۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سات موتوں سے پناہ طلب کی ہے، اچانک موت سے، سانپ کے ڈسنے سے، درندے سے، غرق سے، جلنے سے، کسی چیز پر گرنے سے، اس سے کہ کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گر جائے اور لڑائی سے بھاگتے وقت قتل ہو جانے سے۔
Takhreej
(۱۰۰۱۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ، ومالک بن عبد اللہ مجھول، أخرجہ البزار: ۷۸۲ (انظر: ۱۷۸۱۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیع نجش نہ کرو، باہمی قطع تعلقی سے بچو، کسی چیز میں باہم مقابلہ نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد کرنے سے بچو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، شہری دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ بعض کو بعض سے رزق دیتا ہے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گودنے والیوں پر، گدوانے والیوں پر، بال جوڑنے والیوں پر، بال جروانے والیوں پر، حلالہ کرنے والے پر، اس پر جس کے لیے حلالہ کیا جائے، سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔
فوائد:… جلد میں سوئی وغیرہ چبھو کر خون نکالنا اور پھر اس جگہ پر سرمہ یا نیل وغیرہ بھر دینا تاکہ وہ جگہ سیاہیا سبز ہو جائے، اسے گودنا کہتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ اپنے حسن و جمال میں بزعم خود اضافہ کرنے کی نیت سے اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں کمی بیشی کر کے رد وبدل کرنا ممنوع اور حرام ہے۔ تاہم بالوں پر مہندییا کوئی اور رنگ لگانا جائز ہے، ماسوائے سیاہ رنگ کے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۰/۳۷۲۔ ۳۷۳) میں کہا: خوبصورتی کے لیے دانتوں میں فاصلہ ڈالنے والیاں :حدیث ِ مبارکہ کے اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فعل اس وقت قابل مذمت ہو گا، جب اسے حسن کی خاطر کیا جائے، اگر علاج وغیرہ کروانے کے لیے ایسا کرنا پڑجائے تو جائز ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرنے والیاں : یہ ہر اس فرد کی صفت ِ لازمہ ہے جو گودنے یا گدوانے، ابروؤں کے بال اکھاڑنے یا اکھڑوانے، بال لگانے یا لگوانے یا دانتوں میں شگاف ڈالنے کا کام کرتاہے۔
علامہ عینی نے (عمدۃ القاری: ۲۲/ ۶۳) میں کہا: اللہ تعالیٰ کی لعنت پڑنے کا سبب یہی ہے کہ یہ عورتیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرتی ہیں۔ اس بحث سے پتہ چلتا ہے کہ شیخ غماری کا قول ساقط اور فاسد ہے، اس نے اپنے رسالے (تنویر البصیرۃ ببیان علامات الکبیرۃ: صـ ۳۰) میں کہا: اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی صورت کو تبدیل کرنے کا
مصداق وہ چیز ہے، جس کا اثر باقی رہتا ہے، مثلا گودنا یا گدوانا یا دانتوں میں شگاف ڈالنا، یا وہ چیز جو دوبارہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتی ہو، مثلا ابروؤں کے بال اکھاڑنا، کیونکہیہ دوبارہ کافی دنوں کے بعد اگنا شروع ہوتے ہیں۔رہا مسئلہ داڑھی کو مونڈنے کا، تو اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے کے ساتھ نہیں ہے، کیونکہ دوسرے دن بال اگ آتے ہیں …
میں (البانی) کہتا ہوں: شیخ غماری کا یہ فرق کئی پہلوؤں سے باطل ہے:
اوّلًا:… یہ محض دعوی ہے، کتاب وسنت کی کوئی دلیل اور کوئی قول اس پر دلالت نہیں کرتا، لوگ کہتے تھے:
والدعاوی ما لم تقیموا علیھا
بینات ابناؤھا ادعیاء
جن دعووں پر تم دلائل پیش نہیں کر سکتے، (ان کی حیثیت) منہ بولے بیٹوں جتنی ہوتی ہے۔
ثانیاً :… یہ دعوی حدیث کے الفاظ بال جوڑنے والیاں کے مخالف ہے، کیونکہ بال جوڑنا اُس گودنے یا گدوانے کی طرح تو نہیں ہے جو سرے سے زائل نہ ہوتا ہو یا آہستہ آہستہ زائل ہو جاتا ہو، بالخصوص وگ کی صورت میں، کیونکہ اسے تو یوں جلدی سے زائل کیا جا سکتا ہے، جیسے ٹوپی اتار لی جاتی ہے۔
ثالثاً:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی للہ عنہ نے پیشانی کے بال مونڈنے پر انکار کیا اور اسی حدیث سے دلیل پکڑی، جیسا کہ ہیثم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مونڈنے اور اکھاڑنے میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ دونوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ بالوں کو اکھاڑنا ابروؤں کے بالوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، جیسا کے بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے، آپ خود سوچیں۔
رابعاً:… شیخ غماری کی رائے متقدمین کہ فھم کے مخالف ہے، حافظ ابن حجر کا قول گزر چکا ہے، اس سے زیادہ واضح اور مفید قول امام طبری کا ہے، انھوں نے (۱۰/۳۷۷) کہا:
اللہ تعالیٰ نے جس صورت پر عورت کو پیدا کیا، وہ حسن و جمال کی خاطر اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کر سکتی ہے، یہ تبدیلی خاوند کے لیے کی جائے یا کسی اور مقصد کے لیے۔ مثلا ابروؤں کے ملے ہوئے بالوں کے درمیان سے کچھ بال زائل کر کے ان کو علیحدہ علیحدہ کرنا، زائد دانت کو اکھاڑنا، لمبے دانت کو کٹوانا، ٹھوڑییا اوپر والے ہونٹ یا نیچے والے ہونٹ کے نیچے اگے ہوئے بالوں کو نوچنا، سر کے بالوں کے ساتھ اور بال لگا کر ان کو لمبا کرنایا گھنا کرنا۔ یہ ساری صورتیں نہی میں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت اور تخلیق کو بدلنے کے مترادف ہیں۔ ہاں اگر کسی کو جسم کے کسی حصے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اسے زائل کرنا جائز ہے، مثلا ایسا زائد یا طویل دانت جو کھانا کھانے سے مانع ہو …
میں (البانی) کہتا ہوں: اگر آپ امام طبری کے اس کلام پر غور کریں ، تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ غماری کا قول باطل ہے۔ (صحیحہ: ۲۷۹۲)
جو مرد اپنے رخساروں اور گردن کے بال کو صاف کرتے یا اکھاڑتے ہیں، کیا ان کا یہ فعل بھی لعنتی ہے؟ اگر علت اور سبب کو دیکھا جائے تو اس کے فعل کو لعنتی کہا جائے گا، کیونکہ وہ بھی حسن تلاش کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کر رہا ہے۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان آٹھ چیزوں سے پناہ طلب کرتے تھے: غم، رنج، عاجزی، سستی، بخل، بزدلی، قرضے کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے: سود کھانے والا، سود کھلانے والا، اس کے دو گواہ، اس کو لکھنے والا، خوبصورتی کے لیے گودنے والی اور گدوانے والی، زکوۃ نہ دینے والا، حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے بھی منع کرتے تھے۔
Takhreej
(۱۰۰۲۲) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۹۳۵، والترمذی: ۱۱۱۹ (انظر: ۸۴۴)
۔ امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان افراد پر لعنت کی ہے: سود کھانے والا، کھلانے والا، اس کے معاملے کو لکھنے والا اور اس کا گواہ، گودنے والی، گدوانے والی، حلالہ کرنے والا، وہ شخص کہ جس کے لیے حلالہ کیا جائے، زکوۃ کو روکنے والا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ سے منع کرتے تھے۔ راوی نے نوحہ کے لیے لعنت کے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ ابن عون نے کہا: کیا بیماری کی وجہ سے گدوانا جائز ہے؟ امام شعبی نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۱۰۰۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف الحارث الاعور (انظر: ۱۱۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے: (۱) سونے کی انگوٹھی، (۲) تہبند کو گھسیٹنا، (۳) صفرہ یعنی خلوق خوشبو، (۴) سفید بالوں کو تبدیل کر دینا،یعنی ان کو اکھاڑ دینا، (۵) مادۂ منویہ کو اس کے محل سے دور گرانا یعنی عزل کرنا، (۶) معوذات کے علاوہ دم کرنا، (۷) بچے میں فساد پیدا کرنا، لیکن اس کام کو حرام نہیں قرار دیا، (۸) تمیمے لٹکانا، (۹) بے محل موقع پر عورت کا زینت اختیار کرنا اور (۱۰) نرد کھیل کے مہرے مارنا۔
Takhreej
(۱۰۰۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن حرملۃ الکوفی، قال البخاری: لم یصح حدیثہ،یعنی ان عبد الرحمن لم یسمع ابن مسعود، وقاسم بن حسان، قال ابن حجر: مقبول، یعنی عند المتابعۃ والا فھو لین الحدیث، أخرجہ ابوداود: ۴۲۲۲، والنسائی: ۷/ ۱۴۱ (انظر: ۴۱۷۹)
Explanation
فوائد:… بچے میں فساد پیدا کرنے سے مراد غیلہ ہے، یعنی خاوند کا اپنی بیوی سے اس وقت جماع کرنا، جب وہ اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔
یہ روایت ضعیف ہے اور ان امور کی وضاحت ان سے متعلقہ ابواب میں ہو چکی ہے۔
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دس امور کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تونے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرانا، اگرچہ تجھ کو قتل کر دیا جائے اور جلا دیا جائے، ہر گز والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھ کو حکم دیں کہ تو اپنے اہل و مال سے نکل جائے، جان بوجھ کر ہر گز فرضی نماز کو ترک نہیں کرنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر فرضی نماز ترک کر دی، اللہ تعالیٰ کا ذمہ اس سے بری ہو جائے گا، تو نے ہر گز شراب نہیں پینی، کیونکہ وہ ہر بے حیائی کی جڑ ہے، نافرمانی سے بچنا، کیونکہ نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہوتی ہے، لڑائی والے دن بھاگنے سے بچنا ہے، اگرچہ لوگ مر رہے ہوں، جب لوگ کثرت سے موت میں مبتلا رہے ہوں، جبکہ تو ان میں موجود ہو تو تو نے ثابت قدم رہنا ہے، اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل و عیال پر خرچ کر، ان کو ادب سکھانے کے لیے اپنی لاٹھی کو ان سے دور نہ کر اور ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرا۔
Takhreej
(۱۰۰۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد الرحمن بن جبیر لم یدرک معاذا، ولبعضہ شواھد، أخرجہ بنحوہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۱۵۶ (انظر: ۲۲۰۷۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَوْصَانِی خَلِیلِی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ ((لَا تُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ وَلَا تَتْرُکْ صَلَاۃً مَکْتُوبَۃً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَکَہَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ فَإِنَّہَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ۔)) … میرے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، اگرچہ تجھ کو کاٹ دیا جائے اور جلا دیا جائے، تو جان بوجھ کر فرضی نماز نہ چھوڑ، کیونکہ جو آدمی جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا، اس سے (اللہ کا) ذمہ بری ہو جائے گا اور شراب نہ پی، کیونکہ وہ ہر شرّ کی چابی ہے۔ (ابن ماجہ: ۴۰۲۴)
۔ ابو حصین ہیثم بن شُفَی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا ابو عامر نامی ایک ساتھی (بیت المقدس کے شہر) ایلیا میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، میرے ساتھی کا تعلق یمن کے مقام معافر سے تھا، ان کا واعظ ازدی تھا، اس کو ابو ریحانہ کہتے تھے اور وہ صحابی تھا، ابو حصین کہتے ہیں: میرا ساتھ مجھ سے پہلے مسجد میںپہنچ گیا، پھر جب میں مسجد میں پہنچا تو اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، انھوں نے مجھ سے سوال کیا: کیا تم نے سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ کے قصے سنے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: میں نے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِن دس چیزوں سے منع کیا ہے: دانتوں کو باریک کرنا، تل بھرنا، بالوں کو اکھاڑنا، بغیر لباس کے مرد کا مرد کے ساتھ لیٹنا، اسی طرح بغیر لباس سے عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنا، مرد کا اپنے کپڑوں کے نچلی طرف اور کندھوں پر عجموں کی طرح (ریشم) ڈالنا، ڈاکہ زنی، چیتوں کے چمڑے کی زین وغیرہ بنا کر اس پر سوار ہونا اور حکومت والے بندے کے علاوہ دوسرے لوگوں کا انگوٹھی پہننا۔
Takhreej
(۱۰۰۲۶) تخریج: صحیح لغیرہ دون النھی عن اتخاذ الأعلام من الحریر اسفل الثیاب، والنھی عن لبوس الخاتم الا لذی سلطان، وھذا اسناد ضعیف، لجھالۃ حال ابی عامر المعافری، أخرجہ ابوداود: ۴۰۴۹، والنسائی: ۸/ ۱۴۳ (انظر: ۱۷۲۰۹)