TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زبان کی آفتوں کے مسائل - زبان کی آفتوں کے مسائل - Book 164 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 164 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 169 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

169 Hadith · 30 Chapters
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۱۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ وَعَظَھُمْ فِیْ ضِحْکِھِمْ مِنَ الضَّرْطَۃِ فَقَالَ: ((عَلَامَ یَضْحَکُ اَحَدُکُمْ عَلٰی مَایَفْعَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ دیا اور پھر لوگوں کو گوز مار کر ہنسنے کے بارے میں وعظ کیا اور فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اس چیز پر کیوں ہنستا ہے ، جو وہ خود بھی کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۵۵ (انظر: ۱۶۲۲۳)
Explanation
فوائد:… خاص طور پر جب کسی کی نادانستہ طور پر ہوا خارج ہو جائے، تو ہم مجلس ایسی سنجیدگی اختیار کریں کہ یوں لگے کہ ان کو اس حرکت کا علم ہی نہیں ہوا، تاکہ متعلقہ بندے کو شرمندگی نہ ہو۔
9918
Sahih
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنِّیْ لَا اَقُوْلُ اِلَّا حَقًّا۔))، قَالَ بَعْضُ اَصْحَابِہٖ: فَاِنَّکَتُدَاعِبُنَایارَسُوْلُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: ((اِنِّیْ لَا اَقُوْلُ اِلَّا حَقًّا۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ بھی ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔
Takhreej
(۹۹۱۹) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۲۴۸ (انظر: ۸۴۸۱)
Explanation
فوائد:… اگر بسا اوقات اور مخصوص مواقع پر میانہ روی کے ساتھ ہنسی مذاق کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا،لیکن اگر اس میں افراط اختیار کیا اور حد سے بڑھا جائے تو ایسا کرنے والوں کا رعب اور جمال ختم ہو جاتا ہے،دل پر مردہ پن غالب آ جاتا ہے، بیوقوفوں کو جرأت ملتی ہے اور نتیجہ شرّ کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، کہنے والے نے کیا خوب کہا: أُھَازِلُ حَیْثُ الْھَزْلُ یَحْسُنُ بِالْفَتٰی وَاِنِّیْ اِذْ اَجِدُ الرِّجَالَ لَذُوْ جِدٍّ میں اس وقت مذاق کر لیتا ہوں، جب نوجوان کو مذاق اچھا لگتا ہے۔ لیکن جب میں مردوں کو پاتا ہوں تو سنجیدگی والا ہوتا ہوں۔ بسا اوقات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسی مذاق کر رہے ہیں، لیکن اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سچ کے دائرے سے نہیں نکلتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے واضح ہوتاہے۔
9919
Sahih
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۲۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَحْمَلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّا حَامِلُوْکَ عَلٰی وَلَدِ نَاقَۃٍ۔)) قَالَ: یارَسُوْل اللّٰہِ! مَا اَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَۃٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَھَلْ تَلِدُ الْاِبِلَ اِلَّا النُّوْقُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۵۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوہو، اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنم دیتی ہیں۔
Takhreej
(۹۹۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۹۹۸، والترمذی: ۱۹۹۱(انظر: ۱۳۸۱۷)
9920
Sahih
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۲۱)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ اَبَا بَکْرٍ خَرَجَ تَاجِرًا اِلٰی بُصْرٰی، وَمَعَہُ نُعَیْْمَانُ وَسُوَیْبِطُ بْنُ حَرْمَلَۃَ، وَکِلَاھُمَا بَدْرِیٌّ، وَکَانَ سُوَیْبِطُ عَلَی الزَّادِ، فَجَائَ ہُ نُعَیْمَانُ فَقَالَ: اَطْعِمْنِیْ، فَقَالَ: لَا، حَتّٰییَاْتِیَ اَبُوْبَکْرٍ، وَ کَانَ نُعَیْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاکًا مَزَّاحًا، فَقَالَ: لَاُغِیْظَنَّکَ، فَجَائَ اِلَی اُنَاسٍ جَلَبُوْا ظَھْرًا، فَقَالَ: ابْتَاعُوْا مِنِّیْ غُلَامًا عَرَبِیًّا فَارِھًا، وَھُوَ ذُوْ لِسَانٍ، وَلَعَلَّہُ یَقُوْلُ : اَنَا حُرٌّ، فَاِنْ کُنْتُمْ تَارِکِیْہِ لِذٰلِکَ فَدَعُوْنِیْ، لَا تُفْسِدُوْا عَلَیَّ غُلَامِیْ، فَقَالُوْا: بَلْ نَبْتَاعُہُ مِنْکَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ، فَاَقْبَلَ بِھَا یَسُوْقُھَا، وَاَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّی عَقَلَھَا، ثُمَّ قَالَ لِلْقَوْمِ: دُوْنَکُمْ ھُوَ ھٰذَا، فَجَائَ الْقَوْمُ، فَقَالُوْا: قَدِ اشْتَرَینَاکَ، قَالَ سُوَیْبِطُ: ھُوَ کَاذِبٌ اَنَا رَجُلٌ حُرٌّ، فَقَالُوْا: قَدْ اَخْبَرَنَا خَبْرَکَ وَطَرَحُوْا الْحَبْلَ فِیْ رَقَبَتِہِ، فَذَھَبُوْا بِہٖفَجَائَاَبُوْبَکْرٍفَاَخْبَرَ، فَذَھَبَ ھُوَ وَاَصْحَابٌ لَہُ، فَرَدُّوْا الْقَلَائِصَ وَاَخَذُوْہُ، فَضَحِکَ مِنْھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابُہُ حَوْلًا۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۲)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تجارت کی غرض سے بصری کی طرف نکلے، سیدنا نعیمان اور سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ان کے ساتھ تھے، یہ دونوں بدری صحابی تھے، زادِ سفر سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھے، سیدنا نعیمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، انھوں نے کہا: جی نہیں،یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آجائیں۔ سیدنا نعیمان بہت زیادہ ہنسانے والے اور مذاق کرنے والے آدمی تھے، پس انھوں نے کہا: میں تجھے ضرور ضرور غصہ دلاؤں گا، پس وہ ایسے لوگوں کے پاس گئے جو سواریاں لے کر جا رہے تھے اور ان سے کہا: تم لوگ مجھ سے ایک پھرتیلا اور چست عربی غلام خرید لو، البتہ وہ زبان دراز ہے، ممکن ہے کہ وہ یہ کہے کہ وہ تو آزاد شخص ہے، اگر اس کی اس بات کی وجہ سے تم نے اس کو چھوڑ دینا ہے تو پھر سودا ہی رہنے دو اور مجھ پر میرے غلام کو خراب نہ کرو، انھوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تجھ سے دس اونٹنیوں کے عوض خریدیں گے، پس سیدنا نعیمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس ساتھی کو کھینچ کر لے آئے اور اس کو لوگوں کے سامنے لا کر باندھ دیا اور ان کو کہا: یہ لو، وہ غلام یہ ہے، پس لوگ آئے اور انھوں نے اس سے کہا: ہم نے تجھے خرید لیا ہے، سیدنا سویبط ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: وہ جھوٹا ہے، میں تو آزاد آدمی ہوں، انھوں نے کہا: اس نے ہمیں تیری ساری بات بتلا دی ہے، پھر انھوں نے اس کی گردن میں رسی ڈالی اور اس کو لے گئے، اتنے میں اُدھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آ گئے اور انھوں نے ان کو واقعہ کی خبر دی، پس وہ اور ان کے ساتھی گئے اور ان کی اونٹنیاں واپس کر کے اس کو واپس لے آئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ ایک سال تک اس واقعہ سے ہنستے رہے۔
Takhreej
(۹۹۲۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف زمعۃ بن صالح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۱۹ (انظر: ۲۶۶۸۷)
9921
Zaeef
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیْدِ بْنِ صَیْفِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: اِنَّ صُھَیْبًا قَدِمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَیْنَیَدَیْہِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ، فَقَالَ: ((ادْنُ فَکُلْ)) فَاَخَذَ یَاْکُلُ مِنَ التَّمْرِ۔ فقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ بِعَیْنِکَ رَمَدًا۔)) فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنّمَا آکُلُ مِنَ النَّاحِیَۃِ الْاُخْرٰی، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۶۷)
۔ عبد الحمید بن صیفی اپنے باپ اور وہ ان کے دادے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے خشک کھجوراور روٹی پڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا اور کھا۔ پس اس نے کھانا شروع کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: بیشک تیری آنکھ بیمار ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دوسرے کنارے سے کھا لیتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے۔
Takhreej
(۹۹۲۲) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۴۴۳ (انظر: ۲۳۱۸۰)
Explanation
فوائد:… ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: ((تَاْکُلُ تَمْرًا وَبِکَ رَمَدٌ۔)) … تو کھجور کھاتا ہے، جبکہ تیری آنکھ خراب ہے۔ خشک کھجور کو ذرا زور سے چبانا پڑتا ہے، جبکہ اس سے آنکھ کو تکلیف ہوتی ہے۔ دوسرے کنارے سے مراد دوسری طرف سے چبانا ہے، دراصل اس صحابی نے بے تکلفی سے بات کی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے۔
9922
Sahih
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جِدَالٌ فِیْ الْقُرْآنِ کُفْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
Takhreej
(۹۹۲۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۵۲۹ (انظر: ۱۰۴۱۴)
Explanation
فوائد:… مجتہدین میں اختلافِ رائے تو یقینی ہے، اس حدیث میں مذکورہ اختلاف سے مراد اس کی ناجائز صورت ہے یا ایسا اختلاف مراد ہے، جو ناجائز صورت تک پہنچا دیتا ہے، جیسے نفس قرآن کے بارے میں اختلاف کرنا یا ایسے معنی میں اختلاف کرنا جس میں سرے سے اجتہاد ہی جائز نہ ہو یا ایسا اختلاف جو شک و شبہ اور فتنہ و فساد کا باعث بنے۔ شارح ابودود علامہ عظیم آبادی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے میں شک کرنا، یا اس موضوع پر غور و خوض کرنا کہ یہ کتاب محدَث ہے یا قدیم،یا متشابہ آیات میں مجادلانہ انداز میں بحث مباحثہ کرنا۔ ان سب امور کا نتیجہ انکار اور کفر کی صورت میں نکلتا ہے۔ یا قرآن مجید کی سات قراء ت پر مناظرہ کرنا اور کسی ایک قراء ت کو حق تسلیم کر لینا اوردوسری کو باطل یا تقدیر والی آیات پر غیر ضروری بحث کرنا یا ان آیات کو موضوعِ بحث بنا کر مضامینِ قرآن میں ٹکراؤ پیدا کرنا، جن کے معانی میں ظاہری طور پر تضاد پایا جاتا ہے۔ (عون المعبود: ۴۶۰۳ کے تحت، مفہوم پیش کیا گیا) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے سیدنا نواس بن سمعان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کے بعد کہا: اس کا معنییہ ہے کہ دو افراد ایک آیت کے بارے میں مجادلانہ گفتگو کریں، نتیجتاً ایک اس کا انکار کر دے، یا اس کو ردّ کرے یا اس کے بارے میں شک میں پڑ جائے۔ ایسا جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (صحیحہ: ۳۴۴۷) ملا علی قاری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: جھگڑنے سے مراد ایک دوسرے کا ردّ کرنا ہے، مثلا ایک آدمی ایک آیت سے ایک استدلال کرتا ہے، جبکہ دوسرا آدمی کسی دوسری آیت سے اس کے الٹ استدلال کر کے اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، حالانکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے کو چاہیے کہ ایسی آیات میں جمع و تطبیق کی کوئی صورت پیدا کرے، تاکہ یہ نقطہ واضح ہو جائے کہ قرآن کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، اگر وہ مختلف آیات میں موافقت پیدا نہ کر سکے تو اس کو اپنے علم و فہم کی کوتاہی سمجھے اور ان آیات کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف منسوب کر دے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ}… (سورۃ النسائ: ۵۹)! پھر انھوں نے ایک مثال دی: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ} … (سورۃ النسائ: ۷۸) کہہ دیجئے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جبکہ دوسرے مقام پر فرمایا: {مَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَ مَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ} … (سورۃ النسائ: ۷۹) تجھے جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے تو تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔ تناقض: پہلی آیت میں ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا اور دوسری آیت میں برائی کو بندے کی طرف منسوب کیا گیا۔ (اگر دوسری آیات، احادیث اور اجماعِ امت کو دیکھا جائے تو سب سے بہترین جمع و تطبیقیہ ہے کہ برائی بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتی ہے، لیکنیہ برائی نفس کے گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا،یعنییہ نفس کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ} (سورۃ الشوریٰ: ۳۰) … تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے، اوربہت سے گناہ تو (اللہ) معاف ہی فرما دیتا ہے۔ ) لیکن اگر تقدیر کا منکر اس بات پر ڈٹ جائے کہ برائی کا خالق انسان خود ہے اور انکارِ تقدیر پر بطورِ دلیل پیش کرے، تو یہی مجادلہ ہو گا، جس سے منع کیا گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/ ۴۹۳، مفہوم لکھا گیا ہے، بریکٹ والا پیراگراف راقم الحروف کی طرف سے بیان کیا گیا)۔ اگر کوئی مسلمان بعض آیات کو نہ سمجھ پا رہا ہو تو وہ درج ذیل حدیث کو مدنظر رکھے۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ قرآن میں اختلاف کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا ردّ کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذا: ضَرَبُوا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہٗبِبَعْضٍ،وَاِنَّمَانَزَلَکِتَابُ اللّٰہِ یُصَدِّقُ بَعْضُہٗبَعْضَا،فَـلَاتُکَذِّبُوْابَعْضَہٗبِبَعْضٍ،فَمَاعَلِمْتُمْمِنْہُفَقُوْلُوا،وَمَاجَھِلْتُمْفَکِلُوْہٗاِلٰی عَالِمِہِ۔)) … تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ وہ کتاب اللہ کے بعض حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ٹکراتے تھے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم اس کے ایک حصے کی وجہ سے اس کے دوسرے حصے کو نہ جھٹلاؤ۔ جتنا تم جان لو وہ بیان کرو، اور جو نہ جان سکو اس کو اس کے عالم کے سپرد کر دو۔ (احمد، ابن ماجہ)
9923
Sahih
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ ھُدًی کَانُوْا عَلَیْہِ اِلَّا اُوْتُوْا الْجَدَلَ۔)) ثُمَّ تَلَاھٰذِہِ الْآیَۃَ {مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ}۔ (مسند احمد: ۲۲۵۵۷)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد گمراہ نہیں ہوتی، مگر اس طرح کہ وہ جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیںیا وہ؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (سورۂ زخرف: ۵۸)
Takhreej
(۹۹۲۴) تخریج: حدیث حسن بطرقہ وشواھدہ، أخرجہ الطبرانی: ۸۰۶۷ (انظر: ۲۲۲۰۴)
9924
Sahih
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُؤ ْمِنُ الْعَبْدُ الْاِیْمَانَ کُلَّہُ حَتّٰییَتْرُکَ الْکَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَۃِ، وَیَتْرُکُ الْمِرَائَ وَاِنْ کَانَ صَادِقًا۔)) (مسند احمد: ۸۶۱۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیںپہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے، سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیںپہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے،
Takhreej
(۹۹۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، مکحول لم یسمع من ابی ھریرۃ، ومنصورُ بن آذِین مجھول (انظر: ۸۶۳۰)
9925
Zaeef
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۲۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ ابَغْضَ الرِّجَالِ اِلَی اللّٰہِ الْاَلَدُّ الْخَصِمُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۲۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ آدمی ہے جو سخت جھگڑالوہو۔
Takhreej
(۹۹۲۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۶۸(انظر: ۲۵۷۰۴)
Explanation
فوائد:… مجادلہ اور مخاصمہ اس قدر قبیح صفت ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے موصوف سے بغض رکھتے ہیں، جھگڑا جیسا بھی ہو، بالآخر جھگڑالو کو قابل مذمت بنا کے ہی چھوڑتا ہے۔ جھگڑالو آدمی اپنی تمام تر صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے، فسق وفجور بکتا ہے، دوسروں کی حرمتیں پامال کرتا ہے، ضد اور ہٹ دھرمی پر تل جاتا ہے، اس میں تکبر اور نخوت جیسے شیاطین ابھر آتے ہیں، الغرض وہ آپے سے باہر ہو کر لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی کا مصداق بن جاتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں حتی الوسع اپنے حق کی خاطر بھی جھگڑا کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((أَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَأِنْ کَانَ مُحِقًّا۔)) (ابوداود)… میں اس شخص کے لیے جنت کی اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا۔ جھگڑالوسے اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ نفرت فرماتے ہیںاور اگر غور کیاجائے تو لڑائی جھگڑے میں اتنی بڑی قباحتیں ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی اللہ کا محبوب نہیں ٹھہر سکتا: ۱۔ جھگڑا لو شخص اپنی اصلیت و اوقات پر نظر نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پانی کی بوندسے اسے خوبصورت وجود عطا کرتے ہوئے عقلِ سلیم جیسی عظیم نعمت سے ہمکنار فرمایا، اس قدر عظیم احسان کے باوجود اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی ،تعصب اور باہم دست و گریبان ہونے سے باز نہ آئے اور کبرو نخوت کا شکار رہے تو وہ کبھی بھی اللہ کا محبوب نہیں بن سکتا۔ ۲۔ لڑائی جھگڑا ایک ایسا گناہ ہے جس میں کئی گناہ شامل ہوجاتے ہیں، مثلاً ہاتھ اور زبان کا ناروا استعمال، بغض،حسد، تہمت اور گالم گلوچ وغیرہ ۔غرض کہ آدمی لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے، ایمان و اسلام کی تمام اقدار کھو دیتا ہے ،اور فسق و فجور تک پہنچ جاتا ہے۔ جس دل میںایمان کی رتی ہو وہ شخص ضدی، ہٹ دھرم اور جھگڑالونہیں ہوتا۔ نیز جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے اُس پر کسی وقت بھی اپنا عذاب نازل فرمادیتے ہیں۔
9926
Sahih
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُبْغِضُ الْبَلِیْغَ مِنَ الرِّجَالِ، الَّذِیْیَتَخَلَّلُ بِلِسَانِہِ کَمَا تَخَلَّلَ الْبَاقِرَۃُ بِلِسَانِھَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۳)
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ آدمیوں میں سے اس بلاغت جھاڑنے والے شخص کو سخت ناپسند کرتا ہے جو (منہ پھاڑ پھاڑ کر تکلف و تصنّع سے گفتگو کرتے ہوئے) اپنی زبان کو گائے کے جگالی کرنے کی طرح بار بار پھیرتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۲۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۵۰۰۵، والترمذی: ۲۸۵۳ (انظر: ۶۵۴۳)
Explanation
فوائد:… تصنع کے ساتھ منہ بھر کر، رگیں پھلا کر، باچھیں کھول کر اور بڑھکیں مار مار کر بات کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں، ایسے لوگ بال کی کھال اتارتے ہیں، لایعنی بحثیں کرتے ہیں، ماورائے عقل باتوں میں دخل دیتے ہیں، مبالغہ کرتے ہوئے فصاحت و بلاغت چھانٹتے ہیں اور سامعین و حاضرین سے داد وصول کرنے کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔ جبکہ شریعت ِ اسلامیہ سادگی، تواضع اور قدرتی انداز کو پسند کرتی ہے، شریعت کا تقاضا ہے کہ قول و فعل میں غلو نہ کیا جائے اور تمام معاملات سادگی کے ساتھ نبٹائے جائیں۔ قارئین کرام! شاید آپ اس بات میں ہمارے ساتھ موافقت کریں کہ تکلف و تصنع اور فصاحت و بلاغت نے دیرپا اثرات نہیں چھوڑے، فی الوقت سامعین سے بلّے بلّے وصول کر لینا اور لوگوں کو حیطۂ حیرت میں ڈال دیناتو ممکن ہے، لیکن خطابات کے ایسے انداز سے لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہمارے وطن کی زمین گواہ ہے کہ جو لوگ بظاہر متقی ہیں، سادہ انداز میں گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنی تقریر کے عملی تقاضے پورے کرنے والے ہوتے ہیں، تو عوام الناس کو ان کی تقاریر سے استفادہ کرنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ واللہ اعلم۔
9927
Sahih
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِشِرَارِکُمْ؟ فَقَالَ: ھُمُ الثَّرْثَارُوْنَ، الْمُتَشَدِّقُوْنَ، اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخِیَارِکُمْ؟ اَحَاسِنُکُمْ اَخْلَاقًا۔)) (مسند احمد: ۸۸۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ وہ ہیں جو فضول بولنے والے اور گفتگو کے لیے باچھوں کو موڑنے والے ہوں۔ نیز کیا تمہیں تمہارے بہترین افراد کے بارے میں بتاؤں؟ وہ ہیں جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے ہوں۔
Takhreej
(۹۹۲۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۲۵۴، والبزار: ۱۹۷۱ (انظر: ۸۸۲۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں حسنِ اخلاق کی ترغیب اور غیر ضروری، غیر محتاط اور تصنع و بناوٹ سے گفتگو کرنے اور اس کے ذریعے سے دوسروں پر رعب و برتری جتانے سے اجتناب کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ گویا کم بولنا اور سادگی سے گفتگو کرناپسندیدہ ہے اور اس کے برعکس زیادہ بولنا اور وہ بھی دوسروں پر ہیکٹر جمانے کے لیے گفتگو میں تیزی و طراری اور تصنع اختیار کرنا سخت ناپسندیدہہے۔
9928
Sahih
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۲۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِیْنَیُشَقِّقُوْنَ الْکَلَامَ تَشْقِیْقَ الشِّعْرِ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۲۴)
۔ سیدہ معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے، جو شعروں کی طرح کلام کی شقیں نکالتے ہیں۔
Takhreej
(۹۹۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۸۴۸ (انظر: ۱۶۹۰۰)
9929
Zaeef
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۳۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِیْبَانِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَا فَتَکَلَّمَا، ثُمَّ قَعَدَا، وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ خَطِیْبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَکَلَّمَ، ثُمَّ قَعَدَ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِھِمْ، فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! قُوْلُوْا بِقَوْلِکُمْ، فَاِنّمَا تَشْقِیْقُ الْکَلَامِ مِنَ الشَّیْطَانِ۔)) قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں مشرق کی طرف سے دو خطیب آدمی آئے، انھوں نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور پھر بیٹھ گئے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطیب سیدنا ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کرنے کے بعد وہ بھی بیٹھ گئے، پس لوگوں کو ان کی گفتگو سے بڑا تعجب ہوا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! (طبعی انداز میں اور بغیر کسی تکلف اور تصنّع کے) اپنا مدّعا بیان کر دیا کرو، پس بیشک کلام کی شقیں نکالنا شیطان کی طرف سے ہے ۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۹۹۳۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ مختصرا البخاری: ۵۷۶۷ (انظر: ۵۶۸۷)
9930
Sahih
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۳۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: جَائَ رَجُلَانِ مِنْ اَھْلِ الْمَشْرِقِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ بَیَانِھِمَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا، وَاِنَّ بَعْضَ الْبَیَانِ سِحْرٌ۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۱)
۔ (دوسری سند) اہل مشرق سے دو آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آئے اور انھوں نے ایسے انداز میں خطاب کیا کہ لوگ تعجب میںپڑ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں، بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۹۹۳۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… بیان کی دو قسمیں ہیں: (۱) وہ بیان جس سے گفتگو کرنے والے کی مراد واضح ہو جائے، زبان کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ (۲) وہ بیان جس کے الفاظ کو اہتمام کے ساتھ خوبصورت بنایا جائے اور تکلف کے ساتھ بولا جائے، تاکہ سامعین کے دل خطیب کی طرف مائل ہو جائیں اور وہ اس کے فن پر حیران و ششدر ہو کر رہ جائیں، ایسا بیان قابل تعریف بھی ہو سکتاہے اور قابل مذمت بھی، اگر اس کے ذریعے حق کی تائید کی جائے اور لوگوں کو سچائی کی طرف لے جائے تو وہ قابل تعریف ہو گا، اور اگر اس کے ذریعے باطل کو رواج دیا جائے اور قبیح کو خوبصورت کر کے پیش کیا جائے تو وہ قابل مذمت ہو گا، بیچ میں خطیب کو یہ فکر بھی کرنا پڑے گی کہ آیا اس کے خطاب میں ریاکاری اور نمود و نمائش کی بدبو تو نہیں آ رہی۔
9931
Sahih
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۳۲)۔ عَنْ سُھَیْلِ بْنِ ذِرَاعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ مَعْنَ بْنَ یَزِیْدَ اَوْ اَبَا مَعْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اجْتَمَعُوْا فِیْ مَسَاجِدِکُمْ فَاِذَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فلْیُؤْذِنُوْنِیْ۔)) قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا اَوَّلَ النَّاسِ فَاَتَیْنَاہُ فَجَائَ یَمْشِیْ مَعَنَا حَتّٰی جَلَسَ اِلَیْنَا، فَتَکَلَّمَ مُتَکَلِّمٌ مِنَّا، فَقَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَیْسَ لِلْحَمْدِ دُوْنَہُ مُقْتَصِرٌ، لَیْسَ وَرَائَ ہُ مَنْفَذٌ، وَنَحْوًا مِنْ ھٰذَا، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ، فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا، فَقُلْنَا: خَصَّنَا اللّٰہُ بِہٖاَنْاَتَانَااَوَّلَالنَّاسِوَاَنْفَعَلَوَفَعَلَ،قَالَ: فَاَتَیْنَاہُ فَوَجَدْنَاہُ فِیْ مَسْجِدِ بَنِیْ فُلَانٍ، فَکَلَّمْنَاہُ فَاَقْبَلَ یَمْشِیْ مَعَنَا حَتّٰی جَلَسَ فِیْ مَجْلِسِہِ الَّذِیْ کَانَ فِیْہِ اَوْ قَرِیْبًا مِنْہُ ثُمَّ، قَالَ: ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ مَاشَائَ اللّٰہُ جَعَلَ بَیْنَیَدَیْہِ وَمَاشَائَ جَعَلَ خَلْفَہُ، وَاِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرًا۔)) ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا فَاَمَرَنَا وَکَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا۔ (مسند احمد: ۱۵۹۵۵)
۔ سیدنا معن بن یزیدیا سیدنا ابو معن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں جمع ہو جاؤ، جب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے بتلانا۔ پس ہم سب سے پہلے جمع ہو گئے، پھر ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے، یہاں تک کہ ہمارے پاس بیٹھ گئے، پھر ہم میں سے ایک مقرر نے کلام کیا اور کہا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس سے پہلے کسی کی تعریف پر اقتصار نہیں ہے اور جس کی تعریف سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا، یا اس قسم کی بات کی، لیکن ہوا یوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے ہو کر چلے گئے، ہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کیا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے اس اعتبار سے ہم کو خاص کیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے اور اب یہ کچھ ہو گیا۔ پھر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ساتھ چل پڑے،یہاں تک کہ اسی مقام میںیا اس کے قریب بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اب یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اس تعریف کو موجودہ وقت سے پہلے بنائے یا اس کے بعد، اور بیشک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں حکم دیئے، ہم سے کلام کیا اور ہمیں بعض امور کی تعلیم دی۔
Takhreej
(۹۹۳۲) تخریج: بعضہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۰۷۴ (انظر: ۱۵۸۶۱)
Explanation
فوائد:… جس سے پہلے کسی کی تعریف پر اقتصار نہیں ہے اور جس کی تعریف سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ اس جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ سے پہلے کسی کی تعریف کی جاتی ہے تو اس کی تعریف پر اقتصار نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ موضوع آگے بڑھے گا اور اللہ تعالیٰ تک پہنچ جائے گے، کیونکہ وہ تعریف کا حقیقی مستحق ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کی تعریف کی جائے گی، تو اس سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غصے کی وجہ یہ تھی کہ اس متکلم نے کلام میں مبالغہ کیا اور حمد کو اس طرح بند کر دیا کہ اس کے نکلنے کی جگہ ہی نہیں رہی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر کے اس کا طریقہ بتلایا۔
9932
Sahih
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۳۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییَخْرُجَ قَوْمٌ یَاْکُلُوْنَ بِاَلْسِنَتِھِمْ، کَمَا تَاْکُلُ الْبَقَرُ بِاَلْسِنَتِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۷)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک بپا نہیں ہو گی، جب تک ایسے لوگ نہ نکل آئیں، جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائے اپنی زبان سے کھاتی ہے۔
Takhreej
(۹۹۳۳) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۵۹۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ زبان کے ذریعے کمائی کرنے کو پیشہ بنا لیں گے اور تکلف کے ساتھ بڑھکیں مارتے ہوئے زبان کو ایسے چلائیں گے، جیسے چرتے وقت گائے کی زبان نظر آتی ہے۔
9933
Sahih
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۳۴)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَجُلًا اِسْتَاْذَنَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ائْذَنُوْا لَہُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِیْرَۃِ اَوْ بِئْسَ اَخُوْ الْعَشِیْرَۃِ۔)) وقَالَ مَرَّۃً: رَجُلٌ، فلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہِاَلَانَ لَہُ الْقََوْلَ، فلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَۃُ: قُلْتَ لَہُ الَّذِیْ قُلْتَ ثُمَّ اَلَنْتَ لَہُ الْقَوْلَ! فَقَالَ: ((اَیْ عَائِشَۃُ! شَرُّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ وَدَعَہُ النَّاسُ اَوْ تَرَکَہُ النَّاسُ اِتْقَائَ فُحْشِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ) اِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ اَوْ شَرِّ النَّاسِ الّذِیْنَیُکْرَمُوْنَ اتِّقَائَ شَرِّھِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۰۷)
۔ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اسے دیکھ کر) فرمانے لگے: اس آدمی کو اجازت دے دو، یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے۔ پھر جب وہ اندر آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے ساتھ نرم برتاؤ کیا، جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! پہلے تو آپ نے جو کچھ کہا وہ کہا، پھر اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا،(ان دو قسم کے رویوں کی کیا وجہ ہے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت والے دن مرتبہ کے اعتبار سے بدترین لوگ وہ ہوں گے کہ جن کے شرّ سے بچنے کے لیے لوگ ان سے لاتعلق ہو جائیں۔ ایک روایت میں ہے: بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے شرّ سے بچنے کے لیے ان کی عزت کی جاتی ہو۔
Takhreej
(۹۹۳۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۰۵۴، ۶۱۳۱، ومسلم: ۲۵۹۱ (انظر: ۲۴۱۰۶)
9934
Sahih
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
۔ (۹۹۳۵)۔ عَنْ اَبِیْیُوْنُسَ مَوْلیٰ عَائِشَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اِسْتَاْذَنَ رَجُلٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((بِئْسَ ابْنُ الْعَشِیْرَۃِ۔)) فَلَمَّا دَخَلَ ھَشَّ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَانْبَسَطَ اِلَیْہِ ثُمَّ خَرَجَ، فَاسْتَاْذَنَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نِعْمَ ابْنُ الْعَشِیْرَۃِ)) فَلَمَّا دَخَلَ لَمْ یَنْبَسِطْ اِلَیْہِ کَمَا انْبَسَطَ اِلَی الْآخَرِ، وَلَمْ یَھَشَّ لَہُ کَمَا ھَشَّ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اسْتَاْذَنَ فُلانٌ فَقُلْتَ لَہُ مَاقُلْتَ، ثُمَّ ھَشَشْتَ لَہُ وْانْبَسَطْتَ اِلَیْہِ وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَاقُلْتَ، وَلَمْ اَرَکَ صَنَعْتَ بِہْ مَاصَنَعَتَ لِلْآخَرِ، فَقَالَ: ((یَاعَائِشَۃُ! اِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنِ الُّقِیَ لِفُحْشِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ خوشی اور بے تکلفی سے پیش آئے، پھر وہ آدمی چلا گیا، اتنے میں ایک دوسرا آدمی آ گیا، اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اپنے خاندان کا بہترین آدمی ہے۔ پھر جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ساتھ نہ اس طرح بے تکلفی سے پیش نہ آئے، جیسے پہلے سے آئے تھے اور نہ اس کے ساتھ خوش ہوئے، جب وہ یہ آدمی بھی چلا گیا تو میں (عائشہ) نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب فلاں آدمی نے آپ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اس کو خاندان کا برا آدمی قرار دیا، لیکن پھر اس کے ساتھ خوش اور بے تکلفی سے پیش آئے اور فلاں آدمی کے بارے میں تبصرہ تو اچھا کیا، لیکن اس کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا، جو پہلے سے کیا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کے شر سے بچا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۹۳۵) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۵۲۵۴)
Explanation
فوائد:… بالاتفاق غیبت حرام ہے۔ امام نووی نے کہا: کسی صحیح شرعی مقصد کے لیے غیبت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اس مقصد تک اس کے بغیر پہنچنا ناممکن ہو۔ جواز کی چھ صورتیں ہیں، (تلخیص کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں): ۱۔ دست درازی کا ہونا: مظلوم کے لیے جائز ہے کہ بادشاہ یا قاضی کے سامنے اپنے ظالم کی زیادتی کا تفصیلی بیان کرے۔ ۲۔ خلافِ شرع امور کو روکنا اور برائیوں کے مرتکب کو راہِ راست پر لانے کے لیے مدد حاصل کرنا: مثلا برے آدمی کی برائی کا کسی ایسے آدمی کے سامنے تذکرہ کرنا، جس کو غالب گمان کے مطابق اسے اس برائی سے روکنے پر قدرت حاصل ہو۔ ۳۔ فتوی طلب کرنا: جیسے کوئی مظلوم کسی مفتی کے پاس جا کر کہے کہ میرے باپ یا بھائی وغیرہ نے مجھ پر یوں ظلم کیا ہے، کیا اسے یہ حق پہنچتا ہے اور میرے حق میں شریعت کا کیافیصلہ ہے؟ ۴۔ مسلمانوں کی خیرخواہی کرنا: جیسے سند کے راویوں پر جرح کرنا ،کسی مسئلہ میں گواہی دینے والے فاسق گواہوں کے فسق و فجور کی وضاحت کر دینا۔ ۵۔ جو آدمی کھلم کھلا فسق و فجور اور بدعت کا ارتکاب کر رہا ہو، جیسے کوئی علانیہ شراب نوشی کر رہا ہو یا ظلماً ٹیکس وصول کر رہا ہو یا باطل کاموں کی سرپرستی کر رہا ہو، وغیرہ، وغیرہ۔ ایسے لوگوں کے جرائم بیان کرنا جائز ہے تاکہ ان کا ازالہ کیا جا سکے۔ ۶۔ معروف نام سے پکارنا: مفاہیم و معانی کے اعتبار سے کوئی لقب اچھا نہ ہو، لیکن اگر کوئی آدمی اس لقب کے ساتھ مشہور ہو گیا ہو تو اس لقب کے ساتھ اسے پکارنا جائز ہے۔ جیسے: اعمش (چندھا)، اعرج (لنگڑا)۔ لیکن توہین و تنقیص کا ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ (ریاض الصالحین: باب بیان مایباح من الغیبۃ) اس باب کی حدیث میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو غیبت کی مثال پیش کی ہے، یہ جواز کی کون سی صورت سے متعلق ہے؟ امام بخاری کے استدلال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی ظاہری حالت سے دھوکہ کھا جائیں۔ معلوم ہوا کہ جو شخص برے کردار کا حامل ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس جائیں گے، جس سے ان کے دین اور دنیا دونوں یا کسی ایک کا نقصان ہو جائے گا، ایسے شخص کی غیبت کرنا جائز ہو گی۔ اس اعتبار سے یہ جواز کی چوتھی صورت معلوم ہوتی ہے۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس برے آدمی کا اس انداز میں تذکرہ کر کے اس میں پائے جانے والی برائی کی قباحت و شناعت بیان کرنا چاہتے ہوں، تاکہ دوسرے مسلمان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اندازِ غیبت سے اس برائی کی سنگینی کو بھانپ لیں اور عبرت حاصل کریں اور اس بدی سے محفوظ رہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد وہ نیک آدمییہ انداز اختیار کر سکتا ہے، جس کا اس قسم کا طعنہ لوگوں کے لیے باعث ِ عبرت ہو اور ان کو فکر مند کر دینے والا ہو۔
9935
Sahih
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۳۶)۔ عَنْ سَعْدٍ یَعْنِیْ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَاَنْ یَمْتَلِیئَ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا حَتّٰییَرِیَہُ خَیْرٌ مِنْ اَنْ یَمْتَلِیْئَ شِعْرًا ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۶)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی کا پیٹ پیپ سے اس قدر بھر جائے کہ وہ اس کو نظر آنے لگے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔
Takhreej
(۹۹۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۵۸(انظر: ۱۵۰۶)
9936
Sahih
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
۔ (۹۹۳۷)۔ وعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۸۳۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۹۹۳۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البخاری: ۶۱۵۵، ومسلم: ۲۲۵۷ (انظر: ۸۳۵۷)
9937
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.