TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زبان کی آفتوں کے مسائل - زبان کی آفتوں کے مسائل - Book 164 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 164 of Musnad Ahmad, with 30 chapters and 169 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

169 Hadith · 30 Chapters
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْبَعًا فَاَعْجَبْتَنِیْ وَاَیْنَقْنَنِیْ، قَالَ عَفَّانُ: وَاَنْقَنَنِیْ، ((نَھٰی اَنْ تُسَافِرَ الْمَرْاَۃُ مَسِیْرَۃَیَوْمَیْنِ)) قَالَ عَفَّانُ: اَوْ لَیْلَتَیْنِ اِلَّا وَمَعَھَا زَوْجٌ اَوْ ذُوْ مَحْرَمٍ، وَنَھٰی عَنِ الصَّلَاۃِ فِیْ سَاعَتَیْنِ بَعْدَ الْغَدَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغِیْبَ، وَنَھٰی عَنْ صِیَامِیَوْمَیْنِیَوْمِ النَّحْرِ، وَیَوْمِ الْفِطْرِ، وَقَالَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْاَقْصٰی، وَمَسْجِدِیْ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۰۴)
۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چار چیزیں سنی، انھوں نے مجھے تعجب میں ڈال دیا اور مجھے حیران کر دیا ، (۱) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ عورت دو دنوں کی مسافت کا سفر کرے، مگر اس کے ساتھ اس کا خاوند یا کوئی محرم ہونا چاہیے، (۲)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو گھڑیوں میں نماز سے منع فرمایا، نمازِ فجر کے بعد، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور نماز عصر کے بعد، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، (۳)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر کے دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا، نیز (۴) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ پالان نہ کسے جائیں، ما سوائے تین مساجد کے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور یہ مسجد نبوی۔
Takhreej
(۹۹۹۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۱۹۷، ۱۸۶۴، ۱۹۹۵، ومسلم: ۸۲۷ (انظر: ۱۱۶۸۱)
9998
Sahih
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
۔ (۹۹۹۹)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرْبَعٌ مِنَ الْجَاھِلیَّۃِ لَا یُتْرَکْنَ، اَلْفَخْرُ فِیْ الْاَحْسَابِ، وَالطَّعْنُ فِیْ الْاَنْسَابِ، وَالْاِسْتِسْقَائُ بِالنُّجُوْمِ، وَالنِّیَاحَۃُ، وَالنَّائِحَۃُ اِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِھَا تُقَامُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَعَلَیھَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ اَوْ دِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۱)
۔ سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاہلیت کے چار امور کو نہیں چھوڑا جائے گا، حسب میں فخر کرنا، نسب میں طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا، اگر نوحہ کرنے والی خاتون نے مرنے سے پہلے توبہ نہ کی تو اس کو قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کر دیا جائے گا کہ اس پر گندھک کا لباس ہو گا یا خارش کی قمیص ہو گی۔
Takhreej
(۹۹۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۳۴(انظر: ۲۲۹۰۳)
9999
Sahih
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ: یَتَعَوَّذُ مِنْ اَرْبَعٍ، مِنْ عَذَابِ جَھَنَّّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَفِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (مسند احمد: ۷۸۵۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار چیزوں سے پناہ طلب کرتے تھے، جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، حیات و ممات کے فتنے سے اور دجال کے فتنے سے۔
Takhreej
(۱۰۰۰۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۷۸۷۰)
10000
Sahih
پانچ پانچ امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَرَّمَ عَلٰی اُمَّتِی الْخَمْرَ، وَالْمَیْسِرَ، وَالْمِزْرَ، وَالْکُوْبَۃَ، وَالْقِـنِّـیْنَ۔ وَزَادَنِیْ صَلَاۃَ الْوِتْرِ۔)) قَالَ یَزِیْدٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): اَلْقِنِّیْنُالْبَرَابِطُ۔ (مسند احمد: ۶۵۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب، جوا، جو یا گیہوں کی شراب، نرد یا شطرنج اور باجے کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وتر کی صورت میں ایک زائد نماز دی ہے۔ یزید راوی نے کہا: قِنِّیْنسے مراد بَرْبَط یعنی باجہ ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۰۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، فرج بن فضالۃ ضعیف، وابراہیم بن عبد الرحمن مجھول، وابوہ، فی حدیثہ مناکیر، قالہ الامام البخاری (انظر: ۶۵۴۷)
10001
Zaeef
پانچ پانچ امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَبِیْعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا یَزِیْـدُ الرَّجُلُ عَلٰی بَیْعِ اَخِیْہِ، وَلَا یَخْطُبُ عَلٰی خِطْبَتِہِ، وَلَا تَسْاَلُ اْمَرْاَۃٌ طَلاَقَ اُخْتِھَا۔)) (مسند احمد: ۷۶۸۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہری دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، بیع نجش نہ کرو، کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر زیادہ قیمت نہ لگائے، کوئی شخص اپنے بھائی کی منگنی پر پیغامِ نکاح نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنے بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے۔
Takhreej
(۱۰۰۰۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۶۰، ومسلم: ۱۴۱۳(انظر: ۷۷۰۰)
10002
Sahih
پانچ پانچ امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۳)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یَسْرِقُ سَارِقٌ حِیْنَیَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا یَزْنِیْ زَانٍ حِیْنَیَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا یَشْرَبُ الشَّارِبُ حِیْنَیَشْرَبُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ، یَعْنِی الْخَمْرَ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، وَلَا یَنْـتَھِبُ اَحَدُکُمْ نُھْبَۃً ذَاتَ شَرَفٍ، یَرْفَعُ اِلَیْہِ الْمُؤْمِنُوْنَ اَعْیُنَھُمْ فِیْھَا، وَھُوَ حِیْنَیَنْتَھِبُھَا مُؤُمِنٌ، وَلَا یَغُلُّ اَحَدُکُمْ حِیْنَیَغُلُّ وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاِیِّاکُمْ اِیَّاکُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۱۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، جب زانی زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، جب شرابی شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، جب کوئی آدمی بڑی مقدار میں لوٹ مار کرتا ہے اور مؤمن لوگ اپنی نگاہیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں تو وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور جب کوئی خائن خیانت کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں ہوتا، پس تم ان امور سے بچو، ان امور سے بچو۔
Takhreej
(۱۰۰۰۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۷ (انظر: ۸۲۰۲)
10003
Sahih
پانچ پانچ امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۴)۔ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِیِّ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ قَرْیَۃً مِنْ قُرَی الْمَغْرِبِ، یُقَالُ لَھَا جَرْبَۃٌ، فَقَامَ فِیْنَا خَطِیْبًا، فَقَالَ: اَیُّھَا النَّاسُ! اِنِّیْ لَا اَقُوْلُ فِیْکُمْ اِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ، قَامَ فِیْنَایَوْمَ حُنَیْنٍ فَقَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِاِمْرِیئٍیُؤ ْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ اَنْ یَسْقِیَ مَاؤَہُ زَرْعَ غَیْرِہِ ( یَعْنِیْ اِتْیاَنَ الْحُبَالٰی مِن السَّبَایَا) وَاَنْ یُصِیْبَ اِمْرَاَۃً ثَیِّبًا مِنَ السَّبْیِ حَتّٰییَسْتَبْرِئَھَا (یَعْنِیْ اِذَا اشْتَرَاھَا) وَاَنْ یَبِیْعَ مَغْنَمًا حَتّٰییُقْسَمَ، وَاَنْ یَرْکَبَ دَابَّۃً مِنْ فَیْئِ الْمُسْلِمِیْنَ حَتّٰی اِذَا اَعْجَفَھَا رَدَّھَا فِیْہِ، وَاَنْ یَّلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَيْئِ الْمُسْلِمِیْنَ حَتّٰی اِذَا اَخْلَقَہُ رَدَّہُ فِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۲۲)
۔ حنش صنعانی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مغرب کی سمت والی بستیوں میں سے جربہ نامی بستی کے ساتھ جہاد کیا، وہ ہم میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! میں تم میں وہی بات کروں گا، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ حنین والے دن ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے فرد کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا تھا، نیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ استعمال شدہ قیدی خاتون خریدنے کے بعد استبرائے رحم سے پہلے اس سے جماع کرے، تقسیم سے پہلے غنیمت کا مال بیچ دے،مسلمانوں کے مالِ فی ٔ میں سے کسی جانور پر سوار ہو جائے، یہاں تک کہ جب اس کو تھکا دے تو واپس کر دے اور وہ مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا پہن لے اور پھر بوسیدہ کر کے اس کو واپس کر دے۔
Takhreej
(۱۰۰۰۴) تخریج: صحیح بشواھدہ، أخرجہ ابوداود: ۲۱۵۹(انظر: ۱۶۹۹۷)
10004
Sahih
پانچ پانچ امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۵)۔ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَرَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ الزُّبَیْرِ، اَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًا یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَمْشِ فِیْ نَعْلٍ وَاحِدَۃٍ، وَلَا تَحْتَبِیَنَّ فِیْ اِزَارٍ وَاحِدٍ، وَلَا تَاْکُلْ بِشِمَالِکَ، وَلَا تَشْتَمِلِ الصَّمَّائَ، وَلَا تَضَعْ اِحْدَی رِجْلَیْکَ عَلَی الْاُخْرٰی اِذَا اسْتَلْقَیْتَ۔)) قُلْتُ لِاَبِیْ الزُّبَیْرِ: اَوَضْعُہُ رِجْلَہُ عَلَی الرُّکْبَۃِ مُسْتَلْقِیًا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اَمَّا الصَّمَّائُ فَھِیَ اِحْدَی اللِّبْسَتَیْنِ تَجْعَلُ دَاخِلَۃَ اِزَارِکَ وَخَارِجَہُ عَلٰی اِحْدٰی عَاتِقَیْکَ، قُلْتُ لِاَبِیْ الزُّبَیْرِ: فَاِنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ: لَا یَحْتَبِیْ فِیْ اِزَارٍ وَاحِدٍ مُفْضِیًا، قَالَ: کذٰلِکَ سَمِعْتُ جَابِرًا یَقُوْلُ: لَا یَحْتَبِیْ فِیْ اِزَارٍ وَاحِدَۃٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، قَالَ عَمْروٌ لِیْ: مُفْضِیًا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۲۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک جوتے میں نہ چل، ایک ازار میں گوٹھ نہ مار، بائیں ہاتھ سے نہ کھا، گونگی بکل نہ مار اور جب چت لیٹا ہوا ہو تو ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ابو زبیر سے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی لیٹ کر اپنا پاؤں دوسرے گھٹنے پر رکھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر انھوں نے کہا: گونگی بکل ایک لباس ہے، جس میں ازار کا اندرونی اور بیرونی حصہ ایک کندھے پر رکھ دیا جاتا ہے ۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے پھر ابو زبیر سے کہا: لوگ تو یہ کہہ کہتے ہیں کہ ایک ازار میں اس وقت گوٹھ نہیں مارنا چاہیے، جب بے پردگی ہو رہی ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے تو سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی طرح سنا ہے کہ آدمی ایک ازار میں گوٹھ نہ مارے۔ حجاج نے ابن جریج سے روایت کیا کہ عمرو کے الفاظ یہ ہے کہ گوٹھ اس وقت منع ہے، جب شرمگاہ نظر آ رہی ہو۔
Takhreej
(۱۰۰۰۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرج المرفوع منہ مسلم: ۲۰۹۹، وأخرجہ مختصرا ابوداود: ۴۸۶۵، والترمذی: ۲۷۶۶ (انظر: ۱۴۱۷۸)
Explanation
فوائد:… اِشْتِمَالُ الصَّمَّائ سے کیا مراد ہے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: اہلِ لغت کہتے ہیں: کسی شخص کا ایک کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح لپیٹنا کہ نہ تو وہ اس سے کسی جانب کو بلند کرتا ہو اور نہ ہی اتنی جگہ باقی ہو کہ اس کا ہاتھ نکل سکے۔ ابن قتیبہ نے کہا: صمّائ کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ اس کی صورت تمام سوراخوں کو بند کر دیتی ہے، اس طرح وہ سخت چٹان کی طرح ہو جاتی ہے، جس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا۔ جبکہ فقہا نے کہا: آدمی اپنے جسم پر کپڑا لپیٹے اور پھر اس کا ایک کنارہ اٹھا کر کندھے پر رکھ دے اور اس طرح اس کی شرم گاہ ننگی ہونے لگے۔ (فتح الباری: ۱/ ۶۲۹) سنن ابی داود (۴۰۸۰) کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے، اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لباس کی دو قسموں سے منع کیا ہے: آدمی کا اس طرح گوٹھ مارنا کہ اوپر سے اس کی شرمگاہ ننگی ہو رہی ہو اور اس طرح کپڑا پہننا کہ ایک جانب ننگی رہ جائے اور کپڑا کندھے پر ڈال دے۔ اگرچہ اس حدیث کے ایک راوی سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعریف، فقہاء کی تعریف سے ملتی جلتی ہے، لیکن علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں: لفظ صَمّائ کو سامنے رکھا جائے تو اس معنی کی گنجائش نہیں ملتی، اصمعی کا بیان کردہ معنی اس لفظ کے زیادہ قریب ہے، وہ کہتے ہیں: آدمی کا ایک کپڑے سے اپنا سارا جسم اس طرح ڈھانپ لینا کہ ہاتھ نکالنے کے لیے بھی کوئی سوراخ نہ بچے اور اس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے موذی چیزوں سے دفاع نہ کر سکے۔ (عون المعبود: ۱/ ۱۱۲۲) سابقہ بیان سے معلوم ہوا کہ فقہاء والی تعریف کی تائید حدیث اور حدیث کے راوی سے ہو رہی ہے تو یہ معنی مراد لینے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔ گویا اشتمال صمائ کے دونوں معانی درست ہیں۔ اگر ترجیح دینی ہی ہے تو حدیث سے تائید شدہ معنی کو اولیٰ قرار دینا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق) حبوہ (گوٹھ مارنا): سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کر کے ان کے گرد سہارا لینے کے لیے دونوں ہاتھ باندھ لینایا کمر اور گھٹنوں کے گردکپڑا باندھنا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اس انداز میں بیٹھ جایاکرتے تھے، اس لیے ایسے انداز میں بیٹھنا جائز ہے، بشرطیکہ بیٹھنے والا ننگا نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے۔
10005
Sahih
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۶)۔ عَنْ اَیُّوْبَ بْنِ سَلْمَانَ، رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ صَنْعَائَ، اَنَّہُ جَلَسَ ھُوَ وَآخَرُوْنَ اِلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ لَھُمْ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَمْسٍ سَمِعْتُھُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: بَلٰی! قَالَ: ((مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُوْنَ حَدٍّ مِنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ، فَھُوَ مُضَادُّ اللّٰہِ فِیْ اَمْرِہِ، وَمَنْ اَعَانَ عَلَی خُصُوْمَۃٍ بِغَیْرِ حَقٍّ فَھُوَ مُسْتَظِلٌّ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ حَتّٰییَتْرُکَ، وَمَنْ قَفَا مُؤْمِنًا اَوْ مُؤْمِنَۃً حَبَسَہُ اللّٰہُ فِیْ رَدْغَۃِ الْخَبَالِ عُصَارَۃِ اَھْلِ النَّارِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ اُخِذَ لِصَاحِبِہٖمِنْحَسَنَاتِہِلَادِیْنَارَ ثَمَّ وَلَا دِرْھَمَ وَرَکْعَتَا الْفَجْرِ، حَافِظُوْا عَلَیْھِمَا فَاِنَّھُمَا مِنَ الْفَضَائِلِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۴۴)
۔ صنعاء کا ایک ایوب بن سلمان نامی آدمی بیان کرتا ہے کہ وہ اور کچھ دوسرے لوگ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: کیا میں تم کو وہ پانچ امور بتا دوں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے تھے، انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی سفارش اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے سامنے حائل ہو گئی، وہ اللہ تعالیٰ کی اس کے حکم میںمخالفت کرنے والا ہو گا، جس نے بغیر حق کے کسی جھگڑے پر مدد کی، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا، یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے، جو مؤمن مردیا عورت کی ٹوہ میں لگا یا ان پر تہمت لگائی، اللہ تعالیٰ اس کو رَدْغَۃ الخَبَال یعنی جہنمیوں کی پیپ میں ٹھہرائے گا اور جو مقروض ہو کر مرا، اس کے قرض خواہ کو اس کی نیکیاں دی جائیں گی، اس دن دینار و درہم نہیں چلیں گے، اور فجر کی دو سنتوں پر محافظت اختیار کرو، کیونکہیہ فضیلت والے اعمال میں سے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۰۰۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ مختصرا ابوداود: ۳۵۹۸،و ابن ماجہ: ۲۳۲۰ (انظر: ۵۵۴۴)
10006
Sahih
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَمْسٌ لَیْسَ لَھُنْ کَفَّارَۃٌ، الشِّرْکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَیْرِ حَقٍّ، اَوْ نَھْبُ مُؤْمِنٍ، اَوِ الْفِرَارُ یَوْمَ الزَّحْفِ، اَوْ یَمِیْنٌ صَابِرَۃٌیَقْتَطِعُ بِھَا مَالًا بِغَیْرِ حَقٍّ۔)) (مسند احمد: ۸۷۲۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ برائیاں ہیں، کوئی چیز ان کا کفارہ نہیں بن سکتی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، بغیر حق کے کسی کو قتل کرنا، مؤمن کو لوٹنا، لڑائی والے دن بھاگ جانا اور وہ جھوٹی قسم، جس کے ذریعے بغیر حق کے مال غصب کیا جا رہا ہو۔
Takhreej
(۱۰۰۰۷) تخریج: اسنادہ ضعیف،المتوکل أو أبو المتوکل مجھول، وبقیۃ عنعن وھو یدلس تدلیس التسویۃ (انظر: ۸۷۳۷)
10007
Zaeef
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
۔ (۱۰۰۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ صَاحِبُ خَمْسٍ، مُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ، وَلَا کَاھِنٌ، وَلَا مَنَّانٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۰۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس میں یہ پانچ چیزیں پائی جائیں گی، شراب پر ہمیشگی کرنے والا، جادو پر ایمان لانے والا، قطع رحمی کرنے والا، نجومی اور احسان جتلانے والا۔
Takhreej
(۱۰۰۰۸) تخریج: حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۹۳۲ (انظر: ۱۱۷۸۱/۲)
10008
Sahih
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
۔ (۱۰۰۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا یَبِیْعُ اَحَدُکُمْ عَلٰی بَیِعِْ اَخِیْہِ وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بیع نجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہمی قطع تعلقی اور دشمنی سے بچو، کوئی آدمی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔
Takhreej
(۱۰۰۰۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۶۴(انظر: ۷۷۲۷)
10009
Sahih
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
۔ (۱۰۰۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَحَاسَدُوْا، وَلَا تَنَاجَشُوْا، وَلَا تَبَاغَضُوْا، وَلَا تَدَابَرُوْا، وَلَا یَبِیْعُ اَحَدُکُمْ عَلٰی بَیِعِْ اَخِیْہِ وَکُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا۔)) (مسند احمد: ۷۷۱۳)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تین امور کو ناپسند کیا ہے، قیل و قال، کثرت سے سوال کرنا اور مال ضائع کرنا اور اس کے رسول نے تم پر تین چیزوںکو حرام قرار دیا ہے، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، ماؤں کی نافرمانی کرنا اور روک لینا اور مانگنا۔
Takhreej
(۱۰۰۱۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۰۸، ومسلم: ۵۹۳(انظر: ۱۸۱۴۷)
10010
Sahih
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
۔ (۱۰۰۱۱)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی النِّسَائِ حِیْنَ بَایَعَھُنَّ اَنْ لَا یَنُحْنَ، فَقُلْنَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ نِسَائً اَسْعَدْنَنَا فِیْ الْجَاھِلیَّۃِ اَفَنُسْعِدُھُنَّ فِی الْاِسْلَامِ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اِسْعَادَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا شِغَارَ، وَلَا عَقْرَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا جَلَبَ فِیْ الْاِسْلَامِ، وَلَا جَنَبَ، وَمَنِ انْتَھَبَ فَلََیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۶۳)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ان سے یہ معاہدہ لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، کچھ خواتین نے کہا: اے اللہ کے رسول! بعض خواتین نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں ہماری مدد کی تھی، کیا ہم اسلام میں ان کی مدد کر سکتی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں نہ ایسی مدد ہے، نہ شغار ہے، نہ عَقْر ہے، نہ جلب ہے اور نہ جنب ہے اور جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۰۰۱۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابوداود: ۳۲۲۲، والترمذی: ۱۶۰۱،و النسائی: ۴/ ۱۶ (انظر: ۱۳۰۳۲)
Explanation
فوائد:… نوحہ میں ایک دوسرے کی مدد کو اِسْعَاد کہتے ہیں، دورِ جاہلیت میں خواتین نوحہ کرنے میں باقاعدہ ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اسلام میں تو سرے سے نوحہ سے ہی منع کر دیا۔ عَقْر کی صورت یہ تھی کہ جو آدمی اپنی زندگی میں سخاوت کرتا تھا، لوگ اس کی قبر پر اونٹ نحر کرتے اور کہتے کہ ہم اس میت کو اس کے عمل کا بدلہ دے رہے ہیں، اسلام نے اس رسم سے بھی منع کر دیا۔
10011
Sahih
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
۔ (۱۰۰۱۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَنْھٰی عَنْ صِیَامِیَوْمَیْنِ، وَعَنْ صَلَاتَیْنِ، وَعَنْ نِکَاحَیْنِ، سَمِعْتُہُ یَنْھٰی عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرِبَ الشَّمْسُ، وَعَنْ صِیَامِیَوْمِ الْفِطْرِ وَالْاَضْحٰی، وَاَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْمَرْاَۃِ وَخَالَتِھَا، وَبَیْنَ الْمَرْاَۃِ وَعَمَّتِھَا۔ (مسند احمد: ۱۱۶۶۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو دنوں کے روزے سے، دو نمازوں سے اور دو قسم کے نکاحوں سے منع فرمایا، اس کی تفصیلیہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عید الفطر اور عید الاضحی کے روزوں سے اور بھانجی اور اس کی خالہ کو اور بھتیجی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۰۱۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۱۲۶۸ (انظر: ۱۱۶۳۷)
10012
Sahih
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
۔ (۱۰۰۱۳)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ، قَالَ: ثَنَا شَرِیْکُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ زَاذَانَ اَبِیْ عُمَرَ، عَنْ عُلَیْمٍ، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عَلَی سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَزِیْدُ: لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا عَبْسًا الْغَفَّارِیُّ، وَالنَّاسُ یَخْرُجُوْنَ فِیْ الطَّاعُوْنِ، فَقَالَ عَبْسٌ: یَاطَاعُوْنُ! خُذْنِیْ، ثَلَاثًایَقُوْلُھا، فَقَالَ لَہُ عُلَیْمٌ: لِمَ تَقُوْلُ ھٰذَا؟ اَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَتَمَنّٰی اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ فَاِنَّہُ عِنْدَ اِنْقِطَاعِ عَمِلِہِ، وَلَا یُرَدُّ فَیَسْتَعْتِبُ۔)) فَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَادِرُوْا بِالْمَوْتِ سِتًّا، اِمْرَۃَ السُّفَھَائِ، وَکَـثْرَۃَ الشُّرَطِ، وَبَیْعَ الْحُـکْمِ، وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ، وَقَطِیْعَۃَ الرَّحِمِ، وَنَشْوًا یَتَّـخِذُوْنَ الْقُرْآنَ مَزَامِیْرَیُقَدِّمُوْنَہُیُغَنِّیْھِمْ وَاِنْ کَانَ اَقَلَّ مِنْھُمْ فِقْھًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۶)
۔ علیم کہتے ہیں: ہم ایک چھت پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک صحابی بھی ہمارے پاس موجود تھے، یزید راوی کہتے ہیں: میرا خیالیہی ہے کہ وہ سیدنا عبس غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، اس وقت لوگ طاعون میںنکل رہے تھے، اتنے میں عبس نے تین بار کہا: اے طاعون! مجھے پکڑ لے، عُلَیم نے کہا: تم یہ دعا کیوں کرتے ہو؟ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اس وقت اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں اور نہ اس کو واپس لوٹایا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکے۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: چھ چیزوں سے پہلے پہلے مر جاؤ، بیوقوں کی حکومت ، پولیس کی کثرت، انصاف کے بکنے، خون کے کم قیمت ہو جانے اور قطع رحمی سے پہلے اور قبل اس کے کہ لوگ قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر کیف و سرور میں آئیں اور کسی آدمی کو صرف اس لیے (امامت کے لیے) آگے کریں کہ وہ گاہ گاہ کر تلاوت کرتا ہے، اگرچہ وہ ان میں سب سے کم فہم و فقہ والا ہو۔
Takhreej
(۱۰۰۱۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۱۶۱۰، والطبران فی الکبیر : ۱۸/ ۶۱(انظر: ۱۶۰۴۰)
10013
Sahih
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
۔ (۱۰۰۱۴)۔ عَنْ شَدَّادٍ اَبِیْ عَمَّارٍ الشَّامِیِّ، قَالَ: قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ: یَاطَاعُوْنُ! خُذْنِیْ اِلَیْکَ، قَالَ: فَقَالُوْا: اَلَیْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا عُمِّرَ الْمُسْلِمُ کَانَ خَیْرًا لَہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا یَزِیْدُہُ طُوْلُ الْعُمَرِ اِلَّا خَیْرًا) قَالَ: بَلٰی وَلٰکِنِّی اَخَافُ سِتًّا، اِمَارَۃَ السُّفَھَائِ، وَبَیْعَ الْحُـکْمِ، وَکَثْرَۃَ الشُّرَطِ، وقَطِیْعَۃَ الرَّحِمِ، وَنَشَاً یَنْشَؤُوْنَیَتَّخِذُوْنَ الْقُرْآنَ مَزَامِیْرَ، وَسَفْکَ الدَّمِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۷۰)
۔ شداد بن ابی عمار شامی سے مروی ہے کہ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے طاعون! مجھے اپنی طرف کھینچ لے، لوگوں نے کہا: تم یہ کیوں کہتے ہو جبکہ تم نے سنا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مؤمن کو زیادہ عمر ملتی ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، میں نے یہ حدیث سنی ہے، لیکن میں چھ چیزوں سے ڈرتا ہوں: بیوقوں کی حکومت، انصاف کے فروخت ہونے، پولیس کی کثرت، قطع رحمی اور لوگوں کا قرآن مجید کو بانسریوں اور گیتوں کی طرح پڑھ کر مزے لینا اور قتل۔
Takhreej
(۱۰۰۱۴) تخریج: صحیح لغیرہ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/۲۴۴، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۱۰۴(انظر: ۲۳۹۷۰)
10014
Sahih
سات سات امور کا بیان
۔ (۱۰۰۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ غَیَّرَ تُخُوْمَ الْاَرْضِ، لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ، لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَیْہِ، لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ تَوَلّٰی غَیْرَ مَوَالِیْہ، لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ کَمَّہَ اَعْمٰی عَنِ السَّبِیْلِ، لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ وَقَعَ عَلٰی بَھِیْمَۃٍ، لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوْطٍ۔)) قَالَھَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۹۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ ایسے شخص پر لعنت کرے جس نے زمین کے نشانات بدلے، اللہ تعالیٰ ایسے آدمی پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کیلیے ذبح کیا، اللہ ایسے غلام پر لعنت کرے جس نے اپنے آقا کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا مالک بنایا، اللہ ایسے شخص پر لعنت کرے جس نے اندھے کو رستے سے بھٹکا دیا، اللہ ایسے شخص پرلعنت کرے جس نے چوپائے سے بدفعلی کی اور اللہ ایسے شخص پرلعنت کرے جس نے قومِ لوط والا فعل کیا۔
Takhreej
(۱۰۰۱۵) تخریج: اسنادہ جیّد (انظر: ۲۹۱۵)
Explanation
فوائد:… مراد اللہ تعالیٰ کی پھٹکار، خدا کی مار، اللہ تعالیٰ کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔ اس حدیث میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے، زمین کے نشانات بدلنے، نابینے کو رستہ بھٹکانے، والدین کو برا بھلا کہنے، غلام کا اپنے آقا کو بدلنے، چوپائے سے بدفعلی کرنے اور لواطت یعنی مرد کا مرد سے برائی کرنے کی قباحت و شناعت کا بیان ہے کہ ایسے بدنصیبوں کے حق میں لعنت کی بددعا کی گئی ہے۔ زمین کے نشانات سے مراد دو مختلف مالکوں کی زمینوں کے درمیان حد فاصل اور راستوں کی علامتیں اور سنگ ِ میل ہیں۔ یہ حدیث اسلام کی عالمگیریت اور ہر دور سے اس کی مکمل ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اگرچہ زمانہ قدیم میں بھی مسافر کی صحیح راہنمائی کے لیے شاہراہوں پر کچھ نشانات لگائے جاتے تھے، بہرحال عصر حاضر کی پختہ سڑکوں پر موڑوں کی نشاندہی، فاصلوں کے تعین، اترائی و چڑھائی کی نشاندہی اور مختلف آبادیوں اور شہروں کے نام اور ان کی طرف تیروں کے نشانات نے اس حدیث ِ مبارکہ کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری باتیہ ہے کہ عہد پارینہ کی بہ نسبت زمین کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، اس لیے حدبندی زیادہ ضروری امر ہو گیا ہے، شریعت ِ اسلامیہ نے ایسی پابندیاں روزِ اول سے ہی نافذ کر دی تھیں۔ نیز سنگ ِ میل وغیرہ کو بدلنا اور اندھے کو غلط راستے پر لگادینا اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اسلام نے احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ خیال رکھا۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری جملے میں لواطت کی قباحت کا بیان ہے، زمین کے کئی خطوں میں بسنے والے لوگ اس غیر فطرتی اور انتہائی گندے فعل میں مبتلا ہیں، بہرحال ایسا کرنے والے ملعون ہیں اوراسلام کے نزدیک ان کی سزا قتل ہے۔
10015
Sahih
سات سات امور کا بیان
۔ (۱۰۰۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ رَیْحَانَۃَ، اِنَّہُ قَالَ: بَلَغَنَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : نَھٰی عَنِ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَالْمُشَاغَرَۃِ، وَالْمُکَامَعَۃِ، وَالْوِصَالِ، وَالْمُلَامَسَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۴۰)
۔ سیدنا ابو ریحانہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان امور سے منع فرمایا ہے: دانتوں کو باریک کرنا، تل بھرنا، بالوں کو اکھاڑنا، شغار، مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹنا، عورت کے بال کے ساتھ مزید بال ملانا اور بیع ملامسہ۔
Takhreej
(۱۰۰۱۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۰۴۹، وابن ماجہ: ۳۶۵۵، والنسائی: ۸/ ۱۴۹(انظر: ۱۷۲۰۸)
10016
Sahih
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
۔ (۱۰۰۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ حَرِیْزٍ مَوْلیٰ مُعَاوِیَۃَ قَالَ: خَطَبَ النــَّاسَ مُعَاوِیَۃُ بِحِمْـصَ، فَذَکَرَ فِیْ خُطْبَتِہِ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَرَّمَ سَبْعَۃَ اَشْیَائٍ وَاِنِّیْ اُبْلِغُـکُمْ ذٰلِکَ وَاَنْھَاکُمْ عَنْہُ مِنْھُنَّ، النَّوْحُ، وَالشِّـعْرُ، وَالتَّصَـاوِیْرُ، وَالتَّبَرُّجُ، وَجُلُوْدُ السِّبَاعِ، وَالذَّھَبُ، وَالْحَرِیْـرُ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۵۹)
۔ ابو حریز کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حمص میں لوگوں سے خطاب کیا اور اس میں یہ بات بھی ذکر کی: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات اشیاء کو حرام قرار دیا ہے، میں تم کو آپ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور ان سے منع بھی کرتا ہوں، نوحہ کرنا، شعر پڑھنا، تصویریں بنانا، عورت کا غیر شوہر کے سامنے زیبائش کرنا، درندوں کے چمڑے، سونا اور ریشم۔
Takhreej
(۱۰۰۱۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۸۰(انظر: ۱۷۹۳۵)
10017
Sahih

Chapters

30
01
کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان
13 Hadith
02
خاموشی کا بیان
3 Hadith
03
غیبت اور بہتان سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
04
چغلخوری سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
05
جھوٹ سے ترہیب کا بیان
7 Hadith
06
ان لوگوں کا بیان، جن کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے
2 Hadith
07
ان امور کا بیان، جن میں جھوٹ بولنا جائز ہوتا ہے
2 Hadith
08
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھوٹ بولنے سے ترہیب اور اس بارے میں سختی کا بیان
11 Hadith
09
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
13 Hadith
10
جھگڑا کرنے سے ترہیب کا بیان
4 Hadith
11
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
9 Hadith
12
بدگوئی اور جھوٹ پر مشتمل اور اللہ تعالیٰ سے دور کر دینے والے شعروں سے ترہیب کا بیان
6 Hadith
13
شرعی مصلحت کی خاطر شعروں کے جواز کا بیان
6 Hadith
14
لبید اور امیہ بن ابی صلت کے اشعار کا بیان
5 Hadith
15
سیدنا عبد اللہ بن رواحہ اور سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے اشعار کا بیان
9 Hadith
16
دو دو امور کا بیان
2 Hadith
17
دو کے عدد سے شروع ہونے والے دو دو امور کا بیان
2 Hadith
18
تین تین امور کا بیان
9 Hadith
19
تین کے عدد سے شروع ہونے والے تین تین امور کا بیان
15 Hadith
20
چار چار امور کا بیان
5 Hadith
21
چار کے عدد سے شروع ہونے والے چار چار امور کا بیان
6 Hadith
22
پانچ پانچ امور کا بیان
5 Hadith
23
عدد سے شروع ہونے والے پانچ پانچ امور کا بیان
3 Hadith
24
چھ چھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
6 Hadith
25
سات سات امور کا بیان
2 Hadith
26
سات کے عدد سے شروع ہونے والے سات سات امور والی احادیث کا بیان
2 Hadith
27
آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
28
آٹھ کے عدد سے شروع ہونے والی آٹھ آٹھ امور پر مشتمل احادیث کا بیان
1 Hadith
29
دس دس امور پر مشتمل احادیث کا بیان
2 Hadith
30
دس کے عدد سے شروع ہونے والے دس دس امور کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.