلی: ۲۴۸۲، وابن خزیمۃ: ۱/ ۲۰۲ (انظر: ۲۳۱۴)
9950
Zaeef
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۱)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشُّرَیْدِ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِسْتَنْشَدَہُ مِنْ شِعْرِ اُمَیَّۃَ بْنِ اَبِیْ الصَّلْتِ، قَالَ: فَاَنْشَدَہُ مِائَۃَ قَافِیَۃٍ، قَالَ: فَلَمْ اُنْشِدْہُ شَیْئًا اِلَّا قَالَ: ((اِیْہِ اِیْہِ۔)) حَتّٰی اِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَۃِ قَافِیَۃٍ، قَالَ: ((کَادَ اَنْ یُسْلِمَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۹۳)
۔ سیدنا شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے اشعار پڑھیں، پس انھوں نے سو قافیے سنائے، جب بھی وہ ایک شعر مکمل کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اور پڑھو، اور پڑھو۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ یہ شخص مسلمان ہو جاتا۔
Takhreej
(۹۹۵۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۵۵ (انظر: ۱۹۴۶۴)
9951
Sahih
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ الشَّرِیْدُ کُنْتُ رَدِفًا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِیْ: ((اَمَعَکَ مِنْ شِعْرِ اُمَیَّۃَ ابْنِ اَبِیْ الصَّلْتِ شَیْئٌ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((اَنْشِدْنِیْ۔)) فَاَنْشَدْتُہُ بَیْتًا، فَلَمْ یَزَلْیَقُوْلُ لِیْ کُلَّمَا اَنْشَدْتُہُ بَیْتًا: ((اِیْہِ۔)) حَتّٰی اَنْشَدْتُہُ مِائَۃَ بَیْتٍ، قَالَ: ثُمَّ سَکَتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَکَتُّ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۹۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ردیف تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’کیا تجھے امیہ بن ابی صلت کے کچھ اشعار یاد ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے سناؤ۔ پس میں نے ایک شعر پڑھا، جب بھی میں ایک شعر سے فارغ ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اور سناؤ۔ یہاں تک کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سو اشعار سنا دیئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے اور میں بھی خاموش ہو گیا۔
Takhreej
(۹۹۵۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے توحید پر مشتمل اشعار سنے ہیں، حالانکہ یہ غیر مسلموں کے مرتب تھے۔
9952
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۳)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، عَنْ شَرِیْکٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَیْحٍ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: قُلْتُ لَھَا: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْوِیْ شَیْئًا مِنَ الشِّعْرِ قَالَتْ: نَعَمْ، شِعْرُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ، کَانَ یَرْوِیْ ھٰذَا الْبَیْتَ، وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۵)
۔ شریح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی کسی کے شعر پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ شعر پڑھتے تھے: وَیَاْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
Takhreej
(۹۹۵۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۲۸۴۸ (انظر: ۲۵۰۷۱)
9953
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبْرُ تَمَثَّلَ فِیْہِ بِبَیْتِ طَرَفَۃَ: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہے کہ جب خبر آنے میں دیر ہوتی تو آپ طرفہ (بن عبد بکری) شاعر کا یہ مصرعہ پڑھتے: وَیَاْتِیْکَ باِلْاَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ (وہ شخص تیرے پاس خبریں لائے گاکہ جس پر تو نے کچھ خرچ نہیں کیا)۔
Takhreej
(۹۹۵۴) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۷۱۲، والنسائی فی الکبری : ۱۰۸۳۴ (انظر: ۲۴۰۲۳)
Explanation
فوائد:… پورا شعر یوں ہے: سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ جَاہِلًا وَیَأْتِیْکَ بِالْاَخْبَارِ مَنْ لَّمْ تُزَوِّدٖ امام مبارکپوری نے اس شعر کا یہ مفہوم بیان کیا ہے: سَتُظْھِرُ لَکَ الْاَیَّامُ مَا کُنْتَ غَافِلًا عَنْہُ وَیَنْقُلُ لَکَ الْاَخْبَارَ مَنْ لَمْ تُعْطِیْہِ الزَّادَ… (ایام ان چیزوں کو تیرے لیے ظاہر کر دیں گے، جن سے تو غافل ہے وہ لوگ تیرے پاس خبریں لائیں گے، جن کو تونے زادِ راہ نہیں دیا)۔
9954
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۵)۔ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ، اَنَّ حَسَّانَ قَالَ: فِیْ حَلْقَۃٍ فِیْھِمْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اُنْشِدُکَ اللّٰہَ یَا اَبَاھُرَیْرَۃَ، ھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَجِبْ عَنِّیْ، اَیَّدَکَ اللّٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ۔)) قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۷۶۳۲)
۔ ابن مسیب ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌کہتے ہیں: سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک مجلس میں کہا،جبکہ اس میں سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، اے ابوہریرہ! میں تجھے اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: حسان! تو میری طرف سے جواب دے، اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے تیری مدد کرے۔ ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۹۹۵۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۱۲، ومسلم: ۲۴۸۵ (انظر: ۷۶۴۴)
Explanation
فوائد:… جب کافروں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابۂ کرام کی ہجو کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے دفاع کریں۔
9955
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَضَعَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، مِنْبَرًا فِیْ الْمَسْجِدِ، یُنَافِحُ عَنْہُ بِالشِّعْرِ، ثُمَّ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ یُنَافِحُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۴۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھوایا، وہ اس پر بیٹھ کر شعری کلام کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دفاع کرتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ روح القدس کے ذریعے حسان کی تائید کرتا ہے، جب تک وہ اس کے رسول کا دفاع کرتا رہتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۵۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ: وضع لحسان منبرا فی المسجد وھذا اسناد ضعیف لضعف ابن ابی الزناد، أخرجہ ابوداود: ۵۰۱۵، والترمذی عقب الروایۃ: ۲۸۴۶(انظر: ۲۴۴۳۷)
9956
Sahih
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
۔ (۹۹۵۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُحَرِّمْ حُرْمَۃً، اِلَّا وَقَدْ عَلِمَ اَنَّہُ سَیَطَّلِعُھَا مِنْکُمْ مُطَّلِعٌ، اَلَا وَاِنِّیْ آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ، اَنْ تَھَافَتُوْا فِیْ النَّارِ، کَتَھَافُتِ الْفَرَاشِ اَوِ الذُّبَابِ۔)) (مسند احمد: ۴۰۲۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی حرام کیا، اس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ تم میں سے لوگ اس پر جھانکے گے، خبردار! میں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تم کو روکتا ہوں تاکہ تم اس طرح آگ میں نہ گرو، جیسے پتنگے اور مکھیاں آگ میں گرتے ہیں۔
Takhreej
(۹۹۵۷) تخریج: أخرجہ الطیالسی: ۴۰۲، وابویعلی: ۵۲۸۸ (انظر: ۴۰۲۷)
Explanation
فوائد:… ایسے لگتا ہے جیسے بزور آگ میں گھسنا چاہتے ہیں، لیکن رحمۃ للعالمین ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو بچانا چاہتے ہیں۔
9957
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.